وزیر اعظم مودی نے آزاد ہند حکومت کی تشکیل کی 75 ویں سالگرہ کی یادگار کے طور پر لال قلعے پر قومی پرچم لہرایا۔
آزاد ہند حکومت سبھاش چندر بوس کے ذریعہ تفویض کردہ ایک مضبوط اور غیر منقسم بھارت کے نظریے کی نمائندگی کرتی ہے: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ سبھاش چندر بوس از حد دور اندیش تھے جنہوں نے طاقت ور نوآبادیاتی برطانوی حکومت کےخلاف جدوجہد کرنے کے لئے ہندوستانیوں کو متحد کیا۔
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ نیتا جی ان سب کے لئے ایک ترغیب کار کی حیثیت رکھتے تھے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ممالک میں اپنا فیصلہ آپ لینے اور آزادی کے لئے نبرد آزما تھے۔

نئی دہلی،21/ اکتوبر وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نیتاجی سبھاش چندر بوس کے ذریعہ قائم کی گئی آزاد ہند حکومت کے قیام کی 75ویں سالگرہ منانے کے لیے لال قلعے میں قومی پرچم لہرایا۔

وزیر اعظم نے آزاد ہند حکومت کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے قابل فخر موقع پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آزاد ہند حکومت سبھاش چندر بوس کے ایک مستحکم غیر منقسم ہندوستان کے نظریہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آزاد ہند حکومت قوم کی تعمیر میں سرگرم تھی یہاں تک کہ اس نے اپنا بینک، کرنسی اور ڈاک ٹکٹ بھی شروع کردیا تھا۔

نیتاجی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سبھاش چندر بوس ایک وژنری تھے، جنھوں نے طاقتور نو آبادیاتی برطانوی حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے ہندوستانیوں کو متحد کیا۔ انھوں نے کہا کہ نوعمری میں ہی بوس میں حب الوطنی کی جھلک ملنے لگی تھی۔ یہ بات ان خطوط سے واضح ہوتی ہے جو انھوں نے اپنی والدہ کو لکھے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نیتاجی محض ہندوستانیوں کے لیے ہی تحریک کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں خودمختاری اور آزادی کے لیے جنگ کرنے والے تمام لوگوں کے لیے تحریک کا ذریعہ تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح جنوبی افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا کو نیتاجی سے تحریک ملی تھی۔

قوم کو یہ یاد دلاتے ہوئے کہ سبھاش چند ر بوس کے نظریے کے مطابق نیو انڈیا کی تعمیر سے قبل ابھی ایک طویل سفر کیا جانا ہے، وزیر اعظم نے ہندوستانی شہریوں سے کہا کہ وہ نیتاجی سے تحریک حاصل کریں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان نے متعدد قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی ہے اور اب یہ شہریوں کا فرض ہے کہ وہ اس آزادی کو برقرار رکھیں۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سبھاش چندر بوس نے رانی جھانسی ریجیمنٹ قائم کرکے مسلح افواج میں خواتین کے لیے مساوی مواقع کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ان کی وراثت کو صحیح معنوں میں آگے لے جارہی ہے اور مسلح افواج میں مستقل کمیشن کے لیے خواتین کو بھی مساوی مواقع فراہم کرائے جائیں گے۔

تقریر کا مکمّل متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”