’وسودھیو کٹمبکم‘ – یہ دو الفاظ ایک عمیق فلسفے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مطلب ہے ’دنیا ،ایک خاندان ہے‘۔ یہ ایک ہمہ گیر نقطہ نظر ہے جو ہمیں سرحدوں، زبانوں اور نظریات سے بالاتر ہو کر،ایک عالمگیر خاندان کے طور پر ترقی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہندوستان کی جی20 صدارت کے دوران، اس نے انسان پر مرکوز ترقی کے مطالبے کی ترجمانی کی ہے۔ ایک کرۂ ا رض کے طور پر، ہم اپنے سیارے کی پرورش کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ ایک خاندان کے طور پر، ہم ترقی کے حصول میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اور ہم ایک ساتھ مل کر ایک مشترکہ مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں - ایک ایسا مستقبل - جو کہ ان باہم مربوط اوقات میں، ایک ناقابل تردید سچائی ہے۔

وبا کے بعد کا عالمی نظام ،اس سے قبل کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ اس میں دیگر کے علاوہ تین اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

اوّلین طور پر ، یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ دنیا کے جی ڈی پی پر مرکوز نظریہ سے ہٹ کر، اب انسانوں پر مرکوز نظریہ کی طرف تبدیلی کی ضرورت ہے۔

دوسرے یہ کہ دنیا ،عالمی فراہمی کے سلسلوں میں لچک اور بھروسے کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے۔

تیسرا یہ کہ عالمی اداروں میں اصلاحات کے ذریعے کثیرالجہتی رجحان کو فروغ دینے کا اجتماعی مطالبہ ہے۔

ہماری جی20 صدارت نے ان تبدیلیوں میں ایک مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

دسمبر 2022 میں، جب ہم نے انڈونیشیا سے صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا، میں نے لکھا تھا کہ جی20 کے ذریعے ذہنیت کی تبدیلی کو متحرک کرنا چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک، عالم جنوب اور افریقہ کی پسماندہ خواہشات کو مرکزی دھارے میں لانے کے تناظر میں، اس کی خاص طور پر ضرورت تھی۔

وائس آف گلوبل ساؤتھ سربراہ کانفرنس، جس میں 125 ممالک نے شرکت کی تھی، ہماری صدارت کے تحت ہونے والے اولین اقدامات میں سے ایک تھا۔ عالم جنوب سے نتائج اور نظریات اکٹھا کرنے کے لیے، یہ ایک اہم مشق تھی۔ مزید یہ کہ ہماری صدارت نے نہ صرف افریقی ممالک کی اب تک کی سب سے بڑی شرکت دیکھی ہے ،بلکہ اس نے افریقی یونین کوجی20 کے مستقل رکن کے طور پر شامل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

ایک دوسرے سے وابستہ دنیا کا مطلب ہے کہ شعبہ جات میں ہمارے چیلنجز آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ 2030 کے ایجنڈے کا وسط ِسال ہے اور بہت سے لوگ بڑی تشویش کے ساتھ اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ ایس ڈی جیزسے متعلق پیشرفت سست روی کاشکار ہے۔ایس ڈی جیز پر پیشرفت کو تیز کرنے سے متعلق جی20 کا سال 2023 کا ایکشن پلان،ایس ڈی جیز کو لاگو کرنے کے تئیں ،جی20 کے مستقبل کی سمت کی رہنمائی کرے گا۔

ہندوستان میں، فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہنا، زمانۂ قدیم سے ایک معمول رہا ہے اور ہم جدید دور میں بھی، آب و ہوا کے عمل میں اپنی حصہ رسدی کررہے ہیں۔

عالم جنوب کے بہت سے ممالک، ترقی کے مختلف مراحل میں ہیں اور آب و ہوا سے متعلق کارروائی کو ایک تکمیلی تعمیلی اقدام ہونا چاہیے۔ آب و ہوا کی کارروائی کے عزائم کو موسمیاتی مالیات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

ہمارا ماننا ہے کہ کیا نہیں کیا جانا چاہیے، اس رجحان کے مکمل طور پر پابندی والے رویے کو ترک کرکے ، ایک زیادہ تعمیری ایسا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ جس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آب وہوا کی تبدیلیوں سے جدوجہد کرنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔

ایک پائیدار اور لچکدار نیلگوں معیشت کے لیے چنئی کے ایچ ایل پیز،ہمارے سمندروں کو صحت مند رکھنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

ہماری صدارت میں، ایک سبز ہائیڈروجن اختراعی مرکز کے ساتھ ساتھ، صاف اور سبز ہائیڈروجن کے لیے، ایک عالمی ماحولیاتی نظام وضع ہو گا۔

سن 2015 میں، ہم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد کا آغاز کیا۔ اب، گلوبل بائیو فیولز الائنس کے ذریعے، ہم مرغولاتی معیشت کے فوائد کے مطابق، توانائی کی منتقلی کو فعال کرنے کے لیے، دنیا کی معاونت کریں گے۔

آب و ہوا کی کارروائی کو جمہوری بنانا، اس تحریک کو رفتار بخشنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جس طرح افراد اپنی طویل مدتی صحت کی بنیاد پر روزانہ فیصلے کرتے ہیں، اسی طرح وہ طرز زندگی کے فیصلے، کرۂ ارض کی طویل مدتی صحت پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر، کر سکتے ہیں۔ جس طرح یوگا صحت وتندرستی کے لیے ایک عالمی عوامی تحریک بن گیا ہے، اسی طرح ہم پائیدار ماحول کے لیے طرز زندگی (لائیف)کے ساتھ دنیا کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔

آب وہوا کی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے، خوراک اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اہم ہوگا۔ جوار، یا شری اَنّ، اس میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ،موسمیاتی اسمارٹ زراعت کو بھی فروغ دےسکتا ہے۔ جوار باجرے کے بین الاقوامی سال میں، ہم باجرے کو عالمی سطح پر لے گئے ہیں۔ خوراک کے تحفظ اور غذائیت سے متعلق، دکن کے اعلیٰ سطحی اصول بھی اس ضمن میں مددگار ہیں۔

ٹیکنالوجی تبدیلی کا باعث ہوتی ہے لیکن اسے جامع بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ ماضی میں، تکنیکی ترقی کے ثمرات سے معاشرے کے تمام طبقوں کو یکساں طور پر فائدہ نہیں پہنچا۔ ہندوستان نے پچھلے کچھ سالوں میں یہ دکھایا ہے کہ ٹیکنالوجی کو عدم یکسانیت کو ختم کرنے کے لیے نہ کہ ان میں اضافہ کرنے کے لیے،کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، دنیا بھر میں اربوں لوگ جو بینک کی سہولیت سے محروم ہیں، یا ڈیجیٹل شناخت سے محروم ہیں، انھیں ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی)) کے ذریعے مالی طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے اپنے ڈی پی آئی کا استعمال کرتے ہوئے جو حل تیار کیے ہیں ، انھیں اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ اب،جی20 کے ذریعے، ہم ترقی پذیر ممالک کو شمولیاتی فروغ کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے ڈی پی آئی کو ڈھالنے، بنانے اور اسکیل کرنے میں مدد کریں گے۔

یہ امرکہ ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے، کوئی ناگہانی واقعہ نہیں ہے۔ ہمارے سادہ، قابل توسیع اور پائیدار حل نے، کمزور اور پسماندہ لوگوں کو ہماری ترقی کی کہانی کی قیادت کرنے کے لیے، بااختیار بنایا ہے۔ خلاء سے لے کر کھیل تک، معیشت سے لے کر انٹرپرینیورشپ تک، ہندوستانی خواتین نے مختلف شعبوں میں برتری حاصل کی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ترقی سے وابستہ بیانیہ کو خواتین کی زیر قیادت ترقی کے امر کی جانب منتقل کیا ہے۔ ہماری جی20 صدارت، صنفی ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے، لیبر فورس میں شرکت کے فرق کو کم کرنے اور قیادت اور فیصلہ سازی میں خواتین کے لیے وسیع تر کردار کو فعال کرنے پر کام کر رہی ہے۔

ہندوستان کے لیے، جی20 صدارت ،محض ایک اعلیٰ سطحی سفارتی کوشش نہیں ہے۔ جمہوریت کی ماں اور تنوع کے نمونے کے طور پر، ہم نے اس تجربے کے دروازے دنیا کے لیے کھولے ہیں۔

آج، بڑے پیمانے پر کاموں کو پورا کرنا ایک خوبی ہے، جو ہندوستان سے وابستہ ہے۔ جی20 صدارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہ ایک عوامی تحریک بن چکی ہے۔ ہماری مدت کے اختتام تک، 125 ممالک کے تقریباً 100000 مندوبین کی میزبانی کرنے والے ہمارے ملک کے طول و عرض کے 60 ہندوستانی شہروں میں، 200 سے زیادہ اجلاسوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اتنی وسیع اور متنوع جغرافیائی وسعت کو کسی بھی صدارت نے اپنے اندر نہیں سمویاہے۔

کسی اور سے ہندوستان کی آبادی، جمہوریت، تنوع اور ترقی کے بارے میں سننا ایک الگ بات ہے۔ اس کا بذاتِ خود تجربہ کرنا بالکل مختلف ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے جی20 مندوبین اس کی تائید کریں گے۔

ہماری جی 20 صدارت ،تقسیم کو ختم کرنے، رکاوٹوں کو ختم کرنے اور تعاون کے بیج بونے کی کوشش کررہی ہے ،جو ایک ایسی دنیا کو پروان چڑھاتی ہے جہاں اختلاف پر اتحاد غالب ہوتا ہے، جہاں مشترکہ تقدیر تنہائی کو گرہن لگاتی ہے۔ جی20 صدر کے طور پر، ہم نے عالمی میز کو وسیع کرنے کا عہد کیا تھا؛ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہر آواز کو سنا جائے اور ہر ملک اپنی اپنی حصہ رسدی کرے۔میں پُر یقین ہوں کہ ہم نے اعمال اور نتائج کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کیا ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian economy navigated well external uncertainties: RBI Bulletin

Media Coverage

Indian economy navigated well external uncertainties: RBI Bulletin
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
ایک ایسی زندگی جو بھارت کی یکجہتی اور ترقی کے لیے وقف تھی
July 06, 2026

آج، 6 جولائی، ان لاتعداد لوگوں کے لیے ایک خاص دن ہے جو قوم پرستی اور بے لوث خدمت کے نظریات کی پاسداری کرتے ہیں۔ ہم ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے 125 ویں یوم پیدائش کی یاد مناتے ہیں، جن کی زندگی مادر ہند کے لیے جرات اور اٹوٹ وابستگی کی لازوال مثال ہے۔ جدید بھارت میں بہت کم لیڈروں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی طرح عقل، عوامی خدمت اور اخلاقی یقین کے سنگم کو بغیر کسی رکاوٹ کے مجسم کیا۔

نوجوان شیاما پرساد ایسے حالات میں پیدا ہوئے تھے جو انہیں آسانی سے محفوظ اور آرام دہ زندگی کی ضمانت دے سکتا تھا۔ ان کے والد، سر آشوتوش مکھرجی، اپنی عمر کے صف اول کے ماہر تعلیم اور دانشوروں میں سے تھے۔ پھر بھی، جب کہ تقدیر نے ان کے سامنے استحقاق کا راستہ رکھا، ان کا ضمیر انہیں قربانی اور قومی خدمت کی طرف لےگیا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ اپنے دور کی ہنگامہ خیزیوں کا خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، چاہے وہ استعماریت، فرقہ واریت، انسانیت سوز چیلنجز ہو وہ اس سے لڑے۔ اس سفر کے دوران، انہوں نے گہرے ذاتی سانحات کا سامنا کیا، جس میں ایک شیر خوار بچے اور بعد میں، ان کی بیوی کا انتقال بھی شامل ہے۔ پھر بھی، ان سانحات نے اس کے عزم کو مزید گہرا کیا اور خدمت کرنے کے اس کے غیر متزلزل عزم کو مضبوط کیا۔

اگر ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی عوامی زندگیکا سب سے بڑا نظریہ تھا تو وہ بھارت کی ناقابل تقسیم ہونا تھا۔ وہ تقسیم کے ہنگامے کے دوران ثابت قدم رہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مغربی بنگال بھارت کا اٹوٹ حصہ رہے۔ چند سال بعد، اسی یقین نے انہیں جموں و کشمیر کی طرف راغب کیا۔ قید نے انہیں روکا نہیں اور تنہائی نے انہیں کمزور نہیں کیا۔ ان کی زندگی حراست میں اچانک ختم ہو گئی، ان گنت لوگوں سے دور جن کے کاز کو انہوں نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا تھا۔ تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کسی فرد کی آخری قربانی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی یادداشت کے دائرے میں داخل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی کا آخری سفر ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ آچاریہ ونوبا بھاوے نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اپنے آپ کو ایک ایسے مقصد کے لیے قربان کر دیا جس میں انہیں یقین تھا۔ برسوں بعد، 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35(اے) کی منسوخی ان کی قربانی کے لیے سب سے موزوں خراج تحسین تھی۔

ڈاکٹر مکھرجی نےبھارت کو سب سے پہلے اور بھارتیہ اقدار کومقدم رکھا۔ اور انہوں نے یہ کام ایسے اداروں کی تعمیر اور نظام کی پرورش کے ذریعے کیا جو اس زمانے کی روایتی ذہنیت کے خلاف تھے۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی کے سب سے کم عمر وائس چانسلر بنے۔ اپنے منفرد انداز میں انہوں نے ایسی مثبت تبدیلیاں لائیں جو حب الوطنی اور مستقبل پر مبنی تھیں۔ ماہرین تعلیم کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر مکھرجی نے اسے حیرت انگیز طور پر پیش کیا جب انہوں نے کہا’تعلیمی اداروں کو ممکنہ کلرک اور کم تنخواہ والا عملہ پیدا کرنے کے لیے فیکٹریوں کے طور پر دیکھنا غلط ہے۔ ہمیں ایسے طلباء کو باہر نکالنا ہوگا جو ہمارے خود مختار اداروں، جیسے میونسپل کارپوریشنز، صوبائی اور مرکزی قانون ساز اداروں کے مختلف شعبوں میںمالی، تجارتی اور صنعتی کے طور پر براہ راست قیادت فراہم کرنے کے قابل ہوں۔

ان کی قیادت میں کلکتہ یونیورسٹی نے لائبریری کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، سائنس میں تحقیق کو فروغ دینے، نوادرات کے مطالعہ کی حوصلہ افزائی اور زراعت میں کورسز قائم کرنے جیسی منفرد کوششیں کیں۔ انہوں نے کھیلوں، اساتذہ کی تربیت اور طلباء کی فلاح و بہبود جیسے شعبوں کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ طلباء اور سابق طلباء میں فخر کا احساس پیدا کرنے کے لیے، انہوں نے 24 جنوری کو یونیورسٹی کے یوم تاسیس کے طور پرجشن منانے کی مشق شروع کی۔ انہوں نےکسی اور سے نہیں بلکہ گرودیو ٹیگور سے یونیورسٹی کے لیے ایک گانا لکھنے کی درخواست کی۔

اس جذبے کی ایک اور مثال ان کی زندگی کے آخری حصے میں دیکھی جا سکتی ہے، جب انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب کانگریس پارٹی ہمہ گیر تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ ہماری ثقافتی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے بھارت کی ترقی کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ایک متبادل آواز کی اور بھی زیادہ وجہ ہے۔ شاید یہ مناسب تھا کہ پارٹی کا نشان دیایعنی مٹی کا چراغ تھا۔ ایک چراغ معمولی دکھائی دے سکتا ہے، پھر بھی وہ اپنے آپ سے کہیں زیادہ تاریکی کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ بالکل وہی ہے جو جن سنگھ نے اپنے فعال ہونے اور اس کے بعد کے سالوں میں کیا۔

ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا بھارت کے پہلے وزیر صنعت و رسد کے طور پر ایک ایسے سیاستدان کا پتہ چلتا ہے جن کا ترقی کا تصور غیر معمولی طور پر جامع اور انسانی تھا۔ انہوں نے صنعت کو ایک نئی آزاد قوم کے وقار، موقع اور اعتماد کی بحالی کا ذریعہ سمجھا۔ وہ دولت کی تخلیق اور قدر میں اضافے کا احترام کرتے تھے۔ دامودر ویلی کارپوریشن، سندھری فرٹیلائزر پلانٹ اور ایک مضبوط صنعتی پالیسی جیسے اہم اقدامات کے ذریعے جدید صنعتی بھارت کی بنیاد رکھتے ہوئے، انہوں نے ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ بھارت کی روایتی طاقتوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ ہتھ کرگھا، کاٹیج انڈسٹری، کاریگر اور ٹیکسٹائل ورکرز اس میں برابر کے پرعزم چیمپئن پائے گئے۔

یہاں، میں ایک ذاتی تجربہ بتانا چاہوں گا۔ سندھری پلانٹ، جسے ڈاکٹر مکھرجی نے خود انحصاری کے واضح وژن کے ساتھ قائم کرنے کے لیے کام کیا، کئی دہائیوں تک ملک کو چلانے والوں نے نظر انداز کر دیا۔ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہماری حکومت کو اس کے احیاء میں حصہ ڈالنے کا موقع ملا۔ اس پروگرام کے لیے وہاں موجود ہونا واقعی سب سے خاص لمحات میں سے تھا۔

بھارت کی تہذیبی روایت نے طویل عرصے سے بات چیت اور بات چیت کا جشن منایا ہے۔ ڈاکٹر مکھرجی نے اس جمہوری جذبے کو مجسم کیا۔ وہ پنڈت نہرو کی کابینہ میں شامل ہوئے، یہ مانتے ہوئے کہ ابتدائی سالوں میں قوم سازی کا کام سیاسی اختلافات سے بالاتر تھا۔ انہوں نے خلوص اور تعمیری جذبے کے ساتھ خدمت کی۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ قومی اہمیت کے سوالات ایک مختلف راستہ کا تقاضا کرتے ہیں، تو انہوں نے وقار کے ساتھ عہدہ چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو پورے دل سے سیاسی کام کے لیے وقف کر دیا جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ قوم کی ضرورت ہے۔

پچھتر سال پہلے، پنڈت نہرو پہلی ترمیم لائے، جو آزادی اظہار پر براہ راست حملہ تھا۔ ڈاکٹر مکھرجی اس کے سخت ترین ناقدین میں سے تھے۔ وہ پوری طرح سمجھ گئے تھے کہ کانگریس کیا کرنے کی اہل ہے۔ اور وہ درست ثابت ہوئے۔ 75 سال پہلے پہلی ترمیم لانے والوں نے 1975 میں ایمرجنسی نافذ کی اور 50 سال پہلے، 42 ویں ترمیم کا ایکٹ لایا جس نے ایک بار پھر لبرل جمہوری اقدار پر کاری ضرب لگائی۔

ڈاکٹر مکھرجی بھی اپنی انسانی کوششوں کے لیے نمایاں رہے۔ 1943 میں جب بنگال میں سب سے زیادہ المناک قحط پڑا تو ڈاکٹر مکھرجی نے اپنے آپ کو متاثرین کی خدمت میں غرق کردیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے کئی کینٹین اور امدادی مراکز کھولے گئے۔ ایک طرف وہ اپنے لوگوں کی حالت زار سے شدید لرزاںتھے تو دوسری طرف استعماری حکمرانوں کی بے حسی پر نالاںتھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک کتاب پنچشر منونتر بھی لکھی جس میں انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب 1942 میں ایک سپر سائیکلون نے مدنی پور کو نشانہ بنایا تو معمول کی بحالی کی ان کی کوششوں کی بڑے پیمانے پر تعریف کی گئی۔

کولکتہ کے ایک کالج میں خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر مکھرجی نے نوجوانوں پر زور دیا’آپ جو بھی کام کریں، اسے سنجیدگی سے، اچھی طرح اور اچھی طرح سے کریں، اسے کبھی بھی آدھا یا ختم نہ ہونے دیں، کبھی بھی اپنے آپ کو مطمئن محسوس نہ کریں جب تک کہ آپ اسے اپنا بہترین نہ دے دیں۔‘ جیسا کہ ملک وکست بھارت کے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم انہیں بہترین خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں کہ وہ مضبوط، متحد، خود اعتمادی اور ہمدردبھارت کی تعمیر کے لیے ہر روز کوشش کریں جس پر وہ اس قدر گہرا یقین رکھتے تھے۔اور آج کے نوجوانوں کو جانتے ہوئے، مجھے یقین ہے کہ وہ اس موقع پر اٹھیں گے اور بالکل ایسا ہی کریں گے۔