صحت مند بھارت
September 06, 2018
Share
 
Comments

’’حکومت ہند کے ذریعہ کیے جانے والے حفظان صحت کے اقدامات 50 کروڑ ہندوستانیوں پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ اس امر کو یقینی بنایا جانا لازمی ہے کہ ہندوستان کے غریبوں کو غریبی کے شکنجے سے رہائی دلائی جائے کہ یہ غریبی حفظانِ صحت پر آنے والے اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔‘‘
وزیر اعظم مودی

ہر ہندوستانی شہری اعلیٰ معیاری حفظانِ صحت کی کفایتی سہولیات کا حقدار ہے۔ ایک شمولیتی سماج کی تشکیل میں حفظانِ صحت کو کلیدی عنصر تصور کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سرکار نے ایک صحت مند ہندوستان کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ماؤں اور بچوں کی صحت

پردھان منتری سرکشت ماترتو ابھیان میں تمام حاملہ خواتین کو مہینے کی 9 تاریخ کو ماقبل زچگی جامع اور معیاری مفت دیکھ بھال کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ماں اور بچے کی بہتر صحت کو یقینی بنانے کے لئے ملک بھر کے 13,078 سے زائد صحت اداروں میں 1.3 کروڑ سے زائد خواتین کی ماقبل زچگی جانچ کی گئی۔ علاوہ ازیں 80.63 لاکھ حاملہ خواتین کی ٹیکہ کاری بھی کی گئی ہے۔ جانچ کے دوران 6.5 لاکھ سے زائد ایسی خواتین کی شناخت کی گئی جنہیں زچگی کے عمل میں شدید خطرات درپیش تھے۔

پردھان منتری ماتر وندنا یوجنا کے تحت حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو مالی امداد دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے پہلے بچے کی زچگی سے پہلے اور بعد خاطر خواہ طریقے سے آرام کر سکیں۔ امید ہے کہ نقد 6,000 روپئے  سے پچاس لائے سے زائد حاملہ خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔

بچپن کے دن فرد کی آئندہ زندگی کی صحت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ مشن اندرا دھنش کا مقصد 2020 تک ان تمام بچوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنا ہے جن کی ٹیکہ کاری نہیں کی جا سکی ہے یا جن کی ڈپتھیریا، کھانسی بلغم، ٹیٹنس، پولیو، تپ دق، چیچک، ہیپاٹائٹس بی کے تدارک کے لئے جزوی طور سے ٹیکہ کاری کی گئی ہے۔

مشن اندرا دھنش نے ملک کے 528 اضلاع میں اپنی خدمات کا چوتھا مرحلہ مکمل کر لیا ہے جہاں 81.78 لاکھ حاملہ خواتین کی ٹیکہ کاری اور 3.19 کروڑ بچوں کی ٹیکہ کاری کی جا چکی ہے۔ ٹیکے کی پلانے والی دوا سے مؤثر حیثیت رکھنے والی آئی پی وی کا استعمال نومبر 2015 میں شروع کیا گیا تھا۔ بچوں کو اب تک اس دوا کی تقریباً چار کروڑ خوراکیں پلائی جا چکی ہیں۔ روٹا وائرس ویکسین کا استعمال مارچ 2016 میں شروع کیا گیا تھا اور اب تک بچوں کو اس ویکسین کی 1.5 کروڑ خوراکیں پلائی جا چکی ہیں۔  میزلس روبیلا (ایم آر) ٹیکہ کاری مہم فروری 2017 میں شروع کی گئی تھی جس میں تقریباً آٹھ کروڑ بچوں کی یہ ٹیکہ کاری کی گئی۔ پی سی وی کا آغاز مئی 2017 میں کیا گیا تھا جس کے تحت بچوں کو اس دوا کی 15 لاکھ خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

تدارکی حفظانِ صحت

تیزی سے بدلتی دنیا میں طرز زندگی سے پیدا ہونے والے امراض میں نمایاں طور سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی فعال قیادت کے تحت یوگا ایک جن آندولن کی شکل اختیار کر چکاہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کو صحت کے فوائد حاصل ہو چکے ہیں۔ 2015 سے ہر سال 21 جون کو عالمی یوم یوگا کے طور پر منایا جاتا ہے دنیا بھر میں جس کے تئیں دلچسپی اور اس میں شرکت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سوئے تغذیہ ختم کرنے کی ایک مسلسل کوشش کے تحت وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سرکار نے پوشن ابھیان شروع کیا تھا۔ یہ سوئے تغذیہ کی شکایت کے تدارک کے لئے شروع کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جس میں کثیر شعبہ جاتی اقدامات شامل ہیں۔ اس کے تحت اجتماعی طور سے سوئے تغذیہ کے تدارک کے لئے تکنالوجی اور معینہ نظریے کو روبہ عمل لایا جا رہا ہے۔

کفایتی اور معیاری حفظانِ صحت

کفایتی اور معیاری حفظانِ صحت خدمات کو یقینی بناتے ہوئے محافظ حیات دواؤں سمیت 1084 لازمی ادویہ کو مئی 2014 کے بعد قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت لایا گیا ہے جس سے صارفین کو تقریباً 10,000 کروڑ روپئے کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔

جہاں تک پردھان منتری بھارتی جن اوشدھی کیندروں کا تعلق ہے، ملک بھر میں 3,000 سے زائد ایسی دوکانیں کام کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں 50 فیصد سے زائد کی بچت ہو رہی ہے۔ امرت (علاج کے لئے کفایتی دوائیں اور بھروسے مند تنصیب) فارمیسیاں سرطان اور امراض قلب کے علاج کی دوائیں فراہم کراتی ہیں جس میں بازار کی شرحوں سے 60 سے  90فیصد تک کم قیمت پر تبدیلیٔ قلب کی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار کے سبب، کارڈیاک اسٹنٹس اور نی امپلاٹس (گھٹنوں کی تبدیلی) پر آنے والے طبی اخراجات میں  50سے 70فیصد تک کمی ہوگئی ہے جس سے مریضوں کو زبردست مالی راحت ملی ہے۔

2016 میں شروع کیے جانے والے پردھان منتری نیشنل ڈایالیسس پروگرام کے تحت غریب مریضوں کو مفت سہولت فراہم کرائی جاتی ہے اور نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت سبھی مریضوں کو خدمات فراہم کرائی جاتی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت تقریبا 2.5 لاکھ مریضوں نے ان خدمات کا فائدہ اٹھایا ہے اور اب تک ڈائیلیسس کے 25 لاکھ سیشن ہو چکے ہیں۔ آج ملک میں 497 ڈائیلیسس اوپریشنال یونٹ / سینٹرس اور 3330 پوری طرح سے کارآمد ڈائیلیسس مشینیں موجود ہیں۔

آیوشمان بھارت

صحت کی دیکھ بھال پر آنے والے استطاعت سے زائد اخراجات کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانی غریبی کے شکنجے میں جکڑے جا چکے ہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹروں میں صحت خدمات کی فراہمی کی وسیع تر صلاحیتیں موجود ہیں۔ آیوشمان بھارت کے تحت سرکاری اور پرائیویٹ صحت شعبوں کے استحکام کے ساتھ معیاری حفظانِ صحت تک جامع اور کفایتی شرحوں پر معیاری حفظانِ صحت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تھا۔یہ دنیا کا سب سے بڑا صحت بیمہ قدم ہے جس سے ہر کنبے کو پانچ لاکھ روپئے کے سالانہ کا صحت بیمے کی سہولت فراہم ہو سکے گی جس سے تقریباً  50 کروڑ افراد استفادہ کر سکیں گے۔اس کے ساتھ ہی 1.5 لاکھ ضمنی مراکز اور پرائمری صحتی مراکز کو ہیلتھ اینڈ ویل نیس سینٹر (ایچ ڈبلیو سی) میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی ہے جن کے ذریعہ پورے ملک میں جامع ابتدائی حفظانِ صحت کی خدمات دستیاب کرائی جا سکیں گی۔

آج ملک بھر میں حفظانِ صحت کے شعبے کی ڈھانچہ جاتی سہولیات کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
• اے آئی آئی ایم ایس جیسے 20 نئے سپر اسپیشلیٹی ہسپتال قائم کیے جا رہے ہیں۔
• گذشتہ چار برسوں کے دوران کل 92 میڈیکل کالج قائم کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ایم بی بی ایس کی 15,354 نشستوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔
• 73 سرکاری میڈیکل کالجوں کی تازہ کاری کی جا رہی ہے۔
• 2014 سے اب تک مصروف کار اے آئی آئی ایم سے ہسپتالوں کو 1675 مزید اسپتالی بستر فراہم کرائے جا چکے ہیں۔
• سال 2017-18 کے دوران جھارکھنڈ اور گجرات میں دو نئے اے آئی آئی ایم اسپتال قائم کیے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
• پچھلے چار برسوں کے دوران کل 12,646 پوسٹ گریجیوٹ نشستوں (براڈ اینڈ سپر اسپیشلٹی کورس) کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔

پالیسیاں اور قوانین

قومی صحت پالیسی 15 سال کے وقفے کے بعد 2017 میں تیار کی گئی تھی۔ اس میں تغیر پذیر سماجی۔ معاشی، وبائی امراض کے میدان میں ابھرتی چنوتیوں کے تدارک کا تعین کیا گیا ہے۔

شروع میں دماغی صحت کو ازحد نظرانداز کیا جانے والا میدان سمجھا جاتا تھا لیکن اب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے اس کو خاطر خواہ اہمیت دی ہے۔ مینٹل ہیلتھ کیئر ایکٹ 2017 میں ہندوستان میں دماغی صحت کے لئے حقوق پر مبنی ایک قانونی نظام مرتب کیا گیا ہے، جس سے دماغی مسائل کے شکار لوگوں کے حقوق کی حفاظ کی غرض سے دماغی حفظانِ صحت کی فراہمی میں معیار اور مقدار کے نظام کو مستحکم کیا گیا ہے۔

بیماریوں کا خاتمہ

تپ دق (ٹی بی) ایک متعدی مرض ہے۔ دنیا بھر کے ٹی بی مریضوں کے چوتھائی حصے کے بقدر مریض ہندوستان میں موجود ہیں۔ 2030 تک ٹی بی کی وبا سے نجات کے لئے ترقی کے پائیدار نشانے معین کیے گئے ہیں۔ عالمی نشانوں کی تکمیل سے قبل ہندوستان میں ٹی بی کے مرض کے خاتمے کے لئے زبردست کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دواؤں سے حساس تپ دق کے علاج کے علاج کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار کے تحت چار لاکھ ڈی او ٹی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سرکار نے گھر گھر جاکر ٹی بی کے مرض کا پتہ لگانے کی مہم بھی شروع کی ہے۔ جس کے تحت ایکٹو کیس فائنڈنگ کے مطابق 5.5 کروڑ افراد میں ٹی بی کے مرض کے آثار پائے گئے ہیں۔ ٹی بی کا مرض انسان کی غذا اور آمدنی پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ اس میں مریض چلنے پھرنے کے لائق نہیں رہ جاتا۔ اس مرض کے علاج کی مدت کے دوران غذائی معاونت کے طور پر 500 روپئے ماہانہ کی راست نقدی منتقلی کا انتظام کیا گیا ہے۔

2018 تک جذام (کوڑھ) کے مرض کے خاتمے، 2020 تک خسرے کے مرض کے خاتمے اور 2025 تک ٹی بی کے مرض کے خاتمے کے پروگراموں پر عمل آوری کی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے دسمبر 2015 کے عالمی نشانے سے قبل مئی 2015 میں ہی مادرانا اور نو مولودیت کے دوران ٹیٹنس کو ختم کرنے کی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

donation
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India claims top 10 in list of fastest-growing cities

Media Coverage

India claims top 10 in list of fastest-growing cities
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments

بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری کسی بھی ملک کی ترقی اور نمو کے لئے جسم میں خون پہنچانے والی دریدوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کو اولین ترجیح دی ہے۔ نئے ہندوستان کے خواب کی عملی تعبیر کے لئے این ڈی اے حکومت ریلوے، سڑکوں، شاہراہوں، آبی شاہراہوں اور کفایتی شرحوں پر ہوابازی کی سہولت کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

ریلوے

ہندوستانی ریلوے کا نیٹ ورک دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ ریل پٹریاں بدلے جانے کے کام کی رفتار فرد کی نگرانی کے بغیر ریلوے کراسنگ اور بڑی پٹری کی لائنیں بچھانے کے کام میں وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں نمایاں کام ہوا ہے۔

2017-18 کے دوران ایک سال کے عرصے میں محض 100 سے بھی کم ریل حادثوں کے ساتھ ریلوے میں حفاظت کا بہترین نظام ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار شاہد ہیں کہ سال 2013-14 میں 118 ریل حادثے ہوئے جن کی تعداد سال 2017-18 میں ہوکر محض 73 رہ گئی۔ 5,469فرد کی نگرانی کے بغیر لیول کراسنگ کوسال2009-14کی مدت میں 20فیصد کی رفتار سے ختم کر دیا گیا ہے۔ بڑی لائن کے ریل راستوں پر فرد کے بغیر لیول کراسنگ کو بہتر حفاظت کے لئے 2020 تک پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔

ریلوے کی ترقی میں رفتار پیدا کرتے ہوئے 50 فیصد ریل پٹریاں بدلی گئیں جو 2013-14 میں محض 2,926 کلو میٹر تھیں اور اب 2017-18 کی مدت میں بڑھ کر 4,405 کلو میٹر ہوگئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوراقتدار میں بڑی لائن کی 9,528 کلو میٹر طویل ریلوے لائن چالو کی گئی جو 2009-14 کی درمیانی مدت کے 7,600 کلومیٹر سے کہیں زیادہ ہے۔

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شمال مشرقی ہندوستان بڑی لائن کی ریلوے لائن کے ساتھ باقی ماندہ ملک سے جڑ چکا ہے جس سے 70 برس بعد میگھالیہ، تری پورہ اور میزورم نے ہندوستان کے ریل نقشے پر اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے۔

نئے ہندوستان کی ترقی کے لئے ہمیں جدید تکنالوجی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ممبئی سے احمدآباد کا سفر کرنے والی بلیٹ ٹرین کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں احمدآباد سے ممبئی کا سفر آٹھ گھنٹوں سے کم ہو کر دو گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔

 

شہری ہوابازی

ہمارے ملک کا شہری ہوابازی کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اڑان (اُڑے دیش کا عام ناگرک) کے تحت ملک کے 25 ہوائی اڈوں سے کفایتی ہوائی سفر کی سہولت محض چار برس کی مدت میں دستیاب کرائی جا چکی ہے جبکہ آزادی کے بعد سے سال 2014 تک مصروف عمل ہوائی اڈوں کی تعداد محض 75 ہی تھی۔ غیر مخصوص اور ناکافی پرواز والے ہوائی اڈوں سے علاقائی فضائی رابطہ کاری کی شرح 2,500 روپئے فی گھنٹہ کردی گئی ہے جس سے ان گنت ہندوستانیوں کے ہوائی سفر کا خواب پورا ہونے میں مدد ملی ہے۔ اس طرح پہلی مرتبہ ایئر کنڈیشنڈ ریلوں سے زیادہ لوگوں نے طیاروں میں فضائی سفر کیے۔

گذشتہ تین برسوں کے دوران مسافروں کی آمدورفت کی نمو 18-20 فیصد تک رہی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری ہوابازی بازار بن چکا ہے۔ 2017 میں تو گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد بھی 100 ملین سے زیادہ ہوگئی تھی۔

 

جہازرانی

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں ہندوستان جہازرانی کے شعبے میں بھی ترقی کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ بندرگاہی ترقیات میں تیزی کے ساتھ ملک کے بڑے بندرگاہوں پر آمدورفت کے اوقات میں بھی کمی ہوگئی ہے جو سال 2013-14 میں 94 گھنٹے تھی اور 2017-18 میں محض 64 گھنٹے رہ گئی ہے۔

بڑے بندرگاہوں پر مال اور سامان کے نقل و حمل کی بات کریں تو سال 2010-11 میں مال کے نقل و حمل کی مقدار 570.32 ملین ٹن تھی جو 2012-13 میں گھٹ کر 545.79 ملین ٹن رہ گئی۔ تاہم این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں اس میں بہتری پیدا ہوئی اور سال 2017-18 میں ساز و سامان اور مال کے نقل و حمل کی مقدار100ملین ٹن کے اضافے کے ساتھ 679.367 ملین ٹن ہوگئی۔

اندرون ملک آبی شاہراہوں سے نہ صرف ٹرانسپورٹ پر آنے والے خرچ میں کمی ہوئی ہے بلکہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران 106 قومی آبی شاہراہیں آمدورفت کے لئے جوڑی گئیں جبکہ گذشتہ 30 برسوں کے دوران اندرون ملک قومی آبی شاہراہوں کی تعداد محض پانچ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

سڑک ترقیات

کثیر رخی ارتباط کے ساتھ شاہراہوں کی توسیع کا کام انقلابی پروجیکٹ بھارت مالا پریوجنا کے تحت کیا جا رہا ہے۔ قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک میں بھی 2013-14 کے 92,851 کلو میٹر سے بڑھ کر 2017-18 میں 1,20,543 کلو میٹر کی توسیع ہوئی ہے۔

محفوظ سڑکوں کے لئے سیتو بھارتم پروجیکٹ پر 20,800 کروڑ روپئے کی کل تخصیص کے ساتھ کام جاری ہے، جس کے تحت ریلوے اووَر برج یا انڈر پاس راستوں کی تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ قومی شاہراہوں کو ریلوے کی لیول کراسنگ سے بچایا جا سکے۔

سڑکوں کی تعمیر کی رفتار بھی تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ سال 2013-14 میں سڑکو کی تعمیر کی رفتار 12 کلو میٹر یومیہ تھی جو 2017-18 میں بڑھ کر 27 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔

 جموں میں ہندوستان کی سب سے طویل سرنگ چینانی ۔ نشری اور ملک کا طویل ترین پل دھولہ ۔ سادیہ اروناچل پردیش سے اضافہ شدہ رابطہ کاری دراصل ان علاقوں کو ترقی دینے کی ہماری عہد بستگی کا ثبوت ہیں جن میں اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا تھا۔ بہروچ میں دریائے نرمدا پر پل کی تعمیر اور کوٹا میں دریائے چمبل پر پل کی تعمیر سے اس خطے کی سڑک رابطہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سڑکیں دیہی ترقیات کے لئے عمل انگیزی کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گذشتہ چار برس کی مدت میں 1.69 لاکھ کلو میٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کی اوسط رفتار 2013-14 میں 69 کلو میٹر یومیہ تھیں جو 2017-18 میں بڑھ کر 134 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔اب دیہی سڑک رابطہ کاری کی مقدار 82 فیصد تک ہوگئی ہے جو 2014 میں محض 56 فیصد تھی۔ دیہی سڑک رابطہ کاری میں اس اضافے سے ہمارےگاؤں بھی ملک کی ترقی کے راہِ عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔

ملازمتوں کے مواقع میں اضافے کے لئے سیاحت میں وافر امکانات موجود ہیں۔ تیرتھوں کے اضافہ شدہ سفر کے تجربات کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی زبردست ترقی ہوئی ہے۔ چاردھام مہامارگ وکاس پریوجنا سیاحت کے شعبے کو بڑھاوا دینے کے لئے شروع کی گئی تھی جس کے تحت سفر محفوظ، تیزرفتار اور آسان بنایا جا سکے گا۔ اس سے تقریباً 12,000 کروڑ روپئے کی لاگت سے تقریباً 900 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کی تعمیر ہو سکے گی۔

بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ساتھ مال اور سازو سامان کے نقل و حمل سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں سال 2017-18 کے دوران کل 1,160 ملین ٹن مال اور ساز و سامان کی لدان ہوئی جو اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔

شہری تغیر

اسمارٹ سٹیز کے ذریعہ شہروں کی ہیئت میں تبدیلی کے لئے سو شہری مراکز کا انتخاب معیار زندگی میں بہتری، پائیدار شہری منصوبہ بندی اور ترقی کو یقینی بنانے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں مختلف ترقیاتی منصوبے تقریباً دس کروڑ ہندوستانیوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ ان منصوبوں پر 2,01,979 کروڑ روپیوں کی لاگت آئے گی۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت شہری اور دیہی دونوں طرح کے علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ کفایتی مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ متوسط طبقے اور نو متوسط طبقے کے فائدے کے لئے 9 اور بارہ لاکھ روپئے تک کے قرض کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے جن کی شرح سود میں 4 اور 3 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔