Share
 
Comments

بھارت دنیا میں سب سے نوجوان ممالک میں شمار ہونے والا ایک ملک ہے ۔ تاہم اس آبادیاتی بالادستی سے استفادہ کرنے کی غرض سے بھارت کو عمدگی کی حامل تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے نوجوان افزوں طور پر زیادہ سے زیادہ اختیارات اور بہتر معیار حیات کے حصول کے متمنی ہیں۔بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ حکومت کو بھی ایک ایسا ایکو نظام فراہم کرنا چاہئے جو عوام کو ان کی توقعات کے حصول میں معاون ہو۔ انہی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت نے مختلف النوع شعبوں، خواہ اسکولی تعلیم ہو، اعلیٰ تعلیم، تحقیق و ترقی یا ہنر مندی کا حصول ، یووا شکتی یا نوجوانوں کی قوت کو بروئے کار لانے کے لئے چند تغیراتی اقدامات کیے ہیں۔

تعلیم کی شکل میں تبدیلی کے ذریعہ  اختیارکاری کو فروغ

پہلی مرتبہ اسکولی تعلیم کے نظریے کو یکسر بدلتے ہوئے طلبا اور مختلف شراکت داروں کی جواب دہی کے لئے تدریس کے نتائج پر ایک واضح توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اختراعاتی ہنرمندی کی فراہمی کے لئے سینکڑوں اٹل اختراعاتی تجربہ گاہیں ملک بھر کے اسکولوں میں منظور کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے جو اختراعات کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہوں اور انہیں تھری ڈی پرنٹنگ، روبوٹکس، آئی او ٹی اور مائکرو پروسیسرس جیسی تکنالوجیوں کے سلسلے میں نوجوان اختراع کاروں کے طور پر رسائی حاصل ہو۔

اگرچہ بھارتی نوجوانوں نے اطلاعاتی تکنالوجی کے شعبے میں مطلع عالم پر ایک پہچان ضرور بنائی ہے، تاہم خدمات کے شعبے کے علاوہ تحقیق اور اختراعاتی پہلوؤں کی بھی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ سائنسی تحقیق  وقت، وسائل اور ترغیبات کی متقاضی ہوتی ہے۔ ان عناصر کے بغیر نوجوانوں کو منڈی میں دستیاب روزگاروں کو اپنانے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اگرچہ وہ تحقیقی رجحان کے حامل ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے گذشتہ چار برسوں کے دوران اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر، وزیر اعظم کی تحقیقی فیلو شپ (پی ایم آر ایف) کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ پہلی مرتبہ وافر مالی امداد کے ساتھ  سائنس اور تکنالوجی میں ایک تحقیقی فیلو شپ وزیر اعظم کی تحقیقی فیلوشپ کے تحت فراہم کی گئی ہے اور اس کے تحت 70,000 – 80,000 روپئے ماہانہ کی اسکالرشپ پانچ برسوں تک اور دو لاکھ روپئے کی سالانہ امداد ڈاکٹر آف فلاسفی اور تحقیق کے لئے پانچ برسوں تک فراہم کی جاتی ہے تاکہ طلبا اپنے تعلیمی اور دیگر ہنگامی اخراجات اور غیر ملکی / اندرونِ ملک سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں ۔

متعدد یونیورسٹیاں سات آئی آئی ٹی ادارے، سات آئی آئی ایم، 14 آئی آئی ٹی، ایک این آئی ٹی ، 103 کے وی اور 62 نو دے ودیالیہ قائم کیے گئے ہیں۔ 2017 میں حکومت نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بل 2017 کو اپنی منظوری دی جس کے تحت آئی آئی ایم اداروں کو قومی اہمیت کے ادارے قرار دیا جائے گاا وراس کی بنیاد پر وہ اپنے طلبا کو ڈگریاں تفویض کر سکیں گے۔ اس کےتحت آئی آئی ایم اداروں کو افزوں خودمختاری بھی حاصل ہوئی ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں دستیاب  مواقع

اگر مذکورہ پہل قدمیوں سے یہ اندازہ ہو سکے کہ کس طریقے سے یہ حکومت اب تک نظرانداز کیے گئے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتی آئی ہے، ان چار برسوں کے دوران متعدد دیگر اہم امور سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح اس نے تعلیمی نظام کو مستحکم بنایا ہے جس کے نتائج نوجوانوں کے لئے مفید ہوں گے۔ ان پر غور کیجئے:

  • حکومت تعلیم کے شعبے میں ایک نرم کاری پر مبنی طریقہ کار متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے اور زور خود مختار کو کوالٹی سے مربوط کرنے پر دیا جا رہا ہے۔ مارچ 2018 میں یو جی سی نے ایک تاریخی فیصلے کے تحت ان ساٹھ یونیورسٹیوں کو خودمختاری دے دی جنہوں نے اعلیٰ تعلیمی معیارات برقرار رکھے ہیں۔
  • بین الاقوامی معیارات کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلہ امتحانات منعقد کرانے کی غرض سے ایک خودمختار اور خود کفیل مقتدر ٹیسٹنگ ادارے کے طور پر قومی ٹیسٹنگ ایجنسی قائم کی گئی ہے۔
  • طلبا کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے متعدد وظائف فراہم کرائے گئے ہیں۔
  • تدریس کے نتائج کا انحصار اساتذہ کی کوالٹی پر بھی ہوتا ہے۔ اعلیٰ کوالٹی کے حامل اساتذہ کی فراہمی کے لئے اساتذہ کی تربیت پر زبردست توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
  • 20 اداروں کو ’’عمدگی کے ادارے‘‘ قرار دیا جائے گا۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ منتخبہ ادارے دس برسوں کے دوران دنیا کے 500 سرکردہ اداروں میں اور آگے چل کر عالمی زمرہ بندی کے سرکردہ 100 اداروں میں شمار ہونے لگیں گے۔

اٹل اختراعاتی مشن برائے تحقیق و عمدگی

ایک ایسا ایکو نظام فراہم کرنے کی غرض سے جو تحقیق اور اختراعات سے مناسبت رکھتا ہو، جدت طرازی کا عمل اسکولوں سے شروع کرنا ہوگا۔ اے آئی ایم کو ملک کے اختراعاتی ایکو نظام کے سلسلے میں ایک وسیع ڈھانچہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مختلف پروگراموں کے ذریعہ پورے اختراعاتی عرصہ حیات پر احاطہ کرتے ہوئے ایک نظام قائم کیا جانا چاہئے۔

2017 میں 2400 اسکولوں کو منتخب کیا گیا اور ملک بھر میں نوجوانوں میں تحقیق اور اختراعاتی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے انکیوبیشن(فروغ علم) کے  مراکزقائم کیے گئے۔ یہ مشن سرکردہ ماہرین تعلیم، سرپرستوں، صنعت کاروں اور باصلاحیت افراد کے ذریعہ ہمارے نوجوانوں کی رہنمائی کی سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ صنعت کار بن سکیں۔ یہ اس مر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ اختراعات کو بھی منڈی تک لے جایا جائے اور انہیں اختراعات سے مناسبت رکھنے والی صنعتوں کی شکل میں ڈھالا جا سکے۔ 

ہنرمندی ترقیات اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے کو منظم بنانے کا عمل

وزیر اعظم مودی کی حکومت نے ہنر مندی ترقیات کے توسط سے ملک بھر میں رسمی مختصر مدتی ہنر مندی تربیت فراہم کرنے کی غرض سے نوجوانوں کی اختیارکاری کے لئے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کا آغاز کیا ہے۔ اس کے تحت ہنر مندیوں کو اسناد بندی کے ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے اور  نوجوانوں کے ذریعہ روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد نوجوان، ہنر مندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت کے تحت مختلف النوع ہنر مندی ترقیات پروگراموں کے تحت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ 13,000 سے زائد مراکز ملک بھر میں 375 ٹریڈس کی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کوشل کیندر (پی ایم کے کے) پورے بھارت کے ہر ضلع میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ 

خود روزگار کے ذریعہ یووا شکتی کو بروئے کار لانا

نوجوانوں میں اختراعاتی اور صنعت کارانہ جذبے کو فروغ دینے کے لئے اسٹارٹ اپ انڈیا کا آغاز 16 جنوری 2016 کو عمل میں آیا تھا۔ اس کے تحت اسٹارٹ اپ کے لئے سات برسوں کے بلاک میں سے تین لگاتار برسوں کے لئے ٹیکس راحت اور دیگرمختلف  النوع ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں۔ اسٹارٹ اپس کو ملازمین کے طور پر کام کرنے والے پرموٹروں کو ای ایس او پی جاری کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے۔

پردھان منتری مدرا یوجنا جو صنعت کاروں کو ضمانت داری سے مبرا قرض فراہم کرتی ہے، صنعت کاری کو فروغ دینے والی ایک بنیادی مثال ہے۔ تیرہ کروڑ سے زائد چھوٹے اور اوسط درجے کے صنعت کاروں نے اپریل 2015سے اس کے تحت سرمایہ حاصل کیا ہے اور 6.5 لاکھ کروڑ روپئے کا سرمایہ صنعت کاری سے متعلق ایکو سسٹم میں لگایا جا چکا ہے۔ 2018 کے بجٹ میں یہ  تخصیص بڑھا کر تین لاکھ کروڑ روپئے کے بقدر کر دی گئی تھی جو گذشتہ برس کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔

روزگار فراہمی کے لئے سہ رخی طریقہ کار

زیادہ تعداد میں روزگار فراہم کرنے کی غرض سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے سرکاری دائرہ کار کے شعبے کو اہمیت دی ہے جس نے اپنے یہاں بنیادی ڈھانچے پر از سرنو توجہ مرکوز کی ہے اور اس کے نتیجے میں زیادہ مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ نجی شبعے کے لئے ایک سازگار ماحول فراہم کرایا گیا ہے، کثیر النوع سروے منعقد کرائے گئے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ذاتی شعبے کی نوتشکیل شدہ قوت کا اظہار مدرا، اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹیند اپ انڈیا کے توسط سے ہو رہا ہے  جس کا مقصد یووا شکتی کو بروئے کار لانا ہے۔ 

کھیل کود اور کھیل کود کے جذبے کو فروغ دینا

کھیل کود اور چاق و چوبند رہنا ایک شخص کی زندگی کے لئے ازحد بیش قیمت سرمایہ ہے ۔ کھیل کود میں حصہ لینے سے جزبہ باہم کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کلیدی اور تجزیاتی اندازِ فکر بالیدہ ہوتا ہے، قائدانہ صلاحیتیں ابھرتی ہیں، اہداف کا تعین کرنے اور خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

سرکاری اور نجی سطح پر وزیر اعظم کی جانب سے ایک دانستہ کوشش کی جا رہی ہے تاکہ صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جا سکے اور کھیل کود میں جذبہ تفاخر پیدا کیا جا سکے۔

کھیل کود کو فروغ دینے کے  لئے عمل میں لائے گئے چند اقدامات درج  ذیل ہیں:

  • منی پور میں قومی اسپورٹس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ کھیل کود کے شعبوں میں کھیل کو د سے متعلق تعلیم کو فروغ دینے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہوگا۔سائنس، کھیل کود تکنالوجی ، کھیل کود انتظام، کھیل کود کوچنگ کے مرکز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ یہ ادارہ منتخبہ تربیتی مراکز کے لئے قومی تربیتی مرکز کے طور پر بھی کام کرے گا۔.اس امر کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ شمال مشرق نے متعدد عمدہ کھلاڑی پیدا کیے ہیں، یہ اس سلسے میں ایک حوصلہ افزا قدم ہوگا۔
  • 5فروری 2017 کو گاندھی نگر، گجرات میں پیرا اتھلیٹس کے لئے وقف عالمی سہولتوں کا حامل اولین تربیتی مرکز۔

بھارت نے حال ہی میں آسٹریلیا میں منعقدہ 2018 کے دولت مشترکہ کے کھیلوں میں 66 متاثر کن اور تاریخی تمغے حاصل کیے ہیں۔

کھیلو انڈیا پروگرام نوجوانوں میں کھیل کود اور چاق و چوبند رہنے کے جذبے کو فروغ دینے کی ایک عوامی تحریک ہے۔ اس کا مقصد بھارت میں بنیادی سطح پر ہمارے ملک میں تمام طرح کے کھیل کود کے لئے ایک مضبوط فریم ورک کی تعمیر کر کے کھیل کو د کلچر کو فروغ دینا  اور بھارت کو ایک عظیم کھیل کود کی صلاحیت کا حامل ملک کا مقام دلانا ہے۔

کھیل کود کو فروغ دینے کے لئے عمل میں لائے گئے چند اقدامات درج ذیل ہیں:

  • مختلف سطحوں پر ترجیحاتی کھیل کود کے شعبوں میں ہونہار کھلاڑیوں کو آٹھ برسوں تک پانچ لاکھ روپئے سالانہ کی مالی امداد کی فراہمی کے ذریعہ ان کی مالی غیر یقینی حیثیت کا سدباب کرنا ۔
  • اولین کھیلو انڈیا اسکول کا آغاز جنوری 2018 میں کیا گیا جن میں 29 ریاستوں اور سات مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 3507 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
  • نظرثانی شدہ کھیلو انڈیاپروگرام کے لئے 2017-18 سے 2019-20 کے دوان 1,756 کروڑ روپئے کے مالی تخمینہ جاتی اخراجات فراہم کرائے جائیں گے۔
  • ہونہار نوجوانوں کے لئے ایک شفاف پلیٹ فارم کے طور پر اسپورٹس ٹیلنٹ سرچ پورٹل کا آغاز کیا گیا تاکہ نوجوان اپنی حصولیابیاں ساجھا کر سکیں۔ 

کھیل کود کی صلاحیت کو بالیدہ بنانے کی غرض سے ایکو سسٹم کے قیام کے ساتھ اب متعدد نوجوان کھیل کود کو ایک  باوقار کرئیر کے راستے کے طور پر اپنا سکتے ہیں۔

donation
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India claims top 10 in list of fastest-growing cities

Media Coverage

India claims top 10 in list of fastest-growing cities
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments

بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری کسی بھی ملک کی ترقی اور نمو کے لئے جسم میں خون پہنچانے والی دریدوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کو اولین ترجیح دی ہے۔ نئے ہندوستان کے خواب کی عملی تعبیر کے لئے این ڈی اے حکومت ریلوے، سڑکوں، شاہراہوں، آبی شاہراہوں اور کفایتی شرحوں پر ہوابازی کی سہولت کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

ریلوے

ہندوستانی ریلوے کا نیٹ ورک دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ ریل پٹریاں بدلے جانے کے کام کی رفتار فرد کی نگرانی کے بغیر ریلوے کراسنگ اور بڑی پٹری کی لائنیں بچھانے کے کام میں وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں نمایاں کام ہوا ہے۔

2017-18 کے دوران ایک سال کے عرصے میں محض 100 سے بھی کم ریل حادثوں کے ساتھ ریلوے میں حفاظت کا بہترین نظام ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار شاہد ہیں کہ سال 2013-14 میں 118 ریل حادثے ہوئے جن کی تعداد سال 2017-18 میں ہوکر محض 73 رہ گئی۔ 5,469فرد کی نگرانی کے بغیر لیول کراسنگ کوسال2009-14کی مدت میں 20فیصد کی رفتار سے ختم کر دیا گیا ہے۔ بڑی لائن کے ریل راستوں پر فرد کے بغیر لیول کراسنگ کو بہتر حفاظت کے لئے 2020 تک پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔

ریلوے کی ترقی میں رفتار پیدا کرتے ہوئے 50 فیصد ریل پٹریاں بدلی گئیں جو 2013-14 میں محض 2,926 کلو میٹر تھیں اور اب 2017-18 کی مدت میں بڑھ کر 4,405 کلو میٹر ہوگئی ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوراقتدار میں بڑی لائن کی 9,528 کلو میٹر طویل ریلوے لائن چالو کی گئی جو 2009-14 کی درمیانی مدت کے 7,600 کلومیٹر سے کہیں زیادہ ہے۔

ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شمال مشرقی ہندوستان بڑی لائن کی ریلوے لائن کے ساتھ باقی ماندہ ملک سے جڑ چکا ہے جس سے 70 برس بعد میگھالیہ، تری پورہ اور میزورم نے ہندوستان کے ریل نقشے پر اپنی جگہ محفوظ کر لی ہے۔

نئے ہندوستان کی ترقی کے لئے ہمیں جدید تکنالوجی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ممبئی سے احمدآباد کا سفر کرنے والی بلیٹ ٹرین کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں احمدآباد سے ممبئی کا سفر آٹھ گھنٹوں سے کم ہو کر دو گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔

 

شہری ہوابازی

ہمارے ملک کا شہری ہوابازی کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اڑان (اُڑے دیش کا عام ناگرک) کے تحت ملک کے 25 ہوائی اڈوں سے کفایتی ہوائی سفر کی سہولت محض چار برس کی مدت میں دستیاب کرائی جا چکی ہے جبکہ آزادی کے بعد سے سال 2014 تک مصروف عمل ہوائی اڈوں کی تعداد محض 75 ہی تھی۔ غیر مخصوص اور ناکافی پرواز والے ہوائی اڈوں سے علاقائی فضائی رابطہ کاری کی شرح 2,500 روپئے فی گھنٹہ کردی گئی ہے جس سے ان گنت ہندوستانیوں کے ہوائی سفر کا خواب پورا ہونے میں مدد ملی ہے۔ اس طرح پہلی مرتبہ ایئر کنڈیشنڈ ریلوں سے زیادہ لوگوں نے طیاروں میں فضائی سفر کیے۔

گذشتہ تین برسوں کے دوران مسافروں کی آمدورفت کی نمو 18-20 فیصد تک رہی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری ہوابازی بازار بن چکا ہے۔ 2017 میں تو گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد بھی 100 ملین سے زیادہ ہوگئی تھی۔

 

جہازرانی

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں ہندوستان جہازرانی کے شعبے میں بھی ترقی کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ بندرگاہی ترقیات میں تیزی کے ساتھ ملک کے بڑے بندرگاہوں پر آمدورفت کے اوقات میں بھی کمی ہوگئی ہے جو سال 2013-14 میں 94 گھنٹے تھی اور 2017-18 میں محض 64 گھنٹے رہ گئی ہے۔

بڑے بندرگاہوں پر مال اور سامان کے نقل و حمل کی بات کریں تو سال 2010-11 میں مال کے نقل و حمل کی مقدار 570.32 ملین ٹن تھی جو 2012-13 میں گھٹ کر 545.79 ملین ٹن رہ گئی۔ تاہم این ڈی اے حکومت کے دور اقتدار میں اس میں بہتری پیدا ہوئی اور سال 2017-18 میں ساز و سامان اور مال کے نقل و حمل کی مقدار100ملین ٹن کے اضافے کے ساتھ 679.367 ملین ٹن ہوگئی۔

اندرون ملک آبی شاہراہوں سے نہ صرف ٹرانسپورٹ پر آنے والے خرچ میں کمی ہوئی ہے بلکہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اخراج میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران 106 قومی آبی شاہراہیں آمدورفت کے لئے جوڑی گئیں جبکہ گذشتہ 30 برسوں کے دوران اندرون ملک قومی آبی شاہراہوں کی تعداد محض پانچ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

سڑک ترقیات

کثیر رخی ارتباط کے ساتھ شاہراہوں کی توسیع کا کام انقلابی پروجیکٹ بھارت مالا پریوجنا کے تحت کیا جا رہا ہے۔ قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک میں بھی 2013-14 کے 92,851 کلو میٹر سے بڑھ کر 2017-18 میں 1,20,543 کلو میٹر کی توسیع ہوئی ہے۔

محفوظ سڑکوں کے لئے سیتو بھارتم پروجیکٹ پر 20,800 کروڑ روپئے کی کل تخصیص کے ساتھ کام جاری ہے، جس کے تحت ریلوے اووَر برج یا انڈر پاس راستوں کی تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ قومی شاہراہوں کو ریلوے کی لیول کراسنگ سے بچایا جا سکے۔

سڑکوں کی تعمیر کی رفتار بھی تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ سال 2013-14 میں سڑکو کی تعمیر کی رفتار 12 کلو میٹر یومیہ تھی جو 2017-18 میں بڑھ کر 27 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔

 جموں میں ہندوستان کی سب سے طویل سرنگ چینانی ۔ نشری اور ملک کا طویل ترین پل دھولہ ۔ سادیہ اروناچل پردیش سے اضافہ شدہ رابطہ کاری دراصل ان علاقوں کو ترقی دینے کی ہماری عہد بستگی کا ثبوت ہیں جن میں اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا تھا۔ بہروچ میں دریائے نرمدا پر پل کی تعمیر اور کوٹا میں دریائے چمبل پر پل کی تعمیر سے اس خطے کی سڑک رابطہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سڑکیں دیہی ترقیات کے لئے عمل انگیزی کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گذشتہ چار برس کی مدت میں 1.69 لاکھ کلو میٹر طویل سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کی اوسط رفتار 2013-14 میں 69 کلو میٹر یومیہ تھیں جو 2017-18 میں بڑھ کر 134 کلو میٹر یومیہ ہوگئی ہے۔اب دیہی سڑک رابطہ کاری کی مقدار 82 فیصد تک ہوگئی ہے جو 2014 میں محض 56 فیصد تھی۔ دیہی سڑک رابطہ کاری میں اس اضافے سے ہمارےگاؤں بھی ملک کی ترقی کے راہِ عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔

ملازمتوں کے مواقع میں اضافے کے لئے سیاحت میں وافر امکانات موجود ہیں۔ تیرتھوں کے اضافہ شدہ سفر کے تجربات کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں بھی زبردست ترقی ہوئی ہے۔ چاردھام مہامارگ وکاس پریوجنا سیاحت کے شعبے کو بڑھاوا دینے کے لئے شروع کی گئی تھی جس کے تحت سفر محفوظ، تیزرفتار اور آسان بنایا جا سکے گا۔ اس سے تقریباً 12,000 کروڑ روپئے کی لاگت سے تقریباً 900 کلومیٹر طویل قومی شاہراہوں کی تعمیر ہو سکے گی۔

بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ساتھ مال اور سازو سامان کے نقل و حمل سے ہماری معیشت کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں سال 2017-18 کے دوران کل 1,160 ملین ٹن مال اور ساز و سامان کی لدان ہوئی جو اب تک کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔

شہری تغیر

اسمارٹ سٹیز کے ذریعہ شہروں کی ہیئت میں تبدیلی کے لئے سو شہری مراکز کا انتخاب معیار زندگی میں بہتری، پائیدار شہری منصوبہ بندی اور ترقی کو یقینی بنانے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں مختلف ترقیاتی منصوبے تقریباً دس کروڑ ہندوستانیوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ ان منصوبوں پر 2,01,979 کروڑ روپیوں کی لاگت آئے گی۔

پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت شہری اور دیہی دونوں طرح کے علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ کفایتی مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ متوسط طبقے اور نو متوسط طبقے کے فائدے کے لئے 9 اور بارہ لاکھ روپئے تک کے قرض کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے جن کی شرح سود میں 4 اور 3 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔