اس اسکیم میں اب ای واؤچرز شامل ہیں، جو ای وی خریدنے کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بناتے ہیں
اسکیم الیکٹرک ایمبولینسوں کے لیے راہ ہموار کرتی ہے جو ای وی کو صحت کے شعبے میں ضم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے
صحت کی دیکھ بھال کے سبز حل کے لیے اہم اقدام
پرانے ٹرک کو ہٹا کر ای ٹرک خریدنے کے لیے اضافی مراعات دی جائیں گی
اسکیم کا مقصد جانچ ایجنسیوں کی ترقی کے لیے 780 کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ گاڑیوں کی جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا ہے
اس سے ہندوستان میں برقی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوگا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ملک میں برقی گاڑیوں کی نقل و حرکت کے فروغ کے لیے ’پی ایم الیکٹرک ڈرائیو ریوولیوشن ان انوویٹو وہیکل انہانسمنٹ (پی ایم ای ڈرائیو) اسکیم‘ کے عنوان سے اسکیم کے نفاذ کے لیے بھاری صنعتوں کی وزارت کی تجویز کو منظوری دی ہے۔

اس اسکیم پر دو سال کی مدت میں 10,900 کروڑ روپے کا خرچ آئے گا۔

اسکیم کے اہم اجزا درج ذیل ہیں:

ای-2ڈبلیو، ای-3ڈبلیو، ای ایمبولینسوں، ای-ٹرکوں اور دیگر ابھرتی ہوئی ای وی کو بڑھاوا دینے کے لیے 3,679 کروڑ روپے کی سبسڈی /ڈیمانڈ مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ اسکیم 24.79 لاکھ ای-2ڈبلیو، 3.16 لاکھ ای-3ڈبلیو، اور 14,028 ای-بسوں کو سپورٹ کرے گی۔

ایم ایچ آئی اس اسکیم کے تحت ڈیمانڈ مراعات حاصل کرنے کے لیے ای وی خریداروں کے لیے ای واؤچر متعارف کروا رہا ہے۔ ای وی کی خریداری کے وقت، اسکیم پورٹل خریدار کے لیے آدھار کی تصدیق شدہ ای واؤچر تیار کرے گا۔ ای واؤچر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ایک لنک خریدار کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر بھیجا جائے گا۔

اس ای واؤچر پر خریدار کے دستخط ہوں گے اور اسکیم کے تحت مراعات حاصل کرنے کے لیے ڈیلر کو جمع کرائے جائیں گے۔ اس کے بعد، ای واؤچر پر بھی ڈیلر کے دستخط ہوں گے اور اسے پی ایم ای-ڈرائیو پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ دستخط شدہ ای واؤچر ایک ایس ایم ایس کے ذریعے خریدار اور ڈیلر کو بھیجا جائے گا۔ دستخط شدہ ای واؤچر او ای ایم کے لیے اسکیم کے تحت مراعات کی واپسی کا دعوی کرنے کے لیے ضروری ہوگا۔

اس اسکیم میں ای ایمبولینس کی تعیناتی کے لیے 500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مریضوں کی آرام دہ آمد و رفت کے لیے ای ایمبولینس کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے یہ حکومت ہند کا ایک نیا اقدام ہے۔ ای ایمبولینس کی کارکردگی اور حفاظتی معیارات ایم او ایچ ایف ڈبلیو، ایم او آر ٹی ایچ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کی مشاورت سے وضع کیے جائیں گے۔

ایس ٹی یو/ پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسیوں کے ذریعے 14,028 ای بسوں کی خریداری کے لیے 4,391 کروڑ روپے کی رقم فراہم کی گئی ہے۔ 40 لاکھ سے زیادہ آبادی والے 9 شہروں یعنی دہلی، ممبئی، کولکتہ، چنئی، احمد آباد، سورت، بنگلور، پونے اور حیدرآباد میں طلب جمع کرنے کا کام سی ای ایس ایل کے ذریعے کیا جائے گا۔ ریاستوں کے ساتھ مشاورت سے انٹر سٹی اور انٹر سٹیٹ ای بسوں کی بھی حمایت کی جائے گی۔

شہروں/ ریاستوں کے لیے بسیں مختص کرتے وقت، پہلی ترجیح شہروں/ ریاستوں کی بسوں کی ان تعداد کو دی جائے گی، جو ایم او آر ٹی ایچ وہیکل اسکریپنگ اسکیم کے رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے مجاز اسکریپنگ مراکز (آر وی ایس ایف) کے ذریعے پرانی ایس ٹی یو بسوں کو اسکریپ کرنے کے بعد خریدی جا رہی ہیں۔

فضائی آلودگی میں ٹرکوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ اسکیم ملک میں ای ٹرکوں کی تعیناتی کو فروغ دے گی۔ ای ٹرکوں کو ترغیب دینے کے لیے 500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کو مراعات دی جائیں گی جن کے پاس ایم او آر ٹی ایچ سے منظور شدہ گاڑیوں کے اسکریپنگ سینٹر (آر وی ایس ایف) سے اسکریپنگ سرٹیفکیٹ ہوگا۔

ملک میں بڑھتے ہوئے ای وی ایکو سسٹم کے پیش نظر، ایم ایچ آئی کی ٹیسٹ ایجنسیوں کو نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے نمٹنے کے لیے جدید بنایا جائے گا تاکہ گرین موبیلٹی کو فروغ دیا جا سکے۔ ایم ایچ آئی کے زیراہتمام 780 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ جانچ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن کو منظوری دی گئی ہے۔

یہ اسکیم عوامی نقل و حمل کے ذرائع کی مدد سے بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو فروغ دیتی ہے۔ پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کا بنیادی مقصد ای وی کو ان کی خریداری کے لیے پیشگی ترغیبات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ای وی کے لیے ضروری چارجنگ انفراسٹرکچر کے قیام میں سہولت فراہم کر کے انہیں اپنانے میں تیزی لانا ہے۔ پی ایم ای ڈرائیو اسکیم کا مقصد نقل و حمل کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ای وی کو فروغ دینا ہے۔

یہ اسکیم ایک مؤثر، مسابقتی اور لچکدار ای وی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو فروغ دیتی ہے جس سے آتم نربھر بھارت کو فروغ ملتا ہے۔ اسے مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگرام (پی ایم پی) کو شامل کر کے حاصل کیا جائے گا جو گھریلو مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ای وی سپلائی چین کو مضبوط کرتا ہے۔

حکومت ہند کا یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی اور ایندھن کی حفاظت سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار نقل و حمل کے حل کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اسکیم پی ایم پی کے ساتھ، ای وی سیکٹر اور متعلقہ سپلائی چین میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔ یہ اسکیم ویلیو چین کے ساتھ ساتھ روزگار کے اہم مواقع پیدا کرے گی۔ مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر کے قیام کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.