وزیر اعظم نے 44ویں پرگتی میٹنگ کی صدارت کی

Published By : Admin | August 28, 2024 | 18:58 IST
وزیر اعظم نے 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر محیط 76500 کروڑ روپئے کے بقدر کے سات کلیدی پروجیکٹوں کا جائزہ لیا
پروجیکٹوں میں تاخیر کے باعث نہ صرف خرچ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عوام پروجیکٹ کے مطلوبہ فوائد سے بھی محروم رہتے ہیں: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے کہا کہ "ایک پیڑ ماں کے نام" مہم پروجیکٹ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تحفظ میں بھی مدد کر سکتی ہے
وزیر اعظم نے امرت 2.0 کا جائزہ لیا اور چیف سکریٹریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس اسکیم کے تحت کاموں کی ذاتی طور پر نگرانی کریں
وزیر اعظم نے کہا کہ ریاستوں کو شہروں کی ترقی کی صلاحیت اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے
وزیر اعظم نے جل جیون مشن سے متعلق عوامی شکایات کا جائزہ لیا اور مشن امرت سروور پر کام جاری رکھنے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی شمولیت کے ساتھ فعال حکمرانی اور بروقت نفاذ کے لیے آئی سی ٹی پر مبنی کثیر ماڈل پلیٹ فارم یعنی  ’پرگتی‘ کے 44ویں ایڈیشن کی میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ تیسری مدت کار میں پہلی میٹنگ تھی۔

میٹنگ میں، سات اہم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سڑک کے رابطے سے متعلق دو منصوبے، دو ریل منصوبے اور کوئلہ، بجلی اور آبی وسائل کے شعبوں سے ایک ایک منصوبہ شامل ہے۔ ان پروجیکٹوں کی مجموعی لاگت 76,500 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے اور یہ 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے یعنی اتر پردیش، اتراکھنڈ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، راجستھان، گجرات، اڈیشہ، گوا، کرناٹک، چھتیس گڑھ اور دہلی سے متعلق ہیں۔

وزیر اعظم نے اس حقیقت پر زور دیا کہ مرکزی یا ریاستی سطح پر حکومت کے ہر عہدیدار کو اس حقیقت کے بارے میں حساس ہونا چاہئے کہ پروجیکٹوں میں تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافہ کا باعث بنتی ہے بلکہ عوام کو پروجیکٹ کے مطلوبہ فوائد سے بھی محروم کر دیتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم پروجیکٹوں کو ترقی دیتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔

بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے امرت 2.0 اور جل جیون مشن سے متعلق عوامی شکایات کا بھی جائزہ لیا۔ یہ منصوبے مل کر شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پانی ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے اور ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر شکایات کا معیاری نمٹنا ریاستی حکومتوں کو یقینی بنانا چاہیے۔ جل جیون پروجیکٹوں کا مناسب آپریشن اور دیکھ بھال کا طریقہ کار اس کی کامیابی کے لیے اہم ہے اور وزیر اعظم نے جہاں ممکن ہو خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی شمولیت اور آپریشن اور دیکھ بھال کے کاموں میں نوجوانوں کو ہنر دینے کی تجویز دی۔ وزیر اعظم نے ضلعی سطح پر آبی وسائل کے سروے کے انعقاد کا اعادہ کیا اور ذرائع کی پائیداری پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے چیف سکریٹریوں کو مشورہ دیا کہ وہ امرت 2.0  کے تحت کاموں کی ذاتی طور پر نگرانی کریں اور ریاستوں کو شہروں کی ترقی کی صلاحیت اور مستقبل کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے لیے پینے کے پانی کے منصوبے بناتے وقت پیری اربن علاقوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ علاقے بھی شہر کی حدود میں شامل ہو جاتے ہیں۔ شہری نظم و نسق میں اصلاحات، جامع شہری منصوبہ بندی، شہری نقل و حمل کی منصوبہ بندی، اور میونسپل فائننس ملک میں تیزی سے شہری کاری کے پیش نظر وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہروں کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا جیسے اقدامات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی یاد کیا کہ شہری کاری اور پینے کے پانی کے ان میں سے بہت سے پہلوؤں پر چیف سیکرٹریز کانفرنس میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور دیے گئے وعدوں کا جائزہ چیف سکریٹریوں کو خود کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے حکومت ہند کے چیف سکریٹریوں اور سکریٹریوں سے مزید کہا کہ وہ مشن امرت سروور پروگرام پر کام جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ امرت سرووروں  کے پانی جمع کرنے والے علاقوں کو صاف ستھرا رکھا جائے اور ان آبی ذخائر کی صفائی کا کام گاؤں کی کمیٹی کی شمولیت سے ضرورت کے مطابق کیا جائے۔

پرگتی کی 44ویں میٹنگ تک، 18.12 لاکھ کروڑ روپئے کی مجموعی لاگت کے 355 پروجیکٹوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.