Share
 
Comments
اس سے قبل بھی، سستے راشن اسکیموں کا دائرہ کار اور بجٹ بڑھتا رہا لیکن بھکمری اور غذائی قلت اس تناسب سے کم نہیں ہوئی: وزیراعظم
پردھان منتری غریب کلیان انا یوجنا شروع ہونے کے بعد مستحقین کو راشن کی تقریباًدوگنی رقم مل رہی ہے: وزیر اعظم
80 لاکھ سے زیادہ لوگ وبائی امراض کے دوران 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا مفت راشن حاصل کر رہے ہیں: وزیر اعظم
صدی کی سب سے بڑی آفت کے باوجود کوئی شہری بھوکا نہیں رہا: وزیراعظم
غریبوں کو بااختیار بنانے کو آج اولین ترجیح دی جارہی ہے: وزیراعظم
ہمارے کھلاڑیوں کا نیا اعتماد نئے ہندوستان کی شناخت بن رہا ہے: وزیر اعظم
ملک 50 کروڑ لوگوں کی ٹیکہ کاری کے سنگ میل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے: وزیراعظم
آئیے آزادی کا امرت مہوتسو پر قوم کی تعمیر کے لیے نئی تحریک چھیڑنے کاعہدکریں: وزیر اعظم

نئی دہلی،  3  اگست 2021،   نمسکار! گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب وجے روپانی جی، نائب وزیر اعلیٰ جناب نتن بھائی پٹیل جی،پارلیمنٹ میں میرے ساتھی اور گجرات بی جے پی کے صدر جناب سی آر پاٹل جی، پی ایم غریب کلیان انّ یوجنا کے تمام استفادہ کنندگان، بھائیو اور بہنو!

گزشتہ برسوں میں گجرات نے ترقی اور اعتماد کا جو مسلسل سلسلہ شروع کیا، وہ ریاست کو نئی بلندی پر لے جا رہا ہے۔حکومت گجرات نے ہماری بہنوں، ہمارے کسانوں، ہمارے غریب خاندانوں کے مفاد میں ہر اسکیم کو خدمت کے جذبے کے ساتھ زمین پر اتارا ہے۔ آج گجرات کے لاکھوں کنبوں کو پی ایم غریب کلیان انّ یوجنا کے تحت ایک ساتھ مفت راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ مفت راشن عالمی وبا کے اس دور میں غریب کی پریشانی کو کم کرتا ہے، ان کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ آج سے شروع نہیں ہو رہی ہے، اسکیم تو گزشتہ ایک سے قریب قریب چل رہی ہےتاکہ اس ملک کا کوئی غریب بھوکا نہ سو جائے۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو،

غریب کے دل میں بھی اسکی وجہ سے یقین پیدا ہوا ہے۔ یہ یقین، اس لئے آیا ہے کہ ان کو لگتا ہے کہ چیلنج چاہے کتنا بھی بڑا ہے، ملک ان کے ساتھ ہے۔ تھوڑی دیر قبل مجھے کچھ استفادہ کنندگان کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا، میں نے اس بات چیت میں محسوس بھی کیا کہ ایک نئی خود اعتمادی ان کے اندر بھری ہوئی ہے۔

ساتھیو،

آزادی کے بعد سے ہی قریب قریب ہر حکومت نے غریبوں کو سستا کھانا فراہم کرانے کی بات کہی تھی۔ سستے راشن کی اسکیموں کا دائرہ اور بجٹ سال در سال بڑھتا گیا، لیکن اس کا جو اثر ہونا چاہیئے تھا، وہ محدود ہی رہا۔ ملک کے خوردنی اشیا کا ذخیرہ بڑھتا گیا لیکن بھکمری اور تغذیہ کی کمی اس تناسب میں کمی نہیں آپائی۔ اس کا ایک بڑا سبب تھا کہ موثر ڈلیوری سسٹم کا نہ ہونا اور کچھ بیماریاں بھی آگئی سسٹمز میں، کچھ کٹ کی کمپنیاں بھی آگئیں، خود غرض عناصر بھی داخل ہوئے۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے سال 2014 کے بعد نئے سرے سے کام شروع کیا گیا۔ نئی ٹیکنالوجی کو اس تبدیلی کا ذریعہ بنایا گیا۔ کروڑوں فرضی استفادہ کنندگان کو سسٹم سے نکال دیا گیا۔ راشن کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک کیا اور سرکاری راشن کی دوکانوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

بھائیواور بہنو،

سو سال کی سب سے بڑی آفت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا پر آئی ہے، پوری نوع انسانی پر آئی ہے۔ روزگار پر ایک بحران آیا، کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام دھندے بند کرنے پڑے۔ لیکن ملک نے اپنے شہریوں کو بھوکا نہیں سونے دیا۔ بدقسمتی سے دنیا کے کئی ممالک کے لوگوں کو آج کورونا کے ساتھ ساتھ بھکمری کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ لیکن بھارت کورونا کی آہٹ کی پہلے دن سے ہی اس مصیبت کوپہچنااور اس پر کام کیا۔ اس لیے آج دنیا بھر میں پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا کی تعریف ہورہی ہے۔ بڑے بڑے ایکسپرٹ اس بات کی تعریف کر رہے ہیں کہ بھارت اپنے 80 کروڑ سے زائد لوگوں کو اس وبا کے دوران مفت اناج فراہم کر ارہا ہے۔ اس پر 2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ یہ ملک خرچ کر رہا ہے۔ مقصد ایک ہی ہے۔ کوئی بھارت کا میرا بھائیو، بہن، میرا کوئی بھی بھارت کا شہری بھوکا نہ رہے۔ آج 2 روپے کلو گیہوں، 3 روپے کلوکے چاول کے کوٹے کے علاوہ ہر استفادہ کنندہ کو 5 کلو گیہوں اور چاول مفت دیا جا رہا ہے۔ یعنی اس سکیم سے پہلے کے مقابلے میں راشن کارڈ رکھنے والوں کو تقریباً ڈبل مقدار میں راشن فراہم کرایا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم دیوالی تک چلنے والی، دیوالی تک کسی غریب کو پیٹ بھرنے کے لیے اپنی جیب سے پیسہ نہیں نکالنا پڑے گا۔ گجرات میں بھی تقریباًساڑھے تین کروڑ استفادپ کنندگان کو مفت راشن کا فائدہ آج مل رہا ہے۔ میں گجرات حکومت کی اس بات کے لیے بھی تعریف کروں گا کہ اس نے ملک کے دیگر حصوں سے اپنے یہاں کام کرنے کے لئے آنے والے مزدوروں کو بھی ترجیح دی۔ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہونے والے لاکھوں مزدوروں کو اس اسکیم کا فائدہ ملا ہے۔ اس میں بہت سارے ایسے ساتھی تھے، جن کے پاس یا تو راشن کارڈ تھا ہی نہیں، یا پھر ان کا راشن کارڈ دوسری ریاستوں کا تھا۔ گجرات ان ریاستوں میں ہے جس نے سب سے پہلے ون نیشن، ون راشن کارڈ کی اسکیم کو نافذ کیا۔ ون نیشن، ون راشن کارڈ کا فائدہ گجرات کے لاکھوں مزدور ساتھیوں کو مل رہا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ایک دور تھا جب ملک میں ترقی کی بات محض بڑے شہروں تک ہی محدود ہوتی تھی۔ وہاں بھی ترقی کا مطلب صرف اتنا ہی ہوتا تھا کہ مخصوص علاقوں میں بڑے بڑے فلائی اوور بن جائیں، سڑکیں بن جائیں، میٹرو بن جائیں! یعنی گاؤں قصبوں سے دور اور ہمارے گھر کے باہر جو کام ہوتا تھا جس کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، اسے ترقی سمجھا گیا۔ گزشتہ برسوں میں ملک نے اس سوچ کو تبدیل کیا ہے۔ آج ملک دونوں سمتوں میں کام کرنا چاہتا ہے، دو پٹریوں پر چلنا چاہتا ہے۔ ملک کو نئے انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت ہے۔ انفراسٹرکچر پر لاکھوں کروڑوں خرچ کیے جا رہے ہیں، اس سے لوگوں کوروزگار بھی مل رہا ہے، لیکن ساتھ ہی عام لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے، ایز آف لیونگ کے لیے نئے معیارات بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ غریبوں کو بااختیار بنانے کو آج اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ جب 2 کروڑ غریب خاندانوں کو گھر دیے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اب سردی، گرمی، بارش کے خوف سے آزاد ہوکر جی سکیں گے، اتنا نہیں، جب خود کا اپنا گھر ہو تا ہے نہ تو ان کی زندگی خوداری سے پر ہوجاتی ہے۔ نئے عزائم سے جڑجاتا ہے۔ ان عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے غریب، کنبے سمیت جی جان سے جٹ جاتا ہے۔دن رات محنت کرتا ہے۔ جب 10 کروڑ خاندانوں کو رفع حاجت کے لئے گھر سے باہر جانے کی مجبوری سے آزادی ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ وہ پہلے سوچتا تھا کہ خوشحال خاندانوں کے گھروں میں ہی ٹوائلیٹ ہوتا ہیں، بیت الخلا انہیں کے گھر میں ہوتا ہے۔ غریب کو تو بیچارے کو اندھیرے کا انتظار کرنا پڑتا ہے، کھلے میں باہر جانا پڑتا ہے۔ لیکن جب غریب کو ٹوائلیٹ ملتا ہے تو وہ امیر کی برابری میں اپنے آپ کو دیکھتا ہے، ایک نیا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح، جب ملک کا غریب جن دھن کھاتوں کے ذریعے بینکنگ سسٹم سے جڑتا ہے، موبائل بینکنگ غریب کے بھی ہاتھ میں ہوتی ہے، تب اسے طاقت ملتی ہے، اسے نئے مواقع ملتے ہیں۔ ہمارے یہاں کہاجاتا ہے-

सामर्थ्य मूलम्

सुखमेव लोके!

یعنی ہماری صلاحیت کی بنیاد ہماری زندگی کا سکھ ہی ہوتا ہے۔ جیسے ہم سکھ کے پیچھے بھاگ کر سکھ حاصل نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے لیے ہمیں مقررہ کام کرنے ہوتے ہیں، کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ویسے ہی بااختیاری بھی صحت، تعلیم، سہولت اور وقار میں اضافے سے ہوتی ہے۔ جب کروڑوں غریبوں کو آیوشمان یوجنا سے مفت علاج ملتا ہے تو صحت مندی سے وہ بااختیار ہوتے ہیں۔ جب کمزور طبقات کے لیے ریزرویشن کی سہولت کو یقینی بنایا جاتا ہے تو پھر ان طبقات کو تعلیم کے ذریعے بااختیار بنایا جاتا ہے۔ جب سڑکیں گاؤوں کو شہروں سے بھی جوڑتی ہیں، جب غریب خاندانوں کو مفت گیس کنکشن، مفت بجلی کے کنکشن ملتے ہیں تو یہ سہولیات انہیں بااختیار بناتی ہیں۔ جب کوئی شخص صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات حاصل کرتا ہے تو وہ اپنی ترقی کے بارے میں، ملک کی ترقی کے بارے میں سوچتا ہے۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے آج ملک میں مدرا یوجنا ہے، سوانیدھی یوجنا ہے۔ بھارت میں ایسی کئی اسکیمیں غریبوں کو باعزت زندگی کے راستے پر لارہی ہیں، عزت کے ساتھ بااختیار بنانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

جب عام انسانوں کے خوابوں کو مواقع ملتے ہیں، نظام جب گھر تک پہنچنے لگتا ہےتو زندگی کیسے بدلتی ہے یہ گجرات بخوبی سمجھتا ہے۔ کبھی گجرات کے ایک بڑے حصے میں لوگوں، ماؤں اور بہنوں کو پانی جیسی ضرورت کےلیے کئی کلومیٹر پیدل جانا پڑتا تھا۔ ہماری تمام مائیں اور بہنیں گواہ ہیں۔ یہ راجکوٹ میں تو پانی کے لیے ٹرین بھیجنی پڑتی تھی۔ راجکوٹ میں تو اگر پانی لینا تھا تو گھر کے باہر گڑھا کھود کر نیچے پائپ میں سے پانی ایک ایک کٹوری لیکر بالٹی بھرنی پڑتی تھی۔ لیکن آج، سردار سروور ڈیم، ساونی یوجنا سے، نہروں کے نیٹ ورک سے، اس کچھ میں بھی ماں نرمدا کا پانی پہنچ رہا ہے، جہاں کوئی سوچتا بھی نہیں تھا اور ہمارے یہاں تو کہا جاتا تھا کہ ماں نرمدا کو یاد کرنے سے ہی پنیہ ملتا ہے۔ آج تو ماں نرمدا گجرات کے گاؤں گاؤں جاتی ہے، خود ماں نرمدا گھر گھر جاتی ہے، خود ماں نرمدا کے دوار آکر آپ کو آشیرواد دیتی ہے۔ ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج گجرات سو فیصد نل کا پانی فراہم کرنے کے ہدف سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہی رفتار عام لوگوں کی زندگی میں یہی تبدیلی، اب آہستہ آہستہ پورا ملک محسوس کر رہا ہے۔ آزادی کی کئی دہائیوں کے بعد بھی، ملک میں محض 3 کروڑ دیہی کنبے پانی کے نل کی سہولت سے جڑے ہوئے تھے، جن کو نل سے پانی ملتا تھا۔ لیکن آج جل جیون ابھیان کے تحت، ملک بھر میں صرف دو سالوں میں، دو سال کے اندر ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو پائپ کے پانی سے جوڑا جاچکا ہے اور اس لئے میری مائیں، بہنیں مجھے بھرپور آشیرواد دیتی رہتی ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

ڈبل انجن کی حکومت کے فوائد بھی گجرات مسلسل دیکھ رہا ہے۔ آج، سردار سروور باندھ سے ترقی کی نئی دھارا ہی نہیں بہہ رہی ہے، بلکہ اسٹیچو آف یونٹی کی شکل میں دنیا کے سب سے بڑے پرکشش مقامات میں سے ایک آج گجرات میں ہے۔ کچھ میں قائم ہورہا ہےقابل تجدید توانائی پارک، جو گجرات کو پوری دنیا کے قابل تجدید توانائی کے نقشے میں جگہ دینے والا ہے۔ گجرات میں ریل اور ہوائی کنکٹی وٹی کے جدید اور شاندار انفراسٹرکچر پروجیکٹ تیار کیے جا رہے ہیں۔ گجرات کے احمد آباد اور سورت جیسے شہروں میں میٹرو کنکٹی وٹی کی توسیع تیزی سے ہو رہی ہے۔ گجرات میں ہیلتھ کیئر اور میڈیکل ایجوکیشن میں بھی قابل تعریف کام کیا جا رہا ہے۔ گجرات میں تیار ہونے والے بہتر میڈیکل انفراسٹرکچر نے 100 سال کی سب سے بڑی طبی ایمرجنسی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ساتھیو،

گجرات سمیت پورے ملک میں ایسے بہت سے کام ہیں، جن کی وجہ سے آج ہر ایک اہل وطن، ہر علاقے کی اعتمادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور یہ خود اعتمادی ہی ہے جو ہر چیلنج پر قابو پانے کا، ہر خواب کو پورا کرنے کا ایک بہت بڑا فارمولہ ہے۔ تازہ مثال اولمپکس میں ہمارے کھلاڑیوں کی کارکردگی ہے۔ اس بار بھارت کے اب تک کے سب سے زیادہ کھلاڑیوں نے اولمپکس میں کوالیفائی کیا ہے۔ یاد رہے، یہ 100 سال کی سب سے بڑی آفت سے لڑتے ہوئے کیا ہے۔ کئی تو ایسے کھیل ہیں جن میں ہم نے پہلی بار کوالیفائی کیا ہے۔ صرف کوالیفائی ہی نہیں کیا بلکہ وہ سخت مقابلہ بھی دے رہے ہیں۔ ہمارے کھلاڑی ہر کھیل میں بہترین مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس اولمپکس میں نئے بھارت کی بلند خوداعتمادی ہر کھیل میں نظر آرہی ہے۔ اولمپکس میں اترنے والے ہمارے کھلاڑی اپنے سے بہتر رینکنگ کے کھلاڑیوں کو، ان کی ٹیموں کو چیلنج دے رہے ہیں۔ بھارتی کھلاڑیوں کا جوش، جنون اور جذبہ آج بلند ترین سطح پر ہے۔ یہ اعتمادی تب آتی ہے جب صحیح ٹیلنٹ کی پہنچان ہوتی ہے، اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہ اعتمادی اس وقت آتی ہے جب نظام بدلتے ہیں، ان میں شفافیت آتی ہے۔ یہ نئی خود اعتمادی نیو انڈیا کی پہچان بن رہی ہے۔ یہ خود اعتمادی آج ملک کے کونے کونے میں، ہر چھوٹے بڑے گاؤں قصبے غریب، متوسط ​​طبقے کے نوجوان بھارت کے ہر کونے میں یہ اعتماد آرہا ہے۔

ساتھیو،

اسی خود اعتمادی ہمیں کورونا سے لڑائی میں اور اپنی ٹیکہ کاری کی مہم میں بھی جاری رکھنا ہے۔ عالمی وبا کے اس ماحول میں، ہمیں اپنی چوکسی کو مسلسل برقرار رکھنا ہے۔ ملک آج 50 کروڑ ٹیکہ کاری کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے تو، گجرات بھی ساڑھے تین کروڑ ویکسین کی خوراک کے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ہمیں ویکسین بھی لگانی ہے، ماسک بھی پہننا ہے اور جتنا ممکن ہو بھیڑ کا حصہ بننے سے بچنا ہے۔ ہم دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔ جہاں ماسک ہٹائے بھی گئے تھے، وہاں پھر سے ماسک لگانے کی اپیل کی جانے لگی ہے۔ ہمیں احتیاط اور حفاظت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

 

ساتھیو،

آج جب ہم پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا پر اتنا بڑا پروگرام کر رہے ہیں، تو میں اہل وطن سے ایک اورعزم کرانا چاہتا ہوں۔ یہ عزم ہے ملک کی تعمیر کی ایک نئی تحریک بیدار کرنے کا۔ آزادی کے 75 برس پر، آزادی کے امرت مہوتسو میں، ہمیں یہ مقدس عزم لینا ہے۔ ان عزائم میں غریب امیر، خاتون مرد، دلت محروم سب برابری کے حصے دار ہیں۔ گجرات آنے والے برسوں میں اپنے تمام عزائم پورے کرے، دنیا میں اپنی شاندار پہنچان کو مزید مستحکم کرے، اسی خواہش کے ساتھ میں آپ سب کے لئے بہت بہت نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ ایک بار پھر ان یوجنا کے سبھی استفادہ کنندگان کے لئے بہت بہت نیک خواہشات !!! آپ سب کا بہت بہت شکریہ !!!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat

Media Coverage

The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address at the Krishnaguru Eknaam Akhand Kirtan for World Peace
February 03, 2023
Share
 
Comments
“Krishnaguru ji propagated ancient Indian traditions of knowledge, service and humanity”
“Eknaam Akhanda Kirtan is making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast”
“There has been an ancient tradition of organizing such events on a period of 12 years”
“Priority for the deprived is key guiding force for us today”
“50 tourist destination will be developed through special campaign”
“Gamosa’s attraction and demand have increased in the country in last 8-9 years”
“In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started”
“The life force of the country's welfare schemes are social energy and public participation”
“Coarse grains have now been given a new identity - Shri Anna”

जय कृष्णगुरु !

जय कृष्णगुरु !

जय कृष्णगुरु !

जय जयते परम कृष्णगुरु ईश्वर !.

कृष्णगुरू सेवाश्रम में जुटे आप सभी संतों-मनीषियों और भक्तों को मेरा सादर प्रणाम। कृष्णगुरू एकनाम अखंड कीर्तन का ये आयोजन पिछले एक महीने से चल रहा है। मुझे खुशी है कि ज्ञान, सेवा और मानवता की जिस प्राचीन भारतीय परंपरा को कृष्णगुरु जी ने आगे बढ़ाया, वो आज भी निरंतर गतिमान है। गुरूकृष्ण प्रेमानंद प्रभु जी और उनके सहयोग के आशीर्वाद से और कृष्णगुरू के भक्तों के प्रयास से इस आयोजन में वो दिव्यता साफ दिखाई दे रही है। मेरी इच्छा थी कि मैं इस अवसर पर असम आकर आप सबके साथ इस कार्यक्रम में शामिल होऊं! मैंने कृष्णगुरु जी की पावन तपोस्थली पर आने का पहले भी कई बार प्रयास किया है। लेकिन शायद मेरे प्रयासों में कोई कमी रह गई कि चाहकर के भी मैं अब तक वहां नहीं आ पाया। मेरी कामना है कि कृष्णगुरु का आशीर्वाद मुझे ये अवसर दे कि मैं आने वाले समय में वहाँ आकर आप सभी को नमन करूँ, आपके दर्शन करूं।

साथियों,

कृष्णगुरु जी ने विश्व शांति के लिए हर 12 वर्ष में 1 मास के अखंड नामजप और कीर्तन का अनुष्ठान शुरू किया था। हमारे देश में तो 12 वर्ष की अवधि पर इस तरह के आयोजनों की प्राचीन परंपरा रही है। और इन आयोजनों का मुख्य भाव रहा है- कर्तव्य I ये समारोह, व्यक्ति में, समाज में, कर्तव्य बोध को पुनर्जीवित करते थे। इन आयोजनों में पूरे देश के लोग एक साथ एकत्रित होते थे। पिछले 12 वर्षों में जो कुछ भी बीते समय में हुआ है, उसकी समीक्षा होती थी, वर्तमान का मूल्यांकन होता था, और भविष्य की रूपरेखा तय की जाती थी। हर 12 वर्ष पर कुम्भ की परंपरा भी इसका एक सशक्त उदाहरण रहा है। 2019 में ही असम के लोगों ने ब्रह्मपुत्र नदी में पुष्करम समारोह का सफल आयोजन किया था। अब फिर से ब्रह्मपुत्र नदी पर ये आयोजन 12वें साल में ही होगा। तमिलनाडु के कुंभकोणम में महामाहम पर्व भी 12 वर्ष में मनाया जाता है। भगवान बाहुबली का महा-मस्तकाभिषेक ये भी 12 साल पर ही होता है। ये भी संयोग है कि नीलगिरी की पहाड़ियों पर खिलने वाला नील कुरुंजी पुष्प भी हर 12 साल में ही उगता है। 12 वर्ष पर हो रहा कृष्णगुरु एकनाम अखंड कीर्तन भी ऐसी ही सशक्त परंपरा का सृजन कर रहा है। ये कीर्तन, पूर्वोत्तर की विरासत से, यहाँ की आध्यात्मिक चेतना से विश्व को परिचित करा रहा है। मैं आप सभी को इस आयोजन के लिए अनेकों-अनेक शुभकामनाएं देता हूँ।

साथियों,

कृष्णगुरु जी की विलक्षण प्रतिभा, उनका आध्यात्मिक बोध, उनसे जुड़ी हैरान कर देने वाली घटनाएं, हम सभी को निरंतर प्रेरणा देती हैं। उन्होंने हमें सिखाया है कि कोई भी काम, कोई भी व्यक्ति ना छोटा होता है ना बड़ा होता है। बीते 8-9 वर्षों में देश ने इसी भावना से, सबके साथ से सबके विकास के लिए समर्पण भाव से कार्य किया है। आज विकास की दौड़ में जो जितना पीछे है, देश के लिए वो उतनी ही पहली प्राथमिकता है। यानि जो वंचित है, उसे देश आज वरीयता दे रहा है, वंचितों को वरीयता। असम हो, हमारा नॉर्थ ईस्ट हो, वो भी दशकों तक विकास के कनेक्टिविटी से वंचित रहा था। आज देश असम और नॉर्थ ईस्ट के विकास को वरीयता दे रहा है, प्राथमिकता दे रहा है।

इस बार के बजट में भी देश के इन प्रयासों की, और हमारे भविष्य की मजबूत झलक दिखाई दी है। पूर्वोत्तर की इकॉनमी और प्रगति में पर्यटन की एक बड़ी भूमिका है। इस बार के बजट में पर्यटन से जुड़े अवसरों को बढ़ाने के लिए विशेष प्रावधान किए गए हैं। देश में 50 टूरिस्ट डेस्टिनेशन्स को विशेष अभियान चलाकर विकसित किया जाएगा। इनके लिए आधुनिक इनफ्रास्ट्रक्चर बनाया जाएगा, वर्चुअल connectivity को बेहतर किया जाएगा, टूरिस्ट सुविधाओं का भी निर्माण किया जाएगा। पूर्वोत्तर और असम को इन विकास कार्यों का बड़ा लाभ मिलेगा। वैसे आज इस आयोजन में जुटे आप सभी संतों-विद्वानों को मैं एक और जानकारी देना चाहता हूं। आप सबने भी गंगा विलास क्रूज़ के बारे में सुना होगा। गंगा विलास क्रूज़ दुनिया का सबसे लंबा रिवर क्रूज़ है। इस पर बड़ी संख्या में विदेशी पर्यटक भी सफर कर रहे हैं। बनारस से बिहार में पटना, बक्सर, मुंगेर होते हुये ये क्रूज़ बंगाल में कोलकाता से आगे तक की यात्रा करते हुए बांग्लादेश पहुंच चुका है। कुछ समय बाद ये क्रूज असम पहुँचने वाला है। इसमें सवार पर्यटक इन जगहों को नदियों के जरिए विस्तार से जान रहे हैं, वहाँ की संस्कृति को जी रहे हैं। और हम तो जानते है भारत की सांस्कृतिक विरासत की सबसे बड़ी अहमियत, सबसे बड़ा मूल्यवान खजाना हमारे नदी, तटों पर ही है क्योंकि हमारी पूरी संस्कृति की विकास यात्रा नदी, तटों से जुड़ी हुई है। मुझे विश्वास है, असमिया संस्कृति और खूबसूरती भी गंगा विलास के जरिए दुनिया तक एक नए तरीके से पहुंचेगी।

साथियों,

कृष्णगुरु सेवाश्रम, विभिन्न संस्थाओं के जरिए पारंपरिक शिल्प और कौशल से जुड़े लोगों के कल्याण के लिए भी काम करता है। बीते वर्षों में पूर्वोत्तर के पारंपरिक कौशल को नई पहचान देकर ग्लोबल मार्केट में जोड़ने की दिशा में देश ने ऐतिहासिक काम किए हैं। आज असम की आर्ट, असम के लोगों के स्किल, यहाँ के बैम्बू प्रॉडक्ट्स के बारे में पूरे देश और दुनिया में लोग जान रहे हैं, उन्हें पसंद कर रहे हैं। आपको ये भी याद होगा कि पहले बैम्बू को पेड़ों की कैटेगरी में रखकर इसके काटने पर कानूनी रोक लग गई थी। हमने इस कानून को बदला, गुलामी के कालखंड का कानून था। बैम्बू को घास की कैटेगरी में रखकर पारंपरिक रोजगार के लिए सभी रास्ते खोल दिये। अब इस तरह के पारंपरिक कौशल विकास के लिए, इन प्रॉडक्ट्स की क्वालिटी और पहुँच बढ़ाने के लिए बजट में विशेष प्रावधान किया गया है। इस तरह के उत्पादों को पहचान दिलाने के लिए बजट में हर राज्य में यूनिटी मॉल-एकता मॉल बनाने की भी घोषणा इस बजट में की गई है। यानी, असम के किसान, असम के कारीगर, असम के युवा जो प्रॉडक्ट्स बनाएँगे, यूनिटी मॉल-एकता मॉल में उनका विशेष डिस्प्ले होगा ताकि उसकी ज्यादा बिक्री हो सके। यही नहीं, दूसरे राज्यों की राजधानी या बड़े पर्यटन स्थलों में भी जो यूनिटी मॉल बनेंगे, उसमें भी असम के प्रॉडक्ट्स रखे जाएंगे। पर्यटक जब यूनिटी मॉल जाएंगे, तो असम के उत्पादों को भी नया बाजार मिलेगा।

साथियों,

जब असम के शिल्प की बात होती है तो यहाँ के ये 'गोमोशा' का भी ये ‘गोमोशा’ इसका भी ज़िक्र अपने आप हो जाता है। मुझे खुद 'गोमोशा' पहनना बहुत अच्छा लगता है। हर खूबसूरत गोमोशा के पीछे असम की महिलाओं, हमारी माताओं-बहनों की मेहनत होती है। बीते 8-9 वर्षों में देश में गोमोशा को लेकर आकर्षण बढ़ा है, तो उसकी मांग भी बढ़ी है। इस मांग को पूरा करने के लिए बड़ी संख्या में महिला सेल्फ हेल्प ग्रुप्स सामने आए हैं। इन ग्रुप्स में हजारों-लाखों महिलाओं को रोजगार मिल रहा है। अब ये ग्रुप्स और आगे बढ़कर देश की अर्थव्यवस्था की ताकत बनेंगे। इसके लिए इस साल के बजट में विशेष प्रावधान किए गए हैं। महिलाओं की आय उनके सशक्तिकरण का माध्यम बने, इसके लिए 'महिला सम्मान सेविंग सर्टिफिकेट' योजना भी शुरू की गई है। महिलाओं को सेविंग पर विशेष रूप से ज्यादा ब्याज का फायदा मिलेगा। साथ ही, पीएम आवास योजना का बजट भी बढ़ाकर 70 हजार करोड़ रुपए कर दिया गया है, ताकि हर परिवार को जो गरीब है, जिसके पास पक्का घर नहीं है, उसका पक्का घर मिल सके। ये घर भी अधिकांश महिलाओं के ही नाम पर बनाए जाते हैं। उसका मालिकी हक महिलाओं का होता है। इस बजट में ऐसे अनेक प्रावधान हैं, जिनसे असम, नागालैंड, त्रिपुरा, मेघालय जैसे पूर्वोत्तर राज्यों की महिलाओं को व्यापक लाभ होगा, उनके लिए नए अवसर बनेंगे।

साथियों,

कृष्णगुरू कहा करते थे- नित्य भक्ति के कार्यों में विश्वास के साथ अपनी आत्मा की सेवा करें। अपनी आत्मा की सेवा में, समाज की सेवा, समाज के विकास के इस मंत्र में बड़ी शक्ति समाई हुई है। मुझे खुशी है कि कृष्णगुरु सेवाश्रम समाज से जुड़े लगभग हर आयाम में इस मंत्र के साथ काम कर रहा है। आपके द्वारा चलाये जा रहे ये सेवायज्ञ देश की बड़ी ताकत बन रहे हैं। देश के विकास के लिए सरकार अनेकों योजनाएं चलाती है। लेकिन देश की कल्याणकारी योजनाओं की प्राणवायु, समाज की शक्ति और जन भागीदारी ही है। हमने देखा है कि कैसे देश ने स्वच्छ भारत अभियान शुरू किया और फिर जनभागीदारी ने उसे सफल बना दिया। डिजिटल इंडिया अभियान की सफलता के पीछे भी सबसे बड़ी वजह जनभागीदारी ही है। देश को सशक्त करने वाली इस तरह की अनेकों योजनाओं को आगे बढ़ाने में कृष्णगुरु सेवाश्रम की भूमिका बहुत अहम है। जैसे कि सेवाश्रम महिलाओं और युवाओं के लिए कई सामाजिक कार्य करता है। आप बेटी-बचाओ, बेटी-पढ़ाओ और पोषण जैसे अभियानों को आगे बढ़ाने की भी ज़िम्मेदारी ले सकते हैं। 'खेलो इंडिया' और 'फिट इंडिया' जैसे अभियानों से ज्यादा से ज्यादा युवाओं को जोड़ने से सेवाश्रम की प्रेरणा बहुत अहम है। योग हो, आयुर्वेद हो, इनके प्रचार-प्रसार में आपकी और ज्यादा सहभागिता, समाज शक्ति को मजबूत करेगी।

साथियों,

आप जानते हैं कि हमारे यहां पारंपरिक तौर पर हाथ से, किसी औजार की मदद से काम करने वाले कारीगरों को, हुनरमंदों को विश्वकर्मा कहा जाता है। देश ने अब पहली बार इन पारंपरिक कारीगरों के कौशल को बढ़ाने का संकल्प लिया है। इनके लिए पीएम-विश्वकर्मा कौशल सम्मान यानि पीएम विकास योजना शुरू की जा रही है और इस बजट में इसका विस्तार से वर्णन किया गया है। कृष्णगुरु सेवाश्रम, विश्वकर्मा साथियों में इस योजना के प्रति जागरूकता बढ़ाकर भी उनका हित कर सकता है।

साथियों,

2023 में भारत की पहल पर पूरा विश्व मिलेट ईयर भी मना रहा है। मिलेट यानी, मोटे अनाजों को, जिसको हम आमतौर पर मोटा अनाज कहते है नाम अलग-अलग होते है लेकिन मोटा अनाज कहते हैं। मोटे अनाजों को अब एक नई पहचान दी गई है। ये पहचान है- श्री अन्न। यानि अन्न में जो सर्वश्रेष्ठ है, वो हुआ श्री अन्न। कृष्णगुरु सेवाश्रम और सभी धार्मिक संस्थाएं श्री-अन्न के प्रसार में बड़ी भूमिका निभा सकती हैं। आश्रम में जो प्रसाद बँटता है, मेरा आग्रह है कि वो प्रसाद श्री अन्न से बनाया जाए। ऐसे ही, आज़ादी के अमृत महोत्सव में हमारे स्वाधीनता सेनानियों के इतिहास को युवापीढ़ी तक पहुंचाने के लिए अभियान चल रहा है। इस दिशा में सेवाश्रम प्रकाशन द्वारा, असम और पूर्वोत्तर के क्रांतिकारियों के बारे में बहुत कुछ किया जा सकता है। मुझे विश्वास है, 12 वर्षों बाद जब ये अखंड कीर्तन होगा, तो आपके और देश के इन साझा प्रयासों से हम और अधिक सशक्त भारत के दर्शन कर रहे होंगे। और इसी कामना के साथ सभी संतों को प्रणाम करता हूं, सभी पुण्य आत्माओं को प्रणाम करता हूं और आप सभी को एक बार फिर बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

धन्यवाद!