نمسکار ساتھیو،

سردی شاید دیر سے آ رہی ہے اور بہت آہستہ آ رہی ہے لیکن سیاسی گرمی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کل ہی چار ریاستوں کے انتخابی نتائج آئے ہیں، نتائج بہت  ہی حوصلہ افزا ہیں۔

یہ ان لوگوں کے لیے حوصلہ افزا ہیں، جو ملک کے عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہیں، جو ملک کے روشن مستقبل کے لیے وقف ہیں۔ خاص طور پر تمام معاشروں، شہروں اور دیہاتوں میں، تمام گروہوں کی خواتین، دیہاتوں اور شہروں کے تمام گروہوں کے نوجوان، ہر برادری کے کسان اور میرے ملک کے غریب، یہ چار اہم ذاتیں ہیں جن کا بااختیار ہونا ان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ یہ اصول، ٹھوس منصوبوں اور آخری میل کی ترسیل کو یقینی بناتے ہوئے، مکمل تعاون حاصل کرتے ہیں۔ اور جب اچھی حکمرانی  ہو، مفاد عامہ کی مکمل حمایت ہو، تو پھر اقتدار مخالف کا لفظ غیر متعلقہ ہو جاتا ہے۔ اور ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ کچھ لوگ اسے حکومت نواز کہتے ہیں، کوئی اسے اچھی حکمرانی  کہتے ہیں، کوئی اسے شفافیت کہتے ہیں، کوئی اسے قومی مفاد کی ٹھوس ا سکیمیں کہتے ہیں، لیکن یہ تجربہ مسلسل ہو رہا ہے۔ اور اتنے شاندار حق رائے دہی  کے بعد آج ہم پارلیمنٹ کے اس نئے مندر میں مل رہے ہیں۔

 

جب اس پارلیمنٹ ہاؤس کے نئے کمپلیکس کا افتتاح ہوا تو ایک چھوٹا سا اجلاس ہوا اور ایک تاریخی فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس بار اس ایوان میں طویل عرصے تک کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ نیا گھر ہے، شاید معمولی انتظامات میں کچھ کوتاہیاں اب بھی محسوس کی جائیں۔ جب کام تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا تو ارکان پارلیمنٹ، ملاقاتیوں اور میڈیا والوں کو بھی احساس ہو گا کہ اسے تھوڑا ٹھیک کر لیا جائے تو اچھا ہو گا۔ اور مجھے یقین ہے کہ محترم نائب صدر اور محترم اسپیکر کی قیادت میں، ان چیزوں کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے اور میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر ایسی کوئی چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کی توجہ میں آئیں، تو آپ ضرور اپنی توجہ مبذول کریں۔ کیونکہ جب یہ چیزیں بنتی ہیں تو ضرورت کے مطابق تبدیلیاں بھی ضروری ہوتی ہیں۔

ملک نے منفی رجحان کو  مسترد کر دیا ہے۔ میں ہمیشہ اجلاس  کے آغاز میں اپنے مخالف ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہوں، ہماری مرکزی ٹیم ان سے بحث کرتی ہے، اور جب بھی ہم ملتے ہیں، ہم ہمیشہ دعا کرتے ہیں اور سب سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔ اس بار بھی ایساہی  مکمل  طریقہ کاراختیار کیا گیا ہے۔ اور آپ کے توسط سے بھی میں ہمیشہ اپنے تمام اراکین پارلیمنٹ سے عوامی طور پر درخواست کرتا ہوں۔ جمہوریت کا یہ مندر، لوگوں کی امنگوں اور ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے ایک بہت اہم پلیٹ فارم ہے۔

 

میں تمام تسلیم شدہ اراکین پارلیمنٹ سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ ہر ممکن حد تک تیار ہو کر آئیں، ایوان میں جو بھی بل پیش کیا جائے، اس پر گہرائی سے بحث کریں، بہترین تجاویز کے ساتھ آئیں اور ان تجاویز کے ذریعے... کیونکہ جب کوئی رکن پارلیمنٹ تجویزپیش کرتا ہے،تو اگر ایسا ہے تو اس میں زمینی تجربے کا بہت اچھا عنصرہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بات چیت نہیں ہوتی ہے ،تو ملک ان چیزوں کو یاد کرتا ہے اور اس لئے میں دوبارہ درخواست کرتا ہوں۔

اور اگر میں موجودہ انتخابی نتائج کی بنیاد پر کہوں تو اپوزیشن میں بیٹھے ان دوستوں کے لیے یہ سنہری موقع ہے۔ اس اجلاس  میں شکست کا غصہ نکالنے کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے، اگر ہم اس شکست سے سبق سیکھیں اور پچھلے نو سالوں سے جاری منفی رجحان کو چھوڑ کر اس اجلاس میں مثبت انداز میں آگے بڑھیں، تو پھر ملک ان کی طرف دیکھنے کے انداز کو  بدلے گا، ان کے لیے ایک نیا دروازہ کھل سکتا ہے... اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی، میں انہیں ایک اچھا مشورہ دے رہا ہوں کہ آئیں، مثبت سوچ کے ساتھ آئیں۔ اگر ہم دس قدم بڑھائیں تو آپ بارہ قدم آگے بڑھائیں اور فیصلہ کریں۔

سب کا مستقبل روشن ہے، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن براہ کرم باہر کی شکست کا غصہ، ایوان میں نہ نکالیں۔ مایوسی اور ناامیدی ہوگی، آپ کو اپنے ساتھیوں کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے کچھ کرنا پڑے گا، لیکن کم از کم جمہوریت کے اس مندر کو پلیٹ فارم نہ بنائیں۔ اور اب بھی میں کہتا ہوں، میں اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں، اپنا رویہ تھوڑا تبدیل کرو، احتجاج کی خاطر احتجاج کا طریقہ چھوڑ دو، ملکی مفاد میں مثبت چیزوں کا ساتھ دیں۔ ٹھیک ہے... اس میں موجود خامیوں پر بحث کریں۔ آپ دیکھیں کہ آج ایسی باتوں پر ملک کے ذہنوں میں جو نفرت پیدا ہو رہی ہے، وہ محبت میں بدل سکتی ہے۔ تو  یہ ایک موقع ہے، اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔

 

اور یہی وجہ ہے کہ میں ہر بار ایوان میں تعاون کی تہہ دل سے دعا کرتا رہا ہوں۔ آج میں سیاسی نقطہ نظر سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ملک کوتعمیر  کا پیغام دینا آپ کے مفاد میں ہے، آپ کی شبیہ،نفرت  کی اور منفی نہیں ہونی چاہیے، یہ جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن بھی اتنی ہی اہم، اتنی ہی قیمتی اور اتنی ہی طاقتور ہونی چاہیے۔ اور جمہوریت کی بھلائی کے لیے میں ایک بار پھر اس جذبات کا اظہار کرتا ہوں۔

سن  2047، اب ملک ترقی یافتہ  ہونے  کی منزل کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہتا۔ معاشرے کے ہر طبقے میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ہمیں بس آگے بڑھنا ہے۔ ہمارے تمام معزز اراکین اسمبلی کو اس جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور ایوان کو مضبوطی کے ساتھ آگے لے جانا چاہیے، میری ان سے یہی درخواست ہے۔ میری آپ سب دوستوں کے لئے  بھی بہت بہت نیک خواہشات

بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Boost to local manufacturing: India-made chips may soon power iPhones

Media Coverage

Boost to local manufacturing: India-made chips may soon power iPhones
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Amroha is a witness to Shri Krishna's Shricharan
Amroha is the place that has given us India's Top performer in the Cricket World Cup, Mohammed Shami
Despite being close to Delhi NCR, Amroha and it's garment industry couldn't derive the benefits for several decades
In the last decade we have fulfilled the vision of Babasaheb Ambedkar, Jyotiba Phule & Chaudhary Charan Singh in enabling developmental benefits to all
Our government enforced the ban of 'Triple Talaq' truly empowering our Muslim Sisters
People will not forget the 'Gunda Raj' before the advent of the BJP government in UP

Praising cricketer Mohammed Shami, PM Modi said, "Amroha is the place that has given us India's Top performer in the Cricket World Cup, Mohammed Shami." He added that Mohammed Shami has also received the Arjuna Award. He said that for the same there is also going to be a stadium built for the youth of Amroha.

Speaking on the constant state of underdevelopment facilitated by the I.N.D.I alliance, PM Modi said, "Where BJP possesses the vision to make India and it's villages developed the I.N.D.I alliance aims to keep the villages underdeveloped." He added, "Despite being close to Delhi NCR, Amroha and its garment industry couldn't derive the benefits for several decades." He added that today UP possesses modern airports facilitating robust connectivity.

Lamenting previous governments of betraying the trust of SC-ST-OBC, PM Modi said, "Previous governments have only betrayed the trust of SC-ST-OBC." He added, "In the last decade we have fulfilled the dream and vision of Babasaheb Ambedkar, Jyotiba Phule & Chaudhary Charan Singh in enabling last-mile reach of developmental benefits to all." He added, "Our government enforced the ban of 'Triple Talaq' truly empowering our Muslim Sisters."

Elaborating on how Congress-SP-BSP have ignored the Kisan of Amroha, PM Modi said, "Congress-SP-BSP have ignored the Kisan of Amroha." He added that through various initiatives like PM-KISAN and a record rise in MSPs we have pioneered the prosperity and empowerment of all farmers, especially the sugarcane farmers through 'Sugar Mills'. He added that today UP has easy access to Urea and there is 'Mango Pack House' to enable the processing of local mangoes.

Highlighting the I.N.D.I alliance's tendency on seeking votes on 'Corruption, Appeasement & Dyansty', PM Modi said, I.N.D.I alliance seeks Votes on 'Corruption, Appeasement & Dyansty'. He added, "I.N.D.I alliance only attacks 'Sanatana' and were also against the Pran-Pratishtha of Shri Ram. He said, "The politics of I.N.D.I alliance even made them go against the Tigri Mela of Amroha." He also said that when I prayed in Dwarka below the sea, Congress' Yuvraj said that there is nothing worth praying for under the sea and such is their tendency of insulting 'Sanatana'.

Speaking on the politics of appeasement, PM Modi said, "Politics of appeasement has always engulfed 'Western UP' in riots." He added, "People will not forget the 'Gunda Raj' before the advent of the BJP government in UP. He added, "The BJP government in UP has enabled the robust protection of our Mothers-Daughters-Sisters of UP."

In conclusion, PM Modi said that 26th April is the day of importance and an opportunity to discard the the bad policies of I.N.D.I alliance and to vote for the bright future of India. PM Modi thanked Amroha for the large turnout and sought their support and blessings for the BJP in the upcoming Lok Sabha elections.