انڈین آئل کے ’ان بوتلڈ‘ پہل کے تحت یونیفارم کا آغازکیا
انڈین آئل کے انڈور سولر کوکنگ سسٹم کے ٹوئن کوک ٹاپ ماڈل کو قوم کے نام وقف کیا
ای20 ایندھن کا آغاز کیا
گرین موبیلٹی ریلی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
’’ہندوستان میں توانائی کے شعبے کے لیے بے مثال امکانات ابھر رہے ہیں، جو وکست بھارت کی قرارداد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے‘‘
’’بھارت وبا اور جنگ سے متاثرہ دنیا میں، عالمی روشن مقام بنا ہوا ہے‘‘
’’فیصلہ کن حکومت، پائیدار اصلاحات، بنیادی سطح پر سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانا، ہندوستان کی اقتصادی لچک کی بنیاد ہے‘‘
’’اصلاحات پرامید معاشرہ تشکیل دے رہی ہیں‘‘
’’ہم اپنی ریفائننگ کی صلاحیت کو مسلسل دیسی بنا رہے ہیں، جدید اور اپ گریڈ کر رہے ہیں‘‘
’’ہم 2030 تک اپنے انرجی مکس میں قدرتی گیس کی کھپت کو بڑھانے کے لیے، مشن موڈ پر کام کر رہے ہیں‘‘

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ جناب بسو راج بومئی جی، مرکزی کابینہ  کے میرے ساتھی جناب ہردیپ پوری جی، رامیشور تیلی جی، دیگر وزراء، یور ایکسی لینسیز، خواتین و حضرات۔

اس وقت ترکی میں آئے تباہ کن زلزلہ پر ہم سبھی کی نظر لگی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگوں کی افسوسنا ک موت اور بہت نقصان کی خبریں ہیں۔ ترکی کے آس پاس کے ممالک میں بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔ بھارت کے 140 کروڑ لوگوں کی دعائیں، سبھی زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں۔ بھارت زلزلہ کے متاثرین کی ہر ممکن مدد کے لیے پرعزم ہے۔

ساتھیوں،

بنگلورو ٹیکنالوجی، ٹیلنٹ اور انوویشن کی انرجی سے بھرپور شہر ہے۔ میری طرح آپ بھی یہاں کی نوجوان توانائی کو محسوس کر رہے ہوں گے۔ یہ بھارت کی جی-20 پریزیڈنسی کیلنڈر کا پہلا بڑا انرجی ایونٹ ہے۔ میں ملک و بیرون ملک سے آئے سبھی لوگوں کا انڈیا انرجی ویک (بھارت توانائی ہفتہ) میں استقبال کرتا ہوں، خیرمقدم کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

اکیسویں صدی کی دنیا کا مستقبل طے کرنے میں، انرجی سیکٹر کا  بہت بڑا رول ہے۔ انرجی کے نئے رسورس کو ڈیولپ کرنے میں، انرجی ٹرانزیشن میں آج بھارت، دنیا کی سب سے مضبوط آوازوں میں سے ایک ہے۔ ترقی یافتہ بننے کا عزم لے کر چل رہے بھارت میں، انرجی سیکٹر کے لیے بے پناہ امکانات بن رہے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ حال ہی میں آئی ایم ایف نے 2023 کے لیے گروتھ پروجیکشن ریلیز کی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بھارت، بھاسٹیسٹ گروئنگ میجر اکنامی رہنے والا ہے۔ وبائی مرض اور جنگ کے اثر کے باوجود 2022 میں بھارت ایک گلوبل برائٹ اسپاٹ رہا ہے۔ بیرونی حالات جو بھی رہے، بھارت نے  اندرونی لچکداری کی وجہ سے ہر چنوتی کو پار کیا۔ اس کے پیچھے  متعدد اسباب نے کام کیا۔ پہلا،  مستحکم فیصلہ کن حکومت، دوسرا پائیدار اصلاحات، اور تیسرا گراس روٹ پر سماجی و اقتصادی ایمپاورمنٹ۔

گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں  کو بینک کھاتوں سے جوڑا گیا، انہیں مفت ہیلتھ کیئر ٹریٹمنٹ کی سہولت ملی۔  سیف سینی ٹیشن، بجلی کنکشن، مکان، نل سے پانی اور دوسرے  سوشل انفراسٹرکچر کی پہنچ کروڑوں لوگوں تک ہوئی۔

گزشتہ کچھ برسوں میں  ہندوستان کی جتنی بڑی آبادی کی زندگی میں یہ تبدیلی آئی ہے، وہ کئی ترقی یافتہ ملکوں کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے کروڑوں غریب لوگوں کو غریبی سے باہر نکالنے میں مدد ملی ہے۔ آج کروڑوں لوگ غریبی سے نکل کر مڈل کلاس کی سطح تک پہنچ رہے ہیں۔ آج ہندوستان میں کروڑوں کی کوالٹی آف لائف میں تبدیلی آئی ہے۔

آج گاؤں گاؤں تک انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے 6 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر بچھائے جا رہے ہیں۔  گزشتہ 9 برسوں میں ملک میں براڈ بینڈ یوزرس کی تعداد 13 گنا بڑھ چکی ہے۔ پچھلے 9 سالوں میں انٹرنیٹ کنکشن تین گنا سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ آج دیہی انٹرنیٹ یوزرس کی تعداد شہری یوزرس کے مقابلے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اس کے علاوہ، ہندوستان دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک بن چکا ہے۔ اس سے ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا آرزومند طبقہ تیار ہوا ہے۔ ہندوستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں بہتر پروڈکٹس، بہتر سروسز اور بہتر انفراسٹرکچر ملے۔

ہندوستان کے لوگوں کی آرزوؤں کو پورا کرنے کے لیے انرجی بہت بڑا فیکٹر ہے۔ انڈسٹریز سے لے کر آفسز تک، فیکٹریز سے لے کر گھروں تک، ہندوستان میں انرجی کی ضرورت، انرجی کی مانگ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہندوستان میں جس تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ مانا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان میں متعدد نئے شہر بننے والے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایسوسی ایشن نے بھی کہا ہے کہ اس دہائی میں ہندوستان کی انرجی ڈیمانڈ دنیا میں سب سے زیادہ ہوگی۔ اور یہیں پر، آپ سبھی انویسٹرز کے لیے، انرجی سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ہندوستان نئی اپارچونٹیز لے کرکے آیا ہے۔

آج گلوبل آئل ڈیمانڈ میں ہندوستان کی حصہ داری 5 فیصد کے آس پاس ہے، لیکن اس کے 11 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے۔ ہندوستان کی گیس ڈیمانڈ تو 500 فیصد تک بڑھنے کی امید ہے۔ ہمارا وسیع ہوتا انرجی سیکٹر ہندوستان میں سرمایہ کاری اور اشتراک کے لیے مواقع بنا رہا ہے۔

ساتھیوں،

انرجی سیکٹر کو لے کر ہندوستان کی حکمت عملی کے چار میجر ورٹیکلز ہیں۔ پہلا- ڈومیسٹک ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کو بڑھانا، دوسرا- سپلائیز کا ڈائیورسی فکیشن، تیسرا- بائیو فیولز، ایتھنال، کمپریسڈ بائیو گیس اور سولر جیسے الٹرنیٹو انرجی سورسز کی توسیع اور چوتھا- الیکٹرک ویہکل اور ہائیڈروجن کے ذریعے ڈی کاربنائزیشن۔ ان چاروں ہی سمت میں ہندوستان تیزی سے کام کر رہا ہے۔ میں آپ کے درمیان اس کے کچھ ایسپیکٹ پر مزید تفصیل سے بات کرنا چاہوں گا۔

ساتھیوں،

آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان دنیا میں چوتھی سب سے بڑی ریفائننگ کیپسٹی والا ملک ہے۔ ہندوستان کی موجودہ صلاحیت تقریباً 250 ایم ایم ٹی پی اے کی ہے، جسے بڑھا کر 450 ایم ایم ٹی پی اے کرنے کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ ہم اپنی ریفائننگ انرجی کو لگاتار انڈیجنس، ماڈرنائز اور اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ ہم اپنی پیٹرو کیمیکل پروڈکشن کیپسٹی کو بڑھانے کی سمت میں بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے  رِچ ٹیکنالوجی پوٹین شیل اور گروئنگ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کا استعمال کرکے آپ سبھی اپنے انرجی لینڈ اسکیپ کی توسیع کر سکتے ہیں۔

ساتھیوں،

ہم 2030 تک اپنے انرجی مکس میں نیچرل گیس کنزمپشن کو بڑھانے کے لیے بھی مشن موڈ پر کام کر رہے ہیں۔ اسے 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ ہمارا وَن نیشن وَن گرڈ یہ وژن اس کے لیے سبھی ضروری انفراسٹرکچر مہیا کرائے گا۔

ہماری کوشش ہے کہ ایل این جی ٹرمنل ری-گیسی فکیشن صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ 2014 میں ہماری صلاحیت 21 ایم ایم ٹی پی اے کی تھی، جو 2022 میں تقریباً دو گنی ہو گئی ہے۔ اسے مزید بڑھانے کے لیے کام جاری ہے۔ ہندوستان میں 2014 کے مقابلے سی جی ڈی کی تعداد بھی 9 گنا بڑھ چکی ہے۔ ہمارے یہاں 2014 میں سی جی این اسٹیشنز بھی 900 کے آس پاس تھے۔ اب ان کی تعداد بھی بڑھ کر 5 ہزار تک پہنچ رہی ہے۔

ہم گیس پائپ لائن نیٹ ورک  کی لمبائی بڑھانے کی سمت میں بھی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ 2014 میں ہمارے ملک میں گیس پائپ لائن کی لمبائی تقریباً 14 ہزار کلومیٹر تھی۔ اب یہ بڑھ کر 22 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اگلے 5-4 سال میں ہندوستان میں گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک 35 ہزار کلومیٹر تک پہنچ جائے گا۔ یعنی ہندوستان کے نیچرل گیس انفراسٹرکچر میں آپ لیے سرمایہ کاری کا بہت بڑا امکان بن رہا ہے۔

ساتھیوں،

آج ہندوستان کا زور ڈومیسٹک ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کو فروغ دینے پر ہے۔ ای اینڈ پی سیکٹر نے ان علاقوں میں بھی اپنا انٹریسٹ دکھایا ہے، جو  ناقابل رسائی سمجھے جاتے تھے۔ آپ کے ان جذبات کو سمجھتے ہوئے ہم نے ’نو –گو‘ ایریاز میں کمی ہے۔ اس سے 10 لاکھ اسکوائر کلومیٹر ایریا نو-گو کی پابندیوں سے آزاد ہوا ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو نو-گو ایریاز میں بھی یہ کمی 98 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ میں سبھی سرمایہ کاروں سے اپیل کروں گا، آپ ان مواقع کو استعمال کیجئے، فاسل فیولز کے ایکسپلوریشن میں اپنی موجودگی بڑھائیے۔

ساتھیوں،

بائیو انرجی کے شعبے میں بھی ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پچھلے سال اگست میں ہم نے ایشیا کی پہلی 2 جی ایتھنال بائیو ریفائنری قائم کی۔ ہماری تیاری اس طرح کے 12 کمرشیل 2 جی ایتھنال پلانٹ بنانے کی ہے۔ سسٹین ایبل ایوئیشن فیول اور رنیوایبل ڈیزل کے کمرشیل استعمال کی سمت میں بھی ہماری کوششیں جاری ہیں۔

اس سال کے بجٹ میں ہم نے گوبر –دھن یوجنا کے تحت 500 نئے ’ویسٹ ٹو ویلتھ‘ پلانٹس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں 200 کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹس اور 300 کمیونٹی یا کلسٹر بیسڈ پلانٹس شامل ہیں۔ اس میں بھی آپ سبھی کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کے راستے بننے والے ہیں۔

ساتھیوں،

ایک اور سیکٹر جس میں ہندوستان، دنیا میں لیڈ لے رہا ہے، وہ ہے گرین ہائیڈروجن کا۔ نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن، 21ویں صدی کے ہندوستان کو نئی سمت دے گا۔ اس دہائی کے آخر تک ہم 5 ایم ایم ٹی پی اے گرین ہائیڈروجن کے پروڈکشن کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔ اس میں بھی 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے امکانات ہیں۔ ہندوستان، اگلے 5 برسوں میں گرے-ہائیڈروجن کو رپلیس کرتے ہوئے گرین ہائیڈروجن کا حصہ 25 فیصد تک بڑھائے گا۔ یہ بھی آپ کے لیے بہت بڑا موقع ہوگا۔

ساتھیوں،

ہندوستان میں بن رہے سرمایہ کاری کے ان امکانات کو ہم نے ایک ہفتہ پہلے آئے بجٹ میں اور مضبوط کیا ہے۔ بجٹ میں قابل تجدید توانائی، توانائی کی اثرانگیزی،  پائیدار نقل و حمل اور گرین ٹیکنالوجیز کی مزید حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس میں 35000 کروڑ روپے ترجیحی کیپٹل انویسٹمنٹ کے لیے رکھے گئے ہیں، تاکہ انرجی ٹرانزیشن اور نیٹ زیرو آبجیکٹوز کو تقویت ملے۔ بجٹ میں ہم نے کیپٹل ایکس پینڈیچر کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے کا بھی التزام کیا ہے۔ اس سے بھی گرین ہائیڈروجن سے لے کر سولر اور روڈ جیسے ہر طرح کے انفراسٹرکچر کو رفتار ملے گ۔

ساتھیوں،

2014 کے بعد سے، گرین انرجی کو لے کر بھارت کا کمٹمنٹ اور ہندوستان کی کوشش پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ گزشتہ 9 برسوں میں ہندوستان میں قابل تجدید توانائی کی صلاحیت تقریباً 70 گیگا واٹ سے بڑھ کر تقریباً 170 گیگا واٹ ہو چکی ہے۔ اس میں بھی سولر پاور کیپسٹی 20 ٹائم سے زیادہ بڑھی ہے۔ آج ہندوستان ونڈ پاور کیپسٹی کے معاملے میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

ہم اس دہائی کے آخر تک 50 فیصد غیر حجری ایندھن کی صلاحیت کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔ ہم بائیو فیول پر، ایتھنال بلینڈنگ پر بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں میں پیٹرول میں ایتھنال بلینڈنگ کو ہم ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر چکے ہیں۔ اب ہم 20 فیصد ایتھنال بلینڈنگ کے ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

آج یہاں ای-20 رول آؤٹ کیا جا رہا ہے۔ پہلے فیز میں ملک کے 15 شہروں کو کور کیا جائے گا اور پھر آنے والے 2 برسوں میں ملک بھر میں اس کی توسیع کی جائے گا۔ یعنی ای-20 بھی آپ کے لیے ملک بھر میں بہت بڑا مارکیٹ بننے جا رہا ہے۔

ساتھیوں،

آج ہندوستان میں انرجی ٹرانزیشن کو لے کر جو عوامی تحریک چل رہی ہے، وہ مطالعہ کا موضوع ہے۔ یہ دو طریقے سے ہو رہا ہے: پہلا، انرجی کے  رنیو ایبل سورس کا تیز رفتار سے اڈاپشن اور دوسرا، انرجی کنزرویشن کے مؤثر طریقوں کا اڈاپشن۔ ہندوستان کے شہری آج بڑی تیزی سے انرجی کے رنیو ایبل سورس کو اپنا رہے ہیں۔ سولر پاور سے چلنے والے گھر، سولر پاور سے چلنے والے گاؤں، سولر پاور سے چلنے والے ایئرپورٹ، سولر پمپ سے ہو رہی کھیتی ایسی کئی مثالیں ہیں۔

گزشتہ 9 برسوں میں ہندوستان نے اپنے 19 کروڑ سے زیادہ خاندانوں کو کلین کوکنگ فیول سے جوڑا ہے۔ آج جو سولر کوک ٹاپ لانچ کیا گیا ہے، وہ ہندوستان میں گرین اور کلین کوکنگ کو نئی سمت دینے جا رہا ہے۔ امید ہے کہ اگلے 3-2 سال میں ہی 3 کروڑ سے زیادہ گھروں میں سولر کوک ٹاپ کی پہنچ بن جائے گی۔ اس سے ایک طرح سے ہندوستان کچن میں انقلاب لانے کا کام کرے گا۔ ہندوستان میں 25 کروڑ سے زیادہ خاندان ہیں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ صرف سولر کوک ٹاپ سے جڑی سرمایہ کاری میں آپ کے لیے کتنے امکانات بن رہے ہیں۔

ساتھیوں،

ہندوستان کے شہری انرجی کنزرویشن کے مؤثر طریقوں کی طرف تیزی سے شفٹ ہو رہے ہیں۔ اب زیادہ تر گھروں میں، اسٹریٹ لائٹس میں ایل ای ڈی بلب کا استعمال ہوتا ہے۔ ہندوستان کے گھروں میں اسمارٹ میٹر لگائے جا رہے ہیں۔ لارج اسکیل پر سی این جی اور ایل این جی کو اپنایا جا رہا ہے۔ الیکٹرک ویہکلز کی بڑھتی مقبولیت، اس سمت میں بڑی تبدیلی کے اشارے دے رہی ہے۔

ساتھیوں،

گرین گروتھ کی طرف، انرجی ٹرانزیشن کی طرف ہندوستان کی یہ بڑی کوشش ہماری ویلیوز کو بھی رفلیکٹ کرتی ہے۔ سرکلر اکنامی، ایک طرح سے ہر ہندوستان  کی طرز حیات کا حصہ ہے۔ ریڈیوس، ری یوز اور ری سائیکل کا منتر ہمارے اخلاق میں رہا ہے۔ آج اس کی بھی ایک مثال ہمیں یہاں ابھی دیکھنے کو ملی ہے۔ پلاسٹک  کی ویسٹ باٹلز کو  ری سائیکل کرکے جو یونیفارم بنائے گئے ہیں، آپ نے اسے دیکھا ہے، فیشن کی دنیا کے لیے، خوبصورتی کی دنیا کے لیے اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ہر سال 10 کروڑ ایسی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کا ہدف ماحولیات کے تحفظ میں بہت مدد کرے گا۔

یہ مشن لائف یعنی لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ کو بھی مضبوطی دے گا جس کی دنیا کو آج بہت ضرورت ہے۔ انہیں اقدار پر چلتے ہوئے ہندوستان نے 2070 تک نیٹ زیرو کا ٹارگیٹ طے کیا ہے۔ انٹرنیشنل سولر الائنس جیسی کوششوں سے ہندوستان اس ہم آہنگی کو دنیا میں مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

ساتھیوں،

میں آپ سے پھر اپیل کروں گا کہ ہندوستان کے انرجی سیکٹر سے جڑے ہر امکان کو ضرور ایکسپلور کریں، اس سے جڑیں۔ آج بھارت، آپ کی سرمایہ کاری کے لیے دنیا میں سبے سے موزوں جگہ ہے۔ انہی الفاظ کے ساتھ، آج آپ اتنی بڑی تعداد میں یہاں آئے، انرجی ٹرانزیشن ویک کے اندر شریک ہوئے۔ میں آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں، استقبال کرتا ہوں، اور اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ آپ سب کو بہت بہت مبارکباد۔

شکریہ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.