’’یہ سربراہی اجلاس دنیا بھر سے مختلف پارلیمانی طورطریقوں کا ایک منفرد سنگم ہے‘‘
پی 20 سربراہی کانفرنس اس سرزمین پر ہو رہی ہے جسے نہ صرف جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے بلکہ جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی ہے
’’ہندوستان نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کرواتا ہے بلکہ اس میں لوگوں کی شرکت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔‘‘
بھارت نے انتخابی عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا ہے
’’ہندوستان آج ہر شعبے میں خواتین کی شراکت کو فروغ دے رہا ہے‘‘
’’ایک منقسم دنیا انسانیت کو درپیش بڑے چیلنجز کا حل فراہم نہیں کر سکتی‘‘
’’یہ امن اور بھائی چارے کا وقت ہے، ایک ساتھ چلنے کا وقت ہے۔ یہ سب کی ترقی اور بہبود کا وقت ہے۔ ہمیں عالمی اعتماد کے بحران پر قابو پانا ہے اور انسان مرکوز سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے‘‘

نمسکار!

میں جی- 20 پارلیمانی اسپیکرز کے سربراہ اجلاس میں آپ سبھی کا 140 کروڑ ہندوستانیوں کی طرف سے تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ یہ سربراہ اجلاس، ایک طرح سے، دنیا بھر سے مختلف پارلیمانی طریقوں کا ایک مہاکمبھ ہے۔ آپ سبھی مندوبین کو الگ الگ پارلیمنٹ میں کام کرنے کے طور طریقوں کا تجربہ کا حاصل ہے۔ اتنے بھرپور جمہوری تجربات کے ساتھ آپ کا ہندوستان آنا ہم سب کے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔

 

دوستو

ہندوستان میں یہ تہواروں کا موسم ہے۔ ان دنوں ہندوستان بھر میں بہت سے تہواروں کی سرگرمیاں چلتی رہتی ہیں، لیکن اس بار جی- 20 نے تہواروں کے موسم کا جوش سال بھر برقرار رکھا ہے۔ ہم نے سال بھر ہندوستان کے مختلف شہروں میں جی- 20 مندوبین کی میزبانی کی۔ جس کی وجہ سے ان شہروں میں تہوار کا ماحول بنا رہا۔ اس کے بعد ہندوستان چاند پر اترا۔ اس سے ملک بھر میں تقریبات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ پھر، ہم نے یہاں دہلی میں ایک کامیاب جی- 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ اور اب یہ پی 20 سربراہی اجلاس یہاں منعقد ہو رہا ہے۔ کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام، اس کے عوام کی قوت ارادی ہوتی ہے۔ آج یہ سربراہی اجلاس بھی عوام کی اس طاقت کو منانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔

ساتھیو

پی20 سربراہی اجلاس بھارت کی سرزمین پر منعقد ہو رہا ہے جو مادر جمہوریت کہلاتا ہے، اور یہاں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ دنیا بھر میں مختلف پارلیمنٹ کے نمائندے کے طور پر، آپ جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ بحث و مباحثہ کے لیے اہم مقامات ہیں۔ ہمارے پاس بحث و مباحثے کی بہت اچھی مثالیں ہیں، یہاں تک کہ ہزاروں سال پہلے، ہمارے صحیفوں میں جو 5 ہزار سال سے زیادہ پرانے ہیں، ہمارے ویدوں میں اجلاسوں اور کمیٹیوں کی بات کی گئی ہے۔ ان میں معاشرے کے مفاد میں اکٹھے ہو کر اجتماعی فیصلے کیے گئے۔ یہ ہمارے سب سے پرانے وید، رگ وید میں بھی کہا گیا ہے - سنگچھ-دھوم سنود – دھوم سم، وو منانسی جان تام۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ساتھ چلتے ہیں، ہم ایک ساتھ بولتے ہیں اور ہمارے ذہن متحد ہیں۔ اس کے بعد بھی گاؤں سے متعلق فیصلے گرام سبھا میں بحث کے ذریعے کئے جاتے تھے۔ جب یونانی سفیر میگاسٹینیز نے بھی ہندوستان میں ایسا نظام دیکھا تو حیران رہ گئے۔ انہوں نے ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے اس نظام پر تفصیل سے لکھا ہے۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہو گی کہ ہمارے پاس تمل ناڈو میں نویں صدی کا پتھر کا نوشتہ موجود ہے۔ اس میں گاؤں کی قانون سازی کے ضابطوں اور اصولوں کا ذکر ہے۔ اور آپ کے لیے یہ جاننا بھی بہت دلچسپ ہوگا کہ اس  1200 سال پرانے نوشتہ پر یہ بھی لکھا ہے کہ کون سا رکن کس وجہ سے، کن حالات میں نااہل ہوسکتا ہے۔ میں بارہ سو سال پہلے کی بات کر رہا ہوں۔ میں آپ کو انوبھو منٹپا کے بارے میں بھی بتانا چاہتا ہوں۔ میگنا کارٹا سے پہلے بھی، ہمارے پاس 12ویں صدی میں ’’انوبھو منٹپا‘‘ کی روایت موجود ہے۔ اس میں بھی بحث و مباحثہ کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ہر طبقے، ہر ذات، ہر برادری کے لوگ ’’انوبھو منٹپا‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے وہاں آتے تھے۔ جگت گرو بسویشورا کا یہ تحفہ آج بھی ہندوستان کے لئے باعث افتخار ہے۔ پانچ ہزار سال پرانے ویدوں سے لے کر آج تک کا یہ سفر، پارلیمانی روایات کی یہ ترقی نہ صرف ہماری میراث ہے، بلکہ پوری دنیا کی میراث ہے۔

 

ساتھیو

ہندوستان کے پارلیمانی عمل میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بہتری آئی ہے اور یہ زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ ہندوستان میں ہم عام انتخابات کو سب سے بڑا تہوار سمجھتے ہیں۔ 1947 میں آزادی کے بعد سے، بھارت میں 17 عام انتخابات اور 300 سے زیادہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہو چکے ہیں۔ ہندوستان میں نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے انتخابات کرائے جاتے ہیں بلکہ اس میں لوگوں کی شرکت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2019 کے عام انتخابات میں اہل وطن نے میری پارٹی کو مسلسل دوسری بار کامیاب کروایا۔ 2019 کے عام انتخابات انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جمہوری مشق تھی۔ اس میں 60 کروڑ سے زیادہ یعنی 600 ملین ووٹروں نے حصہ لیا ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں، اس وقت ہندوستان میں 91 کروڑ یعنی 910 ملین رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔ یہ پورے یورپ کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ ہندوستان میں کل رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 70 فیصد کا ٹرن آؤٹ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ہندوستان میں پارلیمانی طریقوں پر کتنا اعتماد رکھتے ہیں۔ اور اس میں بھی ایک اہم عنصر خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت تھی۔ ہندوستانی خواتین نے 2019 کے انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے۔ اور دوستو، نہ صرف تعداد میں بلکہ سیاسی نمائندگی کے لحاظ سے بھی آپ کو دنیا میں ہندوستان کے انتخابات جیسی مثال نہیں ملے گی۔ 2019 کے عام انتخابات میں 600 سے زائد سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ ان انتخابات میں ایک کروڑ یعنی ایک کروڑ سے زائد سرکاری ملازمین نے انتخابی کام کیا۔ انتخابات کے لیے ملک میں 10 لاکھ یا 10 لاکھ سے زائد پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔

ساتھیو

وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے انتخابی عمل کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کیا ہے۔ ہندوستان تقریباً 25 سالوں سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین- ای وی ایم کا استعمال کر رہا ہے۔ ای وی ایم کے استعمال سے انتخابات میں شفافیت اور انتخابی عمل میں کارکردگی دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت میں، انتخابات کے نتائج ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر آتے ہیں۔ اب میں آپ کو ایک اور شکل دے رہا ہوں۔ یہ سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اگلے سال ہندوستان میں دوبارہ عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس الیکشن میں 100 کروڑ رائے دہندگان یعنی ایک ارب لوگ اپنا ووٹ ڈالنے والے ہیں۔ میں آپ تمام مندوبین کو پی- 20 سربراہی اجلاس میں اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کو دیکھنے کے لیے پیشگی دعوت دیتا ہوں۔ ہندوستان کو ایک بار پھر آپ کی میزبانی کرکے بہت خوشی ہوگی۔

 

ساتھیو

ابھی کچھ دن پہلے، ہندوستان کی پارلیمنٹ نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کے بارے میں میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ بھارت نے اپنی پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کو  33 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندوستان میں لوکل سیلف گورنینس انسٹی ٹیوشنس میں تقریباً 32 لاکھ یعنی 3 ملین سے زیادہ منتخب نمائندے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 50 فیصد خواتین نمائندے ہیں۔ آج ہندوستان ہر شعبے میں خواتین کی شرکت کو فروغ دے رہا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ کا حالیہ فیصلہ ہماری پارلیمانی روایت کو مزید تقویت بخشے گا۔

دوستو

ہندوستان کی پارلیمانی روایات پر ہم وطنوں کے اٹل اعتماد کی ایک اور بڑی وجہ ہے، جسے جاننا اور سمجھنا آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ ہماری طاقت، ہمارا تنوع، ہماری وسعت، ہماری گوناگونیت ہے۔ ہمارے یہاں ہر عقیدے کے لوگ ہیں۔ کھانے کی سینکڑوں اقسام، زندگی گزارنے کے سینکڑوں طور طریقے ہماری پہچان ہیں۔ ہندوستان میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں، ہماری سینکڑوں بولیاں ہیں۔ ہندوستان میں 900 سے زیادہ ٹی وی چینلز 28 زبانوں میں ہیں،  اور  لوگوں کو حقیقی معلومات فراہم کرنے کے لیے ساتوں دن چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً 200 زبانوں میں 33 ہزار سے زیادہ مختلف اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر تقریباً 3 بلین صارفین ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں معلومات کا بہاؤ اور آزادی اظہار کی سطح کتنی بڑی اور طاقتور ہے۔ 21ویں صدی کی اس دنیا میں، ہندوستان کی گوناگونیت، تنوع میں اتحاد، ہماری بڑی طاقت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ گوناگونیت ہمیں ہر چیلنج سے لڑنے اور ہر مشکل کو مل کر حل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 

دوستو

آج دنیا کے مختلف خطوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کوئی بھی اچھوتا نہیں ہے۔ آج دنیا تنازعات اور محاذ آرائی کی وجہ سے مختلف بحران کا شکار ہے۔ ان بحران سے بھری یہ دنیا کسی کے مفاد میں نہیں۔ ایک منقسم دنیا انسانیت کو درپیش بڑے چیلنجز کا حل فراہم نہیں کرسکتی۔ یہ وقت امن اور بھائی چارے کا ہے، ایک ساتھ چلنے کا وقت ہے، مل کر آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ یہ سب کی ترقی اور بہبود کا وقت ہے۔ ہمیں عالمی اعتماد کے بحران پر قابو پانا ہو گا اور انسان پر مبنی سوچ پر آگے بڑھنا ہو گا۔ ہمیں دنیا کو ایک کرۂ ارض، ایک خاندان، ایک مستقبل کے جذبے سے دیکھنا ہے۔ دنیا سے متعلق فیصلے کرنے میں جتنا زیادہ حصہ لیا جائے گا، اتنا ہی بڑا اثر ہوگا۔ اسی جذبے کے تحت ہندوستان نے افریقی یونین کو جی- 20 کا مستقل رکن بنانے کی تجویز پیش کی۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام رکن ممالک نے اسے قبول کیا۔ مجھے اس فورم میں پورے افریقی پارلیمنٹ کی بھی شرکت دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔

ساتھیو

مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے اسپیکر، اوم برلا جی، آج شام آپ کو ہندوستان کے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی لے جانے والے ہیں۔ وہاں آپ مہاتما گاندھی کو بھی خراج عقیدت پیش کرنے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بھارت کئی دہائیوں سے سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ بھارت میں دہشت گردوں نے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا ہے۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے قریب آپ کو ہندوستان کی پرانی پارلیمنٹ بھی نظر آئے گی۔ تقریباً  20 سال پہلے دہشت گردوں نے ہماری پارلیمنٹ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اور آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔ دہشت گردوں کی تیاری ارکان اسمبلی کو یرغمال بنانے اور انہیں ختم کرنے کے لیے تھی۔ اس طرح کے کئی دہشت گردانہ واقعات سے نمٹنے کے بعد ہندوستان آج یہاں تک پہنچا ہے۔ اب دنیا کو بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ دہشت گردی دنیا کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی جہاں بھی ہوتی ہے، کسی بھی وجہ سے، کسی بھی شکل میں ہوتی ہے، انسانیت کے خلاف ہے۔ ایسی صورتحال میں ہم سب کو دہشت گردی کے حوالے سے مسلسل سختی سے کام لینا ہو گا۔ تاہم اس کا ایک اور عالمی پہلو بھی ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ دہشت گردی کی تعریف پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ آج بھی دہشت گردی سے نمٹنے کا بین الاقوامی کنونشن اقوام متحدہ میں اتفاق رائے کا منتظر ہے۔ دنیا کے اس رویے سے انسانیت کے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دنیا بھر کی پارلیمانوں اور نمائندوں کو سوچنا ہو گا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کیسے مل کر کام کر سکتے ہیں۔

 

ساتھیو

دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوامی شرکت سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ حکومتیں اکثریت سے بنتی ہیں، لیکن ملک اتفاق رائے سے چلتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ اور یہ پی 20 فورم بھی اس جذبے کو تقویت دے سکتا ہے۔ بحث و مباحثہ کے ذریعے اس دنیا کو سنوارنے کی ہماری کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان میں آپ کا قیام خوشگوار رہے گا۔ میں ایک بار پھر آپ کو اس چوٹی کانفرنس کی کامیابی اور ہندوستان میں خوشگوار سفر کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India's pharma exports rise 10% to USD 27.9 bn in FY24

Media Coverage

India's pharma exports rise 10% to USD 27.9 bn in FY24
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Morena extends a grand welcome to PM Modi as he speaks at a Vijay Sankalp rally in MP
April 25, 2024
Nothing is greater than the country for BJP. But for Congress, it is family first: PM Modi in Morena
Congress did not allow the demands of army personnel like One Rank-One Pension to be fulfilled. We implemented OROP as soon as the govt was formed: PM
If Congress comes to power, it will snatch more than half of your earnings through inheritance tax: PM Modi
Congress is indulging in different games to get the chair anyhow by playing with the future of people: PM Modi in Morena

The momentum in Lok Sabha election campaigning escalates as the NDA's leading campaigner, Prime Minister Narendra Modi, ramps up his efforts ahead of the second phase. Today, PM Modi addressed an enthusiastic crowd in Madhya Pradesh’s Morena. He declared that the people of Madhya Pradesh know that once they get entangled in a problem, it's best to keep their distance from it. “The Congress party represents such an obstacle to development. During that time, Congress had pushed MP to the back of the line among the nation's BIMARU states,” the PM said.

Slamming the Congress for keeping those who contribute the most to the nation at the back, PM Modi asserted, “For the BJP, there is nothing bigger than the nation, while for the Congress, their own family is everything. Hence, the Congress government for so many years did not fulfill demands like One Rank One Pension (OROP) for soldiers. As soon as we formed the government, we implemented OROP. We also addressed the concerns of soldiers standing at the border and we have asked our jawans to fire ten bullets in reply to one.”

Training guns at Congress Party, PM Modi said, “As you all know, during the time of independence, the Congress accepted the division of the country in the name of religion to gain power. Today, once again, the Congress is scrambling for power. These people are once again using religious appeasement as a political tool. But Modi is standing as a wall between you and Congress' plans to loot you.”

Furthermore, he said, “The Congress has been conspiring to deprive Dalits, backward classes, and tribals of their rights for a long time. In Karnataka, the Congress government has essentially declared the entire Muslim community as OBCs. This means that the Congress has begun to give reservation to the Muslim community in education and government jobs by taking it away from the OBCs. The Constitution of the country does not allow reservation based on religion, so Congress has resorted to this deceit. Even Dr. B.R. Ambedkar himself was strongly against reservation based on religion. However, drowning in vote banks and appeasement, the Congress wants to implement this model of Karnataka across the entire country.”

The PM came out all guns blazing against Congress’s appeasement politics. He reminisced, “Back in 2014, the Congress stated in its manifesto that, if necessary, they would even enact a law to provide reservation based on religion. At that time, the country ousted the Congress from power, but now they are talking about completing this unfinished task. If the Congress comes to power here in MP, they will snatch the share of reservation from our Kushwaha, Gurjar, Yadav, Gadaria, and Dhakad Prajapati communities, as well as from our Kumhar, Teli, Manjhi, Nai, and Sonar communities, to give it to their favored vote bank. Will the people of MP allow this to happen?”

“According to the Congress, they would even provide the benefits of poverty alleviation schemes based on religion. Because the Congress bluntly states that Muslims have the first right on the country's resources,” he added.

Accusing the Congress’s Shehzaade of hatching a deep conspiracy, PM Modi remarked, “One of the Congress leaders is talking about conducting an X-ray of people's assets across the country. Whatever you earn, the Mangalsutra, gold, and silver that our mothers and sisters have, Congress wants to seize it and distribute it among their vote bank supporters. Even the wealth left after you leave this world won't go to your sons and daughters. Congress wants to snatch more than half of your earnings. For this, Congress wants to impose an Inheritance tax on you.”

In a scathing critique of the Congress's proposal to impose an Inheritance tax, PM Modi said, “When Mrs. Indira Gandhi passed away, her property was supposed to go to her children. If there had been the previous law, the government would have taken a portion of it. At that time, there was talk that, in order to save their property, her son and the then Prime Minister simply abolished the inheritance law. When it came to their own interests, they removed the law. Today, driven by the greed for power once again, these people want to reintroduce the same law. After accumulating limitless wealth for generations without taxes on their families, now they want to impose taxes on your inheritance. That's why the country is saying – ‘Congress ki loot – Jindagi ke saath bhi, jindagi ke baad bhi’.”

PM Modi urged that the stronger the voter turnout on May 7th, the stronger Modi will be. “I have one more request: please go door-to-door, convey my regards to the people, and inspire them to vote,” he said.