تقریباً 28980 کروڑ روپے کے متعدد بجلی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا اور ان کا سنگ بنیاد رکھا
تقریباً 2110 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے تیار کیے گئے قومی شاہراہوں کے سڑک کے شعبے کے تین پروجیکٹوں کا افتتاح کیا
تقریباً 2146 کروڑ روپے کی لاگت والے ریلوے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا اور کا سنگ بنیاد رکھا
سمبل پور ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا
پوری-سونی پور-پوری ویکلی ایکسپریس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
آئی آئی ایم، سمبل پور کے مستقل کیمپس کا افتتاح کیا
’’آج، ملک نے اپنے عظیم ثبوتوں میں سے ایک ، سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کو بھارت رتن سے نوازنے کا فیصلہ لیا ہے‘‘
’’حکومت نے اڈیشہ کو تعلیم اور صلاحیت سازی کی ترقی کا مرکز بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں‘‘
’’تمام ریاستوں کے ترقی یافتہ ہونے سے ہی وکست بھارت کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘
’’گزشتہ 10 سالوں میں مرکزی سرکار کے ذریعے تیار کی گئیں پالیسیوں سے اڈیشہ کو کافی فائدہ ہوا ہے‘‘

اڈیشہ کے گورنر رگھوور داس جی، وزیر اعلیٰ، میرے دوست جناب نوین پٹنائک جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی دھرمیندر پردھان، اشونی ویشنو، بشویشور توڈو، پارلیمنٹ کے میرے ساتھی نتیش گنگا دیب جی، آئی آئی ایم سمبل پور کے ڈائریکٹر پروفیسر  مہادیو جیسوال،  دیگر  معزز حضرات، خواتین و حضرات!

آج اڈیشہ کے  ترقیاتیاتی سفر کے لیے بہت ہی  اہم  دن ہے۔ میں اوڈیشہ کے لوگوں کو  تقریباً 70 ہزار کروڑ روپے کے ان ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ اس میں تعلیم، ریل، روڈ، بجلی، پٹرولیم سے جڑے متعدد پروجیکٹ شامل ہیں۔ ان پروجیکٹوں کا فائدہ اڈیشہ کے غریب، مزد، ملازمین، دکانداروں، کاروباری، کسانوں، یعنی اڈیشہ کے سماج کے تمام طبقات کو ہوگا۔ یہ پروجیکٹ اوڈیشہ میں سہولتوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی لانے والے ہیں۔

 

ساتھیو،

آج ملک نے اپنے ایک عظیم  ثبوت سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کو بھی بھارت رتن دینے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔ ہندوستان کے نائب وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور اطلاعات و نشریات کے  وزیر  کی شکل میں  اور  دہائیوں تک ایک  ایماندار ، بیدار ممبر  پارلیمنٹ کی شکل میں ،  قابل احترام اڈوانی جی نے ملک کی جو  خدمت کی ہے،  وہ لافانی ہے۔ اڈوانی جی کا یہ اعزاز اس بات کی علامت ہے کہ  ملک کی خدمت میں اپنی زندگی کھپانے والوں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرتی ہے۔ میری  خوش نصیبی رہی ہے  کہ  لال کرشن اڈوانی جی کا پیار،  ان کی رہنمائی  مجھے مسلسل ملتی رہی ہے۔ میں قابل احترام  اڈوانی جی کی لمبی عمر کے لئے دعا کرتا ہوں اور انہیں  اڈیشہ کی اس عظیم سرزمین سے تمام  ملک کے شہریوں کی جانب سے بہت بہت مبارکباد  پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

ہم نے اوڈیشہ کو تعلیم کا، صلاحیت سازی کا  ایک اہم مرکز بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ پچھلی دہائی میں اڈیشہ کو جو جدید ادارے ملے ہیں ،  تعلیمی ادارے ملے ہیں وہ یہاں کے نوجوانوں کی قسمتیں  بدل رہے ہیں۔ آئیسر برہم پور ہو یا بھونیشور میں انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی،  ایسے متعدد  ادارے  یہاں قائم کیے گئے ہیں۔ اب آئی آئی ایم سمبل پور بھی  مینجمنٹ کے  جدید ادارے کی شکل میں اڈیشہ کے رول کو  مزید مضبوط  بنا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 3 سال قبل کورونا کے دور میں ہی  مجھے آئی آئی ایم کے اس کیمپس کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ مختلف رکاوٹوں کے باوجود  اب یہ شاندار کیمپس بن کر تیار ہے۔ آپ  لوگوں کا جو جوش میں دیکھ رہا ہوں  اس سے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کیمپس آپ کو کتنا  اچھا لگ رہا ہے۔ میں اس کی  تعمیر سے جڑے  تمام دوستوں کی  تعریف کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

وکست بھارت کے  ہدف  کو ہم تب ہی حاصل کرسکتے ہیں جب ہندوستان کی ہر ریاست ترقی یافتہ بنے۔ اس لیے گزرے ہوئے  برسوں میں ہم نے  اڈیشہ کو ہر سیکٹر میں  زیادہ سے زیادہ  سپورٹ کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی کوششوں سے اوڈیشہ آج پٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل کے شعبے  میں بھی نئی ​​بلندیاں  حاصل کر رہا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں، اڈیشہ میں پٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل سیکٹر میں 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں پہلے کے مقابلے  ریلوے کی ترقی کے لیے اوڈیشہ کو  12 گنا زیادہ بجٹ دیا گیا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں، پردھان منتری  دیہی  سڑک  اسکیم  کے تحت گاؤں میں تقریباً 50 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنی ہیں۔ ریاست میں 4 ہزار کلومیٹر سے زیادہ نئی قومی شاہراہیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ آج بھی یہاں قومی شاہراہ  سے  جڑے  تین بڑے  پروجیکٹوں کو وقف کیا گیا ہے۔ ان پروجیکٹوں سے جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے درمیان بین ریاستی رابطہ بڑھے گا اور سفر کا  فاصلہ بھی کم ہو گا۔ یہ خطہ کان کنی، بجلی اور اسٹیل صنعت کے امکانات کے لئے  جانا جاتا ہے۔یہ نئی کنکٹی وٹی سے اس  پورے خطے میں نئی ​​صنعتوں کے لیے امکانات پیدا ہوں گے،  روزگار کے نئے  ہزاروں  مواقع پیدا ہوں گے۔ آج سمبل پور-تالچر ریل سیکشن کی  دوہری کاری،  جھار-تربھہ سے سون پور سیکشن تک نئی ریل لائن کا بھی آغاز ہورہا ہے، پوری-سونپور ایکسپریس سے سبرن پور ضلع یعنی ہمارے سونپور ضلع  آج ریل  کنکٹی وٹی  سے جڑ رہا ہے۔ اس سے عقیدت مندوں کے لئے بھگوان جگن ناتھ کا درشن کرنا اور  آسان ہو جائے گا۔ اڈیشہ کے ہر خاندان کو ضرورت بھر  اور سستی بجلی ملے، اس کے لئے ہم مسلسل کوشش میں مصروف ہیں کہ ۔ آج جن سپر کریٹیکل اور الٹرا سپر کریٹیکل تھرمل پلانٹوں  کا افتتاح  ہوا ہے ان کا ہدف بھی یہی ہے۔

 

بھائیو اور بہنو،

گزشتہ 10 سالوں میں مرکزی حکومت نے جو  پالیسیاں  تیار کی ہیں ان کا  اوڈیشہ  کے لوگوں کو  بہت فائدہ ہوا ہے۔  ہم نے کان کنی کے شعبے میں جو  نئی اصلاحات کی ہیں  اوڈیشہ  کو اس کس سب سے زیادہ  فائدہ مل رہا ہے۔ کان کنی کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد اوڈیشہ کی آمدنی میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے معدنی پیداوار کا فائدہ  ان ریاستوں اور  علاقوں کو اتنا نہیں مل پاتا تھاجہاں سے کان کنی ہوتی ہے۔ ہم نے اس پالیسی کو بھی بدلا۔ مرکز میں بی جے پی حکومت نے ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن کی  تشکیل کی۔ اس سے معدنیات  سے  ہونے والی  آمدنی کا ایک حصہ اسی خطے میں ترقی کے لیے  لگائے جانے کو یقینی بنایا گیا۔ اس سے اوڈیشہ کو بھی  اب تک 25 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مل چکی ہے۔ یہ رقم جس علاقے  میں کان کنی ہورہی ہے وہاں کے لوگوں کی فلاح  و  بہبود کا کام آرہاہے  ۔ میں اڈیشہ کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مرکزی حکومت  ایسی  وقف جذبے سے اوڈیشہ کی ترقی کے لیے کام کرتی رہے گی۔

 

ساتھیو،

مجھے یہاں سے ایک بہت بڑے پروگرام میں جانا ہے، کھلے میدان میں جانا ہے،  تو وہاں  مزاج بھی  کچھ اور ہوتا ہے۔ میں یہاں  زیادہ وقت آپ کا نہیں لیتا۔ لیکن وہاں میں  قدرِ زیادہ  وقت لے کر کافی باتوں کروں گا، 15 منٹ کے بعد اس پروگرام میں پہنچوں گا۔ ایک بار پھر میں آپ سب کو  ترقیاتی کاموں کے لیے  بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔  میں بہت بہت مبارکباد دیتا ہے، میرے  نوجوان ساتھیوں کو خصوصی مبارکباد۔

بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
18% tariffs, boosts to exports, agriculture protected: How India benefits from trade deal with US? Explained

Media Coverage

18% tariffs, boosts to exports, agriculture protected: How India benefits from trade deal with US? Explained
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Official visit of the Prime Minister to Malaysia
February 08, 2026

MoUs / Agreements / Documents

S.No.Document TitleRepresentative from Malaysian side for exchange of the DocumentRepresentative from Indian side for exchange of the Document
1.

Audio-Visual Co-production Agreement between the Government of the Republic of India and Government of Malaysia

Dato’ Seri Utama Haji Mohamad Haji Hasan

Minister of Foreign Affairs, Malaysia

Dr. S. Jaishankar

External Affairs Minister, India

2.

MoU Between the Government of Malaysia and the Government of the Republic of India on the Co-Operation in Disaster Management

Dato’ Seri Utama Haji Mohamad Haji Hasan

Minister of Foreign Affairs, Malaysia

Dr. S. Jaishankar

External Affairs Minister, India

3.

MoU Between the Government of Malaysia and the Government of Republic of India on Cooperation in Combating and Preventing Corruption

Dato’ Seri Utama Haji Mohamad Haji Hasan

Minister of Foreign Affairs, Malaysia

Dr. S. Jaishankar

External Affairs Minister, India

4.

EoL on the Memorandum of Understanding on United Nations Peacekeeping Cooperation between the Government of the Republic of India and the Government of Malaysia

Dato’ Seri Utama Haji Mohamad Haji Hasan

Minister of Foreign Affairs, Malaysia

Dr. S. Jaishankar

External Affairs Minister, India

5.

EoN on Cooperation in the field of Semiconductors between the Government of the Republic of India and the Government of Malaysia

Dato’ Seri Utama Haji Mohamad Haji Hasan

Minister of Foreign Affairs, Malaysia

Dr. S. Jaishankar

External Affairs Minister, India

6.

Framework Agreement on International Big Cats Alliance (IBCA)

Dato’ Seri Utama Haji Mohamad Haji Hasan

Minister of Foreign Affairs, Malaysia

Dr. S. Jaishankar

External Affairs Minister, India

7.

MoC between Employees’ State Insurance Cooperation (ESIC), Republic of India and Social Security Organisation (PERKESO) on Social Security Programs and Activities for Indian Citizens as Insured Persons in Malaysia

Dato’ Sri Amran Mohamed Zin

Secretary-General,
Ministry of Foreign Affairs, Malaysia

Shri P. Kumaran

Secretary (East),
Ministry of External Affairs, India

8.

EoN on Cooperation in Vocational Education and Training (TVET) between the Government of the Republic of India and the Government of Malaysia

Dato’ Sri Amran Mohamed Zin

Secretary-General,
Ministry of Foreign Affairs, Malaysia

Shri P. Kumaran

Secretary (East),
Ministry of External Affairs, India

9.

EoN on Security Cooperation between National Security Council Secretariat, India and National Security Council, Malaysia

Dato’ Sri Amran Mohamed Zin

Secretary-General,
Ministry of Foreign Affairs, Malaysia

Shri P. Kumaran

Secretary (East),
Ministry of External Affairs, India

10.

EoN on Cooperation in the field of Health and Medicine between the Government of the Republic of India and the Government of Malaysia

Dato’ Sri Amran Mohamed Zin

Secretary-General,
Ministry of Foreign Affairs, Malaysia

Shri B.N. Reddy

High Commissioner of India to Malaysia

11.

Presentation of Report of the 10th Malaysia-India CEO Forum

 

Report jointly submitted by Mr Nikhil Meshwani and YBhg. Tan Sri Kunasingam V Sittampalan, co-Chairs of the 10th India-Malaysia CEO Forum, to Shri B. N. Reddy, High Commissioner of India to Malaysia and Dato’ Sri Amran Mohamed Zin, Secretary-General, Ministry of Foreign Affairs, Malaysia

 Announcements

 Title

1

Establishment of an Indian Consulate General in Malaysia

2

Establishment of a dedicated Thiruvalluvar Centre in Universiti Malaya, Kuala Lumpur

3

Institution of Thiruvalluvar Scholarships for Malaysian Nationals

4

Agreement between NIPL and PAYNET SDN BHD on cross-border payments

5

MoU between University of Cyberjaya (UoC) and Institute of Training and Research in Ayurveda (ITRA) on academic collaboration