’’ہماری یوا شکتی کا ’کر سکتے ہیں‘ والا جذبہ سب کو متاثر کرتا ہے‘‘
’’ہمیں امرت کال میں ملک کو آگے لے جانے کے لیے اپنے فرائض پر زور دینا اور اسے سمجھنا چاہیے‘‘
’’یووا شکتی ہندوستان کے سفر کو متحرک کرنے والی قوت ہے۔ اگلے 25 سال ملک کی تعمیر کے لیے اہم ہیں‘‘
’’جوان ہونا ہمیں اپنی کوششوں میں متحرک ہونا ہے۔ جوان ہونا ہمیں اپنے تناظر میں خوبصورت ہونا ہے۔ جوان ہونا عملی ہونا ہے‘‘
’’عالمی آوازیں یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ صدی ہندوستان کی صدی ہے۔ یہ تمہاری صدی ہے، ہندوستان کے نوجوانوں کی صدی ہے‘‘
’’یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیں مثبت رکاوٹیں لا کر ترقی یافتہ اقوام سے بھی آگے بڑھنا چاہیے‘‘
’’سوامی وویکانند کے دو پیغامات – ادارہ اور اختراع ہر نوجوان کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے‘‘
’’آج ملک کا مقصد ہے – وکست بھارت، سشکت بھارت‘‘

پروگرام میں موجود کرناٹک کے گورنر جناب تھاورچند گہلوت جی، وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی جی، مرکزی کابینہ کے میرے معاون ساتھی، ریاستی حکومت کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور کرناٹک کے، اور ملک کے میرے نوجوان ساتھیو!

مورو ساویرا مٹھا، سدھاروڑھا، انتہا انیک مٹھاگلا چھیتر ککے ننّا نمسکار گلو! رانی چینما نا ناڈو، سنگولی راینّا نا بیڈو، ای پنیہ بھومی – گے ننّا نمسکار گلو!

کرناٹک کا یہ علاقہ اپنی روایات، ثقافت اور علم کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی متعدد عظیم شخصیات کو گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس علاقہ نے ملک کو ایک سے بڑھ کر ایک عظیم موسیقار دیے ہیں۔ پنڈت کمار گندھرو، پنڈت بسوراج راج گرو، پنڈت ملیکارجن مانسر، بھارت رتن پنڈت بھیم سین جوشی اور پنڈتا گنگوبائی ہنگل جی کو میں آج ہوبلی کی سرزمین پر آکر سلام کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

سال 2023 میں ’نیشنل یوتھ  ڈے‘ کا یہ دن بہت خاص ہے۔ ایک جانب یہ اُورجا مہوتسو، اور دوسری جانب آزادی کا امرت مہوتسو! ’’اٹھو، جاگو اور ہدف حاصل کرنے سے پہلے مت رُکو‘‘! ایلی! ایدھیلی!! گرو مُٹوا تنکا نِل دری! وویکانند جی کا یہ نعرہ ، بھارت کے نوجوانوں کی زندگی کا اصول ہے۔ آج امرت کال میں ہمیں اپنے فرائض پر زور دیتے ہوئے، اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے، ملک کو آگے بڑھانا ہے۔ اور اس میں بھارت کے نوجوانوں کے سامنے سوامی وویکانند جی کی بڑی ترغیب ہے۔ میں اس موقع پر سوامی وویکانند جی کے قدموں میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔

ساتھیو،

سوامی  وویکانند کا کرناٹک سے ایک غیر معمولی رشتہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کرناٹک اور اس علاقہ کے کئی سفر کیے تھے۔ بنگلورو جاتے وقت وہ ہوبلی-دھارواڑ بھی آئے تھے۔ ان تمام دوروں نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت دی تھی۔ میسورو کے مہاراجہ بھی ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے سوامی وویکانند کو شکاگو سفر میں ان کی مدد کی تھی۔ سوامی جی کا بھارت کا دورہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کتنی ہی صدیوں سے ہمارا شعور ایک تھا، ایک قوم کے طور پر ہماری روح ایک تھی۔ یہ ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کی ایک لازوال مثال ہے۔ اسی جذبے کو امرت کال میں ملک نئے عزائم کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔

ساتھیو،

سوامی وویکانند جی کہتے تھے کہ جب نوجوانوں کی توانائی ہو، نوجوانوں کی قوت ہو، تو مستقبل کی تعمیر کرنا، قوم کی تعمیر کرنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ کرناٹک کی اس سرزمین نے خود ایسی کتنی ہی عظیم شخصیات پیدا کی ہیں، جنہوں نے اپنے فرائض کو بالاتر رکھا، ازحد کم عمری میں غیر معمولی کام انجام دیے۔ کتور کی رانی چینما ملک کی آزادی کی پیش رو خواتین سپاہیوں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے سب سے مشکل وقت میں بھی آزادی کی لڑائی کی قیادت کی۔رانی چینما کی ہی فوج میں ان کے ساتھی سنگولی راینّا جیسے بہادر سورما بھی تھے، جن کی شجاعت نے برطانوی فوج کا حوصلہ توڑ دیا تھا۔ اسی سرزمین کے نرائن مہادیو ڈونی محض 14 برس کی عمر میں ملک کے لیے قربانی دینے والے شہید بنے تھے۔

نوجوان کا جوش و جذبہ کیا ہوتا ہے، اس کے حوصلے کیسے موت کو بھی شکست دے سکتے ہیں، یہ کرناٹک کے سپوت لانس نائک ہنومن تھپا- کھوپڑ نے سیاچین کے پہاڑوں میں دکھا دیا تھا۔ منفی 55 ڈگری درجہ حرارت میں بھی وہ 6 دن تک لڑتے رہے، اور زندہ نکل کر آئے۔ یہ اہلیت محض شجاعت تک ہی محدود نہیں ہے۔ آپ دیکھئے، شری ویشوریا نے انجینئرنگ میں اپنا لوہا منواکر یہ ثابت کیا کہ نوجوان صلاحیت  کسی ایک دائرے میں بندھی نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح، ملک کے الگ الگ حصوں میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت اور اہلیت کی ایک سے ایک لاجواب، ناقابل یقین مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ آج بھی، ریاضی سے لے کر سائنس تک، جب عالمی سطح پر مقابلے ہوتے ہیں تو بھارتی نوجوانوں کی قابلیت دنیا کو حیران کر دیتی ہے ۔

ساتھیو،

الگ الگ ادوار میں کسی بھی ملک کی ترجیحات بدلتی ہیں، اس کے اہداف بدلتے ہیں۔ آج 21ویں صدی کے جس پڑاؤ پر ہم بھارتی پہنچے ہیں، ہمارا بھارت پہنچا ہے، وہ موزوں وقت صدیوں کے بعد آیا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے بھارت کی نوجوان صلاحیت، یہ نوجوان طاقت۔ آج بھارت ایک نوجوان ملک ہے۔ دنیا کی بڑی نوجوان آبادی ہمارے ملک میں ہے، بھارت میں ہے۔

یووا شکتی بھارت کے سفر کی اہم طاقت ہے! آئندہ 25 برس ملک کی تعمیر کے لیے ازحد اہمیت کے حامل ہیں۔ یووا شکتی کے خواب بھارت کی سمت طے کرتے ہیں۔ یووا شکتی کی آرزوئیں بھارت کی منزل طے کرتی ہیں۔ یووا شکتی کا جذبہ بھارت کا راستہ طے کرتا ہے۔ اس یووا شکتی کو بروئے کار لانے کے لیے ہمیں اپنے خیالات و نظریات، اپنی کوششوں کے ساتھ نوجوان بننے کی ضرورت ہے! نوجوان ہونے کا مطلب اپنی کوششوں میں فعالیت لانا ہے۔نوجوان ہونے کا مطلب اپنے تناظر میں خوبصورت ہونا ہے۔ نوجوان ہونے کا مطلب حقیقت پسند ہونا ہے۔

دوستو،

اگر آج دنیا حل کے لیے ہماری جانب دیکھتی ہے، تو اس کی وجہ ہماری امرت پیڑھی کا عزم ہے۔ آجب جب دنیا بھارت کی جانب اتنی امیدوں بھری نظر سے دیکھ رہی ہے، تو اس کے پس پشت آپ تمام میرے نوجوان ساتھی ہیں۔ آج ہم دنیا میں 5ویں نمبر کی معیشت ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ ہم اسے سرکردہ 3 میں لے کر آجائیں۔ ملک کی یہ اقتصادی نمو ہمارے نوجوانوں کے لیے متعدد مواقع لے کر آئے گی۔ آج ہم زراعت کے شعبہ میں دنیا کی قوت ہیں۔ زراعت کے شعبہ میں تکنالوجی اور اختراع سے ایک نیا انقلاب آنے والا ہے۔ اس میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نئی بلندیوں پر جانے کے نئے راستے کھلیں گے۔ کھیل کود کے میدان میں بھی آج بھارت دنیا کی ایک بڑی قوت بننے کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ بھارت کے نوجوانوں کی قوت کی وجہ سے ہی ممکن ہو پارہا ہے۔ آج گاؤں ہو، شہر ہو یا قصبہ! ہر جگہ نوجوانوں کا جذبہ عروج پر ہے۔ آج آپ ان تبدیلیوں کے گواہ بن رہے ہیں۔ کل آپ اس کی طاقت سے مستقبل کے قائد بنیں گے۔

دوستو،

یہ تاریخ میں ایک اہم وقت ہے۔ آپ ایک خاص پیڑھی ہو۔ آپ کے پاس ایک خصوصی مشن ہے۔ یہ مشن عالمی منظرنامہ پر بھارت کے لیے کچھ کر دکھانے کا ہے۔ ہر ایک مشن کے لیے، ایک بنیاد درکار ہوتی ہے۔ خواہ معیشت ہو یا تعلیم، کھیل کود ہو یا اسٹارٹ اپ ادارے، ہنر مندی ترقیات ہو یا ڈجیٹلائزیشن، گذشتہ 8-9 برسوں کے دوران ہر میدان میں، مضبوط بنیاد قائم کی گئی ہے۔ آپ کی پرواز کے لیے رن وے تیار ہے! آج، دنیا کو بھارت اور اس کے نوجوانوں سے زبردست امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ امید آپ سے ہے۔ یہ امید آپ کی وجہ سے ہے۔ اور یہ امید آپ کے لیے ہے!

آج، عالمی صدائیں کہہ رہی ہیں کہ یہ صدی بھارت کی صدی ہے۔ یہ ہماری صدی ہے، یہ بھارت کے نوجوانوں کی صدی ہے! ایسے متعدد گلوبل جائزے ہیں جو کہتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کی اکثریت بھارت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ یہ سرمایہ کار آپ یعنی بھارتی نوجوانوں پر سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔ بھارتی اسٹارٹ اپ ادارے ریکارڈ سرمایہ کاری حاصل کر رہے ہیں۔ متعدد عالمی کمپنیاں بھارت میں اشیا سازی کے لیے مینوفیکچرنگ اکائیاں قائم کر رہی ہیں۔ کھلونوں سے لے کر سیاحت تک، دفاع سے لے کر ڈجیٹل تک، بھارت دنیا بھر میں چھایا ہوا ہے۔ اس لیے، یہ ایک تاریخی لمحہ ہے ، اور امید اور مواقع ایک ساتھ آر ہے ہیں۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں ہمیشہ سے خواتین کی قوت کو اور خواتین کی قوت نے قومی طاقت کو بیدار رکھنے، قومی طاقت میں اضافہ کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ اب آزادی کے اس امرت کال میں خواتین، ہماری بیٹیاں نئی نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بھارت کی خواتین آج جنگی طیارے اڑا رہی ہیں۔ فوج میں جنگی امور میں شامل ہو رہی ہیں۔ سائنس-تکنالوجی، خلاء، کھیل کود، ایسے ہر شعبے میں ہماری بیٹیاں بلندیاں چھو رہی ہیں۔ یہ ایک اعلان ہے کہ بھارت اب پوری قوت کے ساتھ اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

ہمیں 21ویں صدی کو بھارت کی صدی بنانا ہے۔ اور اس لیے، یہ ضروری ہے کہ ہم اب سے دس قدم آگے کے بارے میں سوچیں۔ ہماری سوچ مستقبل پر مبنی ہو، ہمارا نظریہ مستقبل پر مبنی ہو! یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی آرزؤں کی تکمیل کے لیے آپ مثبت تبدیلیاں لائیں،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے چلے جائیں۔ اگر ہم یاد کریں، آج سے 10-20 برس پہلے ایسی کتنی ہی چیزیں وجود میں بھی نہیں آئی تھیں، جو آج ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ اسی طرح، آئندہ چند برسوں میں، غالباً، یہ دہائی ختم ہونے سے پہلے ہماری دنیا یکسر تبدیل ہونے والی ہے۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، انٹرنیٹ آف تھنگس اور اے آر-وی آر جیسی ابھرتی ہوئی تکنالوجیاں ایک نئی شکل میں سامنے آچکی ہوں گی۔ ڈاٹا سائنس اور سائبر سلامتی جیسے الفاظ کہیں زیادہ گہرائی سے ہماری زندگی کے ہر پہلو سے جڑ چکے ہوں گے۔

ہماری تعلیم سے لے کر ملک کی سلامتی تک، حفظانِ صحت سے لے کر مواصلات تک، سب کچھ جدید تکنالوجی کے ذریعہ ایک نئے اوتار میں نظر آنے والا ہے۔ آج جن کاموں کا وجود نہیں ہے، آنے والے وقت میں وہ نوجوانوں کے لیے قومی دھارے والے پیشے ہوں گے۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان مستقبل کی ہنرمندیوں کے لیے خود کو تیار کریں۔ دنیا میں جو کچھ نیا ہو رہا ہے، ہمیں اس سے خود کو جوڑنا ہوگا۔ جو کام کوئی نہیں کر رہا ہے، ہمیں انہیں بھی کرنا ہوگا۔ نئی پیڑھی کو اس طرزفکر کے ساتھ تیار کرنے کے لیے ملک نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ عملی اور مستقبل پر مبنی تعلیمی نظام تیار کر رہا ہے۔ آج اسکول سے ہی اختراعی اور ہنرمندی پر مبنی تعلیم پر توجہ مرکوز ہے۔ نوجوانوں کے پاس آج متبادل کے حساب سے آگے بڑھنے کی آزادی ہے۔ یہ بنیاد مستقبل کے بھارت کی تعمیر کرنے والے فیوچر ریڈی نوجوانوں کو تیار کرے گی۔

ساتھیو،

آج اس تیزی سے بدلتی دنیا میں سوامی وویکانند جی کے دو پیغامات ہر نوجوان کی زندگی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ یہ دو پیغامات ہیں – ادارے اور اختراع! ادارہ تب بنتا ہے جب ہم اپنے خیالات و نظریات کو وسعت دیتے ہیں، ٹیم اسپرٹ سے کام کرتے ہیں۔ آج ہر نوجوان کو چاہئے کہ وہ اپنی انفرادی کامیابی کو ٹیم کی کامیابی کے طور پر توسیع دے۔ یہی ٹیم اسپرٹ ’ٹیم انڈیا‘ کے طور پر ترقی یافتہ بھارت کو آگے لے جائے گی۔

میرے نوجوان ساتھیو،

آپ کو سوامی وویکانند کی ایک اور بات یاد رکھنی ہے۔ اختراع کے لیے بھی سوامی وویکانند جی کہتے تھے کہ – ہر کام کو تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے – تضحیک، مخالفت اور قبولیت۔ اور اگر اختراع کی ایک جملہ میں تعریف بیان کرنی ہو تو وہ یہی ہے۔ مثال کے طور پر ، کچھ برس قبل ملک میں ڈجیٹل ادئیگی کی شروعات ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ سووَچھ بھارت ابھیان شروع ہوا تو بھی ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب بھارت میں چلنے والا نہیں ہے۔ ملک غریبوں کے لیے بینکوں میں جن دھن کھاتے کھلوا رہا تھا، اسکیم لے کر آیا تو اس کا بھی مذاق اڑایا۔ کووِڈ کے وقت ہمارے سائنس داں اندرونِ ملک تیار ٹیکہ لے کر آئے تو اس پر طنز کیا گیا کہ یہ کام بھی کرے گا یا نہیں؟

لیکن اب دیکھئے، آج بھارت ڈجیٹل ادائیگی میں عالمی قائد ہے۔ آج جن دھن کھاتے ہماری معیشت کی ایک بڑی طاقت ہیں۔ ویکسین کے شعبہ میں بھارت کی حصولیابی کی دنیا بھر میں شہرت ہو رہی ہے۔ اس لیے، آپ نوجوانوں کے پاس اگر کوئی نیا آئیڈیا ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ کا مذاق بنایا جا سکتا ہے، مخالفت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اپنے آئیڈیا پر آپ کو یقین ہے تو اس پر ثابت قدم رہئے۔ اس پر اعتماد بنائے رکھئے۔ آپ کی کامیابی مذاق بنانے والوں کی سوچ سے کہیں بڑی ثابت ہوگی۔

ساتھیو،

نوجوانوں کو ساتھ لے کر آج ملک بھر میں مسلسل کچھ نہ کچھ نئی کوششیں اور تجربات ہو رہے ہیں۔ اس کڑی میں، نیشنل یوتھ فیسٹیول میں بھی ملک کے الگ الگ ریاستوں کے نوجوان مختلف مقابلوں میں حصہ لینے میں مصروف ہیں۔ یہ کسی حد تک مسابقتی اور امدادِ باہمی پر مبنی وفاقیت کی طرح ہے ۔ یہاں الگ الگ ریاستوں کے نوجوان صحت مند مسابقت کے جذبے کے ساتھ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے آئے ہیں۔ یہاں یہ زیادہ اہم نہیں ہے کہ کون جیتا، کیونکہ ہر صورت میں جیت بھارت کی ہوگی۔ کیونکہ یوتھ فیسٹیول میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت نکھر کر سامنے آئے گی۔

آپ یہاں ایک دوسرے سے مسابقت کرنے کے ساتھ ساتھ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ مسابقت تبھی ہوسکتی ہے جب اس میں حصہ لینے والے ایک اصول پر عمل پیرا ہونے میں ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ ہمیں مسابقت اور امدادِ باہمی کے اس جذبے کو مسلسل آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں ہمارے ہر ہدف میں یہ سوچنا ہے کہ ہماری اس کامیابی سے ملک کہاں پہنچے گا۔ آج ملک کا ہدف  ہے – ترقی یافتہ بھارت، مضبوط بھارت! ہمیں ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو پورا کیے بغیر نہیں رکنا ہے۔ مجھے یقین ہے، ہر نوجوان اس خواب کو اپنا خواب بنائے گا، اپنے کندھوں پر ملک کی یہ ذمہ داری لے گا۔ اسی یقین کے ساتھ، آپ سبھی کو ایک مرتبہ پھر، بہت بہت شکریہ، بہت بہت مبارکباد!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Japan-India Annual Summit: 150+ firms back $12.5 billion leap to fortify security ties

Media Coverage

Japan-India Annual Summit: 150+ firms back $12.5 billion leap to fortify security ties
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Rajasthan and Gujarat on 4 July
July 03, 2026
PM to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra
Projects span across sectors including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy and power transmission
PM to dedicate India’s first greenfield integrated Refinery-cum-Petrochemical Complex at Pachpadra in Balotra
The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production; has been established with an investment of over ₹79,450 crore
PM to lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project
PM to launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur
PM to inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport
Marking a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey, PM to inaugurate CG Semi OSAT facility in Sanand, Ahmedabad
CG Semi plant to feature one of India's first end-to-end OSAT facilities offering semiconductor assembly and test services
Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Rajasthan and Gujarat on 4 July 2026. At around 10:45 AM, Prime Minister will inaugurate the Terminal Building of Jodhpur Airport and launch the Modified UDAN scheme in Jodhpur. Subsequently, at around 12:15 PM, he will travel to Balotra to dedicate, inaugurate, and lay the foundation stone for development projects worth approximately ₹1.06 lakh crore. He will also address a public gathering on the occasion.

Thereafter, Prime Minister will travel to Gujarat. At around 4:30 PM, Prime Minister will inaugurate the CG SEMI Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) Facility in Sanand, Ahmedabad. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Jodhpur

In a major boost to the aviation sector, with a particular focus on regional connectivity, Prime Minister will launch the Modified UDAN Scheme in Jodhpur. This marks a significant leap forward in India's civil aviation landscape and will further advance the vision of "Ude Desh ka Aam Nagrik". With an allocation of ₹28,840 crore over the next 10 years, the scheme aims to accelerate the next phase of aviation-led development. It focuses on multiple strategic components designed to ensure comprehensive and sustainable connectivity.

A key emphasis is on the development of 100 aerodromes from existing unserved airstrips, supported by an outlay of over ₹12,000 crore, to expand aviation infrastructure across the country. In addition, over ₹2,500 crore has been earmarked for Operations and Maintenance (O&M) support to ensure the viability of regional airports during their initial years of operation. To address accessibility challenges in remote and difficult terrains, the scheme also proposes the development of 200 modern helipads.

The scheme also continues Viability Gap Funding (VGF) support of over ₹10,000 crore for airlines, ensuring sustained regional operations while encouraging gradual commercial viability. Further strengthening the vision of Aatmanirbhar Bharat, the initiative includes the procurement of indigenous aircraft and helicopters, such as HAL Dhruv and Dornier platforms, to enhance connectivity and operations in underserved regions.

During the programme, the Prime Minister will also inaugurate the New Terminal Building at Jodhpur Airport. The project has been developed at a total cost of ₹480 crore. Spread over an area of more than 23,000 sqm., the New Terminal Building is designed to handle up to 20 lakh passengers annually. It is equipped with modern passenger amenities to ensure a seamless and comfortable travel experience.

Architecturally inspired by Rajasthan's royal heritage, the terminal seamlessly blends traditional elements such as arches and jharokhas with contemporary design. Sustainability has been integral to the terminal's design, with features such as energy-efficient systems, water conservation measures, and green building practices aimed at achieving a 5-Star GRIHA rating. The inauguration of the New Terminal Building at Jodhpur Airport will provide a significant boost to tourism, trade, and employment generation in the region.

PM in Balotra

Prime Minister will lay the foundation stone and inaugurate various development projects worth around ₹1.06 lakh crore in Balotra. These projects span multiple sectors, including petrochemicals, urban transport, railways, roads, renewable energy, and power transmission

Prime Minister will dedicate India's first greenfield integrated refinery-cum-petrochemical complex to the nation at Pachpadra in Balotra, marking a landmark achievement in the country's energy and petrochemical sector.

Developed as a joint venture between Hindustan Petroleum Corporation Limited (HPCL) and the Government of Rajasthan, the 9 Million Metric Tonnes Per Annum (MMTPA) Greenfield Refinery-cum-Petrochemical Complex has been established with an investment of over ₹79,450 crore.

The state-of-the-art complex integrates refining and petrochemical production, with a petrochemical capacity of 2.4 MMTPA. The refinery features a high Nelson Complexity Index of 17.0 and petrochemical yields exceeding 26%, aligning with global benchmarks for efficiency and sustainability.

The project is expected to play a pivotal role in strengthening India's energy security, enhancing petrochemical self-sufficiency, and driving industrial growth. It will serve as an anchor industry for the development of a Petrochemical and Plastic Park in the region, promoting downstream industries and ancillary sectors. Additionally, the refinery is poised to generate significant employment opportunities, contributing to the socio-economic development of the region.

Prime Minister will lay the foundation stone for Phase 2 of the Jaipur Metro Rail Project, which has a total cost of over ₹13,000 crore. Under Phase 2, a 41-km north-south metro corridor will be developed from Prahladpura to Todi Mod, connecting the industrial and residential areas of Sitapura and Vishwakarma Industrial Area (VKI) through 36 stations. The corridor will provide seamless connectivity to key locations, including the Sitapura Industrial Area, VKI, Jaipur Airport, Tonk Road, SMS Hospital, SMS Stadium, Ambabari, and Vidyadhar Nagar. The project will significantly improve connectivity to Jaipur's major industrial and residential areas, providing residents with faster, safer, and more convenient public transport. Under Phase 1, an 11.64-km metro corridor with 11 stations is already operational.

Prime Minister will further dedicate to the nation the Churu–Sadulpur (58 km) and Churu–Ratangarh (46 km) rail doubling projects, constructed at a cost of around ₹900 crore. Spanning a total length of 104 km, these projects will strengthen rail connectivity in north-west Rajasthan. They will enhance rail line capacity, enabling smoother, safer, and more punctual operation of both passenger and freight trains while easing congestion on the rail network. The projects will also provide impetus to investment, employment generation, and industrial development in the region.

Prime Minister will also inaugurate the four-laning of NH-125A, Jodhpur Ring Road Section-2 (Karwar–Dangiyawas). Developed at a cost of about ₹740 crore, the project will improve regional connectivity around Jodhpur and make travel smoother and safer.

Further, Prime Minister will dedicate to the nation SJVN Limited's 1,000 MW Bikaner Solar Energy Project, developed with an investment of about ₹5,500 crore. The project uses 24.22 lakh domestically manufactured solar modules. The Prime Minister will also dedicate NHPC's 300 MW Karnisar Bikaner Solar Energy Plant. The project uses about 7.75 lakh domestically manufactured solar PV cells and modules.

Prime Minister will also inaugurate the transmission line constructed at a cost of over ₹1,900 crore for power evacuation from the Rajasthan Renewable Energy Zone (REZ) and lay the foundation stone for the 530 km-long power transmission system for the Rajasthan REZ. These transmission systems will facilitate the evacuation of renewable energy generated in Rajasthan and help ensure an uninterrupted power supply in the state.

Prime Minister will also hand over appointment letters to around 54,000 youth recruited across various departments of the Government of Rajasthan. The recruits include personnel from the Departments of Education, Energy, Home, Panchayati Raj, Transport, Higher Education, Skill Development, Planning, Agriculture, Information Technology, and Administrative Reforms.

PM in Sanand

Prime Minister will inaugurate the CG Semi Outsourced Semiconductor Assembly and Test (OSAT) facility in Sanand, Gujarat. The inauguration marks a significant milestone in India's semiconductor manufacturing journey with the commencement of commercial production at the facility. It represents a major step forward in strengthening India's position in the global semiconductor value chain. The project is one of the first four approved under the India Semiconductor Mission (ISM) and has been developed with a total investment of over ₹7,500 crore.

Once fully ramped up, the facility will have an annual production capacity of up to 5 billion semiconductor chips and will help address the growing global demand for memory and storage solutions driven by rapid advancements in Artificial Intelligence (AI) and high-performance computing. The facility will cater to customers across the automotive, industrial, telecommunications, 5G, and Internet of Things (IoT) sectors. The CG Semi facility offers end-to-end semiconductor assembly and testing services, including wafer sorting, assembly, testing, package design, failure analysis, test programme development, product characterisation, and logistics support.

The operationalisation of this facility underscores India's emergence as a trusted and self-reliant semiconductor manufacturing destination and aligns with the Prime Minister's vision of building a resilient and self-reliant technology ecosystem in the country.