’’ہماری یوا شکتی کا ’کر سکتے ہیں‘ والا جذبہ سب کو متاثر کرتا ہے‘‘
’’ہمیں امرت کال میں ملک کو آگے لے جانے کے لیے اپنے فرائض پر زور دینا اور اسے سمجھنا چاہیے‘‘
’’یووا شکتی ہندوستان کے سفر کو متحرک کرنے والی قوت ہے۔ اگلے 25 سال ملک کی تعمیر کے لیے اہم ہیں‘‘
’’جوان ہونا ہمیں اپنی کوششوں میں متحرک ہونا ہے۔ جوان ہونا ہمیں اپنے تناظر میں خوبصورت ہونا ہے۔ جوان ہونا عملی ہونا ہے‘‘
’’عالمی آوازیں یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ صدی ہندوستان کی صدی ہے۔ یہ تمہاری صدی ہے، ہندوستان کے نوجوانوں کی صدی ہے‘‘
’’یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیں مثبت رکاوٹیں لا کر ترقی یافتہ اقوام سے بھی آگے بڑھنا چاہیے‘‘
’’سوامی وویکانند کے دو پیغامات – ادارہ اور اختراع ہر نوجوان کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے‘‘
’’آج ملک کا مقصد ہے – وکست بھارت، سشکت بھارت‘‘

پروگرام میں موجود کرناٹک کے گورنر جناب تھاورچند گہلوت جی، وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی جی، مرکزی کابینہ کے میرے معاون ساتھی، ریاستی حکومت کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور کرناٹک کے، اور ملک کے میرے نوجوان ساتھیو!

مورو ساویرا مٹھا، سدھاروڑھا، انتہا انیک مٹھاگلا چھیتر ککے ننّا نمسکار گلو! رانی چینما نا ناڈو، سنگولی راینّا نا بیڈو، ای پنیہ بھومی – گے ننّا نمسکار گلو!

کرناٹک کا یہ علاقہ اپنی روایات، ثقافت اور علم کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی متعدد عظیم شخصیات کو گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اس علاقہ نے ملک کو ایک سے بڑھ کر ایک عظیم موسیقار دیے ہیں۔ پنڈت کمار گندھرو، پنڈت بسوراج راج گرو، پنڈت ملیکارجن مانسر، بھارت رتن پنڈت بھیم سین جوشی اور پنڈتا گنگوبائی ہنگل جی کو میں آج ہوبلی کی سرزمین پر آکر سلام کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

سال 2023 میں ’نیشنل یوتھ  ڈے‘ کا یہ دن بہت خاص ہے۔ ایک جانب یہ اُورجا مہوتسو، اور دوسری جانب آزادی کا امرت مہوتسو! ’’اٹھو، جاگو اور ہدف حاصل کرنے سے پہلے مت رُکو‘‘! ایلی! ایدھیلی!! گرو مُٹوا تنکا نِل دری! وویکانند جی کا یہ نعرہ ، بھارت کے نوجوانوں کی زندگی کا اصول ہے۔ آج امرت کال میں ہمیں اپنے فرائض پر زور دیتے ہوئے، اپنے فرائض کو سمجھتے ہوئے، ملک کو آگے بڑھانا ہے۔ اور اس میں بھارت کے نوجوانوں کے سامنے سوامی وویکانند جی کی بڑی ترغیب ہے۔ میں اس موقع پر سوامی وویکانند جی کے قدموں میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔

ساتھیو،

سوامی  وویکانند کا کرناٹک سے ایک غیر معمولی رشتہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کرناٹک اور اس علاقہ کے کئی سفر کیے تھے۔ بنگلورو جاتے وقت وہ ہوبلی-دھارواڑ بھی آئے تھے۔ ان تمام دوروں نے ان کی زندگی کو ایک نئی سمت دی تھی۔ میسورو کے مہاراجہ بھی ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے سوامی وویکانند کو شکاگو سفر میں ان کی مدد کی تھی۔ سوامی جی کا بھارت کا دورہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کتنی ہی صدیوں سے ہمارا شعور ایک تھا، ایک قوم کے طور پر ہماری روح ایک تھی۔ یہ ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کی ایک لازوال مثال ہے۔ اسی جذبے کو امرت کال میں ملک نئے عزائم کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔

ساتھیو،

سوامی وویکانند جی کہتے تھے کہ جب نوجوانوں کی توانائی ہو، نوجوانوں کی قوت ہو، تو مستقبل کی تعمیر کرنا، قوم کی تعمیر کرنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔ کرناٹک کی اس سرزمین نے خود ایسی کتنی ہی عظیم شخصیات پیدا کی ہیں، جنہوں نے اپنے فرائض کو بالاتر رکھا، ازحد کم عمری میں غیر معمولی کام انجام دیے۔ کتور کی رانی چینما ملک کی آزادی کی پیش رو خواتین سپاہیوں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے سب سے مشکل وقت میں بھی آزادی کی لڑائی کی قیادت کی۔رانی چینما کی ہی فوج میں ان کے ساتھی سنگولی راینّا جیسے بہادر سورما بھی تھے، جن کی شجاعت نے برطانوی فوج کا حوصلہ توڑ دیا تھا۔ اسی سرزمین کے نرائن مہادیو ڈونی محض 14 برس کی عمر میں ملک کے لیے قربانی دینے والے شہید بنے تھے۔

نوجوان کا جوش و جذبہ کیا ہوتا ہے، اس کے حوصلے کیسے موت کو بھی شکست دے سکتے ہیں، یہ کرناٹک کے سپوت لانس نائک ہنومن تھپا- کھوپڑ نے سیاچین کے پہاڑوں میں دکھا دیا تھا۔ منفی 55 ڈگری درجہ حرارت میں بھی وہ 6 دن تک لڑتے رہے، اور زندہ نکل کر آئے۔ یہ اہلیت محض شجاعت تک ہی محدود نہیں ہے۔ آپ دیکھئے، شری ویشوریا نے انجینئرنگ میں اپنا لوہا منواکر یہ ثابت کیا کہ نوجوان صلاحیت  کسی ایک دائرے میں بندھی نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح، ملک کے الگ الگ حصوں میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت اور اہلیت کی ایک سے ایک لاجواب، ناقابل یقین مثالیں بکثرت موجود ہیں۔ آج بھی، ریاضی سے لے کر سائنس تک، جب عالمی سطح پر مقابلے ہوتے ہیں تو بھارتی نوجوانوں کی قابلیت دنیا کو حیران کر دیتی ہے ۔

ساتھیو،

الگ الگ ادوار میں کسی بھی ملک کی ترجیحات بدلتی ہیں، اس کے اہداف بدلتے ہیں۔ آج 21ویں صدی کے جس پڑاؤ پر ہم بھارتی پہنچے ہیں، ہمارا بھارت پہنچا ہے، وہ موزوں وقت صدیوں کے بعد آیا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے بھارت کی نوجوان صلاحیت، یہ نوجوان طاقت۔ آج بھارت ایک نوجوان ملک ہے۔ دنیا کی بڑی نوجوان آبادی ہمارے ملک میں ہے، بھارت میں ہے۔

یووا شکتی بھارت کے سفر کی اہم طاقت ہے! آئندہ 25 برس ملک کی تعمیر کے لیے ازحد اہمیت کے حامل ہیں۔ یووا شکتی کے خواب بھارت کی سمت طے کرتے ہیں۔ یووا شکتی کی آرزوئیں بھارت کی منزل طے کرتی ہیں۔ یووا شکتی کا جذبہ بھارت کا راستہ طے کرتا ہے۔ اس یووا شکتی کو بروئے کار لانے کے لیے ہمیں اپنے خیالات و نظریات، اپنی کوششوں کے ساتھ نوجوان بننے کی ضرورت ہے! نوجوان ہونے کا مطلب اپنی کوششوں میں فعالیت لانا ہے۔نوجوان ہونے کا مطلب اپنے تناظر میں خوبصورت ہونا ہے۔ نوجوان ہونے کا مطلب حقیقت پسند ہونا ہے۔

دوستو،

اگر آج دنیا حل کے لیے ہماری جانب دیکھتی ہے، تو اس کی وجہ ہماری امرت پیڑھی کا عزم ہے۔ آجب جب دنیا بھارت کی جانب اتنی امیدوں بھری نظر سے دیکھ رہی ہے، تو اس کے پس پشت آپ تمام میرے نوجوان ساتھی ہیں۔ آج ہم دنیا میں 5ویں نمبر کی معیشت ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ ہم اسے سرکردہ 3 میں لے کر آجائیں۔ ملک کی یہ اقتصادی نمو ہمارے نوجوانوں کے لیے متعدد مواقع لے کر آئے گی۔ آج ہم زراعت کے شعبہ میں دنیا کی قوت ہیں۔ زراعت کے شعبہ میں تکنالوجی اور اختراع سے ایک نیا انقلاب آنے والا ہے۔ اس میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نئی بلندیوں پر جانے کے نئے راستے کھلیں گے۔ کھیل کود کے میدان میں بھی آج بھارت دنیا کی ایک بڑی قوت بننے کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ بھارت کے نوجوانوں کی قوت کی وجہ سے ہی ممکن ہو پارہا ہے۔ آج گاؤں ہو، شہر ہو یا قصبہ! ہر جگہ نوجوانوں کا جذبہ عروج پر ہے۔ آج آپ ان تبدیلیوں کے گواہ بن رہے ہیں۔ کل آپ اس کی طاقت سے مستقبل کے قائد بنیں گے۔

دوستو،

یہ تاریخ میں ایک اہم وقت ہے۔ آپ ایک خاص پیڑھی ہو۔ آپ کے پاس ایک خصوصی مشن ہے۔ یہ مشن عالمی منظرنامہ پر بھارت کے لیے کچھ کر دکھانے کا ہے۔ ہر ایک مشن کے لیے، ایک بنیاد درکار ہوتی ہے۔ خواہ معیشت ہو یا تعلیم، کھیل کود ہو یا اسٹارٹ اپ ادارے، ہنر مندی ترقیات ہو یا ڈجیٹلائزیشن، گذشتہ 8-9 برسوں کے دوران ہر میدان میں، مضبوط بنیاد قائم کی گئی ہے۔ آپ کی پرواز کے لیے رن وے تیار ہے! آج، دنیا کو بھارت اور اس کے نوجوانوں سے زبردست امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ امید آپ سے ہے۔ یہ امید آپ کی وجہ سے ہے۔ اور یہ امید آپ کے لیے ہے!

آج، عالمی صدائیں کہہ رہی ہیں کہ یہ صدی بھارت کی صدی ہے۔ یہ ہماری صدی ہے، یہ بھارت کے نوجوانوں کی صدی ہے! ایسے متعدد گلوبل جائزے ہیں جو کہتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کی اکثریت بھارت میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ یہ سرمایہ کار آپ یعنی بھارتی نوجوانوں پر سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔ بھارتی اسٹارٹ اپ ادارے ریکارڈ سرمایہ کاری حاصل کر رہے ہیں۔ متعدد عالمی کمپنیاں بھارت میں اشیا سازی کے لیے مینوفیکچرنگ اکائیاں قائم کر رہی ہیں۔ کھلونوں سے لے کر سیاحت تک، دفاع سے لے کر ڈجیٹل تک، بھارت دنیا بھر میں چھایا ہوا ہے۔ اس لیے، یہ ایک تاریخی لمحہ ہے ، اور امید اور مواقع ایک ساتھ آر ہے ہیں۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں ہمیشہ سے خواتین کی قوت کو اور خواتین کی قوت نے قومی طاقت کو بیدار رکھنے، قومی طاقت میں اضافہ کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ اب آزادی کے اس امرت کال میں خواتین، ہماری بیٹیاں نئی نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بھارت کی خواتین آج جنگی طیارے اڑا رہی ہیں۔ فوج میں جنگی امور میں شامل ہو رہی ہیں۔ سائنس-تکنالوجی، خلاء، کھیل کود، ایسے ہر شعبے میں ہماری بیٹیاں بلندیاں چھو رہی ہیں۔ یہ ایک اعلان ہے کہ بھارت اب پوری قوت کے ساتھ اپنے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

ہمیں 21ویں صدی کو بھارت کی صدی بنانا ہے۔ اور اس لیے، یہ ضروری ہے کہ ہم اب سے دس قدم آگے کے بارے میں سوچیں۔ ہماری سوچ مستقبل پر مبنی ہو، ہمارا نظریہ مستقبل پر مبنی ہو! یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی آرزؤں کی تکمیل کے لیے آپ مثبت تبدیلیاں لائیں،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے چلے جائیں۔ اگر ہم یاد کریں، آج سے 10-20 برس پہلے ایسی کتنی ہی چیزیں وجود میں بھی نہیں آئی تھیں، جو آج ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ اسی طرح، آئندہ چند برسوں میں، غالباً، یہ دہائی ختم ہونے سے پہلے ہماری دنیا یکسر تبدیل ہونے والی ہے۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، انٹرنیٹ آف تھنگس اور اے آر-وی آر جیسی ابھرتی ہوئی تکنالوجیاں ایک نئی شکل میں سامنے آچکی ہوں گی۔ ڈاٹا سائنس اور سائبر سلامتی جیسے الفاظ کہیں زیادہ گہرائی سے ہماری زندگی کے ہر پہلو سے جڑ چکے ہوں گے۔

ہماری تعلیم سے لے کر ملک کی سلامتی تک، حفظانِ صحت سے لے کر مواصلات تک، سب کچھ جدید تکنالوجی کے ذریعہ ایک نئے اوتار میں نظر آنے والا ہے۔ آج جن کاموں کا وجود نہیں ہے، آنے والے وقت میں وہ نوجوانوں کے لیے قومی دھارے والے پیشے ہوں گے۔ اس لیے، یہ ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان مستقبل کی ہنرمندیوں کے لیے خود کو تیار کریں۔ دنیا میں جو کچھ نیا ہو رہا ہے، ہمیں اس سے خود کو جوڑنا ہوگا۔ جو کام کوئی نہیں کر رہا ہے، ہمیں انہیں بھی کرنا ہوگا۔ نئی پیڑھی کو اس طرزفکر کے ساتھ تیار کرنے کے لیے ملک نئی قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ عملی اور مستقبل پر مبنی تعلیمی نظام تیار کر رہا ہے۔ آج اسکول سے ہی اختراعی اور ہنرمندی پر مبنی تعلیم پر توجہ مرکوز ہے۔ نوجوانوں کے پاس آج متبادل کے حساب سے آگے بڑھنے کی آزادی ہے۔ یہ بنیاد مستقبل کے بھارت کی تعمیر کرنے والے فیوچر ریڈی نوجوانوں کو تیار کرے گی۔

ساتھیو،

آج اس تیزی سے بدلتی دنیا میں سوامی وویکانند جی کے دو پیغامات ہر نوجوان کی زندگی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ یہ دو پیغامات ہیں – ادارے اور اختراع! ادارہ تب بنتا ہے جب ہم اپنے خیالات و نظریات کو وسعت دیتے ہیں، ٹیم اسپرٹ سے کام کرتے ہیں۔ آج ہر نوجوان کو چاہئے کہ وہ اپنی انفرادی کامیابی کو ٹیم کی کامیابی کے طور پر توسیع دے۔ یہی ٹیم اسپرٹ ’ٹیم انڈیا‘ کے طور پر ترقی یافتہ بھارت کو آگے لے جائے گی۔

میرے نوجوان ساتھیو،

آپ کو سوامی وویکانند کی ایک اور بات یاد رکھنی ہے۔ اختراع کے لیے بھی سوامی وویکانند جی کہتے تھے کہ – ہر کام کو تین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے – تضحیک، مخالفت اور قبولیت۔ اور اگر اختراع کی ایک جملہ میں تعریف بیان کرنی ہو تو وہ یہی ہے۔ مثال کے طور پر ، کچھ برس قبل ملک میں ڈجیٹل ادئیگی کی شروعات ہوئی تھی تو کچھ لوگوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ سووَچھ بھارت ابھیان شروع ہوا تو بھی ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب بھارت میں چلنے والا نہیں ہے۔ ملک غریبوں کے لیے بینکوں میں جن دھن کھاتے کھلوا رہا تھا، اسکیم لے کر آیا تو اس کا بھی مذاق اڑایا۔ کووِڈ کے وقت ہمارے سائنس داں اندرونِ ملک تیار ٹیکہ لے کر آئے تو اس پر طنز کیا گیا کہ یہ کام بھی کرے گا یا نہیں؟

لیکن اب دیکھئے، آج بھارت ڈجیٹل ادائیگی میں عالمی قائد ہے۔ آج جن دھن کھاتے ہماری معیشت کی ایک بڑی طاقت ہیں۔ ویکسین کے شعبہ میں بھارت کی حصولیابی کی دنیا بھر میں شہرت ہو رہی ہے۔ اس لیے، آپ نوجوانوں کے پاس اگر کوئی نیا آئیڈیا ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ کا مذاق بنایا جا سکتا ہے، مخالفت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اپنے آئیڈیا پر آپ کو یقین ہے تو اس پر ثابت قدم رہئے۔ اس پر اعتماد بنائے رکھئے۔ آپ کی کامیابی مذاق بنانے والوں کی سوچ سے کہیں بڑی ثابت ہوگی۔

ساتھیو،

نوجوانوں کو ساتھ لے کر آج ملک بھر میں مسلسل کچھ نہ کچھ نئی کوششیں اور تجربات ہو رہے ہیں۔ اس کڑی میں، نیشنل یوتھ فیسٹیول میں بھی ملک کے الگ الگ ریاستوں کے نوجوان مختلف مقابلوں میں حصہ لینے میں مصروف ہیں۔ یہ کسی حد تک مسابقتی اور امدادِ باہمی پر مبنی وفاقیت کی طرح ہے ۔ یہاں الگ الگ ریاستوں کے نوجوان صحت مند مسابقت کے جذبے کے ساتھ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے آئے ہیں۔ یہاں یہ زیادہ اہم نہیں ہے کہ کون جیتا، کیونکہ ہر صورت میں جیت بھارت کی ہوگی۔ کیونکہ یوتھ فیسٹیول میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیت نکھر کر سامنے آئے گی۔

آپ یہاں ایک دوسرے سے مسابقت کرنے کے ساتھ ساتھ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ مسابقت تبھی ہوسکتی ہے جب اس میں حصہ لینے والے ایک اصول پر عمل پیرا ہونے میں ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ ہمیں مسابقت اور امدادِ باہمی کے اس جذبے کو مسلسل آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں ہمارے ہر ہدف میں یہ سوچنا ہے کہ ہماری اس کامیابی سے ملک کہاں پہنچے گا۔ آج ملک کا ہدف  ہے – ترقی یافتہ بھارت، مضبوط بھارت! ہمیں ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو پورا کیے بغیر نہیں رکنا ہے۔ مجھے یقین ہے، ہر نوجوان اس خواب کو اپنا خواب بنائے گا، اپنے کندھوں پر ملک کی یہ ذمہ داری لے گا۔ اسی یقین کے ساتھ، آپ سبھی کو ایک مرتبہ پھر، بہت بہت شکریہ، بہت بہت مبارکباد!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's crude supply secure, LPG production increased: Hardeep Puri

Media Coverage

India's crude supply secure, LPG production increased: Hardeep Puri
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Bodoland is scripting a new chapter of peace and prosperity: PM Modi in Assam
March 13, 2026
Kokrajhar is closely associated with the glorious Bodo culture: PM
These development projects are aimed at boosting the region’s growth: PM
Today Bodoland has set out on the path of peace and development; Assam is writing a new chapter of peace and prosperity: PM
Our Government has ensured national recognition for the faith and traditions of the Bodo community. Their traditional faith, Bathou, has been accorded great respect: PM
We must continue to accelerate the pace of Assam's development, with the blessings of the people of Assam the resolve for a ‘Viksit Assam’ will surely be fulfilled: PM

Khulumbye Kokrajhar!

Friends,

Due to bad weather, I am unable to come to Kokrajhar. I apologize to all of you. It has been possible to communicate with you from here in Guwahati; I had set out from Delhi to come to you, but I had to land in Guwahati itself, and now from Guwahati, I am having your darshan and also talking to you. Associated with this program, the Chief Minister of Assam, brother Himanta Biswa Sarma ji, my colleague in the Union Cabinet Sarbananda Sonowal ji, the Chief Executive Member of the Bodoland Territorial Council Hagrama Mohilary ji, the Governor of Assam present with us Shri Lakshman Prasad Acharya ji, Ministers of the Assam Government, MPs and MLAs, all representatives of the B.T.C., all senior members of society, and my dear brothers and sisters!

First of all, I respectfully bow to Bodofa Upendranath Brahma ji, Roopnath Brahma ji, and the great personalities of this land. I am seeing that wherever my sight reaches, only people and more people are visible, and mothers and sisters have also come in such large numbers to give their blessings. You have reached there in such a massive number. This love of yours is like a debt upon me. And it has always been my effort to repay this debt by serving you, by developing this region.

Friends,

Just a few weeks ago I was in Guwahati, where I had the opportunity to become a part of the rich Bodo culture in the grand celebration of Bagurumba Dahou. It gives me great pride to see that the Bodo society has kept its language, its culture, and its traditions so well-preserved and nurtured. Whether it is the spiritual tradition of Bathou or the festival of Baisagu, all these further strengthen the cultural power of India.

Friends,

The BJP-NDA double-engine government is also working continuously for both the preservation of Assam's heritage and the rapid development of Assam. Today, in this program itself, the foundation stone laying and inauguration of projects worth more than four and a half thousand crore rupees have taken place for the development of this region. Out of this, an amount of more than 1100 crore rupees is going to be spent on the roads of Bodoland. From the third phase of this campaign, Assam Mala, the road connectivity of Assam will become even more empowered.

Friends,

A short while ago, I also had the opportunity to flag off the Kamakhya-Cherlapally Amrit Bharat Express and the Guwahati-New Jalpaiguri Express. From all these projects, you will not only get facilities, but trade and tourism will also get a boost. Through this, the produce of farmers will be able to reach big markets easily. I congratulate all of you very much for these development projects.

Friends,

This entire region, including Kokrajhar, had suffered a lot and lost a lot in the past decades. We have seen those difficult times when only the echoes of bombs and guns were heard in these hills. But today this picture is changing. Today these hills are echoing with the beat of the 'Kham' and the sweet tunes of the 'Sifung'. Today Bodoland has set out on the path of peace and development. Today Assam is writing a new chapter of peace and development.

Friends,

Today, the groundbreaking ceremony of 6 important road projects of the B.T.R. region has taken place here; also, major steps have been taken to strengthen the rail connectivity of this region. The railway workshop to be built here is going to make this region a big center of logistics. Work is also going on here on the rail line connecting Bhutan; many stations are also being made modern. Now trains like Vande Bharat and Rajdhani Express stop in Kokrajhar. This is proof of the better connectivity of Bodoland. With such projects, Kokrajhar is going to become a big center of trade.

Friends,

I congratulate Hagrama Mohilary ji's team, and Hemanta ji's entire team very much for these works of development.

Friends,

For decades, this region of Bodoland has been a witness to the betrayal of the Congress. The Congress kept many generations of Bodoland entangled in false dreams. The Congress governments sitting in Delhi made paper agreements only for show.

Friends,

When you ousted the Congress from both the country and Assam and gave an opportunity to the BJP-NDA, we started honest efforts. Where Congress used to create rifts among different communities for its selfish politics, the BJP worked for permanent peace. With this thinking, the Bodo Peace Accord was made. In this agreement, for the first time, all major organizations and groups were brought together.

Friends,

There is another truth about Congress; Congress is a shop of false promises. And with one false promise, it gives four super-lies as gifts. Because, the Congress does not even have the intention to fulfill those promises. On the other hand, the model of BJP-NDA is before you. Whatever our double-engine government said, it made an honest effort to make it true, and this is not a matter of today; in 2003, when the NDA government was in Delhi under the leadership of Atal Bihari Vajpayee ji, even then we left no stone unturned in working with truth and honesty. Under that, the BTC was formed in the Sixth Schedule; this gave strength to the development of Bodoland. Bodoland University was built here, Central Institute of Technology was built, Engineering College was built, many such projects came here.

Friends,

Under the 2020 agreement, whatever promises we made are being fulfilled one after another, at a fast pace, through continuous hard work. The Bodo language has been given the status of an Associate Official Language. A special development package of 1500 crore rupees was given for Bodoland. Today a medical college is functional in Kokrajhar and a medical college is being built in Tamulpur. New bridges are being built here. Today, about 10 thousand youths of Assam who gave up weapons are being taken forward by joining the mainstream. All those mothers are blessing us whose sons have returned home today. They are living life with their families in prosperity.

Friends,

Our government has also ensured that the faith and traditions of the Bodo society get respect at the national level. The traditional faith of the Bodo society, Bathou, has also been given great respect. And special assistance is also being given for the development of places of faith.

Friends,

There is another big sin of the Congress, which has become a very big threat to the security of the country and Assam. Which has put the security of Roti, Beti, and Maati (bread, daughter, and land), all three, in danger. The hand of the Congress has always been with the infiltrators and is even today. For decades, the Congress did not even give legal documents of land to the original inhabitants here. Congress handed over a lot of land belonging to the tribals to the infiltrators. In districts like Dhubri and Goalpara, the situation was very terrible. Due to this, the balance of population in Bodoland was getting disturbed; a crisis began to come upon the society. I am satisfied that under the leadership of Hemanta ji, a very big campaign to free the land from the possession of infiltrators is going on in Assam. Here the BJP-NDA government has also given legal documents of land to the original inhabitants of Assam. I want to express my gratitude from the heart to the tribal community also for supporting this campaign wholeheartedly. Today I have come to urge you to give the strictest punishment to the Congress in the coming elections; give a clear message that now there is no place for infiltrators in the country. The message emanating from Assam will become the voice of the entire country.

Friends,

We have to continuously speed up the pace of Assam's development and I know that with the blessings of the people of Assam, the resolution of a developed Assam will surely be realized. With this faith, I again give many, many best wishes to all of you for the development projects.

Thank you very much.

Namaskar.