‘‘یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ دور ہے جب ملک ایک زبردست ترقی کی طرف گامزن ہے’’
‘‘ہندوستان کے لیے یہی وقت ہے، صحیح وقت (یہی سمے ہے، صحیح سمے ہے)’’
‘‘جب قومی کوششیں ایک مقصد پر مبنی آزادی کی طرف مرکوز ہوجائیں تو ہمارے پاس آزادی کی جدوجہد کے لیے ایک بہت بڑی تحرک ہے’’
‘‘آج، آپ کے اہداف کا مقصد، آپ کےعزائم صرف ایک ہونا چاہئیں - ترقی یافتہ ہندوستان’’
‘‘نظریہ اسی طرح ‘آئی’ سے شروع ہوتا ہے جس طرح ‘‘ہندوستان’’ بھی ‘آئی’ سے شروع ہوتا ہے، ترقی کی کوششیں خود بہ خود شروع ہوتی ہیں
‘‘جب شہری چاہے کسی بھی کردار میں ہوں، اپنا فرض ادا کرنا شروع کر دیں تو ملک آگے بڑھتا ہے’’
‘‘ہمارے لئے ملک کے شہریوں کے طور پر امتحان کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہمارے سامنے امرت کال کے 25 سال ہیں۔ ہمیں 24 گھنٹے کام کرنا پڑے گا’’
‘‘نوجوانوں کی طاقت تبدیلی کی ایجنٹ بھی ہے اور تبدیلی کا فائدہ اٹھانے والی بھی’’
‘‘ترقی کا خاکہ اکیلے حکومت نہیں بلکہ قوم طے کرے گی۔ ‘‘وکست بھارت کو سب کے پریاس سے ہی تعمیرکیا جانا ہے’’

نمسکار!

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی دھرمیندر پردھان جی، ملک بھر سے ہمارے ساتھ شامل ہونے والے گورنرز، تعلیم کی دنیا کی نامور شخصیات، خواتین و حضرات!

ترقی یافتہ ہندوستان کی قراردادوں کے حوالے سے آج کا دن بہت اہم ہے۔ میں تمام گورنروں کو خصوصی طور پر مبارکباد دینا چاہوں گا کہ انہوں نے ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر سے متعلق اس ورکشاپ کا انعقاد کیا ہے۔ آپ نے ان دوستوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا  ہے، جن پر ملک کی نوجوان طاقت کو سمت دینے کی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی اداروں کا کردار، ا فرادی ترقی ہے اور فرد کی ترقی سے ہی قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔ اور آج ہندوستان جس دور میں ہے، اس میں شخصیت سازی کی مہم بہت اہم ہو گئی ہے۔ میں آپ سب کو نوجوانوں کی آواز  سے متعلق  ورکشاپ کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

ساتھیو!

تاریخ ہر ملک کو ایک ایسا دور دیتی ہے،  جب وہ اپنی ترقی کے سفر کو کئی گنا آگے بڑھالیتا  ہے۔ ایک طرح سے یہ اس ملک کا امرت کال ہوتا  ہے۔ ہندوستان کے لیے اس وقت امرت کال آگیا ہے۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ دور ہے،  جب ملک ایک لمبی چھلانگ لگانے  جا رہا ہے۔ ہمارے ارد گرد ایسے بہت سے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ایک مقررہ وقت میں اسی طرح کی لمبی چھلانگ لگا کر خود کو ترقی دی ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہندوستان کے لیے بھی یہی صحیح وقت ہے۔ ہمیں اس امرت کال  کے ہر لمحے سے فائدہ اٹھانا ہے، ہمیں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا ہے۔

ساتھیو!

آزادی کے لیے اپنی طویل جدوجہد کی تحریک بھی ہم سب کے لیے ہمارے سامنے ہے۔ جب ہم ایک مقصد کے ساتھ، ایک ولولے اور جذبے کے ساتھ، آزادی کو آخری مقصد سمجھتے ہوئے میدان میں اترے، تب ہم نے کامیابی حاصل کی۔ اس دور میں ستیہ گرہ ہو، انقلاب کا راستہ، سودیشی کے بارے میں بیداری ہو، سماجی اور تعلیمی اصلاحات کا شعور ہو، یہ تمام دھارے مل کر تحریک آزادی کی طاقت بن گئے۔ اس عرصے کے دوران کاشی ہندو یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی، وشو بھارتی، گجرات ودیا پیٹھ، ناگپور یونیورسٹی، انامالائی یونیورسٹی، آندھرا یونیورسٹی، کیرالہ یونیورسٹی جیسے کئی اداروں نے ملک کے شعور کو تقویت بخشی۔ یہ وہ دور تھا جب ہر طبقے کے نوجوانوں میں آزادی کے بارے میں ایک نیا شعور بیدار ہوا تھا۔ ایک پوری نوجوان نسل،  آزادی کے لیے سرشار ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ملک میں ایک سوچ پیدا ہوئی کہ جو کچھ کرنا ہے،  آزادی کی خاطر کرنا ہے اور اب کرنا ہے۔ کوئی چرخہ کاتتا تھا اور وہ بھی آزادی کے لیے تھا۔ کوئی غیر ملکی سامان کا بائیکاٹ کرتا تھا، وہ بھی آزادی کی خاطر۔ کوئی شاعری کرتا تھا، وہ بھی آزادی کے لیے۔ کوئی کتاب یا اخبار میں لکھتا تھا، وہ بھی آزادی کے لیے۔ کوئی اخباری پمفلٹ بانٹتا تھا اور وہ بھی آزادی کے لیے۔ اسی طرح آج ہر شخص، ہر ادارے، ہر تنظیم کو اس عہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ میں جو کچھ بھی کروں وہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ہو۔ آپ کے اہداف کا مقصد، آپ کی قراردادیں صرف ایک ہونی چاہئیں - ترقی یافتہ ہندوستان۔ ایک استاد کی حیثیت سے سوچیں کہ آپ ترقی یافتہ ہندوستان کے مقصد کو حاصل کرنے میں، ملک کی مدد کرنے  کے لیے کیا کریں گے؟ ایک یونیورسٹی ہونے کے ناطے آپ کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ ہندوستان تیزی سے ترقی کرے؟ آپ جس خطے میں ہیں، وہاں کیا ہونا چاہیے۔  ہندوستان کو ترقی کی راہ پر کس طرح تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے؟

 

ساتھیو!

جن تعلیمی اداروں کی آپ نمائندگی کرتے ہیں، آپ کو اس ایک مقصد کے لیے، ملک کے نوجوانوں کی توانائی کو بروئے کار لانا ہوگا۔ آپ کے اداروں میں آنے والا ہر نوجوان، کسی نہ کسی خصوصیت کے ساتھ آتا ہے۔ ان کے خیالات چاہے وہ کتنے ہی متنوع کیوں نہ ہوں، انہیں ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے دھارے سے منسلک کیاجانا چاہیے۔ میں چاہوں گا کہ آپ سب اپنی حدود سے باہر سوچیں تاکہ وکست بھارت @2047 کے وژن میں اپنی  حصہ رسدی کریں؛  تاکہ ملک کے ہر کالج اور یونیورسٹی میں زیادہ سے زیادہ نوجوان ،اس مہم میں شامل ہو سکیں۔ اس کے لیے بھی آپ خصوصی مہم چلائیں، قیادت سنبھالیں، آسان زبان میں باتوں کا اظہار کریں۔ آج ہی مائی گو و کے اندر وکست بھارت  @2047  کا سیکشن شروع کیا گیا ہے۔ اس میں ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کے لیے، آئیڈیاز کا ایک حصہ ہے۔ اور چونکہ آئیڈیا لفظ کی شروعات  'آئی' سے ہوتی ہے، اس لیے اسے ایسے آئیڈیاز کی ضرورت ہوتی ہے،  جو یہ بیان کرتے ہوں کہ میں خود کیا کر سکتا ہوں۔ اور جس طرح ایک خیال میں 'آئی' سب سے پہلے ہے، اسی طرح ہندوستان میں بھی 'آئی' ہی پہلا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم کامیابی چاہتے ہیں، اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، مناسب نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ہمارے اپنے 'آئی' سے شروع ہوتا ہے۔ مائی گوو  پر اس آن لائن آئیڈیاز پورٹل پر 5 مختلف موضوعات  پر تجاویز دی جا سکتی ہیں۔ بہترین 10 تجاویز کے لیے انعام کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

ساتھیو!

جب میں تجاویز کی بات کرتا ہوں تو آپ کے سامنے کھلا آسمان ہے۔ ہمیں ملک میں ایک ایسی لافانی نسل تیار کرنی ہے، جو آنے والے سالوں میں ملک کی رہنما بنے، جو ملک کو قیادت اور سمت دے گی۔ ہمیں ملک کا ایسا نوجوان پودا تیار کرنا ہے، جو قومی مفاد کو مقدم رکھے، جو اپنے فرائض کو مقدم رکھے۔ ہمیں صرف تعلیم اور ہنر تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بحیثیت شہری، اس سمت میں کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کے شہری 24 گھنٹے چوکس رہیں۔ ہمیں معاشرے میں یہ شعور  پیدا کرنا  ہے کہ کیمرے لگے ہوں یا نہ لگے ہوں،  لوگ ٹریفک کی لال بتی کو نہ پھلانگیں۔ لوگوں میں فرض شناسی کا اتنا اعلیٰ احساس ہونا چاہیے کہ وہ وقت پر دفتر پہنچیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے آگے بڑھیں۔ یہاں پر جو بھی مصنوعت  تیار ہوتی ہے، اس کا معیار اتنا اچھا ہونا چاہیے کہ اسے میڈ ان انڈیا کے طور پر دیکھ کر خریدار کا غرور بڑھ جائے۔ جب ملک کا ہر شہری، وہ چاہے جو بھی کردار ادا کرے ، اپنے فرائض ادا کرنے لگے گا تو ملک بھی آگے بڑھے گا۔ اب یہ قدرتی وسائل کے استعمال سے متعلق موضوع ہے۔ جب پانی کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدگی بڑھے گی، جب بجلی کی بچت کے تئیں  سنجیدگی بڑھے گی، جب مادرِ وطن کو بچانے کے لیے کیمیکلز کا استعمال کم ہو گا، جب عوامی  نقل وحمل  کے زیادہ سے زیادہ استعمال  کے تئیں  سنجیدگی ہو گی، تب معاشرہ  پر ، ملک پر، ہر علاقے  پر ایک بہت بڑا مثبت اثر پڑے  گا۔  میں آپ کو ایسی بہت سی مثالیں دے  سکتا ہوں۔

آپ بھی مانیں گے کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ لیکن ان کا اثر بہت بڑا ہے۔ صفائی کی عوامی تحریک کو نئی توانائی کیسے دی جائے،  اس کے لیے بھی آپ کی تجاویز اہم ہوں گی۔ ہمارے نوجوان ، جدید طرز زندگی کے مضر اثرات سے کیسے نمٹ سکتے ہیں، اس کے لیے آپ کی تجاویز اہم ہوں گی۔ موبائل کی دنیا کے علاوہ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان ، باہر کی دنیا کو بھی دیکھیں۔ ایک استاد کے طور پر، آپ کو موجودہ اور آنے والی نسل میں،  ایسے بہت سے خیالات کی بنیاد  ڈالنی  ہے۔ اور آپ کو خود اپنے طلباء کے لیے رول ماڈل بننا ہے۔ جب ملک کے شہری،  ملک کی بھلائی کا سوچیں گے تب ہی ایک مضبوط معاشرہ تشکیل پائے گا۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ معاشرے کی ذہنیت، جس طرح کی ہے، ہم حکمرانی اور انتظامیہ میں بھی وہی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر میں تعلیم کے شعبے کی بات کروں تو اس سے متعلق بہت سے مضامین ہیں۔ تین چار سال کے کورس کے بعد ہمارے تعلیمی ادارے اسناد اور ڈگریاں دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں اس بات کو یقینی نہیں بنانا چاہیے کہ ہر طالب علم کے پاس کوئی نہ کوئی ضروری مہارت ہو؟ صرف اس طرح کی بات چیت اور متعلقہ تجاویز ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی  جانب  جانے کا راستہ واضح کریں گی۔ لہذا، آپ کو ہر کیمپس، ہر انسٹی ٹیوٹ اور ریاستی سطح پر ان موضوعات پر ذہن سازی کے ایک جامع عمل کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔

 

ساتھیو!

یہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کا سنہری دور ہے، یہ وہی وقت ہے جو ہم اکثر امتحانات کے دنوں میں دیکھتے ہیں۔ طلباء اپنی امتحانی کارکردگی پر بہت پراعتماد ہیں، لیکن پھر بھی وہ آخری دم تک کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ہر طالب علم اپنا سب کچھ دیتا ہے، اپنے وقت کے ہر لمحے کو ایک مقصد سے منسلک کردیتا  ہے۔ اور جب امتحان کی تاریخیں آتی ہیں، تاریخوں کا اعلان ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے پورے خاندان کے امتحان کی تاریخ آ گئی ہو۔ نہ صرف طلباء ، بلکہ پورا خاندان ہر کام نظم و ضبط کے دائرے میں کرتے ہیں۔ ملک کے شہری ہونے کے ناطے ،ہمارے لیے بھی امتحان کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہمارے سامنے امرت کال کے 25 سال ہیں۔ ہمیں اسی وقت اور ترقی یافتہ ہندوستان کے مقاصد کے لیے،  ہر روز  24 گھنٹے کام کرنا ہے۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ایک خاندان کے طور پر ہمارے لیے یہ ماحول پیدا کریں۔

ساتھیو!

آج دنیا کی آبادی تیزی سے عمر دراز  ہو رہی ہے اور ہندوستان نوجوانوں کی طاقت سے مالا  مال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے 25 سے 30 سالوں میں، کام کرنے کی عمر کی آبادی کے لحاظ سے،  ہندوستان سرفہرست ہونے والا ہے۔ اس لیے پوری دنیا،  ہندوستان کے نوجوانوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ نوجوانوں کی قوت تبدیلی کی ایجنٹ بھی ہے اور تبدیلی کا فائدہ اٹھانے والی بھی۔ یہ 25 سال ان نوجوان دوستوں کے کیریئر کا فیصلہ کرنے والے ہیں، جو آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہیں۔ یہ نوجوان نئے خاندان بنانے اور ایک نیا معاشرہ بنانے جا رہے ہیں۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنے کا حق ہمارے نوجوانوں کو ہے کہ ہندوستان کتنا ترقی یافتہ ہونا چاہیے۔ اس جذبے کے ساتھ حکومت، ملک کے ہر نوجوان کو ترقی یافتہ ہندوستان کے ایکشن پلان سے جوڑنا چاہتی ہے۔ یہ ملک کے نوجوانوں کی آواز کو ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے، پالیسی حکمت عملی میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ آپ سب سے زیادہ نوجوانوں سے رابطے میں ہیں، اس لیے آپ سب دوستوں کا تعاون اس میں بہت اہم ہوگا۔

 

ساتھیو!

ترقی کا جو روڈ میپ ہمیں فالو کرنا ہے اس کا فیصلہ حکومت اکیلے نہیں کرے گی، اس کا فیصلہ ملک کرے گا۔ اس میں ملک کے ہر شہری کی  ماحصل اور فعال شرکت ہوگی۔ ہر ایک کی کوشش، یعنی عوامی شرکت، ایک ایسا منتر ہے جس کے ذریعے بڑے سے بڑے عزم کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ سوچھ بھارت ابھیان ہو، ڈیجیٹل انڈیا ابھیان ہو، کورونا کے خلاف جنگ ہو یا مقامی لوگوں کے لیے آواز اٹھانا ہو، ہم سب نے ،سب کی کوششوں کی طاقت دیکھی ہے۔ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ،سب کی کوششوں سے ہی ہونی ہے۔ آپ تمام اسکالرز بھی وہ لوگ ہیں جو ملک کی ترقی کے وژن کو تشکیل دیتے ہیں اور نوجوانوں کی طاقت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس لیے آپ سے توقعات بہت زیادہ ہیں۔ یہ ملک کا مستقبل تحریر کرنے  کی بہت بڑی مہم ہے۔ آپ کی ہر تجویز، ترقی یافتہ ہندوستان کی عمارتوں کی شان میں مزید اضافہ کرے گی۔ ایک بار پھر، میں آج کی ورکشاپ کے لیے آپ سب سے  نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں، لیکن جو تحریک آج سے شروع ہو رہی ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ 2047 تک ہم مل کر ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنا سکتے ہیں۔ آج سفر شروع ہو رہا ہے۔ قیادت،  ماہرین تعلیم کے ہاتھ میں ہے، قیادت طلباء کے ہاتھ میں ہے، قیادت تعلیمی اداروں کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک ایسی نسل کا دور ہے، جو اپنے آپ میں ملک  بنانے والی  اور خود کی بھی تعمیر کرنے والی  نسل  کا  کال کھنڈ ہے۔  ان سب کے لیے میری  بہت بہت  نیک تمنائیں ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London

Media Coverage

Odisha’s Dhenkanal farmers export 3 tonne of mango to London
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s Departure Statement ahead of his visit to the UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy
May 15, 2026

Today, I embark on a five-nation visit to the United Arab Emirates, the Netherlands, Sweden, Norway, and Italy from 15-20 May 2026.

My first stop is the UAE. This will be my eighth visit to the UAE in the past 12 years, a reflection of a Comprehensive Strategic Partnership built on deep mutual trust, personal friendships, and strong people-to-people ties. I look forward to meeting my brother, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of the UAE. Under his leadership, the UAE has stood out for its resilience amid the profound geopolitical churn in West Asia. In these turbulent times, our energy partnership has emerged as a pillar of stability, and a strategic anchor for India’s energy security. We will exchange views on the regional situation, deepen our cooperation on energy security and resilient supply chains, and explore new avenues to further strengthen our investment partnership. The welfare of the 4.5 million-strong Indian community in the UAE, a cornerstone of our friendship, will also be on our agenda.

From the UAE, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Rob Jetten, I will pay an Official Visit to the Netherlands. I will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Jetten. Coming on the heels of the India-EU Free Trade Agreement, the visit will give a fresh impetus to our trade and investment ties, and to our cooperation across semiconductors, water, clean energy, green hydrogen, defence and innovation. I also look forward to engaging with the vibrant Indian community, our living bridge with the Netherlands.

From the Netherlands, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Ulf Kristersson, I will travel to Gothenburg, Sweden on 17 May. My consultations with Prime Minister Kristersson will aim to add greater depth and breadth to our cooperation, particularly in trade and investment, innovation, green transition, joint R&D and defence. Together with PM Kristersson and the President of the European Commission, H.E. Ms. Ursula von der Leyen, I look forward to a constructive engagement with European business leaders at the European Round Table for Industry, a timely conversation that will boost investment inflows from European businesses.

From Sweden, at the invitation of Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre, I will pay a two-day visit to Norway. This will be my first visit to Norway, and the first by an Indian Prime Minister in 43 years. I will call on Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, hold delegation-level talks with Prime Minister Støre, and jointly inaugurate the India-Norway Business and Research Summit. Building on the India-EFTA Trade and Economic Partnership Agreement that entered into force on 1 October 2025, we will chart the next chapter of our bilateral cooperation in trade and investment, sustainability, offshore industry, research and higher education, Arctic and polar research, space, and talent mobility.

On 19 May, I will engage with my Nordic counterparts at the 3rd India-Nordic Summit in Oslo, building on our previous Summits in Stockholm (2018) and Copenhagen (2022). Our exchanges will give new strength to the vibrant India-Nordic ties, and strengthen joint collaborations in technology and innovation, trade and investment, green transition, blue economy, defence, digitalisation and Artificial Intelligence, and reform of global governance institutions. I will also have the opportunity to meet Nordic leaders bilaterally.

The final leg of my visit takes me to Italy on 19-20 May, at the invitation of Prime Minister H.E. Ms. Giorgia Meloni. I will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella, and hold talks with Prime Minister Meloni. A central focus of our discussions will be the India-Middle East-Europe Economic Corridor (IMEC), a transformative initiative linking India to Europe through the Gulf, in which Italy is a key European partner. As IMEC moves from vision to implementation, India and Italy share a special responsibility in shaping a connectivity architecture that delivers prosperity and resilient supply chains. We will also review the implementation of our Joint Strategic Action Plan 2025-2029, and advance cooperation across trade and investment, defence and security, clean energy, and science and technology. In Rome, I will also visit the Headquarters of the Food and Agriculture Organisation (FAO), an occasion to reiterate India’s firm commitment to multilateralism and our resolve to work with FAO towards global food security and nutrition.

I am confident that these visits, from the Gulf to the Nordics to the Mediterranean, will reinforce India’s strategic partnerships across regions critical to our future, deepen our trade, investment and people-to-people ties, bolster India's energy security, and advance our shared vision of connectivity, prosperity, and a stable global order.