مہاراشٹر میں پی ایم اے وائی-اربن کے تحت مکمل کیے گئے 90,000 سے زیادہ مکانات قوم کے نام وقف کئے
سولاپور میں رے نگر ہاؤسنگ سوسائٹی کے 15,000 مکانات وقف کئے
پی ایم- سواندھی کے 10,000 مستفیدین کو پہلی اور دوسری قسطوں کی تقسیم کا آغاز کیا
’’ہماری حکومت پہلے دن سے کوشش کر رہی ہے کہ شری رام کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے ملک میں اچھی حکمرانی ہو اور ملک میں ایمانداری کا راج ہو‘‘
’’جب ہزاروں خاندانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں اور ان کا آشیرواد میری سب سے بڑی دولت بن جاتاہے تو یہ بے حد اطمینان بخشتا ہے‘‘
’’22 جنوری کو رام جیوتی غریبی کے اندھیروں کو دور کرنے کی تحریک بنے گی‘‘
حکومت کا راستہ ‘محنت کا وقار’، ‘خود انحصار کارکن’ اور ‘غریبوں کی بہبود’ ہے
’’غریب کو پکا گھر، بیت الخلا، بجلی کا کنکشن، پانی ملنا چاہئے، یہ تمام سہولیات سماجی انصاف کی ضمانت بھی ہیں‘‘

مہاراشٹر کے گورنر جناب  رمیش بینس جی ،  وزیر اعلیٰ جناب  ایکناتھ شندے جی ،  نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس جی ،  اجیت دادا پوار جی ،  مہاراشٹر حکومت کے دیگر وزراء ،  عوامی نمائندے ،  جناب نرسیا  ادام جی اور سولاپور کے بھائیوں  اور بہنو ں ،  نمسکار ۔

پنڈھر پُرچا ویٹھل آنی سدھیشور مہاراج  جی کو نمسکار کرتا ہوں ۔  یہ وقت ہم سب کے لیے عقیدت سے بھرا ہوا ہے ۔  وہ تاریخی لمحہ 22 جنوری کو آنے والا ہے جب ہمارے بھگوان رام اپنے عظیم الشان مندر میں استھاپت ہونے والے ہیں ۔  اپنے دیوتاؤں کو خیموں میں دیکھنے کا  برسوں پرانا درد اب دور ہونے والا ہے ۔

رام مندر کی پران پرتشٹھا کرنے سے پہلے ،  میں کچھ سنتوں کی رہنمائی میں اپنے پوچا ارچنا میں مصروف ہوں ،  اور میں ان کی سختی سے پیروی بھی کرتا ہوں ۔  اور آپ سب کے آشیرواد سے میں اِن 11 دنوں میں وہ سادھنا کر سکوں گا ،  تاکہ مجھے کسی چیز کی کمی نہ ہو ۔  اور اس مقدس کام کو کرنے کا مجھے جو بھی موقع ملے گا ،  میں آپ کی آشیرواد کے ساتھ حاضر  رہوں گا ۔

 

دوستو  ، 

یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس کی شروعات مہاراشٹر سے ہوئی...میری یہ رسم مہاراشٹر کے ناسک سے پنچوٹی کی سرزمین سے شروع ہوئی ۔  آج رام بھکتی سے سرشار اس ماحول میں مہاراشٹر کے 1 لاکھ سے زیادہ کنبوں کے گرہ پرویش کی تقریب ہو رہی ہے ۔  اب بتایئے  میری خوشیاں کئی گنا بڑجائیں گی یا نہیں بڑھ جائیں گی ؟ آپ کی بھی بڑھ جائیں گی یا نہیں بڑھ جا ئیں گی ؟ مجھے بہت خوشی ہے کہ مہاراشٹر کے یہ ایک لاکھ سے زیادہ غریب  کنبے بھی 22 جنوری کو شام کو اپنے پکے گھروں میں رام کے نام کا دِیا روشن کریں گے ۔   کریں گے نہ؟  کیا سب لوگ رام کے نام کا دیا روشن کرو گے؟  آپ شام کو کرو گے؟  پورے ہندوستان میں کرو گے؟

اب رام کے نام پر اپنے موبائل کا فلیش آن کیجیے اور رام جیوتی کا عہد لیجیے  ۔  آپ سب کے موبائل کا فلیش آن کریں... سب  کے۔  جس کے ہاتھ میں موبائل ہے ۔  کہ… وہاں بھی بہت دور لوگ ہیں… میں نے سوچا بھی نہیں تھا ۔  فلیش لائٹ آن ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اتنا بڑا ہجوم ہے ۔  ذرا ہاتھ اوپر کر کے بتایئے ... 22 تایخ شام کو رام کے نام کی جیوت جلائیں گے؟ شاباش ۔

آج مہاراشٹر کے مختلف شہروں کے لیے 2000 کروڑ روپے  مالیت کے  7 امرت  پروجیکٹ بھی شروع کیے گئے ہیں ۔  میں سولاپور کے لوگوں اور مہاراشٹر کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو مبارکباد دیتا ہوں ۔  اور ابھی میں وزیر اعلیٰ کو سن رہا تھا ،  انہوں نے ایک بات کہی کہ مودی جی کی وجہ سے مہاراشٹر کی شان بہت بڑھ رہی ہے ۔ جناب  شندے جی ،  یہ سن کر اچھا لگتا ہے اور سیاستدانوں کو تو  اور بھی اچھا لگتا ہے ۔  لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر کے لوگوں کی محنت اور آپ جیسی ترقی پسند حکومت کی وجہ سے مہاراشٹر  مقبول ہو رہا ہے ۔  اور اس لیے پورا مہاراشٹر مبارکباد کا مستحق ہے ۔

دوستو  ، 

بھگوان رام نے ہمیشہ اپنی  بات کے وقار کو برقرار رکھنے کا درس دیا ہے ۔  مجھے خوشی ہے کہ ہم نے سولاپور کے ہزاروں غریبوں اور ہزاروں مزدوروں کے لیے جو عہد کیا تھا وہ آج پورا ہو رہا ہے ۔  آج پی ایم آواس یوجنا کے تحت بنائی گئی ملک کی سب سے بڑی سوسائٹی کا افتتاح کیا گیا ہے ۔  اور میں نے جا کر دیکھا ہے... مجھے بھی لگا کہ کاش! مجھے بھی بچپن میں ایسے گھر میں رہنے کا موقع ملا ہوتا ۔  جب میں یہ چیزیں دیکھتا ہوں تو دل کو نہایت اطمینان کا احساس ہوتا ہے  اور جب ہزاروں کنبوں کے خواب پورے ہوتے ہیں تو ان کی دعائیں میرا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہیں ۔  اور جب میں اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے آیا تھا تو میں نے آپ کو گارنٹی دی تھی کہ میں آپ کے گھروں کی چابیاں دینے بھی خود آؤں گا ۔  آج مودی نے یہ  گارنٹی پوری کی ہے ۔  آپ جانتے ہی ہیں ،  مودی کی گارنٹی یعنی پورا ہونے کی گارنٹی ہے ۔  یعنی مودی جی کی گارنٹی کا مطلب ہے گارنٹی کی تکمیل مکمل ضمانت ۔

اب یہ لاکھوں روپے کے گھر آپ کی جائیداد ہیں ۔  میں جانتا ہوں کہ جن جن کنبوں کو یہ گھر ملے ہیں ان کی کئی نسلوں نے بے گھر رہتے ہوئے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کیا ہوگا  ۔  مجھے یقین ہے کہ ان گھروں سے  پریشانیوں کا وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اور آپ کے بچوں کو وہ سب  نہیں دیکھنا پڑے گا جو آپ نے دیکھا ہے ۔   22 جنوری کو آپ جس رام جیوتی کو روشن کریں گے وہ آپ سب کی زندگیوں سے غربت کے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے ایک تحریک بنے گی ۔  آپ کی زندگی خوشیوں سے بھری رہے  ،  میں بھگوان رام سے یہی دعا کرتا ہوں۔

 

اور میں  دیکھ رہا تھا اور ابھی جو رام جی کی شاندار تقریر سن رہا تھا   مجھے خوشی ہوئی کہ جب 2019 میں اُن سے ملا تھا تب وہ کافی دُبلے تھے۔  آج دیکھئےپھل کھا کھا کر کے  ، ہیں ...  کامیابی کے پھل سے کافی وزن بڑھا  ہے ۔  اور ایسا  ہونا بھی مودی کی گارنٹی کا نتیجہ ہے۔   میرے پیارے بھائیوں اور بہنو ں،  جب آپ کو یہ گھر مل رہے ہیں ،  جب آپ کی زندگی شروع ہو رہی ہے ،  تب میرا یہی نظریہ ہے – ‘‘آپ کی زندگی خوشیوں سے بھری ہو اور بھگوان رام آپ کی سبھی خواہشوں کو پورا کرے’’۔

میرے اہلِ خانہ  ،

ہماری حکومت پہلے دن سے کوشش کر رہی ہے کہ بھگوان رام کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے ملک میں اچھی حکمرانی ہو اور ملک میں ایمانداری کا بول بالا ہو ۔  یہ رام راجیہ ہی ہے جس نے سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کی تحریک دی ہے ۔ رام چرت مانس میں  سنت تلسی داس جی کہتے ہیں کہ-

جے ہی وِدھی سُکھی ہوہم پُر لوگا۔ کرہیں  کرپا نِدھی سوئی سنجوگا۔

یعنی

لوگ جہاں بھی ہوں گے خوش رہیں گے۔  بھگوان کی آپ پر کرپا ہوگی ۔

یعنی  عوام جس سے خوش ہوتے ہیں سبھی پریشانی کو حل کرنے والے بھگوان رام چندر جی ویسے ہی کام کیا کرتے تھے۔  عوام کی خدمت کے لیے اس سے بڑی تحریک اور کیا ہو سکتی ہے ۔  اسی لیے 2014 میں حکومت بنتے ہی میں نے کہا تھا... میری حکومت غریبوں کے لیے وقف حکومت ہے ۔  اس لیے ہم نے ایک کے بعد ایک ایسی اسکیمیں نافذ کیں ،  جن سے غریبوں کی مشکلات میں کمی آئے اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں ۔

دوستو ،

گھر نہ ہونے کی وجہ سے اور بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے غریبوں کو  قدم قدم پر ذلیل و خوار ہونا پڑتا تھا ۔  یہ خاص طور پر ہماری ماؤں ،  بہنوں اور بیٹیوں کے لیے بہت بڑی سزا تھی   اور اس لیے سب سے پہلے ہم نے غریبوں کے لیے گھر اور بیت الخلا بنانے پر توجہ مرکوز کی ۔  ہم نے 10 کروڑ سے زیادہ بیت الخلاء کی تعمیر   غریبوں کے لیے کیے ۔  یہ صرف بیت الخلاء نہیں ہیں... ہم نے عزت کی جگہ فراہم کی ہے  اور  ہم نے اپنی ماؤں اور بہنوں کو عزت کی گارنٹی دی ہے ۔

ہم نے 4 کروڑ سے زیادہ پکے گھر بنا کر غریبوں کو دیے  ہیں ۔  آپ سوچ سکتے ہیں… جن کو یہاں گھر ملا ہے ان سے پوچھیں …  انہیں زندگی میں کتنا اطمینان ہے ۔  یہ محض تیس ہزار  کی تعداد ہے ،  ہم چار کروڑ  کو پہلے ہی دے چکے ہیں... کتنا اطمینان ہوتا ہوگا ۔  دو طرح کے خیالات گردش کرتے ہیں ۔  ایک- سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو بھڑکاتے رہو ،  بھڑکاتے رہو ،بھڑکاتے رہو ۔  ہمارا راستہ محنت کا وقار ہے ،  ہمارا راستہ خود کفالت کا ہے ،  ہمارا راستہ غریبوں کی فلاح  و بہبود کا ہے ۔  اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ نئے گھروں میں رہنے جا رہے ہیں ،  آپ بڑے بڑے خواب دیکھیں ،  چھوٹے خواب نہ دیکھیں ۔  اور یہ مودی کی گارنٹی ہے... آپ کے خوابوں کے لیے یہ میرا عزم ہے ۔

پہلے کے دور میں شہروں میں جہاں جھگیاں ہی جھگیاں بنی تھیں ، آج ہم اُن جھگی میں رہنے والوں کو پکے  مکان فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔  حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ گاؤں سے آنے والے لوگوں کو روزی روٹی کے لیے کرائے پر کچی بستیوں میں نہ رہنا پڑے ۔  آج شہروں میں ایسی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں جہاں مناسب کرایے پر  ا یسےلوگوں   کو گھر مل سکے ۔  ہم ایک بڑی مہم چلا رہے ہیں ۔  ہماری کوشش اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جہاں لوگ کام کرتے ہیں اس کے قریب ہی انہیں رہائش فراہم کی جائے۔  

 

میرے اہل خانہ  ،

ہمارے ملک میں طویل عرصے تک غربت مٹانے  کے نعرے لگتے رہے ۔  لیکن ان نعروں کے باوجود غربت دور نہیں ہوئی ۔ایسے   فارمولے چلتے تھے ... آدھی روٹی کھائیں گے ۔  ارے کیوں بھئی... لوگ ایسا کہتے تھے آدھی روٹی کھا کر  تم کو ووٹ دیں گے ۔  آدھی روٹی کیوں کھاؤ گے… یہ مودی ہے ،  ہم پوری کھائیں گے ۔  عوام کا یہی خواب ،  عوام کا یہی عزم... یہی تو فرق ہے ۔

اور دوستو ،

سولاپور  جیسے کہ مزدوروں کا شہر ہے ،   اسی طرح میرا کام کا علاقہ احمد آباد تھا ۔  وہ بھی مزدوروں کا شہر ،  وہ بھی ٹیکسٹائل مزدوروں کا شہر ۔  احمد آباد اور سولاپور کا اتنا گہرا رشتہ ہے ۔  اور میرا سولاپور سے بھی گہرا رشتہ ہے ۔ احمد آباد میں یہاں کے بہت سے پدمشالی کنبہ احمد آباد میں رہتے ہیں ۔  اور میں اپنی زندگی میں  بہت خوش قسمت رہا  ،  پدمشالی خاندان مجھے اپنے پورواشرم میں مہینے میں تین چار بار کھانا کھلایا کرتے تھے ۔  ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے ،  تین لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں تھی ،  لیکن انہوں نے مجھے کبھی بھوکا سونے نہیں دیا ۔  اور مجھے تو اِس بات کی حیرانی ہے کہ   ایک دن سولاپور کے  کسی شخص  نے ...کئی سال ہو گئے ،  مجھے اس کا نام یاد نہیں ہے ۔  اس نے مجھے ایک بہت ہی اچھی تصویر بھیجی ،   جو بہت اچھی طرح سے ترتیب دی گئی  تھی اور بنی ہوئی تھی ۔  مہاراشٹر کے ستارا کے ایک مشہور وکیل لکشمن راؤ ،  جن کا میری زندگی کی تشکیل میں بڑا کردار تھا ،  کہیں سے آئے تھے اور انہوں نے اپنے خالص فن سے  تصویرکشی کر کےوہ  شاندار تصویر مجھے بھیجی تھی ۔  آج بھی سولاپور میرے دل میں  بسا ہوا ہے ۔

میرے  اہلِ خانہ ،

ایک عرصے سے ہمارے ملک میں ‘غریبوں کو ختم کرو’ جیسے نعرے لگائے گئے ،  لیکن ان نعروں کے باوجود غربت میں کمی نہیں آئی ۔  اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ غریبوں کے نام پر اسکیمیں تو بنائی جاتی تھیں  لیکن اس کا فائدہ اصل مستحق افراد کو نہیں ملتا تھا ۔   پہلے کی حکومتوں میں غریبوں کا پیسہ دلالوں کے ذریعے لوٹا جاتا تھا ۔  یعنی پہلے کی حکومتوں کی نیت ،  پالیسیاں اور وفاداریاں کٹہرے میں تھیں ۔  ہماری نیت صاف ہے اور ہماری پالیسی غریبوں کو بااختیار بنانا ہے ۔  ہماری وفاداری ملک کے ساتھ ہے ۔  میری وفاداری ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے ۔

اسی لیے مودی نے گارنٹی دی ہے کہ سرکاری فوائد اب براہ راست مستفید افراد تک پہنچیں گے... کوئی بچولیہ نہیں ۔  ہم نے فائدہ  حاصل کرنے والوں  کی راہ میں حائل بچولیوں کو ہٹانے کا کام کیا ہے ۔  ان لوگوں کے کچھ شور مچانے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ملائی کھانا چھوڑ دیا ہے ۔  ہم نے پچھلے 10 برسوں میں غریبوں ،  کسانوں ،  خواتین اور نوجوان استفادہ کنندگان کے بینک کھاتوں میں 30 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست منتقل کیے ہیں ۔  جن دھن ،  آدھار اور موبائل کوچ بنا کر ،  ہم نے اُن تقریباً 10 کروڑ فرضی استفادہ کنندگان کو ہٹا دیا جو پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور جو آپ کے نام پر فلاح و بہبود کا پیسہ کھا رہے تھے ۔  جو بیٹی پیدا نہ ہوئی وہ بیوہ ہو جاتی تھیں اور حکومت سے پیسے مار لیے جاتے تھے۔ جو آدمی پیدا نہیں ہوا اس کو بیمار دکھا کر روپے مار لیے جاتے تھے ۔

 

دوستو ،

جب ہماری حکومت نے غریبوں کو اولین ترجیح دے کر کام کیا اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سی اسکیمیں شروع کیں تو اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں ۔  ہماری حکومت کے 9  برسوں میں 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں ۔  یہ تعداد کم نہیں ہے  ،  دس سال کی جدو جہد کا نتیجہ ہے ۔  یہ غریبوں کے لیے جان قربان کرنے کے عزم کا نتیجہ ہے ۔  اور جب ہم سچی نیت ،  لگن اور پاکیزگی کے ساتھ کام کرتے ہیں تو اس کے نتائج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ صاحب۔   اور اس کی وجہ سے دوسرے ساتھیوں میں بھی یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ وہ بھی غربت کو شکست دے سکتے ہیں ۔

دوستو ،

ملک کے 25 کروڑ لوگوں نے کس طرح غربت کو شکست دی ،  یہ ملک کے لوگوں کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔  میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر کسی غریب کو وسائل ملیں تو اس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ غربت کو شکست دے سکتا ہے ۔  اس لیے ہم نے ملک کے غریبوں کو سہولیات ،  وسائل فراہم کیے اور ان کے تمام خدشات دور کرنے کی دیانتداری سے کوشش کی ۔  ایک وقت تھا جب غریب کی سب سے بڑی فکر دو وقت کی روٹی ہوتی تھی  ۔ آج ہماری حکومت نے ملک کے غریبوں کو مفت راشن دے کر بہت سی پریشانیوں سے نجات دلائی ہے… وہ آدھی روٹی کھا کر نعرے نہیں لگائے گا ۔

کورونا کے دوران شروع ہونے والی اس اسکیم کو اب اگلے 5  برس تک کے لیے بڑھا دیا گیا ہے ۔  اور میں ہم وطنوں سے وعدہ کرتا ہوں ،  مجھے اطمینان ہے کہ 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر نکل آئے ہیں ۔  اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آنے والے پانچ برسوں میں ہمیں غربت سے نکلنے والوں کو طاقت دیتے رہنا ہو گا تاکہ وہ کسی وجہ سے غربت کی طرف واپس نہ آئیں اور دوبارہ مصیبت کے شکار  نہ ہوں۔  اور اسی وجہ سے وہ وہاں موجود اسکیموں کا فائدہ حاصل کرتے رہیں گے ۔  درحقیقت آج مجھے ان کو اور زیادہ دینے کا دل  کرتا ہے کیونکہ 25 کروڑ لوگ... 50 کروڑ بازو آج میرے ساتھی بن گئے ہیں تاکہ میرا عزم ہمت سے پورا ہو سکے ۔

اور دوستو  ،

ہم نے صرف مفت راشن کا انتظام نہیں کیا بلکہ راشن کارڈ سے متعلق مسئلہ کو بھی حل کیاہے ۔  اس سے پہلے ایک جگہ بنایا گیا راشن کارڈ دوسری ریاست میں مجاز نہیں  سمجھا جاتا تھا ۔  اگر کوئی دوست کام کے سلسلے میں کسی دوسری ریاست میں جاتا تھا تو اسے وہاں راشن حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا  تھا ۔  ہم نے ایک ملک ،  ایک راشن کارڈ کا نظام بنایا ۔  اس کے ساتھ ،  ایک راشن کارڈ پورے ملک کے لیے درست ہے ۔  اگر سولاپور کا کوئی شخص چنئی جاتا ہے اور کاروبار کرتا ہے اور اپنی روزی کماتا ہے تو اسے نیا راشن کارڈ جاری کروانا نہیں  پڑے گا ۔  چنئی میں بھی انہیں اس راشن کارڈ کے ذریعے کھانا ملتا رہے گا ،  اور یہ مودی کی ضمانت ہے ۔

 

دوستو ،

ہمیں غریبوں کی ہمیشہ سے فکر رہی ہے کہ وہ اگر بیمار ہو جائیں تو علاج کیسے کرائیں گے ۔  اور غریب کنبے میں اگر ایک بار بیماری آ جائے تو محنت ،  مزدوری کرکے غربت سے باہر نکلنے کے  اُس کے سارے منصوبے ٹوٹ جاتے ہیں ،  وہ پھر بیماری کی وجہ سے غربت  کا شکار ہو جاتا ہے  … پورا کنبہ پھر پریشانیوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔  اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری حکومت نے پانچ  لاک روپے تک کے مفت علاج کی سہولت دینے والی آیوشمان یوجنا شروع کی ۔   آج اس اسکیم نے غریبوں کے ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ ہونے سے بچائےہیں  ۔

آپ تصور کر سکتے ہیں ،  اگر میں نے ایک لاکھ کروڑ روپے کی اسکیم کا اعلان کیا ہوتا تو چھ دن تک اخبارات میں یا ٹی وی پر بھی سرخیاں چل رہی ہوتیں ۔  لیکن یہ مودی کی گارنٹی کی طاقت ہے... اس اسکیم نے آپ کی جیب کے ایک لاکھ کروڑ روپے بچائے اور جان بچائی اور آج حکومت پی ایم جن اوشدھی مراکز پر 80 فیصد  کی رعایت  پر دوائیں دستیاب کرا رہی ہے ۔  اس کی وجہ سے 30 ہزار کروڑ روپے غریبوں کے خرچ ہونے سے بچ گئے ہیں ۔  غریب کنبوں میں بیماری کی ایک بڑی وجہ گندا پانی بھی ہے ۔  اسی لیے ہماری حکومت آج جل جیون مشن چلا رہی ہے ،  ہر گھر کو پانی کے کنکشن سے جوڑ رہی ہے ۔

دوستو ،

ان اسکیموں سے مستفید ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد پسماندہ اور قبائلی برادریوں کے لوگوں کی ہے ۔  غریبوں کو مستقل مکان ،  بیت الخلا ،  بجلی کے کنکشن ،  پانی ،  ایسی تمام سہولیات ملنی چاہئیں... یہ مودی کی حقیقی معنیٰ میں سماجی انصاف کی ضمانت ہے ۔  اس سماجی انصاف کا خواب سنت رویداس جی نے دیکھا تھا ۔  کبیرداس جی نے بھی اس غیر امتیازی موقع کی بات کہی تھی ۔  سماجی انصاف کا اسی طرح کا راستہ جیوتیبا پھولے-ساوتری بائی پھولے اور بابا صاحب امبیڈکر نے دکھایا تھا  ۔

میرے  اہلِ خانہ ،

یہ مودی کی گارنٹی ہے کہ غریب سے غریب کو بھی معاشی تحفظ کی ڈھال فراہم ہو ۔  10 سال پہلے تک غریب خاندان  زندگی کے بیمہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔  آج اسے 2 لاکھ روپے تک کا ایکسیڈنٹ اور لائف انشورنس تحفظ حاصل ہے ۔  اس انشورنس تحفظ حاصل کرنے کے بعد ،  یہ اعداد و شمار آپ کو بھی خوش کر دے گا... 16 ہزار کروڑ روپے ان غریب خاندانوں کو ملے ہیں جنہیں اپنے خاندان میں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ انشورنس کی صورت میں ان کے کھاتوں میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔

دوستو ،

آج مودی کی گارنٹی ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ کارآمد ہے جن کے پاس بینک کی ضمانت کے لیے کچھ نہیں تھا ۔  یہاں اس اجتماع میں بھی کئی ایسے دوست ہیں جن کا 2014 تک بینک اکاؤنٹ تک نہیں تھا ۔  جب ان کے بینک  کھاتے ہی نہیں تھے تو وہ بینکوں سے قرضے کیسے حاصل کر سکتے تھے ۔  جن دھن یوجنا چلا کر ہماری حکومت نے 50 کروڑ غریب لوگوں کو ملک کے بینکنگ نظام سے منسلک کیا ہے ۔  آج پی ایم سواندھی کے 10 ہزار استفادہ کنندگان کو بھی بینکوں سے مدد فراہم کی  گئی ہے... اور مجھے یہاں کچھ ٹوکن رقم دینے کا موقع ملا ہے ۔

 

ملک بھر میں رہڑی پٹری والوں اور فٹ پاتھوں پر چھوٹے موٹے کام کرنے والے لوگ... اپنی سوسائٹیوں میں سبزی بیچنے والے لوگ ،  دودھ بیچنے والے ،  اخبار بیچنے والے ،  سڑک پر کھڑے کھلونے بیچنے والے ،  پھول بیچنے والے لوگ... ایسے لاکھوں لوگوں کو پہلے کسی نے پوچھا ہی نہیں تھا ۔  اور جن کو کسی نے نہیں پوچھا ،  مودی نے ان کی پوجا کی ۔  آج مودی نے پہلی بار ان سے پوچھا ہے اور ان کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں ۔  پہلے ان دوستوں کو بازار سے مہنگے سود پر قرض لینا پڑتا تھا کیونکہ ان کے پاس بینک کو دینے کی کوئی گارنٹی نہیں تھی ۔  مودی نے ان کی گارنٹی لے لی... میں نے بینکوں سے کہا ،  یہ میری گارنٹی ہے ،  انہیں پیسے دو ،  یہ غریب لوگ واپس کر دیں گے... مجھے غریبوں پر بھروسہ ہے ۔  اور آج یہ خوانچہ فروش بغیر کسی گارنٹی کے بنکوں سے قرضے حاصل کر  رہے ہیں  اور   اب تک  اس طرح کے ہزاروں لوگوں کو کروڑ روپے کی امداد دی جا چکی ہے ۔

میرے اہل خانہ  ،

سولاپور صنعتوں کا شہر ہے  ،  محنت کش مزدور بھائیوں اور بہنوں کا شہر ہے ۔  یہاں بہت سے دوست تعمیراتی کام اور چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں سے وابستہ ہیں ۔  سولاپور کی ٹیکسٹائل صنعت ملک اور دنیا میں پہچانی جاتی ہے ۔  سولاپوری چادر کے بارے میں کون نہیں جانتا؟  ملک میں یونیفارمرز کا کام کرنے والے  ایم ایس ایم ایز کا سب سے بڑا کلسٹر سولاپور میں ہے ۔  مجھے بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک سے بھی بڑی تعداد میں یونیفارم کے آرڈر آتے ہیں ۔

ساتھیو  ،

کپڑوں کی سلائی کا یہ کام  تو کئی نسلوں سے جاری ہے ۔  نسلیں بدلیں  ،  فیشن بدلا  ،  لیکن کیا کبھی کسی نے ان دوستوں کے بارے میں سوچا جو کپڑوں کی  سلائی کرتے تھے؟ میں انہیں اپنا وشوکرما ساتھی سمجھتا ہوں ۔  ایسے ہر وشوکرما ساتھیوں کی  زندگی بدلنے کے لیے ہم نے پی ایم وشوکرما یوجنا بنائی ہے ۔  اور کبھی کبھی آپ میری جیکٹ دیکھتے ہیں نہ ،اس میں سے کچھ جیکٹ  سولاپور سے میرے ایک ساتھی بنا کر مجھے بھیجتے ہیں ۔  میرے انکار کرنے پر بھی وہ بھیجتا رہتا ہے ۔  ایک بار میں نے اسے  فون کر کے بہت ڈانٹا ...بھائی تم مجھے مت بھیجو۔  اس نے کہا نہیں صاحب  وہ آج بھی  مجھے مل گیا ،  بلکہ  ... میں لے کر آیا ہوں ۔

ساتھیو،

وشوکرما اسکیم کے تحت ان ساتھیوں کو تربیت دی جارہی ہے اور جدید آلات فراہم کیے جارہے ہیں ۔  اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لیے انہیں بینکوں سے بغیر کسی گارنٹی کے لاکھوں روپے کے قرضے بھی حاصل کر رہے ہیں ۔  اس لیے میں سولاپور کے تمام وشوکرما ساتھیوں سے کہوں گا کہ وہ جلدی سے اس اسکیم میں شامل ہوں ۔  آج کل ،  وکست بھارت سنکلپ یاترا ہر گاؤں اور محلے میں پہنچ رہی ہے ۔  یہ مودی کی گارنٹی والی گاڑی ہے ۔  اس میں آپ پی ایم وشوکرما سمیت حکومت کی ہر اسکیم سے جڑ سکتے ہیں ۔

 

میرے اہلِ خانہ،

ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے خود کفیل بھارت بننا ضروری ہے ۔  ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے خود کفیل ہندوستان بنانا ضروری ہے ۔  اور خود کفیل بھارت بنانے میں ہماری چھوٹی ،  بہت چھوٹی اور کاٹیج صنعتوں کا بہت بڑا تعاون ہے ۔  اس لیے مرکزی حکومت ایم ایس ایم ای اور چھوٹی صنعتوں کو مسلسل فروغ دے رہی ہے ۔  جب کورونا کے دور میں ایم ایس ایم ایز بحران کا شکار تھی ،  حکومت نے انہیں لاکھوں کروڑوں روپے کی امداد فراہم کی ۔  لہذا اس سے چھوٹی صنعتوں میں بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہونے سے بچ گئیں ۔  

آج حکومت ملک کے ہر ضلع میں ایک ضلع ایک اشیا اسکیم بھی چلا رہی ہے ۔  ووکل فار لوکل کی مہم آج ہماری چھوٹی صنعتوں کے بارے میں بھی بیداری پیدا کر رہی ہے ۔  آج جیسے جیسے دنیا میں بھارت  کی ساکھ بڑھ رہی ہے ،  اسی طرح میڈ ان انڈیا مصنوعات کے امکانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔  مرکزی حکومت کی ان تمام  اسکیمیں سے سولاپور کے لوگ اور یہاں کی صنعتیں مستفید ہو رہی ہیں۔

میرے اہلِ خانہ،

ہماری مرکزی حکومت کے تیسرے دور کی حکمرانی میں بھارت بھی دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا ہے ۔  میں نے ہموطنوں کو یہ گارنٹی دی ہے کہ اپنی آنے والی میعاد میں میں بھارت کو دنیا کے پہلے تین ممالک میں لاکر کھڑا کروں گا... مودی نے یہ گارنٹی دی ہے ۔  اور آپ کے اعتماد سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری یہ ضمانت پوری ہو جائے گی ۔  آپ کے ساتھ کی طاقت میرے ہمراہ ہے۔  معیشت کی اس توسیع میں مہاراشٹر کے سولاپور ضلعے جیسے کئی شہروں کا اِس میں بہت بڑا کردار ہے ۔

اس لیے ڈبل انجن والی حکومت ان شہروں میں پانی اور سیوریج جیسی سہولیات کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے ۔  شہروں کو اچھی سڑکوں ،  ریلوے اور فضائی راستوں سے جوڑنے کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے ۔  سنت دنیشور مہاراج پالکھی مارگ ہو یا سنت توکارام پالکھی مارگ ،  ان پر بھی کام تیزی سے جاری ہے ۔  رتناگیری ،  کولہاپور اور سولاپور کے درمیان چار لین والی شاہراہ کا کام بھی جلد ہی  مکمل ہو جائے گا ۔  آپ  سبھی اہل خانہ نے  اس طرح کی ترقی کےلیے ہم سبھی کا ساتھ دیا ہے ۔

یہ آشیرواد یا یہ ساتھ ایسے  ہی بنا رہے  ،  اسی یقین کے ساتھ ،  ان ساتھیوں کو ایک بار پھر مبارکباد  جنہیں آج اپنا مستقل گھر مل گیا ہے۔  میرے ساتھ کہیے ،  دونوں ہاتھ اٹھا کر کہیے -

بھارت ماتا کی  - جے... آواز پورے مہاراشٹر  میں پہنچنی چاہیے ۔

بھارت ماتا کی  – جے

بھارت ماتا کی – جے

بھارت ماتا کی – جے

 

جسے آپ جیکارا کہہ رہے ہیں … یہ جیکارا ملک کے ہر غریب میں نیا اعتماد پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔

بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
The digital transformation: How UPI and AI are shaping MSME lending in India

Media Coverage

The digital transformation: How UPI and AI are shaping MSME lending in India
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India’s Top Gamers Meet ‘Cool’ PM Modi
April 13, 2024
PM Modi showcases his gaming prowess, impressing India's top gamers with his quick grasp of mobile, PC, and VR games!
PM Modi delves into gaming, sparking dialogue on innovation and digital empowerment!
Young gamers applaud PM Modi's agility and adaptability, give him ‘NaMo OP' badge

Prime Minister Narendra Modi engaged in a unique interaction with India's top gamers, immersing himself in the world of PC and VR gaming. During the session, Prime Minister Modi actively participated in gaming sessions, showcasing his enthusiasm for the rapidly evolving gaming industry.

The event brought together people from the gaming community including @gcttirth (Tirth Mehta), @PAYALGAMING (Payal Dhare), @8bitthug (Animesh Agarwal), @GamerFleet (Anshu Bisht), @MortaLyt (Naman Mathur), @Mythpat (Mithilesh Patankar), and @SkRossi (Ganesh Gangadhar).

Prime Minister Modi delved into mobile, PC, and VR gaming experiences, leaving the young gamers astounded by his quick grasp of game controls and objectives. Impressed by PM Modi’s gaming skills, the gaming community also gave him the ‘NaMo OP’ badge.

What made the entire interaction even more interesting was PM Modi's eagerness to learn trending gaming lingos like ‘grind’, ‘AFK’ and more. He even shared one of his lingos of ‘P2G2’ which means ‘Pro People Good Governance.’

The event served as a platform for a vibrant exchange of ideas, with discussions ranging from the youngsters’ unique personal journeys that led them to fame in this growing field of gaming, to the latest developments in the gaming sector.

Among the key topics explored was the distinction between gambling and gaming, highlighting the importance of responsible gaming practices while fostering a supportive environment for the gaming community. Additionally, the participants delved into the crucial issue of enhancing women's participation in the gaming industry, underscoring the need for inclusivity and diversity to drive the sector forward.

PM Modi also spoke about the potential for not just esports and gaming content creation, but also game development itself which is centred around India and its values. He discussed the potential of bringing to life ancient Indian games in a digital format, that too with open-source script so that youngsters all over the country can make their additions to it.