Witnesses Operational Demonstrations by Indian Navy’s ships and special forces
“India salutes the dedication of our navy personnel”
“Sindhudurg Fort instills a feeling of pride in every citizen of India”
“Veer Chhatrapati Maharaj knew the importance of having a strong naval force”
“New epaulettes worn by Naval Officers will reflect Shivaji Maharaj’s heritage”
“We are committed to increasing the strength of our Nari Shakti in the armed forces”
“India has a glorious history of victories, bravery, knowledge, sciences, skills and our naval strength”
“Improving the lives of people in coastal areas is a priority”
“Konkan is a region of unprecedented possibilities”
“Heritage as well as development, this is our path to a developed India”

چھترپتی ویر شیواجی مہاراج کی جے!

چھترپتی ویر سمبھاجی مہاراج کی جے!

مہاراشٹر کے گورنر جناب رمیش جی، وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی راجناتھ سنگھ جی، نارائن رانے جی، نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس جی، اجیت پوار جی، سی ڈی ایس جنرل انیل چوہان جی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر۔ ہری کمار، میرے بحریہ کے تمام ساتھی، اور میرے خاندان کے تمام افراد!

آج 4 دسمبر کا یہ تاریخی دن  ہمیں آشیرواد دیتا ہے سندھو درگ کا تاریخی قلعہ مالون-تارکرلی کا یہ خوبصورت ساحل، چھترپتی ویر شیواجی مہاراج کی شان چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ راجکوٹ قلعے میں ان کے بڑے مجسمے کی نقاب کشائی اور آپ کی یہ گرج ہر بھارتی  شہری   میں جوش و خروش بھر رہی ہے۔ صرف آپ کے لیے ہی یہ کہا گیا ہے۔

چلو نئی مثال ہو، بڑھو نیا کمال ہو،

جھکونہیں، رکو نہیں، بڑھے چلو ،بڑھے چلو۔

میں خاص طور پر بحریہ کے خاندان کے تمام افراد کو بحریہ کے دن پر مبارکباد دیتا ہوں۔ آج کے  دن ہم ان سورماؤں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے مادر وطن کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں ہیں۔

ساتھیو،

آج سندھو درگ کے اس ویر بھومی سے ہم وطنوں کو بحریہ کے دن کی مبارکباد دینا واقعی اپنے آپ میں بڑے فخر کی بات ہے۔ سندھو درگ کے تاریخی قلعے کو دیکھ کر ہر ہندوستانی کو بیحدفخر محسوس ہوتا ہے۔ چھترپتی ویر شیواجی مہاراج  کو اس بات کا علم تھا کہ کسی بھی ملک کے لیے سمندری طاقت کتنی اہم  ہوتی ہے۔ ان کا یہ نعرہ تھا – جلمیو یسیہ، بالمیو تسیہ! یعنی جو سمندر کو کنٹرول کرتا ہے وہ  قادر مطلق ہے۔ انہوں نے ایک طاقتور بحریہ تشکیل دی۔ کانہوجی آنگرے ہوں، مایا جی نائک بھاٹکر ہوں، ہیروجی اندالکر ہوں، ایسے بہت سے مجاہد آج بھی ہمارے لیے ایک عظیم ترغیب ہیں۔ میں آج بحریہ کے دن کے موقع پر ملک کے ایسے بہادر سورماؤں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

چھترپتی ویر شیواجی مہاراج سے تحریک حاصل کرتے ہوئے  آج ہندوستان غلامی کی ذہنیت کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے بحریہ کے وہ افسران جو ایپو-لیٹس پہنتے ہیں اب اس میں چھترپتی ویر شیواجی مہاراج کی وراثت کی ایک جھلک بھی نظر آنے والی ہے۔ نیا‘ایپو-لیٹس’ بھی اب ان کی بحریہ کے نشان سے ملتا جلتا ہوگا۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ پچھلے سال مجھے بحریہ کے پرچم کو چھترپتی ویر شیواجی مہاراج کی وراثت سے منسلک کرنے کا موقع ملا۔ اب ہم سب کو ‘ایپو- لیٹس’ میں بھی چھترپتی ویر شیواجی مہاراج کا عکس نظر آئے گا۔ اپنی وراثت پر فخر کے احساس کے ساتھ مجھے ایک اور اعلان کرتے ہوئے آج فخر محسوس ہورہاہے کہ بھارتی بحریہ اب اپنی صفوں کے نام ہندوستانی روایات کے مطابق کرنے جارہی ہے۔ ہم مسلح افواج میں  اپنی خواتین کی طاقت کو بڑھانے پر بھی زور دے رہے ہیں۔ میں بحریہ کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ  اس نے بحریہ کے جہاز میں ملک کی پہلی خاتون کمانڈنگ افسر کا تقرر کیا ہے۔

 

ساتھیو،

آج کا ہندوستان اپنے لیے بڑے اہداف طے کر رہا ہے، اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کر رہا ہے۔بھارت کے پاس ان مقاصد کو حاصل کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ یہ طاقت 140 کروڑ ہندوستانیوں کے یقین کی ہے۔ یہ طاقت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی مضبوطی کی ہے۔ کل آپ نے ملک کی چار ریاستوں میں اس طاقت کی جھلک دیکھی۔ ملک نے دیکھا ہے کہ جب عوام کے عزم اکٹھے ہوتے ہیں، جب لوگوں کے جذبات اکٹھے ہوتے ہیں، جب عوام کی امنگیں ساتھ ہوتی ہیں، تو کتنے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔

مختلف ریاستوں کی ترجیحات الگ الگ ہیں، ان کی ضروریات مختلف ہیں، لیکن تمام ریاستوں کے لوگ سب سے پہلے قوم کے جذبے سے سرشار ہیں۔ ملک ہے تو ہم ہیں، ملک ترقی کرے گا تو ہم آگے بڑھیں گے، یہی جذبہ آج ہر شہری کے ذہن میں ہے۔ آج ملک تاریخ سے تحریک حاصل کرکے روشن مستقبل کے لیے خاکہ وضع کرنے میں مصروف ہوگیا ہے۔ عوام نے منفی سیاست کو شکست دے کر ہر میدان میں آگے بڑھنے کا عہد کیا ہے۔ یہ عہد ہمیں ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف لے جائے گا۔ یہ عہد ملک کو وہ فخر لوٹائے گا جس کا وہ ہمیشہ حقدار رہا ہے۔

ساتھیو،

بھارت کی تاریخ صرف ایک ہزار سال کی غلامی کی تاریخ نہیں ہے، یہ محض شکست اور مایوسی کی تاریخ نہیں ہے۔ بھارت  کی تاریخ فتح کی تاریخ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ بہادری کی تاریخ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ علم و سائنس کی تاریخ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ فن اور تخلیقی صلاحیتوں کی تاریخ ہے۔ بھارت کی تاریخ ہماری سمندری طاقت کی تاریخ ہے۔ سینکڑوں برس قبل جب ایسی کوئی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی، جب اتنے وسائل بھی نہیں تھے، اس وقت ہم نے سمندر پار کیا اور سندھو درگ جیسے کئی قلعے بنائے۔

ہندوستان کی سمندری صلاحیت ہزاروں سال پرانی ہے۔ گجرات کے لوتھل میں پائی جانے والی وادی سندھ کی تہذیب کی بندرگاہ آج ہمارا عظیم ورثہ ہے۔ کسی زمانے میں 80 سے زائد ممالک کے جہاز سورت کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ چول سلطنت نے بھارت  کی اسی طاقت کی بنیاد پر اپنی تجارت کو جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک تک پھیلا دیا۔

اور اسی طرح جب بیرونی طاقتوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تو سب سے پہلے ہماری اس طاقت کو نشانہ بنایا ۔ ہندوستان جو کشتیاں اور بحری جہاز بنانے میں مشہور تھا، اس کا یہ فن اور یہ ہنر سب کچھ ٹھپ کردیا گیا۔ اور اب جب ہم نے سمندر پر اپنا کنٹرول کھو دیا تو ہم نے اپنی اہمیت کی حامل  اقتصادی طاقت بھی کھو دی۔

اس لیے آج جب بھارت ترقی کی جانب گامزن ہے تو ہمیں اپنی کھوئی ہوئی شان کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری حکومت بھی اس سے جڑے ہر شعبے پر توجہ مرکوز کرتےہوئے کام کر رہی ہے۔ آج ہندوستان نیلگو معیشت  کی بہت زیادہ  حوصلہ افزائی  کررہا ہے۔ آج ہندوستان ‘ساگرمالا’ کے تحت پورٹ لینڈ ڈیولپمنٹ یعنی بندرگاہ کی ترقی میں مصروف ہے۔ آج، ‘میری ٹائم ویژن’ کے تحت، ہندوستان اپنے سمندروں کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لانے کی سمت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے مرچینٹ شپنگ کو فروغ دینے کے لیے بھی نئے قوانین بنائے ہیں۔ حکومت کی کوششوں سے ہندوستان میں سمندری سفر کرنے والوں کی تعداد میں بھی پچھلے 9 برسوں میں 140 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

میرےساتھیو،

یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ دور ہے جو صرف 5-10 سال کا نہیں بلکہ آنے والی صدیوں کا مستقبل لکھنے والا ہے۔ 10 سال سے بھی کم عرصے میں ہندوستان دنیا کی 10ویں اقتصادی طاقت سے 5ویں نمبر پر آ گیا ہے اور اب بھارت تیزی سے تیسری اقتصادی سپر پاور بننے کی جانب گامزن ہے۔

آج ملک بھروسے اور خود اعتمادی سے سرشار ہے۔ آج دنیا ہندوستان میں ایک عالمی دوست کا ظہور دیکھ رہی ہے۔ آج خلا ہو یا سمندر، دنیا ہر جگہ ہندوستان کی صلاحیت دیکھ رہی ہے۔ آج پوری دنیا انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور (اقتصادی راہداری)کی بات کر رہی ہے۔جس  اسپائس روٹ کو ماضی میں ہم نے کھو دیا تھا وہ اب ایک بار پھر ہندوستان کی خوشحالی کی ایک مضبوط بنیاد بننے جا رہا ہے۔ آج پوری دنیا میں میڈ ان انڈیا کی بات ہورہی  ہے۔ تیجس طیارہ ہو یا کسان ڈرون، یو پی آئی سسٹم ہو یا چندریان 3، ہر جگہ اور ہر شعبے میں میڈ ان انڈیا کی دھوم  مچی ہے۔ آج ہماری افواج کی زیادہ تر ضرورتیں میڈ ان انڈیا ہتھیاروں سے پوری کی جا رہی ہیں۔ ملک میں پہلی بار ٹرانسپورٹ طیاروں کی تیاری شروع ہو رہی ہے۔ پچھلے سال  ہی میں نے کوچی میں دیسی طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کو بحریہ میں شامل کیا تھا۔ آئی این ایس وکرانت میک ان انڈیا خود انحصاری کی ایک مضبوط مثال ہے۔ آج ہندوستان دنیا کے ان چنندہ ملکوں میں سے ایک ہے جس کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے۔

 

ساتھیو،

گزشتہ برسوں میں ہم نے پہلے کی حکومتوں کی ایک اور پرانی سوچ کو بدل دیا ہے۔ پہلے کی حکومتیں ہمارے سرحدی اور سمندری کنارے کے دیہاتوں کو آخری گاؤں سمجھتی تھیں۔ ہمارے وزیر دفاع نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے ہمارے ساحلی علاقے بھی ترقی سے محروم رہے اور  بنیادی سہولیات کا فقدان رہا۔ آج، سمندر کے کنارے پر رہنے والے ہر خاندان کی زندگی کو بہتر بنانا مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

یہ ہماری حکومت ہی ہے جس نے 2019 میں پہلی بار ماہی گیری کے شعبے کے لیے ایک الگ وزارت تشکیل دی۔ ہم نے ماہی گیری کے شعبے میں تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہی  وجہ کہ  2014 سے ہندوستان میں مچھلی کی پیداوار میں 80 فیصد سے زیادہ کااضافہ ہوا ہے۔ بھارت سے مچھلی کی برآمد میں بھی 110 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اپنے ماہی گیروں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ ہماری حکومت نے ماہی گیروں کے لیے بیمہ کور کو2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا ہے۔

ملک میں پہلی بار ماہی گیروں کو بھی کسان کریڈٹ کارڈ کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔ حکومت ماہی گیری کے شعبے میں ویلیو چین کی ترقی پر بھی بہت زور دے رہی ہے۔ آج ساگرمالا اسکیم کے ذریعے پورے سمندری ساحل پر جدید رابطہ کاری پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس پر لاکھوں کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، تاکہ سمندر کے ساحلوں پر نئی صنعتیں اور نئے کاروبار شروع ہوں۔

مچھلی ہو یا دیگر سمندری غذا، پوری دنیا میں اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس لیے ہم سی فوڈ پراسیسنگ سے متعلق صنعت پر زور دے رہے ہیں، تاکہ ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ ماہی گیروں کو اپنی کشتیوں کو جدید بنانے کے لیے بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑ سکیں۔

ساتھیو،

کونکن کا یہ علاقہ حیرت انگیز امکانات سے بھرپور علاقہ ہے۔ ہماری حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے پورے عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ سندھودرگ، رتناگیری، علی باغ، پربھنی اور دھاراشیو میں میڈیکل کالج کھل چکے ہیں۔ چپی ہوائی  اڈہ شروع ہو چکا ہے۔ دہلی-ممبئی صنعتی راہداری  مانڑگاؤں تک جڑنے جا رہی ہے۔

یہاں کاجو کی کاشت کرنے والے افراد کے لیے بھی خصوصی اسکیمیں بنائی جارہی ہیں۔ ہماری ترجیح سمندری ساحل پر واقع رہائشی علاقوں کی حفاظت  کرناہے۔ اس کے لیے مینگرووز کا دائرہ بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس کے لیے ایک خاص مشٹھی یوجنا بنائی ہے۔ اس میں مہاراشٹر کے کئی مقامات بشمول مالوان، اچارا-رتناگیری، دیوگڑھ-وجئے درگ کو مینگروو مینجمنٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ساتھیو،

وراثت کے ساتھ ساتھ ترقی، یہ ترقی یافتہ ہندوستان کا ہمارا راستہ ہے۔ اس لیے آج اس علاقے میں بھی اپنے شاندار ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں چھترپتی ویر شیواجی مہاراج کے دور میں بنائے گئے درگ اور قلعوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کونکن سمیت پورے مہاراشٹر میں ان وراثتی مقامات کے تحفظ پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک بھر سے لوگ ہمارے اس شاندار ورثے کو دیکھنے آئیں۔ اس سے اس علاقے میں سیاحت کو  فروغ حاصل ہوگا  اور روزگار اور خود روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ساتھیو،

یہاں سے اب ہمیں ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر کو اور تیز کرنا ہے۔ ایسا ترقی یافتہ ہندوستان جس میں ہمارا ملک محفوظ، خوشحال اور طاقتور ہو۔ اور ساتھیو، عام طور پر آرمی ڈے، ایئر فورس ڈے، نیوی ڈے... یہ دہلی میں منائے جاتے رہے ہیں اور دہلی کے قرب وجوار  کے لوگ اس کا حصہ بنتے تھے اور زیادہ تر پروگرام چیف افسران  کے گھروں کے لان میں ہوتے تھے۔ ہم نے اس روایت کو بدل دیاہے اور ہماری  کوشش ہے کہ چاہے آرمی ڈے ہو، نیوی ڈے ہو یا ایئر فورس ڈے ہو ، ملک کے مختلف حصوں میں منایا جائے۔ اور اسی منصوبے کے تحت اس بار بحریہ کا دن اسی مقام  پر منایا جارہا ہے، جہاں بحریہ نے جنم لیا۔

اور کچھ دیر قبل مجھے لوگ  یہ بتا رہے تھے کہ اس تحریک کی وجہ سے پچھلے ہفتے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ اب اس سرزمین کی طرف ملک کے لوگوں کی کشش بڑھے گی۔ سندھو قلعہ کی طرف سفر  کا احساس پیدا ہوگا۔ جنگ کے میدان میں چھترپتی شیواجی مہاراج نے کتنا بڑا تعاون کیا تھا۔ بحریہ کی ابتدا جس پر ہمیں فخر ہے چھترپتی شیواجی مہاراج سے شروع ہوتی ہے۔ اس بات پر اہل وطن فخر کریں گے۔

 

اور اس لیے میں بحریہ میں اپنے ساتھیوں، ہمارے وزیر دفاع کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اس پروگرام کے لیے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سارے انتظامات کرنا مشکل ہے لیکن اس علاقے کو بھی فائدہ ہوتا ہے، عام لوگوں کی بڑی تعداد بھی اس میں شامل ہوتی ہے اور بیرون ملک سے بھی بہت سے مہمان آج یہاں موجود ہیں۔ ان کے لیے بہت سی چیزیں نئی ​​ہوں گی بالخصوص یہ کہ بحریہ کا تصور  صدیوں پہلے چھترپتی شیواجی مہاراج نے شروع کیا تھا۔

میرا پختہ یقین ہے کہ آج جی20 میں دنیا کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی کہ ہندوستان نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے بلکہ ہندوستان مادر جمہوریت بھی ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے بحریہ کے اس تصور کو جنم دیا، اسے قوت دی اور آج دنیا اسے قبول کر چکی ہے۔ اور اس لیے آج کا موقع عالمی سطح پر بھی ایک نئی سوچ پیدا کرنے والا ہے۔

آج ایک بار پھر یوم بحریہ کے موقع پر میں ملک کے تمام فوجیوں، ان کے اہل خانہ اور اہل وطن کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ ایک بار اپنی پوری طاقت کے ساتھ کہیے۔

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
As you turn 18, vote for 18th Lok Sabha: PM Modi's appeal to first-time voters

Media Coverage

As you turn 18, vote for 18th Lok Sabha: PM Modi's appeal to first-time voters
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February
February 26, 2024
PM to visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC), Thiruvananthapuram, and inaugurate three important space infrastructure projects worth about Rs 1800 crore
Projects include ‘PSLV Integration Facility’ at Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC
PM to also review progress of Ganganyaan
PM to inaugurate, dedicate to nation and lay the foundation stone of multiple infrastructure projects worth more than Rs 17,300 crore in Tamil Nadu
In a step to establish a transshipment hub for the east coast of the country, PM to lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port
PM to launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel
PM to address thousands of MSME entrepreneurs working in Automotive sector in Madurai
PM to inaugurate and dedicate to nation multiple infrastructure projects related to rail, road and irrigation worth more than Rs 4900 crore in Maharashtra
PM to release 16th instalment amount of about Rs 21,000 crore under PM-KISAN; and 2nd and 3rd instalments of about Rs 3800 crore under ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’
PM to disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women SHGs across Maharashtra
PM to initiate the distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra
PM to launch the Modi Awaas Gharkul Yojana

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February, 2024.

On 27th February, at around 10:45 AM, Prime Minister will visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC) at Thiruvananthapuram, Kerala. At around 5:15 PM, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’ in Madurai, Tamil Nadu.

On 28th February, at around 9:45 AM, Prime Minister will inaugurate, and lay the foundation stone of multiple development projects worth about Rs 17,300 crore at Thoothukudi, Tamil Nadu. At around 4:30 PM, Prime Minister will participate in a public programme in Yavatmal, Maharashtra, and inaugurate and dedicate to nation multiple development projects worth more than Rs 4900 crore at Yavatmal, Maharashtra. He will also release benefits under PM KISAN and other schemes during the programme.

PM in Kerala

Prime Minister’s vision to reform the country’s space sector to realise its full potential, and his commitment to enhance technical and R&D capability in the sector will get a boost as three important space infrastructure projects will be inaugurated during his visit to Vikram Sarabhai Space Centre, Thiruvananthapuram. The projects include the PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC, Thiruvananthapuram. These three projects providing world-class technical facilities for the space sector have been developed at a cumulative cost of about Rs. 1800 crore.

The PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota will help in boosting the frequency of PSLV launches from 6 to 15 per year. This state-of-the-art facility can also cater to the launches of SSLV and other small launch vehicles designed by private space companies.

The new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at IPRC Mahendragiri will enable development of semi cryogenic engines and stages which will increase the payload capability of the present launch vehicles. The facility is equipped with liquid Oxygen and kerosene supply systems to test engines up to 200 tons of thrust.

Wind tunnels are essential for aerodynamic testing for characterisation of rockets and aircraft during flight in the atmospheric regime. The “Trisonic Wind Tunnel” at VSSC being inaugurated is a complex technological system which will serve our future technology development needs.

During his visit, Prime Minister will also review the progress of Gaganyaan Mission and bestow ‘astronaut wings’ to the astronaut-designates. The Gaganyaan Mission is India’s first human space flight program for which extensive preparations are underway at various ISRO centres.

PM in Tamil Nadu

In Madurai, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’, and address thousands of Micro, Small and Medium enterprises (MSMEs) entrepreneurs working in the automotive sector. Prime Minister will also launch two major initiatives designed to support and uplift MSMEs in the Indian automotive industry. The initiatives include the TVS Open Mobility Platform and the TVS Mobility-CII Centre of Excellence. These initiatives will be a step towards realising the Prime Minister’s vision of supporting the growth of MSMEs in the country and helping them to formalise operations, integrate with global value chains and become self-reliant.

In the public programme at Thoothukudi, Prime Minister will lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port. This Container Terminal is a step towards transforming V.O.Chidambaranar Port into a transshipment hub for the east coast. The project aims to leverage India's long coastline and favourable geographic location, and strengthen India's competitiveness in the global trade arena. The major infrastructure project will also lead to creation of employment generation and economic growth in the region.

Prime Minister will inaugurate various other projects aimed at making the V.O.Chidambaranar Port as the first Green Hydrogen Hub Port of the country. These projects include desalination plant, hydrogen production and bunkering facility etc.

Prime Minister will also launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel under Harit Nauka initiative. The vessel is manufactured by Cochin Shipyard and underscores a pioneering step for embracing clean energy solutions and aligning with the nation's net-zero commitments. Also, Prime Minister will also dedicate tourist facilities in 75 lighthouses across ten States/UTs during the programme.

During the programme, Prime Minister will dedicate to nation rail projects for doubling of Vanchi Maniyachchi - Nagercoil rail line including the Vanchi Maniyachchi - Tirunelveli section and Melappalayam - Aralvaymoli section. Developed at the cost of about Rs 1,477 crore, the doubling project will help in reducing travel time for the trains heading towards Chennai from Kanyakumari, Nagercoil & Tirunelveli.

Prime Minister will also dedicate four road projects in Tamil Nadu, developed at a total cost of about Rs 4,586 Crore. These projects include the four-laning of the Jittandahalli-Dharmapuri section of NH-844, two-laning with paved shoulders of the Meensurutti-Chidambaram section of NH-81, four-laning of the Oddanchatram-Madathukulam section of NH-83, and two-laning with paved shoulders of the Nagapattinam-Thanjavur section of NH-83. These projects aim to improve connectivity, reduce travel time, enhance socio-economic growth and facilitate pilgrimage visits in the region.

PM in Maharashtra

In a step that will showcase yet another example of commitment of the Prime Minister towards welfare of farmers, the 16th instalment amount of more than Rs 21,000 crores under the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN), will be released at the public programme in Yavatmal, through direct benefits transfer to beneficiaries. With this release, an amount of more than 3 lakh crore, has been transferred to more than 11 crore farmers’ families.

Prime Minister will also disburse 2nd and 3rd instalments of ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’, worth about Rs 3800 crore and benefiting about 88 lakh beneficiary farmers across Maharashtra. The scheme provides an additional amount of Rs 6000 per year to the beneficiaries of Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi Yojana in Maharashtra.

Prime Minister will disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women Self Help Groups (SHGs) across Maharashtra. This amount is additional to the Revolving fund provided by the Government of India under National rural livelihood Mission (NRLM). Revolving Fund (RF) is given to SHGs to promote lending of money within SHGs by rotational basis and increase annual income of poor households by promoting women led micro enterprises at village level.

Prime Minister will initiate distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra. This is yet another step to reach out to beneficiaries of welfare schemes so as to realise the Prime Minister’s vision of 100 percent saturation of all government schemes.

Prime Minister will launch the Modi Awaas Gharkul Yojana for OBC category beneficiaries in Maharashtra. The scheme envisages the construction of a total 10 lakh houses from FY 2023-24 to FY 2025-26. Prime Minister will transfer the first instalment of Rs 375 Crore to 2.5 lakh beneficiaries of the Yojana.

Prime Minister will dedicate to nation multiple irrigation projects benefiting Marathwada and Vidarbha region of Maharashtra. These projects are developed at a cumulative cost of more than Rs 2750 crore under Pradhan Mantri Krishi Sinchai Yojna (PMKSY) and Baliraja Jal Sanjeevani Yojana (BJSY).

Prime Minister will also inaugurate multiple rail projects worth more than Rs. 1300 crore in Maharashtra. The projects include Wardha-Kalamb broad gauge line (part of Wardha-Yavatmal-Nanded new broad gauge line project) and New Ashti - Amalner broad gauge line (part of Ahmednagar-Beed-Parli new broad gauge line project). The new broad gauge lines will improve connectivity of the Vidarbha and Marathwada regions and boost socio-economic development. Prime Minister will also virtually flag off two train service during the programme. This includes train services connecting Kalamb and Wardha; and train service connecting Amalner and New Ashti. This new train service will help improve rail connectivity and benefit students, traders and daily commuters of the region.

Prime Minister will dedicate to nation several projects for strengthening the road sector in Maharashtra. The projects include four laning of the Warora-Wani section of NH-930; road upgradation projects for important roads connecting Sakoli-Bhandara and Salaikhurd-Tirora. These projects will improve connectivity, reduce travel time and boost socio-economic development in the region. Prime Minister will also inaugurate the statue of Pandit Deendayal Upadhyay in Yavatmal city.