سوالاکھ سے زیادہ پی ایم کسان سمردھی کیندروں کو وقف کیا
پی ایم- کسان کے تحت تقریباً 17,000 کروڑ روپے کے بقدر رقم کی 14ویں قسط جاری کی
ڈیجیٹل تجارت کےاوپن نیٹ ورک (او این ڈی سی) پر 1600 فارمر پروڈیوسر تنظیموں کو شامل کرنےکے عمل کا آغاز کیا
یوریا گولڈ – سلفر کی آمیزش والےیوریا کا آغاز کیا
پانچ نئے میڈیکل کالجوں کا افتتاح کیا اور 7 میڈیکل کالجوں کا سنگ بنیاد رکھا
‘مرکز کی حکومت کسانوں کے درد اور ضروریات کو سمجھتی ہے’
حکومت ،یوریا کی قیمتوں کے سبب کسانوں کو پریشان نہیں ہونے دے گی۔ جب کوئی کسان یوریا خریدنے جاتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس میں مودی کی ضمانت ہے
‘ہندوستان صرف وِکِسِت گاؤوں کے ساتھ ہی وِکسِت ہو سکتا ہے’
‘راجستھان میں جدید بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا، ہماری ترجیح ہے’
‘ہم سب راجستھان کے وقار اور ورثے کو پوری دنیا میں ایک نئی شناخت دیں گے’

راجستھان کے گورنر جناب کلراج مشرا، مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر، دیگر تمام وزراء، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی، قانون سازیہ کے ارکین اور دیگر تمام معززین، اور آج اس پروگرام میں ملک کے لاکھوں مقامات پر کروڑوں کسان ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ میں راجستھان کی سرزمین سے ملک کے ان کروڑوں کسانوں کے سامنے بھی  سر تسلیم خم کرتا ہوں۔  راجستھان کے میرے پیارے بھائی  بہن بھی آج اس اہم پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔

کھاٹو شیام جی کی یہ سرزمین، ملک بھر کے عقیدت مندوں کو اعتماد اور امید کی کرن دیتی ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ آج مجھے ہیروز کی سرزمین شیخاوتی سے، ملک کے لیے بہت سے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔ آج یہاں سے پی ایم کسان سمان ندھی کے تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے ،ملک کے کروڑوں کسانوں کو بھیجے گئے ہیں۔ براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا۔

آج ملک میں سوا لاکھ پی ایم کسان سمردھی کیندر شروع کیے گئے ہیں۔ گاؤں اور بلاک کی سطح پر قائم کیے گئے ان پی ایم کسان سمردھی کیندروں سے کروڑوں کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ آج ،ہمارے کسانوں کے لیے ، 1500 سے زیادہ ایف پی اوز کے لیے، ’اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس‘ یعنی او این ڈی سی کا بھی افتتاح کیا گیا ہے۔ اس سے ملک کے ہر کونے میں موجود کسان کے لیے اپنی پیداوار کو منڈی تک لے جانا آسان ہو جائے گا۔

آج ہی ملک کے کسانوں کے لیے ایک نیا ’یوریا گولڈ‘ بھی لانچ کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ راجستھان کے مختلف شہروں کو بھی نئے میڈیکل کالج اور ایکلویہ ماڈل اسکول کا تحفہ ملا ہے۔ میں ملک کے لوگوں، راجستھان کے لوگوں اور خاص کر اپنے کسان بھائیوں اور بہنوں کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

راجستھان میں سیکر اور شیخاوتی کا یہ علاقہ کسانوں کا گڑھ ہے۔ یہاں کے کسانوں نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ان کی محنت کے سامنے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ پانی کی کمی کے باوجود یہاں کے کسانوں نے مٹی سے بھرپور فصلیں اگائی ہیں۔ کسان کی طاقت، کسان کی محنت، مٹی سے سونا اُگاتی ہے اور اسی لیے ہماری حکومت ملک کے کسانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔

ساتھیو،

آزادی کی اتنی دہائیوں کے بعد آج ملک میں ایسی حکومت آئی ہے جو کسانوں کے دکھ درد کو سمجھتی ہے، کسانوں کی پریشانیوں کو سمجھتی ہے۔ اس لیے پچھلے نو سالوں میں حکومت ہند کی طرف سے کسانوں کے مفاد میں مسلسل فیصلے لیے گئے ہیں۔ ہم نے کسانوں کے لیے بیج سے لے کر مارکیٹ تک کے نئے نظام بنائے ہیں۔ مجھے یاد ہے، یہاں راجستھان میں سورت گڑھ میں ہم نے 2015 میں مٹی کی صحت کے کارڈ  کی اسکیم شروع کی تھی۔ اس اسکیم کے ذریعے ہم نے ملک کے کسانوں کو کروڑوں سوائل ہیلتھ کارڈ دیئے ہیں۔ ان کارڈز کی وجہ سے آج کسانوں کو مٹی کی صحت کے بارے میں معلوم ہو رہا ہے، وہ اسی کے مطابق کھاد کا استعمال کر رہے ہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ آج پھر راجستھان کی سر زمین سے کسانوں کے لیے ایک اور بڑی اسکیم شروع کی جا رہی ہے۔ آج، ملک بھر میں سوا لاکھ سے زیادہ پردھان منتری کسان سمردھی کیندر قوم کے نام وقف کیے گئے ہیں۔ یہ تمام مراکز حقیقی معنوں میں کسانوں کی خوشحالی کی راہ ہموار کریں گے۔ یہ کسانوں کے لیے ایک طرح سے ون اسٹاپ سینٹرز ہیں۔

آپ کسان بھائیو اور بہنوں کو، زراعت سے متعلق سامان اور دیگر ضروریات کے لیے اکثر مختلف جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔ اب آپ کو ایسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اب پردھان منتری کسان سمردھی کیندر، کسانوں کو وہاں سے بیج اور کھاد ملے گی۔ اس کے علاوہ اس سنٹر میں کھیتی باڑی سے متعلق آلات اور دیگر مشینوں کو بھی  فراہم کیا  جائے گا۔ یہ مراکز کسانوں کو زراعت سے متعلق ہر جدید معلومات فراہم کریں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کئی بار میرے کسان بھائیوں اور بہنوں کو اسکیم کے بارے میں صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ پردھان منتری کسان سمردھی کیندر ،اب کسانوں کو ہر اسکیم کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بنیں گے۔

 

اور ساتھیو،

یہ تو ابھی شروعات ہے۔ اور میں اپنے کسان بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ بھی یہ عادت ڈالیں، چاہے آپ کسانوں سے کچھ نہیں خریدنا چاہتے، لیکن اگر آپ بازار گئے ہیں، اگر اس شہر میں کسانوں کی خوشحالی کا مرکز ہے، تو کچھ نہ خریدیں، پھر بھی وہاں گھوم لیں۔ بس دیکھو کیا ہو رہا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہماری مائیں بہنیں سبزی خریدنے جاتی ہیں لیکن اگر کہیں ساڑی کی دکان نظر آئے تو انہیں خریدنا نہیں پڑے گا، بلکہ ادھر ہی جائیں گے۔ ضرور دیکھیں گی کہ کیا نیا ہے، کیا ورائٹی ہے۔ میرے کسان بھائیو اور بہنوں کو بھی کچھ وقت نکالنا چاہیے اور یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ جب بھی کسی ایسے شہر میں گئے ہیں جہاں کسانوں کی خوشحالی کا مرکز ہے، وہاں ضرور چکر لگائیں گے، ہر قسم کا جائزہ لیں گے، دیکھیں گے کہ کچھ نیا ہے یا نہیں۔ تم دیکھو، بہت زیادہ منافع ہو گا۔ دوستو، اس سال کے آخر تک ملک میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ پردھان منتری کسان سمردھی کیندر قائم کیے جائیں گے۔

ساتھیو،

آج، مرکز میں حکومت، کسانوں کے اخراجات کو کم کرنے اور ان کے اخراجات میں مدد کرنے کے لیے خلوص نیت سے کام کر رہی ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی دنیا کی سب سے بڑی اسکیم ہے جس میں کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم منتقل کی جاتی ہے۔ آج کی 14ویں قسط کو شامل کرتے ہوئے، اب تک 2 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ  کی رقم براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں بھیجے جا چکی ہے۔ اس رقم سے کسانوں کو کئی چھوٹے اخراجات پورے کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔

یوریا کی قیمتیں بھی اس بات کی ایک مثال ہیں کہ ہماری حکومت کس طرح اپنے کسان بھائیوں کے پیسے بچا رہی ہے۔ اور ملک بھر کے کسان میری بات سن رہے ہیں، میری بات غور سے سنیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کرونا کی کیا خوفناک وبا آئی تھی، اس کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ہوئی اور اس کی وجہ سے مارکیٹ میں بہت ہلچل مچ گئی۔ خصوصاً کھاد کے میدان میں طوفان برپا تھا۔ لیکن ہماری حکومت نے کسانوں پر اس کا اثر نہیں ہونے دیا۔

میں کھاد کی قیمتوں کا یہ سچ ملک کے ہر کسان بھائی بہن کو بتانا چاہتا ہوں۔ آج ہندوستان میں یوریا کی بوری، جو ہم کسانوں کو 266 روپے  میں دیتے ہیں،  اتنا ہی یوریا ہمارے پڑوس میں پاکستان کے کسانوں کو قریب قریب 800 روپئے میں دستیاب ہوتا ہے۔ آج یوریا کی جو بوری ہم ہندوستان میں کسانوں کو 266 روپے میں دیتے ہیں، وہی یوریا کی بوری بنگلہ دیش کے کسانوں کو وہاں کے بازار میں 720 روپئے میں ملتی ہے۔ آج یوریا کی جو بوری ہم ہندوستان میں کسانوں کو 266 روپے میں دیتے ہیں ،چین میں کسانوں کو 2100 روپے میں دستیاب ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ان دنوں امریکہ میں یوریا کی وہی بوری کتنی  رقم کے عوض دستیاب ہے؟ یوریا کی ایک بوری کے لیے جس کے لیے آپ تین سو روپے  سے بھی کم دیتے ہیں، امریکہ کے کسانوں کو اسی بوری کے لیے تین ہزار روپے سے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ کہاں تین سو اور کہاں تین ہزار۔

 

ہماری حکومت یوریا کی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان کے کسانوں کو نقصان نہیں اٹھانے دے گی۔ اور ملک کے کسان اس حقیقت کو دیکھ رہے ہیں، ہر روز اس کا تجربہ کر رہے ہیں۔ جب وہ یوریا خریدنے جاتا ہے تو اسے پختہ یقین ہوتا ہے کہ یہ مودی کی ضمانت ہے۔ گارنٹی کسے کہتے ہیں، کسان سے پوچھیں تو پتہ چلے گا۔

ساتھیو،

راجستھان میں آپ سبھی کسان اپنی محنت سے جوار  باجرہ کی طرح  کےموٹے اناج اگاتے ہیں۔ اور ہمارے ملک کے مختلف کونوں میں باجرے کی مختلف اقسام کی کاشت کی جاتی ہیں۔ اب ہماری حکومت نے اسے موٹے اناج کے لیے ’شری اَنّ‘ کی پہچان دے دی ہے۔ تمام موٹے اناج کو ’سری اَنّ‘  کے نام سے پہچانا جانا چاہئے۔ ہماری حکومت ہندوستان کے موٹے اناج ’سری اَنّ‘ کو دنیا کی بڑی منڈیوں میں لے جا رہی ہے۔ حکومت کی کوششوں سے ملک میں غذائی اجناس کی پیداوار، پروسیسنگ اور برآمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور مجھے ماضی میں صدر بائیڈن کی دعوت پر کھانے کے لیے امریکہ میں وائٹ ہاؤس جانے کا موقع ملا۔ اور مجھے خوشی ہوئی کہ اس تھالی میں ہمارے موٹے اناج کی ڈش بھی تھی۔

ساتھیو،

ہمارے ملک، ہمارے راجستھان کے چھوٹے کسان، جو باجرے اور سبز اناج کی کاشت کرتے ہیں، ان کوششوں سے بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آج ملک میں ایسے بہت سے کام ہو رہے ہیں، جن کی وجہ سے کسانوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔

ساتھیو،

ہندوستان کی ترقی تبھی ہو سکتی ہے جب ہندوستان کے گاؤں ترقی یافتہ ہوں گے۔ ہندوستان بھی اسی وقت ترقی یافتہ بن سکتا ہے جب ہندوستان کے گاؤں ترقی کریں۔ اسی لیے آج ہماری حکومت ہندوستان کے دیہاتوں میں ہر وہ سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، جو شہروں میں دستیاب ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب ملک کی ایک بڑی آبادی، صحت کی سہولیات سے محروم تھی۔ یعنی کروڑوں لوگوں نے ہمیشہ اپنی قسمت پر انحصار کیا اور اپنی زندگی داؤ پر لگا کر زندگی گزاری۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اچھے اسپتال صرف دہلی، جے پور، یا بڑے شہروں میں ہیں۔ ہم اس صورتحال کو بھی بدل رہے ہیں۔ آج ملک کے ہر حصے میں نئے ایمس کھل رہے ہیں، نئے میڈیکل کالج کھل رہے ہیں۔

 

ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں میڈیکل کالجز کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی ہے۔ 8-9 سال پہلے راجستھان میں صرف 10 میڈیکل کالج تھے۔ آج راجستھان میں میڈیکل کالجوں کی تعداد بھی بڑھ کر 35 ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے اپنے ضلع اور اس کے گردونواح میں نہ صرف اچھے علاج کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں بلکہ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بھی ان سے تعلیم حاصل کرکے باہر آرہی ہے۔ یہ ڈاکٹر چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں صحت کے بہتر نظام کی بنیاد بن رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، آج جو نئے میڈیکل کالج ملے ہیں، ان سے کئی علاقوں کو فائدہ پہنچے گا جن میں باران، بونڈی، ٹونک، سوائے مادھوپور، کرولی، جھنجھنو، جیسلمیر، دھول پور، چتور گڑھ، سروہی اور سیکر شامل ہیں۔ اب لوگوں کو علاج کے لیے جے پور اور دہلی نہیں جانا پڑے گا۔ اب آپ کے گھر کے قریب اچھے ہسپتال ہوں گے اور غریبوں کے بیٹے بیٹیاں ان ہسپتالوں میں پڑھ کر ڈاکٹر بن سکیں گے۔ اور دوستو، آپ جانتے ہیں، ہماری حکومت نے میڈیکل کی تعلیم کو مادری زبان میں پڑھنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اب ایسا نہیں ہوگا کہ انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے کسی غریب کا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر بننے سے رک جائے۔ اور یہ  مودی کی ضمانت بھی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

کئی دہائیوں تک ہمارے گاؤں اور غریب لوگ بھی پیچھے رہ گئے تھے،  کیونکہ دیہات میں تعلیم کے لیے اچھے اسکول نہیں تھے۔ پسماندہ اور قبائلی معاشرے کے بچے خواب دیکھتے تھے، لیکن ان کے پاس ان کی تکمیل کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم نے تعلیم کے بجٹ میں بھاری رقم کا اضافہ کیا، وسائل میں اضافہ کیا، ایکلویہ قبائلی اسکول کھولے۔ اس سے ہمارے قبائلی نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

ساتھیو،

کامیابی تب ہی ملتی ہے جب خواب بڑے ہوں۔ راجستھان ملک کی وہ ریاست ہے جس کی شان و شوکت نے صدیوں سے دنیا کو ششدر کر رکھا ہے۔ ہمیں اس ورثے کو بچانا ہے، اور راجستھان کو جدید ترقی کی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اس لیے راجستھان میں جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہماری ترجیح ہے۔ راجستھان میں گزشتہ چند مہینوں میں دو ہائی ٹیک ایکسپریس وے کا افتتاح کیا گیا ہے۔ راجستھان دہلی-ممبئی ایکسپریس وے اور امرتسر-جام نگر ایکسپریس وے کے ایک بڑے حصے کے ذریعے، ترقی کی نئی داستان لکھ رہا ہے۔ راجستھان کے لوگوں کو بھی وندے بھارت ٹرین کا تحفہ  بھی ملا ہے۔

 

حکومت ہند آج بنیادی ڈھانچہ پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، سیاحت سے متعلق سہولیات کو ترقی دے رہی ہے، راجستھان میں بھی نئے مواقع بڑھیں گے۔ ایکسپریس وے اور اچھی ریل سہولیات سیاحوں کا خیرمقدم کریں گی جب آپ انہیں ’پدھارو مہارے دیش‘ کہتے ہیں۔

ہماری حکومت نے سودیش درشن اسکیم کے تحت کھاٹو شیام جی مندر میں سہولیات کو بھی بڑھایا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شری کھاٹو شیام کے آشیرواد سے راجستھان کی ترقی کو مزید رفتار ملے گی۔ ہم سب مل کر راجستھان کے فخر اور ورثے کو پوری دنیا میں ایک نئی پہچان دیں گے۔

ساتھیو،

راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کچھ دنوں سے بیمار ہیں، ان کے پیروں میں کچھ تکلف ہے۔ آج اس پروگرام میں شرکت کرنا تھی لیکن اس مشکل کی وجہ سے نہیں آ سکے۔ میں ان کی اچھی صحت کے لیے دعا کرتا ہوں اور آج میں پورے راجستھان کو ان بہت سے نئے تحائف کے لیے، ملک کے کسانوں کو ان اہم نظاموں کو وقف کرنے کے لیے ،دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Varanasi epitomises the best of Narendra  Modi’s development model

Media Coverage

How Varanasi epitomises the best of Narendra Modi’s development model
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
“If today the world thinks India is ready to take a big leap, it has a powerful launchpad of 10 years behind it”
“Today 21st century India has stopped thinking small. What we do today is the best and biggest”
“Trust in government and system is increasing in India”
“Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”
“Our government created infrastructure keeping the villages in mind”
“By curbing corruption, we have ensured that the benefits of development are distributed equally to every region of India”
“We believe in Governance of Saturation, not Politics of Scarcity”
“Our government is moving ahead keeping the principle of Nation First paramount”
“We have to prepare 21st century India for its coming decades today itself”
“India is the Future”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the News 9 Global Summit in New Delhi today. The theme of the Summit is ‘India: Poised for the Big Leap’.

Addressing the gathering, the Prime Minister said TV 9’s reporting team represents the diversity of India. Their multi-language news platforms made TV 9 a representative of India's vibrant democracy, the Prime Minister said.

The Prime Minister threw light on the theme of the Summit - ‘India: Poised for the Big Leap’, and underlined that a big leap can be taken only when one is filled with passion and enthusiasm. He said that the theme highlights India’s self-confidence and aspirations owing to the creation of a launchpad of 10 years. In these 10 years, the Prime Minister said, the mindset, self-confidence and good governance have been the major factors of transformation.

The Prime Minister underlined the centrality of the commission citizen in the destiny of India. He emphasized that a mindset of defeat can not lead to victory, in this light, he said that the change in mindset and leap that India has taken is incredible. PM Modi recalled the negative view exposed by the leadership of the past and the overhang of corruption, scams, policy paralysis and dynasty politics had shook the foundation of the nation. The Prime Minister mentioned the turnaround and India entering into the top 5 economies of the world. “India of 21st century India does not think small. Whatever we do, we do best and biggest. World is amazed and sees the benefit of moving with India”, he said.

Highlighting the achievements of the last 10 years compared to the ten years before 2014, the Prime Minister mentioned the record increase in FDI from 300 billion US dollars to 640 billion US dollars, India’s digital revolution, trust in India’s Covid vaccine and the growing number of taxpayers in the country which symbolizes the increasing trust of the people in the government. Speaking about mutual fund investments in the country, the Prime Minister informed that people had invested Rs 9 lakh crore in 2014 while 2024 has seen a meteoric rise to Rs 52 lakh crores. “This proves to the citizens that the nation is moving forward with strength”, PM Modi continued, “The level of trust toward self and the government is equal.”

The Prime Minister said that the government's work culture and governance are the cause of this turn-around. “Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”, he said.

The Prime Minister said that for this leap, a change of gear was needed. He gave examples of long pending projects such as Saryu Canal Project in Uttar Pradesh, Sardar Sarovar Yojana, and Krishna Koena Pariyojana of Maharashtra which were lying pending for decades and were completed by the government. The Prime Minister drew attention to the Atal Tunnel whose foundation stone was laid in 2002 but remained incomplete till 2014, and it was the present government that accomplished the work with its inauguration in 2020. He also gave the example of Bogibeel Bridge in Assam, commissioned in 1998 but finally completed 20 years later in 2018, and Eastern Dedicated Freight Corridor commissioned in 2008 but completed 15 years later in 2023. “Hundreds of such pending projects were completed after the present government came to power in 2014”, he added. The Prime Minister also explained the impact of regular monitoring of the big projects under PRAGATI and informed that in the last 10 years projects worth 17 lakh crore have been reviewed under the mechanism. The Prime Minister gave examples of a few projects that were completed very quickly such as Atal Setu, Parliament Building, Jammu AIIMS, Rajkot AIIMs, IIM Sambalpur, New terminal of Trichy Airport, IIT Bhilai, Goa Airport, undersea cable up to Lakshadweep, Banas Dairy at Varanasi, Dwarka Sudarshan Setu. Foundation stones of all these projects were laid by the Prime Minister and he dedicated them to the nation also. “When there is willpower and respect for the taxpayers' money, only then the nation moves forward and gets ready for a big leap”, he added.

The Prime Minister illustrated the scale by listing the activities of just one week. He mentioned a massive educational push from Jammu with dozens of higher education institutes like IIT, IIMs and IIIT on 20th February, on 24 th February he dedicated 5 AIIMs from Rajkot, and more than 2000 projects including revamping more than 500 Amrit Stations was done this morning. This streak will continue during his visit to three states in the coming two days, he informed. “We lagged in the first, second and third revolutions, now we have to lead the world in the fourth revolution”, the Prime Minister said.

He continued by furnishing the details of the nation's progress. He gave figures like 2 new colleges daily, a new university every week, 55 patents and 600 trademarks every day, 1.5 lakh Mudra loans daily, 37 startups daily, daily UPI transaction of 16 thousand crore rupees, 3 new Jan Aushadhi Kendras per day, construction of 14 KM road everyday, 50 thousand LPG connections everyday, one tap connection every second and 75 thousand people came out of poverty everyday.

Referring to a recent report on the consumption pattern of the country, the Prime Minister highlighted the fact that poverty has reached its lowest level till date into single digit. As per data, he said that consumption has increased by 2.5 times as compared to a decade ago as people's capacity to spend on different goods and services has increased. “In the last 10 years, consumption in villages has increased at a much faster rate than that in cities. This means that the economic power of the village people is increasing, they are having more money to spend”, he said.

The Prime Minister said that the government has developed infrastructure keeping rural needs in mind resulting in better connectivity, new employment opportunities and income for women. This strengthened rural India, he said. “For the first time in India, food expenditure has become less than 50 per cent of the total expenditure. That is, the family which earlier used to spend all its energy in procuring food, today its members are able to spend money on other things”, the Prime Minister added.

Pointing out the trend of vote bank politics adopted by the previous government, the Prime Minister underscored that India has broken out of the scarcity mindset in the last 10 years by putting an end to corruption and ensuring that the benefits of development are distributed equally. “We believe in governance of saturation instead of politics of scarcity”, PM Modi emphasized, “We have chosen the path of santushti (contentment) of the people instead of tushtikaran.” This, the Prime Minister said, has been the mantra of the government for the past decade. “This is Sabka Saath Sabka Vikas”, the Prime Minister said, elaborating that the government has transformed vote bank politics into politics of performance. Highlighting the Modi Ki Guarantee Vehicle, the Prime Minister said that the government of today is going door-to-door and providing facilities to the beneficiaries. “When saturation becomes a mission, there is no scope for any kind of discrimination”, PM Modi exclaimed.

“Our government is moving forward keeping the principle of Nation First paramount”, the Prime Minister remarked, as he mentioned the critical decisions taken by the government to resolve old challenges. He touched upon the abrogation of Article 370, construction of the Ram Mandir, ending of triple talaq, Nari Shakti Vandan Adhiniyam, One Rank One Pension, and creation of the post of Chief of Defense Staff. He underlined that the government completed all such incomplete tasks with the thinking of Nation First.

The Prime Minister stressed the need to prepare the India of the 21st century and threw light on the rapidly progressing plans. “From space to semiconductor, digital to drones, AI to clean energy, 5G to Fintech, India has today reached the forefront of the world”, he said. He highlighted India’s growing prowess as one of the biggest forces in digital payments in the global world, the fastest-growing country in Fintech Adoption Rate, the first country to land a rover on the south pole of the Moon, among the leading countries in the world in Solar Installed Capacity, leaving Europe behind in the expansion of 5G network, rapid progress in the semiconductor sector and rapid developments on future fuels like green hydrogen.

Concluding the address, the Prime Minister said, “Today India is working hard towards its bright future. India is futuristic. Today everyone says – India is the future.” He also drew attention to the importance of the next 5 years. He reaffirmed the belief to take India's potential to new heights in the third term and wished that the coming 5 years be years of progress and praise for India’s journey to Viksit Bharat.