Share
 
Comments
ایک اجلاس کے دوران برجستہ طور پر شامل ہوتے ہوئے بارہویں درجے کے امتحانات منسوخ کرنے کے لئے طلبا اور والدین نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

پرنسپل: نمستے سر!

وزیراعظم مودی: نمستے!

مودی جی : میں نے آپ سب کو ڈسٹرب تو نہیں کیا نا؟ آپ سب لوگ بڑے مزے سے باتیں کر رہے تھے۔  اور  آن لائن اپنی توانائی صرف کر رہے تھے ۔

پرنسپل: نمسکار سر! اور آپ آ گئے سر، آپ نے ہمیں جوائن کیا اس کے لیے بہت بہت شکریہ سر۔ میں نے ابھی انہیں  بتایا کہ ایک خصوصی مہمان آنے والے ہیں سر، انہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا اور سر یہ لوگ آپ کے آنے سے پہلے آپ کے تعلق سے بہت ساری باتیں کر رہے تھے ۔ یہاں آپ کے بہت سارے مداح بھی موجود ہیں۔

مودی جی : اچھا تو میں اچانک آپ کے ہاں آ گیا ہوں لیکن میں آپ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ آپ بڑے ہی ہنسی خوشی کے ماحول میں تھے اور مجھے لگ رہا تھا کہ اب امتحانات کا ٹینشن آپ کو بالکل نہیں ہے۔ اسی کی وجہ سے آپ کی خوشیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے، ایسا مجھے نظرآ رہا تھا۔ اور آپ  نےکمرے میں بند ہونے کی وجہ سے اپنی توانائیوں کو آن لائن صرف کرنے کے فن کو بھی سیکھ لیا ہے۔

مودی جی : اچھا کیسے ہیں آپ لوگ؟

طلبا: بہتر ہیں سر! بہت اچھے ہیں سر!

مودی جی : آپ سب صحت مند ہیں؟

طلبا: ہاں سر، صحت مند ہیں!

مودی جی : آپ کے اہل خانہ کے تمام افراد صحت مند ہیں؟

طلبا: جی سر!

مودی جی : اچھا یہ بتائیں جو گذشتہ دنوں آپ نے سنا، اس سے پہلے ٹینشن تھی اور اب ٹینشن گئی، ایسا ہے کیا؟

طلبا: ہاں سر! بالکل سر!

مودی جی : مطلب آپ کو امتحانات کا ٹینشن ہوتا ہے؟

طلبا: جی سر! بہت ہوتا ہے!

مودی جی : پھر تو میرے لیے کتاب کی تصنیف کرنا بالکل ہی بےکار ثابت ہوا۔ میں نے اپنی کتاب 'اکزام واریئر'میں کہا ہے کہ کبھی ٹینشن نہ لیں، پھر آپ طلبا و طالبات ٹینشن کیوں لیتے تھے؟

طلبا: سر ہم ہر روز تیاریاں کرتے تھے، تب ٹینشن کی کوئی بات نہیں ہوتی ہے سر۔

مودی جی :  کب ٹیشن ہوتا ہے؟

طلبا: سر ٹینشن کچھ نہیں ہوتا ہے اور نوجوانوں کے لیے صحت سب سے زیادہ ضروری ہے، اس لیے اتنا شاندار فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے ہم زندگی بھر آپ کے احسان مند ہوں گے۔

مودی جی : لیکن آپ بتائیے کہ آپ کا نام کیا ہے؟

طالب علم: سر، ہتیشور شرما، پنجکولہ سے۔

مودی جی : ہتیشور شرما جی! پنچکولہ میں رہتے ہیں؟

طالب علم: جی سر!

مودی جی : کس سیکٹر میں؟

طالب علم: سیکٹر 10 میں سر!

مودی جی : میں سات میں رہتا تھا، برسوں تک وہاں قیام کیا ہے میں نے۔

طالب علم: مجھے آج ہی اس بات کا علم ہوا ہے۔

مودی جی : ہاں، میں وہاں رہتا تھا۔

طالب علم: جی سر، سر یہاں پر بہت سارے آپ کے مداح ہیں جو آپ کو دوبارہ  دیکھنا چاہتے ہیں۔

مودی جی : اچھا یہ بتاؤ بھئی، آپ تو دسویں میں ٹاپر تھے، تو یہ بات تو پکی ہے کہ گھر میں تیاریاں چل رہی ہوں گی کہ آپ بارہویں میں بھی ٹاپ کریں گے۔ اب تو امتحانات ہی منسوخ ہوگئے تب تو آپ کی ساری تیاریاں رک گئیں۔

طالب علم: سر میں وہی عرض کر رہا تھا، توقعات تو ہوں گی ہی لیکن جناب،اگر میں امتحان دیتا تو دباؤ تو بڑھتا ہی جارہا تھا، لیکن میں ایک نقطہ اطمینان تک پہنچ گیا تھا اوریہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ اتنامحفوظ بھی نہیں ہے اور آپ نے اچانک ایسا بہترین  فیصلہ لے لیا۔ ور میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ جو ٹاپر ہے یا جو سخت محنت کرتا ہے، اس کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، علم اور جانکاری ہمارے ساتھ ہمیشہ موجود رہتی ہے سر۔ اور جو مسلسل تیاری کرتا رہا  ہے، جو مستقل اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دیتا ہے، سر، جو بھی معیارہوگا، جو بھی آپ فیصلہ کریں گے،تو اس  میں وہ پھر سر فہرست رہیں گے۔ لہذا اس میں انہیں اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ٹاپرس مایوس ہیں۔ میں یہ مانتا  ہوں کہ ہم نے پہلے ہی ایک ایسا انتظام کر رکھاہے کہ آپ دوبارہ پیپر دے سکتے ہیں۔  میں تو اسے بہت ہی دانشمندانہ فیصلہ سمجھتا ہوں۔ اور ہم اس کے لیے پوری زندگی آپ کے مشکورو ممنون ہوں گے۔

مودی جی: اچھا بچوں کچھ لوگوں کا ایسا رویہ ہے جو اپنے آپ کو بڑے کہتے ہیں اور خود کو بہادر سمجھتے ہیں۔ خود کو بڑا پہلوان باور کراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ماسک نہیں لگاؤں گا، میں ان اصولوں کو نہیں مانوں گا، میں یہ نہیں کروں گا۔ تب آپ لوگوں کو کیسا لگتا ہے؟

طالب علم: سر! ان اصولوں کو تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔جیسا کہ ابھی آپ نے کہا  کہ جب لوگ ماسک نہیں لگاتے ہیں یا کووڈ کی گائیڈ لائنز پر عمل نہیں کرتے ہیں تو ایسی صورتحال کو مایوسی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ہماری حکومت نے  اس سلسلے میں اتنی زیادہ بیداری لانے کی کوشش کی ہےاور اس عالمی وبا کے تعلق سے بین الاقوامی ادارے بھی بہت زیادہ بیداری اور لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔جب ان چیزوں کو لوگ نہیں سمجھتے تو بہت برا لگتا ہے۔ اور میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گی کہ ہم نے اور ہمارے اطراف رہنے والے کچھ بچوں نے لوگوں کو بیدار کرنے کے لیےچند ماہ قبل  ایک مہم چلائی تھی۔اس وقت جب یہاں اَن لاک تھا۔(جب یہاں لاک ڈاؤن نہیں لگا تھا)۔ہم نے کئی نکڑ ناٹک کیے۔ہم نے کورونا کی گائیڈ لائنزپر عمل کرنے کے لیے لوگوں کو بیدار کیا۔ انہیں بتایا کہ ان اصولوں پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔جگہ جگہ جاکر لوگوں کو آگاہ کیا کہ کیسے ماسک کو اپنے معمول کا حصہ بنانا ہے،ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ(سوشل ڈسٹینسینگ )رکھنا ہے۔ہاتھوں کو بار بار دھلنا ہے۔ ہم نے لوگوں کو بتایا کہ یہ کتنا اہم ہے اور اس پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔ میری یہ سوچ ہے کہ اگر ہر سطح پر اس طرح کی کوششیں کی جائیں اور خود ہی اس تعلق سے ذمہ داری لی جائے اور معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

مودی جی:  اچھا میں یہ جاننا چاہوں گا کہ آپ لوگوں نے(کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ)جب بارہویں میں بچے ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ منصوبہ ہوتا ہے کہ آج یہ مطالعہ کرنا ہے، کل یہ پڑھنا ہے، صبح چار یا پانچ بجے بیدار ہوجانا ہے، یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ یہ ساری باتیں آپ نے سوچی ہوں گی۔ مطالعے کے لیے ٹائم ٹیبل بنایا ہوگا۔یہ ساری قواعد گذشتہ دنوں یعنی یکم جون کی صبح تک چل رہی ہوں گی۔اچانک سارے پروگرام رک گئے۔ ایک رکاوٹ آگئی۔ اب آپ لوگ اس رکاوٹ  سے کیسے نمٹیں گے؟

طالبہ: نمسکار سر، ویدھی چودھری، گوہاٹی، رویال نوبل اسکول سے!

مودی جی: گوہاٹی سے ہیں؟

طالبہ: جی سر!

مودی جی: سر میں محض اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گی کہ ابھی ابھی جو آپ نے کہا کہ یکایک گذشتہ دنوں صبح تک سب کے ذہنوں میں کئی طرح کی چیزیں چل رہی تھیں۔ آپ نے اپنی کتاب 'اکزام واریئر'کے تعلق سے بھی بتایاتو میرا یہ کہنا ہے کہ جب میں دسویں میں تھی اور  میرے امتحانات ہونے والے تھے، میں سفر کر رہی تھی، کولکاتا سے یہاں آ رہی تھی تو ایئر پورٹ پر میں نے آپ کی کتاب دیکھی۔ جناب میں نے اسے فوراً ہی خرید لیا۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔میں نے ایک ماہ تک مسلسل اس کتاب کا مطالعہ کیا۔آپ نے کتاب کی ابتدا ہی اس انداز میں کی تھی کہ امتحانات کو تہواروں کی طرح مناؤ۔ تو جناب تہواروں کے لیے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔مطلب یہ کہ تہواروں کے لیے تو ہم تیاریاں کرتے ہیں کہ ہم اسے شاندار طریقے سے منائیں۔ اور آپ نے سب سے بڑا منتر یوگا کا دیا تھا۔ آپ نے اس کتاب کا اختتام ہی یوگا کو روزمرہ کے معمول میں شامل کرنے کے سبق سے دیا ہے۔اس سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔یہ صحیح ہے کہ حالات اچھے نہیں تھے، سب کچھ تھا لیکن جس طرح ہم تیاریاں کرتے تھے(اسکول جانا اور وہاں سے بہت کچھ سیکھنا) ایسا نہیں ہوپایا۔ میں نے بارہویں کے امتحانات کے لیے بھی اسی طرح تیاری کی ہے۔ سر! آپ کا بہت بہت شکریہ اس کتاب کے لیے جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔

مودی جی: اچھا میرے سوال کا جواب رہ گیا۔ ایک طالب علم بار بار اپنے ہاتھوں کو اٹھا رہے ہیں۔ ان کو موقع نہیں ملا ہے۔ آپ کا کیا نام ہے؟

طالب علم: سر، میرا نام نندن ہیگڑے ہے!

مودی جی: نندن ہیگڑے، کرناٹک سے ہیں؟

طالب علم: جی سر، کرناٹک سے، بنگلورو سے جناب!

مودی جی: جی بتائیں!

طالب علم: سر، میرا یہ خیال ہے کہ یہ امتحان میری زندگی کا آخری امتحان تو ہے نہیں۔آگے بھی کئی امتحانات آنے والے ہیں سر۔ اب ہمیں اپنی صحت و تندرستی کو بچا کر رکھنا ہے تاکہ مستقل میں آنے والے امتحانات کا اچھے طریقے سے سامنا کیا جا سکے۔

مودی جی: اچھا تو پھر آپ امتحان سے فری ہوگئے، اب کیا آئی پی ایل کے میچز دیکھنے میں اپنا وقت لگائیں گے یا چیمپیئنز لیگ فائنل دیکھیں گے یا فرنچ اوپن دیکھنے کا ارادہ ہے یا جولائی میں اولمپک شروع ہونے والا ہے، اس اولمپک میں ذہن لگائیں گے۔ بھارت سے اولمپک کے لیے کون کون سے کھلاری جا رہے ہیں؟ ان کا بیک گراؤنڈ کیا ہے؟اس میں طبیعت لگے گی یا پھر 21 تاریخ کو یوگا دیوس(یوم یوگ) ہے، اس میں اپنی توانائی لگانی ہے۔ کیا کرنا ہے آپ کو؟

طالب علم: تمام طرح کی چیزوں میں طبیعت لگے گی سر!

مودی جی: یہ چشمہ پہنے ہوئی بیٹی کچھ کہنا چاہتی ہے، کب سے اسے کچھ بولنے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔

طالبہ:نمسکار سر! جناب جیسے ہی پتہ چلا کے آپ نے ہمارے تمام امتحانات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہےتو ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی اور آخرکار دباؤ کم ہوا۔ہمیں معلوم ہے کہ اب ہمیں صرف مسابقتی امتحانات کے لیے  تیاریاں کرنی ہیں۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ بورڈز کے امتحانات کے لیے تیاریاں کرتے پھر مسابقتی امتحانات کے لیے الگ سے تیاری کرنی پڑتی تھی۔ ہمارے پاس اب اتنا وقت ہے ہم کافی بہتر انداز سے مسابقتی امتحانات کی تیاریاں کر سکتے ہیں۔ سر، آپ کا بہت بہت شکریہ!۔

مودی جی: دماغ سے امتحان کا خوف جاتا نہیں ہے؟

طالبہ: جی سر، بالکل نہیں جاتا

مودی جی: اب تو آپ گھر پر ہیں ۔ اب تو والدین آپ کی تمام باتیں سنتے ہوں گے؟

طالبہ: جی سر!

مودی جی: کہاں ہیں دکھائیں مجھے؟

طالبہ: سر میں انہیں بلاتی ہوں

مودی جی: نمستے جی!

گارجین: نمسکار سر!

مودی جی: آپ کو کیا لگا، اب آپ کی بیٹی آزاد ہوگئی؟

گارجین: سر، یہ بہت بہتر فیصلہ ہےکیوں پورے ملک کے حالات خراب ہیں اور اس فیصلے سے بچوں کے ذہنوں سے دباؤ ختم ہوگیا۔ یہ مسقبل کے لیے اور اپنے کیرئیر کے لیے تیاریاں کر سکتے ہیں، ہمیں کافی اچھا لگا۔

مودی جی: مجھے بہت اچھا لگا کہ آپ نے اسے بہت مثبت انداز میں لیا ہے۔ ہاں، اور کئی بچے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

طالب علم: نمسکار سر، کیندریہ ودیالیہ بنگلورو سے ہوں سر۔ سر میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں۔

مودی جی: بہت شکریہ

طالب علم: سر آپ کا یہ فیصلہ بہت شاندار ہے کیوں کہ سر سلامت تو پگڑی ہزار، تو سر سلامت تو رکھنا پڑے گا۔

مودی جی: صحت ہی اصل دولت ہے، ہمارے ہاں تو یہ مقولہ بہت مشہور ہے نا؟

طالب علم: جی سر، جناب آپ ہی ہمارے لیے ترغیب کا باعث ہیں۔

مودی جی : اچھا، سر سلامت تو پگڑی ہزار والی کہاوت تو نہایت معقول ہے لیکن سر کا مطلب یہ تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ دماغ ہی سلامت رہے یا پھر پورا جسم۔ اس تعلق سے آپ کیا سوچتے ہیں ؟

طالب علم: میری مراد پورے جسم سے ہے سر، یعنی صحت و تندرستی میری مراد تھی۔

مودی جی : اچھا یہ بتائیں کہ جسم کو تندرست رکھنے کے لیے کیا کرتے ہیں اور اس پر کتنا وقت صر ف کرتے ہیں اور کیا کرتے ہیں کہ  آپ کاجسم تندرست و توانا رہے۔

طالب علم: میں ہر دن صبح بیدار ہونے کے بعد 30 منٹ تک یوگا کرتا ہوں سر، یوگا اور مشق کرتا ہوں سر، میں اور مجھ سے جو چھوٹا بھائی ہے ہم دونوں ہی ہر روز ایسا کرتے ہیں۔

مودی جی : آپ کے گھر کے دیگر افراد آپ کی باتیں سن رہے ہیں، میں پوچھوں گا ایسا نہ ہو کہ آپ پکڑے جائیں۔

طالب علم: نہیں سر! 30 منٹ ہر دن یوگا کرتا ہوں سر۔ میں اور چھوٹا بھائی ساتھ مل کر کرتے ہیں سر، اور ہر روز اپنے ذہن کو ترو تازہ رکھنے کے لیے تبلہ بجاتا ہوں جس سے میرا ذہن فریش رہتا ہے سر۔

مودی جی : تو موسیقی آپ کی فیملی  کے ہر فرد کو پسند ہے؟

طالب علم: جی سر، میری والدہ بھی ستار اور تانپورہ بجاتی تھیں

مودی جی : اسی لیے گھر میں موسیقی کی فضا بنی ہوئی ہے

مودی جی :  اچھا، اب جس طالب علم کو بھی مجھ سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا ہے وہ اب مجھ سے گفتگو کر سکتا ہے، انہیں اب موقع دوں گا۔ ابھی ایک بچی جس نے سفید ایئرفون لگا رکھا ہے میرے سامنے موجود ہے اور مجھے کچھ بتایا چاہتی ہے۔

طالبہ: نمستے سر! میرا نام کشش نیگی ہے ، میں ایم آر اے ڈی اے وی پبلک اسکول، سولن، ہماچل پردیش سے ہوں۔ سر آپ سے صرف ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ میرے خوابوں کے سچ ہونے جیسا ہے۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ آپ سے ایسے ملاقات ہوگی۔ اور سر آپ کاشکریہ  ادا کرنا چاہتی ہوں ۔ آپ نے  جو حالیہ فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے کیوں کہ ڈیڑھ سال گزر چکے ہیں اور بارہویں کے طلبا و طالبات ابھی تک اسی کلاس میں ہیں۔ زندگی جیسی تھم سی گئی تھی۔ کچھ نیا پن نہیں تھا۔ اسی لیے آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کے آپ نے طلبا کے مفاد میں بہت بہتر فیصلہ کیا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ سر!

مودی جی : جس بچی نے انگلی اٹھا ئی، ذرا بتائیں بیٹا کیا کہنا چاہتی ہیں۔

طالبہ: نمسکار سر، میں دلی پبلک اسکول، جے پور، راجستھان سے بارہویں کلاس کی طالبہ ہوں۔ میرا نام جنت ساکشی ہے۔ بارہویں بورڈ کے امتحانات کے لیے آپ نے جو فیصلہ کیا ہے میں اس کا خیر مقدم کرتی ہوں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ بالکل صحیح ہے۔ کیوں کہ بچوں کا تحفظ اور ان کی صحت و سلامتی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں سی بی ایس ای بورڈ پر پورا یقین ہے کہ وہ نمبرات کی درجہ بندی کے سلسلے میں جو بھی لائحہ عمل مرتب کریں گے وہ ہمارے مفاد میں ہوگا۔مجھے پورا یقین ہے کہ ہمیں ہماری محنت کا پورا پھل ملے گا۔ بہت بہت شکریہ سر!

مودی جی : اب جتنے بھی بچوں کے والدین یہاں موجود ہیں سب ایک ساتھ اسکرین کے سامنے آجائیں۔ یہ تمام کے لیے بھی اور میرے لیے بھی بہتر ہوگا کہ سب سے ایک ساتھ بات چیت کرلوں۔ اور یہ بھی ہے کہ آپ تمام ہی لوگوں کو سچ بولنا پڑے گا۔ ایک نوجوان مجھے نظر آ رہے ہیں جو کچھ بولنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے سفید رنگ کی قمیض پہن رکھی ہے۔ بتائیں کیا کہنا ہے۔

طالب علم 1: سر میری والدہ فی الوقت یہاں پر موجود نہیں ہیں لیکن جب ہم ساتھ بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے تو وہ مجھ سے کہتی تھیں کہ پریشان نہ ہو۔ مودی جی سب بہتر کر دیں گے۔ فکر نہ کرو مودی جی کر دیں گے۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب میری داڑھی بڑھ جاتی تھی تو ممی کہتی تھیں کہ حجامت کیوں نہیں بنواتا۔ میں نے ان سے کہا کہ مودی جی کا مداح ہوں ، داڑھی کو ایسے ہی بڑھا کر رکھوں گا۔

طالبہ  2: سر ، میرا نام شیوانجلی اگروال ہے، سر میں کیندریہ ودیالیہ، جے این یو، نئی دہلی کی طالبہ ہوں۔ سر میں یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ بورڈ کے امتحانات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ آپ کا بہت اچھا ہے۔ اب ہمیں کافی وقت مل گیا ہے جس میں ہم انٹرینس اکزام اور مسابقتی امتحانات  کی تیاریاں کریں گے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!

مودی جی : اچھا اب آپ لوگ یہ کریں کہ ایک کاغذ پر نمبر لکھ کر انتظار کریں تاکہ جو نمبر میں بولوں اس نمبر کا فرد فوراً مجھ سے رابطہ کرے کیوں کہ میں تو اچانک یہاں آ پہنچا ہوں اس لیے مجھے بچوں اور ان کے والدین کے نام پتہ نہیں ہیں۔ میں تو ایسے ہی آپ کو پریشان کر رہا ہوں۔

گارجین: نمستے سر! ہم آپ کے بہت بڑے مداح ہیں۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ بچوں کے مفاد میں ہی ہوگا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں سر اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔

مودی جی : نمبر ون

گارجین: نمسکار سر! آپ کا بہت بہت شکریہ سر، آپ کا یہ فیصلہ کافی بہتر تھا ، ہمارے بچوں کے لیے ۔ ابھی ان کے پاس  ....

مودی جی : میں ابھی تمام ہی لوگوں کو یہ عرض کیا ہے کہ آپ اس فیصلے سے باہر آجائیں، امتحانات سے باہر نکلیں۔ ہم کچھ اور باتیں کر سکتے ہیں کیا؟

گارجین: بالکل س، بالکل! اور اچھی باتیں کریں۔ شاہ رخ خان سے ملاقات کرنے پر جو خوشی نہیں ہوتی اتنا آپ سے مل کر خوشی ہو رہی ہے۔ یہ تو خواب کے سچ ہونے جیسا ہے۔آپ سے بات چیت کرکے بہت اچھا لگا سر۔آپ سب سے بہتر ہیں ہی۔آپ نے بچوں کو کافی وقت دے دیا ہے۔ اس وقت کا بچے کافی اچھے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مستقبل کے لیے اچھی تیاری کرسکتکے ہیں اور اپنا کریئر کو مزید بہتر بنانے میں ان اوقات کو لگا سکتے ہیں۔

مودی جی: 26

گارجین: ایک ڈانسر ہونے کی حیثیت سے میرے نزدیک ذہنی صحت اور جسمانی صحت دونوں ضروری ہے۔ اور اسی کے لیے میں رقص کرتی ہوں۔میں کتھک ڈانس کرتی ہوں۔ سائکلنگ بھی کرتی ہوں جب طبیعت ہوتی ہے۔میں پہلی چیز آپ کے ساتھ یہ شیئر کرنا چاہتی ہوں کے نتائج آنے کے بعد اور امتحانات کی منسوخی کا آپ کا فیصلہ آنے کے بعد 12 بجے سوگئی تھی کیوں کہ امتحانات کی وجہ سے صبح 8 بجے جگنا پڑتا تھا لیکن اس دن میں 12 بجے تک سوئی رہی تھی۔

طالب علم: سر میرا نام ..... میں تمل ناڈو سے ہوں سر! سر مجھے پتہ تھا کہ بورڈ کے امتحانات منسوخ ہوجائیں گے۔ تو میں بہت کم پڑھتا تھا۔ ویسے تو ہم راجستھان سے ہیں لیکن رہتے تمل ناڈو میں ہیں۔

مودی جی : تو  آپ علم نجوم بھی پڑھتے ہیں۔ علم نجوم سے واقف ہیں کیا؟یہ کیسے پتہ چلا کہ ایسا ہونے والا ہے؟

طالب علم: جی سر! بس اندازہ لگایا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔اور یہ کافی اچھا فیصلہ تھا۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزرا۔

مودی جی:  ہفتے بھر میں ہی گھر والے سب ناراض ہوجائیں گے تم دیکھنا۔ تم یہ نہیں کرتے ہو، تم جلدی بیدار نہیں ہوتے ہو، چلو غسل کرلو، تم نہاتے نہیں ہو، چلو تمہارے پاپا کے آنے کا وقت ہوگیا ہے، اب دیکھیئے ڈانٹ پڑنے والی ہے۔

طالب علم: میرا نام تمنا ہے سر! میں ڈی اے وی پبلک اسکول ، مغربی بنگال سے ہوں۔ جیسا آپ نے کہا کہ ہمارے پاس اب کافی وقت ہے تو لاک ڈاؤن میں میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک یو ٹیوب چینل شروع کیا تھا۔ تو اس پر بھی فوکس کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے ....

مودی جی: یو ٹیوب چینل کا کیا نام ہے؟

طالب علم:tamannasharmilee ….   اس پر ہم لوگ الگ الگ طرح کے ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ہم نے ایک چھوٹی سی نظم اس پر ڈالی تھی۔ اس پر ویڈیو اور شارٹ فلم بھی اپ لوڈ کی ہے۔

مودی جی:  21،    ہاں بتاؤ بیٹا!

طالب علم: سر میرے دادا اور والد صاحب میرے ساتھ ہیں۔

گارجین: سر ہر اس چیز کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ جو آپ نے ہمارے اس  ملک کے لیے کی ہے۔ آپ کا بہت شکریہ۔ اس کے علاوہ مجھے اور کچھ نہیں کہنا ہے۔آپ نے ہر شعبے میں جو کچھ کیا ہے اس کے لیے بھی آپ کا بہت بہت شکریہ

طالب علم: سر مجھ سے زیادہ میری دادی ہر چیز سے باخبر رہتی ہیں۔ آپ کی ہر خبر پر نظر رکھتی ہیں۔ آپ کو فالو کرتی ہیں اور مجھے بتاتی رہتی ہیں کہ آج یہ اعلان ہوا ہے یا آج یہ ہوا ہے۔ وہ آپ کی بہت بڑی مداح ہیں۔

مودی جی:  اچھا تو آپ کی دادی کو ساری سیاست کا علم ہے؟

طالب علم: ہاں سر! دادی کو ساری سیاست کا خوب پتہ ہے۔ سیاسی خبروں سے ہمیشہ باخبر رہتی ہیں۔

مودی جی:  اچھا، آزادی کے اس سال 75 سال پورے ہوئے ہیں۔ کیا آپ لوگ جنگ آزادی میں جس ضلع میں آپ رہ رہے ہیں وہاں کیا واقعات رونما ہوئے تھے؟ آزادی کے وقت وہاں کیا ہوا تھا ؟ اس پر ایک اچھا اور تفصیلی مضمون لکھ سکتے ہیں کیا؟

طالب علم: جی سر! بالکل لکھ سکتے ہیں۔

مودی جی: تحقیق کریں گے

طالب علم: یقیناً سر!

مودی جی: حتمی مانوں نا اسے میں

طالب علم: بالکل سر!

مودی جی:  بہت خوب

گارجین: سر میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں سر۔ سر آپ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہت اچھافیصلہ ہے۔آپ نے ملک کے تما م بچوں کے بارے میں سوچا اور یہ چیز مجھے بہت اچھی لگی۔ میں آپ کی بڑی مداح ہوں۔ آپ نے کشمیر میں جو دفعہ 370 ہٹانے کا فیصلہ کیا سر وہ بھی مجھے بہت اچھا لگا۔ وہ فیصلہ بھی بہت بہترین تھا۔

مودی جی: بہت شکریہ

طالب علم: سر یہ میرے والدین ہیں

مودی جی:  سب کو پتہ چل گیا کہ آپ نے مجھے کیا کیا بتایا ہے، اب آپ کو فالو کرنا پڑے گا۔

گارجین: سر میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ سر آپ کی تمام خوبیوں کا دل سے قدر دان ہوں۔ آپ کی ایمانداری کا بھی قائل ہوں سر۔ لیکن سر ایک گذارش ہے آپ سے کہ ابھی بھی ملک میں جو ایمانداری سے کام کرتے ہیں ان کا بہت زیادہ استحصال کیا جاتا ہے۔اس لیے براہ کرم کچھ ایسی پالیسی وضع کریں کہ ان لوگوں کو احترام کی نظروں سے دیکھا جائے  اور ان کی ایمانداری سے بچے بھی متاثر ہوں ۔ ان کی پیروی کریں اور ان کے نقش راہ کا اختیار کرنے میں فخر محسوس کریں۔

مودی جی: پالیسی تو بنتی ہی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی عادت اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ہم سب مل کر اچھی فضا بنائیں گے تو حالات بہتر ہوں گے۔ سب کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔

مودی جی: 31؟

طالب علم: جے ہند سر!

مودی جی: جے ہند! ہاں بتائیے بیٹا کیا کہنا چاہتی ہو؟

طالبہ: سر میرا نام ارنی ساملے ہے۔ میں اینی بیسینٹ اسکول، اندور سے ہوں۔ سر جو آپ نے ابھی حال ہی میں فیصلہ کیا وہ تو اچھا تھا ہی اس کے ساتھ ہی ...

مودی جی:  آپ کا اندور کس بات کے لیے مشہور ہے؟

طالبہ: صفائی ستھرائی کے لیے

مودی جی: صفائی ستھرائی کے معاملے میں اندور نے جس طرح سے کمال کیا ہے وہ واقعی شاندار ہے اور اس کی شہرت ہر طرف ہے۔ یہ نمبر پوری طرح نظر نہیں آ رہا ۔ آپ کا نمبر پانچ ہے کیا؟

طالب علم:نمسکار سر! سر میں جواہر نودیہ ودیالیہ، منڈی ، ہماچل پردیش سے ہوں۔ سر میرے دادا آپ کے بہت بڑے مداح ہیں۔

مودی جی: آپ کا گاؤں کا واقع ہے؟

گارجین:  ہماچل پردیش کے پاس ضلع منڈی ہے۔ منڈی سے نزدیک ہے آٹھ –نو کلو میٹر .... اور ٹھیک ہیں؟

مودی جی: میں ٹھیک ہوں! پہلے تو مجھے آپ کے یہاں سے سیو بڑی کھانے کو ملتی تھی۔

چلیئے مجھے بہت اچھا لگا، آپ سب لوگوں سے بات کرنے کا مجھے موقع ملااور یہ یقین مزید مضبوط ہوا بھارت کا نوجوان مثبت سوچ کا حامل بھی ہے اور پریکٹیکل بھی۔منفی سوچ کی جگہ آپ لوگ ہر پریشانی اور چیلنج کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی خاصیت ہے۔گھر میں رہ کر آپ تمام نوجوانوں نے جتنی اختراعات کی ہیں،جتنی نئی نئی چیزیں سیکھی ہیں اس نے آپ لوگوں میں نئی خوداعتمادی پیدا کی ہے۔ اور میں دیکھ رہاتھا کیوں کہ آج میں اچانک آ گیا، آپ کو معلوم بھی نہیں تھا پھر بھی بات چیت کے دوران آپ تھوڑا بھی لڑکھڑائے نہیں، جس طرح آپ اساتذہ کے ساتھ یا گارجین کے ساتھ روز باتیں کرتے ہیں اسی طرح آپ لوگوں نے آج مجھ سے بھی باتیں کی ہیں۔یہ جو اپنا پن ہے یہ میرے لیے سرمایہ ہے اور اس سے مجھے بڑی خوشی ملتی ہے۔ میرے لیے یہ تجربہ کافی خوشگوار ہے کہ ملک کے کونے کونے میں بیٹھے بچوں کے ساتھ میں اتنی آسانی سے گفتگو کرپارہا ہوں۔ ورنہ تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دیکھ کر ہی لوگ چونک جاتے ہیں کہ ارے! آپ ہیں۔ پھر وہ بات ہی نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ لوگ پورے اعتماد کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت شاندار تجربہ ہے۔

ساتھیو!

آپ کے تجربات زندگی کے ہر موڑ اور پڑاؤ پر آپ کے بہت کام آنے والے ہیں۔اگر مشکل وقت ہے تو اسے بار بار یاد کرکے رونے اور چیخنے چلانے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ مشکل وقت سے بھی کچھ سیکھا ہوگا، اس سبق کو لے کر آگے بڑھیں گے تو آپ کو طاقت ملے گی۔ آپ جس بھی شعبے میں جائیں گے وہاں کافی کچھ نیا کر پائیں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا اسکول میں، کالج میں، ہمیں ٹیم اسپرٹ کے بارےمیں بار بار کہا جاتا ہے۔ سکھایا جاتا ہے۔متحدہ طاقت کا سبق ہمیں پڑھایا جاتا ہے لیکن کورونا کے مشکل حالات کے درمیان ہمیں ان رشتوں کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے، محسوس کرنے اور زندگی گزارنے کا ایک طریقے سے نیا موقع ملا ہے۔ کیسے ہمارے معاشرے میں ہر کسی نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما، کیسے پورے ملک نے ٹیم اسپرٹ کے جذبے کے ساتھ اتنے بڑے چیلنج کا سامنا کیا ہے۔ ان سب کے تجربات ہم نے حاصل کیے ہیں۔عوام کی شراکت داری اور ٹیم ورک کا تجربہ سے مجھے پورا یقین ہے کہ یہ آپ کو بھی تقویت فراہم کریں گے۔

ساتھیو!

انتہائی مشکل وقت میں بھی اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالتے  ہیں ، تب ہمیں معلوم ہوگا کہ جب بھی میں کسی سے بات کرتا ہوں ، جیسا کہ ابھی میری ایک بیٹی بتا رہی تھی ، اس نے اپنے کنبہ کے دو فرد کو کھو دیا۔یہ  کسی کی بھی زندگی میں معمولی نہیں ہے۔لیکن میں  نے اس کی آنکھوں میں اعتماد کی ایک چمک دیکھی ہے۔ سب کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ایک آفت آئی ہے  لیکن ہم فاتح ہوکر اس آفت سے نکلیں گے۔ہر ہندوستانی کی زبان سے یہی بات نکل رہی ہے کہ یہ عالمی وبا ہے ، پوری صدی میں کبھی ایسی آفت نہیں آئی۔ پچھلی چار پانچ نسلوں میں کسی نے ایسا کچھ سنا نہیں،کسی نے دیکھا نہیں لیکن یہ حالات ہمارے دور میں روبنما ہوئے۔ لیکن پھر بھی ملک کے ہر شہری کی زبان سے ایک ہی جملہ ادا ہوتا ہے کہ نہیں، ہم اس کو بھی شکست دیں گے، ہم اس صورتحال سے بھی نکلیں گے اور نئی توانائیوں کے ساتھ ملک کو آگے لے جائیں گے۔ اور مل کر آگے بڑھنا تو ہمارا عزم ہے اور مجھے پورا بھروسہ ہے کہ آپ جہاں بھی جائیں گےاسی طرح ایک ساتھ مل کرآگے بڑھتے رہیں گے اور ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔

اور جیسا میں نے کہا پانچ جون ماحولیات کا دن ہے۔اپنے ماحول کو بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ کیجیئے کیونکہ زمین کو قدرتی وسائل کا تحفظ ہم پر فرض ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ماحولیات کی حفاظت کریں۔ اسی طرح سے 21 جون، یاد ہے نا بین الاقوام یوم یوگا ہے۔ اور اقوام متحدہ میں بھی جتنے  فیصلے ہوئے ہیں نا ۔یو م یوگا ایسا ہے کہ  دنیا کے سب سے زیادہ ممالک نے اس کی حمایت کی ہے۔اقوام متحدہ میں تقریباً ہر ملک نے اس کی حمایت کی ہے۔پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ تو اس یوم یوگا کے موقع پر آپ بھی اپنے کنبے کے ساتھ یوگ ضرور کریں۔ اسے اپنائیں۔ اور میں نے یہ بھی آپ لوگوں کو بتایا ہے کہ بہت سارے میچز ہیں، اولمپک ہیں، جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک سے کون کون ہونہار کھلاڑی اس بار اولمپک میں حصہ لے رہے ہیں۔اولمپک میں جان والے کھلاڑیوں نے کتنی محنت کی ہے، کیسے مشکل حالات میں وہ آگے آ ئے ہیں۔ یہ سب جاننے سے ہمیں نیا حوصلہ ملتا ہے ، ہمیں ایک نئی طاقت ملتی ہے۔ اور اس کے لیے مجھے یقین ہے کہ تمام نوجوان اس وقت کا زیادہ سے زیادہ اور بہتر استعمال کریں گے۔

کورونا کے اس پرُآشوب دور میں جیسے ٹیکہ کاری کرانی،آپ کے کنبے میں بھی کچھ لوگ ہوں گےجن کی رجسٹری وغیرہ کرنے کا کام آپ کر سکتے ہیں۔ ارد گرد کے لوگوں کی رجسٹری کا کام کریں گے اور جب بھی اور جیسے جیسے ویکسین کی فراہمی ہوتی جائے گی، ویکسین لوگوں کو ملتی جائے گی۔  خدمت کے جذبے سے ہی ضرور کسی نہ کسی کام سے جڑیئے۔میری  طرف سے آپ سب کو نیک خواہشات ۔آپ کے والدین کی آپ پر شفقت بنی رہے۔آپ اپنے خوابوں کو پورا کرنے والے بنیں تاکہ آپ کے والدین کو آپ پر فخر ہو۔ ایسا مجھے پورا یقین ہے۔مجھے بہت اچھا لگا، میں اچانک آپ کے درمیان میں گھس گیا۔ آپ آپس میں  ہنسی مزاق کر رہے تھے، لطائف سنا رہے تھے لیکن میں نے آکرآپ کو تھوڑا ڈسٹرب کردیا۔لیکن مجھے بہت اچھا لگا۔ میں آپ تمام لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں۔

 

بہت بہت شکریہ

 

Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
PM Narendra Modi, President Joe Biden hold first bilateral meeting, say 'new chapter in Indo-US ties has begun'

Media Coverage

PM Narendra Modi, President Joe Biden hold first bilateral meeting, say 'new chapter in Indo-US ties has begun'
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Fact Sheet: Quad Leaders’ Summit
September 25, 2021
Share
 
Comments

On September 24, President Biden hosted Prime Minister Scott Morrison of Australia, Prime Minister Narendra Modi of India, and Prime Minister Yoshihide Suga of Japan at the White House for the first-ever in-person Leaders’ Summit of the Quad. The leaders have put forth ambitious initiatives that deepen our ties and advance practical cooperation on 21st-century challenges: ending the COVID-19 pandemic, including by increasing production and access to safe and effective vaccines; promoting high-standards infrastructure; combatting the climate crisis; partnering on emerging technologies, space, and cybersecurity; and cultivating next-generation talent in all of our countries.

COVID and Global Health

Quad leaders recognize that the most immediate threat to lives and livelihoods in our four countries and the world is the COVID-19 pandemic. And so in March, Quad leaders launched the Quad Vaccine Partnership, to help enhance equitable access to safe and effective vaccines in the Indo-Pacific and the world. Since March, the Quad has taken bold actions to expand safe and effective COVID-19 vaccine manufacturing capacity, donated vaccines from our own supply, and worked together to assist the Indo-Pacific in responding to the pandemic. The Quad Vaccine Experts Group remains the heart of our cooperation, meeting regularly to brief on the latest pandemic trends and coordinate our collective COVID-19 response across the Indo-Pacific, including by piloting the Quad Partnership COVID-19 Dashboard. We welcome President Biden’s September 22 COVID-19 Summit, and acknowledge that our work continues. The Quad will:

Help Vaccinate the World: As Quad countries, we have pledged to donate more than 1.2 billion vaccine doses globally, in addition to the doses we have financed through COVAX. To date we have collectively delivered nearly 79 million safe and effective vaccine doses to the Indo-Pacific region. Our Vaccine Partnership remains on track to expand manufacturing at Biological E Ltd. this fall, so that it can produce at least 1 billion doses of COVID-19 vaccines by the end of 2022. As a first step towards that new capacity, the leaders will announce bold actions that will immediately help the Indo-Pacific in its quest to end the pandemic. We recognize the importance of open and secure supply chains for vaccine production. The Quad welcomed India’s announcement to resume exports of safe and effective COVID-19 vaccines, including to COVAX, beginning in October 2021.

Through $3.3 billion in the COVID-19 Crisis Response Emergency Support Loan program, Japan will continue to help regional countries to procure safe, effective, and quality-assured vaccines. Australia will deliver $212 million in grant aid to purchase vaccines for Southeast Asia and the Pacific. In addition, Australia will allocate $219 million to support last-mile vaccine rollouts and lead in coordinating the Quad’s last-mile delivery efforts in those regions. Quad member countries will coordinate with the ASEAN Secretariat, the COVAX Facility, and other relevant organizations. We will continue to strengthen and support the life-saving work of international organizations and partnerships, including the WHO, COVAX, Gavi, CEPI, and UNICEF; and national governments. At the same time, the leaders are fully committed to strengthening vaccine confidence and trust. To that end, Quad countries will host an event at the 75th World Health Assembly (WHA) dedicated to combatting hesitancy.

Save Lives Now: Together as the Quad, we are committed to taking further action in the Indo-Pacific to save lives now. Japan, through Japan Bank for International Cooperation, will work with India to enhance key investments of approximately $100 million in the healthcare sector related to COVID-19, including vaccine and treatment drugs. We will utilize the Quad Vaccine Experts Group and convene as needed to urgently consult in relation to our emergency assistance.

Build Back Better Health Security: The Quad commits to better preparing our countries and the world for the next pandemic. We will continue to build coordination in our broader COVID-19 response and health-security efforts in the Indo-Pacific, and we will jointly build and conduct at least one pandemic preparedness tabletop or exercise in 2022. We will also further strengthen our science and technology cooperation in support of the 100-Day Mission—to have safe and effective vaccines, therapeutics, and diagnostics available within 100 days—now and into the future. This includes collaboration on current and future clinical trials, such as launching additional sites for the international Accelerating COVID-19 Therapeutic Interventions and Vaccines (ACTIV) trials, which can expedite investigation of promising new vaccines and therapeutics, while at the same time supporting countries in the region to improve their capacity to undertake scientifically sound clinical research. We will support the call for a "global pandemic radar” and will improve our viral genomic surveillance, including by working together to strengthen and expand the WHO Global Influenza Surveillance and Response System (GISRS).

Infrastructure

Building on the G7’s announcement of Build Back Better World (B3W)—an infrastructure partnership focused on digital connectivity, climate, health and health security, and gender equality infrastructure—the Quad will rally expertise, capacity, and influence to strengthen ongoing infrastructure initiatives in the region and identify new opportunities to meet the needs there. The Quad will:

Launch the Quad Infrastructure Coordination Group: Building on existing leadership from Quad partners on high-standards infrastructure, a senior Quad infrastructure coordination group will meet regularly to share assessments of regional infrastructure needs and coordinate respective approaches to deliver transparent, high-standards infrastructure. The group will also coordinate technical assistance and capacity-building efforts, including with regional partners, to ensure our efforts are mutually reinforcing and complementary in meeting the significant infrastructure demand in the Indo-Pacific.

Lead on High-Standards Infrastructure: Quad partners are leaders in building quality infrastructure in the Indo-Pacific region. Our complementary approaches leverage both public and private resources to achieve maximum impact. Since 2015, Quad partners have provided more than $48 billion in official finance for infrastructure in the region. This represents thousands of projects, including capacity-building, across more than 30 countries in support of rural development, health infrastructure, water supply and sanitation, renewable power generation (e.g., wind, solar, and hydro), telecommunications, road transportation, and more. Our infrastructure partnership will amplify these contributions and further catalyze private-sector investment in the region.

Climate

Quad countries share serious concern with the August Intergovernmental Panel on Climate Change’s report findings on the latest climate science, which has significant implications for climate action. To address the climate crisis with the urgency it demands, Quad countries will focus their efforts on the themes of climate ambition, including working on 2030 targets for national emissions and renewable energy, clean-energy innovation and deployment, as well as adaptation, resilience, and preparedness. Quad countries commit to pursue enhanced actions in the 2020s to meet anticipated energy demand and decarbonize at pace and scale to keep our climate goals within reach in the Indo-Pacific. Additional efforts include working together on methane abatement in the natural-gas sector and on establishing responsible and resilient clean-energy supply chains. The Quad will:

Form a Green-Shipping Network: Quad countries represent major maritime shipping hubs with some of the largest ports in the world. As a result, Quad countries are uniquely situated to deploy green-port infrastructure and clean-bunkering fuels at scale. Quad partners will organize their work by launching a Quad Shipping Taskforce and will invite leading ports, including Los Angeles, Mumbai Port Trust, Sydney (Botany), and Yokohama, to form a network dedicated to greening and decarbonizing the shipping value chain. The Quad Shipping Task Force will organize its work around several lines of efforts and aims to establish two to three Quad low-emission or zero-emission shipping corridors by 2030.

Establish a Clean-Hydrogen Partnership: The Quad will announce a clean-hydrogen partnership to strengthen and reduce costs across all elements of the clean-hydrogen value chain, leveraging existing bilateral and multilateral hydrogen initiatives in other fora. This includes technology development and efficiently scaling up the production of clean hydrogen (hydrogen produced from renewable energy, fossil fuels with carbon capture and sequestration, and nuclear for those who choose to deploy it), identification and development of delivery infrastructure to safely and efficiently transport, store, and distribute clean hydrogen for end-use applications, and stimulating market demand to accelerate trade in clean hydrogen in the Indo-Pacific region.

Enhance Climate Adaptation, Resilience, and Preparedness: Quad countries commit to increasing the Indo-Pacific region’s resilience to climate change by improving critical climate information-sharing and disaster-resilient infrastructure. The Quad countries will convene a Climate & Information Services Task Force and build a new technical facility through the Coalition for Disaster Resilient Infrastructure that will provide technical assistance in small island developing states.

People-to-People Exchange and Education

The students of today will be the leaders, innovators, and pioneers of tomorrow. To build ties among the next generation of scientists and technologists, Quad partners are proud to announce the Quad Fellowship: a first-of-its-kind scholarship program, operated and administered by a philanthropic initiative and in consultation with a non-governmental task force comprised of leaders from each Quad country. This program will bring together exceptional American, Japanese, Australian, and Indian masters and doctoral students in science, technology, engineering, and mathematics to study in the United States. This new fellowship will develop a network of science and technology experts committed to advancing innovation and collaboration in the private, public, and academic sectors, in their own nations and among Quad countries. The program will build a foundational understanding among Quad Scholars of one another’s societies and cultures through cohort-wide trips to each Quad country and robust programming with each country’s top scientists, technologists, and politicians. The Quad will:

Launch the Quad Fellowship: The Fellowship will sponsor 100 students per year—25 from each Quad country—to pursue masters and doctoral degrees at leading STEM graduate universities in the United States. It will serve as one of the world’s leading graduate fellowships; but uniquely, the Quad Fellowship will focus on STEM and bring together the top minds of Australia, India, Japan, and the United States. Schmidt Futures, a philanthropic initiative, will operate and administer the fellowship program in consultation with a non-governmental taskforce, comprised of academic, foreign policy, and private sector leaders from each Quad country. Founding sponsors of the fellowship program include Accenture, Blackstone, Boeing, Google, Mastercard, and Western Digital, and the program welcomes additional sponsors interested in supporting the Fellowship.

Critical and Emerging Technologies

Quad leaders are committed to working together to foster an open, accessible, and secure technology ecosystem. Since establishing a new critical and emerging technologies working group in March, we have organized our work around four efforts: technical standards, 5G diversification and deployment, horizon-scanning, and technology supply chains. Today, the Quad leaders launch a statement of principles on technology, along with new efforts that together will advance critical and emerging technologies shaped by our shared democratic values and respect for universal human rights. The Quad will:

Publish a Quad Statement of Principles: After months of collaboration, the Quad will launch a statement of principles on technology design, development, governance, and use that we hope will guide not only the region but the world towards responsible, open, high-standards innovation.

Establish Technical Standards Contact Groups: The Quad will establish contact groups on Advanced Communications and Artificial Intelligence focusing on standards-development activities as well as foundational pre-standardization research.

Launch a Semiconductor Supply Chain Initiative: Quad partners will launch a joint initiative to map capacity, identify vulnerabilities, and bolster supply-chain security for semiconductors and their vital components. This initiative will help ensure Quad partners support a diverse and competitive market that produces the secure critical technologies essential for digital economies globally.

Support 5G Deployment and Diversification: To support the critical role of Quad governments in fostering and promoting a diverse, resilient, and secure telecommunications ecosystem, the Quad has launched a Track 1.5 industry dialogue on Open RAN deployment and adoption, coordinated by the Open RAN Policy Coalition. Quad partners will jointly facilitate enabling environments for 5G diversification, including with efforts related to testing and test facilities.

Monitor Biotechnology Scanning: The Quad will monitor trends in critical and emerging technologies, starting with advanced biotechnologies, including synthetic biology, genome sequencing, and biomanufacturing. In the process, we will identify related opportunities for cooperation.

Cybersecurity

Building on longstanding collaboration among our four countries on cybersecurity, the Quad will launch new efforts to bolster critical-infrastructure resilience against cyber threats by bringing together the expertise of our nations to drive domestic and international best practices. The Quad will:

Launch a Quad Senior Cyber Group: Leader-level experts will meet regularly to advance work between government and industry on driving continuous improvements in areas including adoption and implementation of shared cyber standards; development of secure software; building workforce and talent; and promoting the scalability and cybersecurity of secure and trustworthy digital infrastructure.

Space

Quad countries are among the world’s scientific leaders, including in space. Today, the Quad will begin space cooperation for the first time with a new working group. In particular, our partnership will exchange satellite data, focused on monitoring and adapting to climate change, disaster preparedness, and responding to challenges in shared domains. The Quad will:

Share Satellite Data to Protect the Earth and its Waters: Our four countries will start discussions to exchange Earth observation satellite data and analysis on climate-change risks and the sustainable use of oceans and marine resources. Sharing this data will help Quad countries to better adapt to climate change and to build capacity in other Indo-Pacific states that are at grave climate risk, in coordination with the Quad Climate Working group.Enable Capacity-Building for Sustainable Development: The Quad countries will also enable capacity-building in space-related domains in other Indo-Pacific countries to manage risks and challenges. The Quad countries will work together to support, strengthen, and enhance space applications and technologies of mutual interest.

Consult on Norms and Guidelines: We will also consult on norms, guidelines, principles, and rules for ensuring the long-term sustainability of the outer space environment.