عالی جناب

عزت مآب،

مجھے خوشی ہے کہ برازیل کی سربراہی میں برکس نے ماحولیات اور صحت کی سلامتی جیسے اہم مسائل کو اعلیٰ ترجیح دی ہے۔ یہ موضوعات نہ صرف ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ انسانیت کے روشن مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔

دوستو!

اس سال برازیل میں سی او پی-30کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس سے برکس میں ماحولیات پر متعلقہ اور بروقت گفتگو ہو رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ ہمیشہ ہندوستان کے لیے اولین ترجیحات میں شامل  رہے ہیں۔ ہمارے لیے اس سے مراد  صرف توانائی نہیں ہے، یہ زندگی اور فطرت کے درمیان توازن برقرار رکھنے سے سروکار بھی رکھتا ہے۔ جب کہ کچھ لوگ اسے صرف اعداد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہندوستان میں یہ ہماری روزمرہ کی زندگی اور روایات کا حصہ ہے۔ ہماری ثقافت میں دھرتی کا ماں جیسا احترام کیا جاتا ہے۔ اسی لیے، جب مادر زمین کو ہماری ضرورت ہوتی ہے، تو ہم ہمیشہ اس کے لئے تیار رہتےہیں۔ ہم اپنی ذہنیت، اپنے  طرز سلوک  اور اپنے طرز زندگی کو تبدیل کر رہے ہیں۔

‘‘لوگ، کرہ  ارض  اور ترقی’’ کے جذبے سے رہنمائی لیتے  ہوئے، ہندوستان نے  متعددکلیدی اقدامات شروع کیے ہیں- جیسے مشن لائف (ماحولیات کے  موافق  طرز زندگی)، ‘ایک پیڑ ماں کے نام’،بین الاقوامی شمسی اتحاد، آفات سے تحفظ کے انفرااسٹرکچر کا اتحاد، دی گرین ہائیڈروجن مشن، دی بگ ہائیڈروجن، گلوبل بایو فیوئل الائنس اور دی بگ کیٹ الائنس ۔

ہندوستان کی جی – 20 کی صدارتی میعادکے دوران، ہم نے پائیدار ترقی اور عالمی شمال و جنوب کے درمیان خلیج کو ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ اس مقصد کے ساتھ، ہم نے سبز ترقیاتی معاہدے پر تمام ممالک کے درمیان اتفاق رائے قائم کیا۔ ماحول موافق اقدامات کی حوصلہ افزائی کے لیے ہم نے گرین کریڈٹ انیشیٹو بھی شروع کیا۔

دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہونے کے باوجود، ہندوستان وہ پہلا ملک ہے جس نے پیرس معاہدے میں اپنےوعدوں کو مقررہ وقت سے پہلے پورا  کیا۔ ہم 2070 تک ایک خالص صفر اخراج  کے ہدف کی طرف بھی تیزی سے پیشرفت کر رہے ہیں۔ پچھلی دہائی میں، ہندوستان نے  اپنی شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت میں غیر معمولی 4000فیصد اضافہ  درج کیا ہے۔ ان کوششوں کے ذریعے ہم پائیدار اور سرسبز مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں۔

دوستو!

ہندوستان کے لیے، ماحولیاتی انصاف صرف ایک ا حتیاری فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہندوستان کا یہ پختہ یقین ہے کہ ضرورت مند ممالک کو ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سستی مالی امداد کے بغیر ماحولیاتی اقدام صرف موسمیاتی بات چیت تک ہی محدود رہے گا۔ماحولیاتی عزائم اور موسمیاتی  مالی اعانت کے درمیان فرق کو ختم کرنا ترقی یافتہ ممالک کی خاص اور اہم ذمہ داری ہے۔ ہم تمام اقوام کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو خوراک، ایندھن، کھاد، اور مختلف عالمی چیلنجوں کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان ممالک کو وہی اعتماد ہونا چاہیے جو ترقی یافتہ ممالک کو اپنے مستقبل کی تشکیل کے لئے ہوتا ہے۔ نوع  انسانی  کو پائیدار اور جامع ترقی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک دوہرا معیار برقرار رہے گا۔ آج جاری ہونے والی ‘‘ ماحولیاتی مالیات پر فریم ورک کی اعلامیہ’’ اس سمت میں قابل ستائش قدم ہے۔ ہندوستان اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

دوستو!

کرہ ارض کی صحت اور  نوع انسانی کی صحت گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ کووڈ -19 کی عالمی وباء نے ہمیں یہ سکھایا کہ وائرس کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، اور پاسپورٹ کی بنیاد پر حل کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ اجتماعی کوششوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان نے ‘ایک زمین، ایک صحت’ کے شعار سے ترغیب پا کرتمام ممالک کے ساتھ تال میل کو بڑھایا ہے۔ آج، ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ انشورنس اسکیم ‘‘آیوشمان بھارت’’ والا ملک ہے، جو 500 ملین سے زیادہ لوگوں کے لیے لائف لائن بن چکی ہے۔ روایتی طبی نظام  جیسے آیوروید، یوگا، یونانی اور سدھا کے لیے ساز گار ماحولیاتی نظام قائم کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ کے اقدامات کے ذریعے، ہم ملک کے دور دراز  علاقوں  میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو صحت کی نگہداشت کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ہمیں ان تمام شعبوں میں ہندوستان کے کامیاب تجربات کا اشتراک کرکے خوشی ہوگی۔

مجھے یہ خوشی ہے کہ برکس نے صحت کے شعبے میں تال میل بڑھانے پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔ برکس ویکسین آر اینڈ ڈی سنٹر، 2022 میں شروع کیا گیا، اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ‘‘سماجی طے شدہ بیماریوں کے خاتمے کے لیے برکس کی پارٹنرشپ’’ پر  سربراہان  کا بیان آج جاری کیا جا رہا ہے جو ہمارے  باہمی  تال میل  کو مضبوط کرنے کے لیے نئی تحریک کا کام کرے گا۔

دوستو!

میں آج کی تنقیدی اور تعمیری گفتگو کے لیے تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہندوستان کی آئندہ برکس کی سربراہی میں، ہم تمام اہم مسائل پر مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہمارا مقصد برکس کو تعاون اور پائیداری کے لیے استحکام اور اختراع کی تعمیر کے طور پر نئے سرے سے کھڑا کرنا ہوگا۔ جس طرح ہم نے اپنی جی-20 صدارت میں شمولیت پر توجہ دی  اور گلوبل ساؤتھ کے خدشات کو ایجنڈے میں سب سے مقدم  رکھا، اسی طرح، برکس کی اپنی صدارت کے دوران، ہم اس فورم کو لوگوں پر مرکوز نقطہ نظر اور ‘انسانیت سب سے مقدم ہے’ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔

میں ایک بار پھر، صدر لولا کو اس کامیاب برکس سربراہی اجلاس پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

 اعلان دستبرداری  - یہ وزیر اعظم کے  بیانات  کا تخمینی ترجمہ ہے۔ اصل بیانات  ہندی زبان میں دیے گئے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry

Media Coverage

How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi Chairs Second High-Level Meeting with Secretaries of Government of India
July 28, 2026
Sectors discussed: Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology
PM emphasises the need to break both horizontal and vertical silos within the Government
PM emphasises the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors
PM encourages greater participation of young innovators and entrepreneurs in cybersecurity ecosystem
PM Stresses Proactive Outreach on Strategic Sectors to Counter Misinformation
PM says Govt must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation
Secretaries share experiences and perspectives on key initiatives, emerging opportunities and implementation challenges

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the second high-level meeting with Secretaries to the Government of India at his residence at 7, Lok Kalyan Marg earlier today. He reviewed the future action agenda of Ministries and Departments dealing with Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology sectors. The meeting focused on accelerating progress towards the goals of Viksit Bharat.

Prime Minister called for a strong focus on team building across Ministries and Departments, urging officers to work with a shared sense of purpose. He emphasised the need to break both horizontal and vertical silos within the Government so that departments function in close coordination and deliver integrated outcomes.

Highlighting the importance of citizen-centric governance, Prime Minister said that the people of India must remain at the centre of governance. He reminded that every decision and policy should be guided by the interests and aspirations of the common citizen.

Prime Minister stressed that while India is making significant investments in infrastructure, equal priority must be given to developing indigenous technologies. He underscored the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors.

Prime Minister underlined that energy security is closely linked with national security, economic stability and citizens’ welfare. Prime Minister said India must achieve self-reliance in the energy sector through innovation, diversification and accelerated capacity creation.

Emphasising that reforms are not merely a fashionable term but a continuous necessity for effective governance, Prime Minister stressed the need to reform processes, improve work culture and strengthen institutional efficiency.

Prime Minister said that growing use of technology must be accompanied by a strong focus on cybersecurity to safeguard digital systems and infrastructure. He stressed the need for constant vigilance against emerging cyber threats. He called for encouraging greater participation of young innovators and entrepreneurs in the cybersecurity ecosystem and emphasised that it should evolve into a nationwide movement.

Prime Minister also emphasised the importance of proactive communication on strategic sectors where the country is undertaking major initiatives, to counter misinformation and unfounded fears surrounding such efforts.

Prime Minister says that new academic courses should be planned in partnership with industry to equip the workforce with skills required by emerging and future industries. He also observed that a government must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation.

The meeting featured detailed discussions by Secretaries on the progress, priorities and implementation issues across their respective domains. The meeting was attended by the Cabinet Secretary, Secretaries of key Ministries and Departments, and senior officials from the Prime Minister’s Office.