’’آپ اختراع کار حضرات ’جے انوسندھان ‘کے نعرے کے پرچم بردار ہیں‘‘
’’آپ کا اختراع پسند طرز فکر ہندوستان کو آئندہ 25 برسوں کے دوران بام عروج پر لے جائے گا‘‘
ہندوستان کاپُر امنگ معاشرہ آنے والے 25 برسوں میں اختراع کے لئے محرک کے طور پر کام کرےگا
’’آج ہندوستان میں صلاحیت کا انقلاب جنم لے رہا ہے ‘‘
’’کام کرنے کے طریقے سے زندگی گزارنے کے طریقےکی سمت میں تحقیق اور اختراع میں انقلابی تبدیلی آنا چاہئے‘‘
’’ہندوستان کے اختراع کار ہمیشہ سب سے زیادہ مسابقتی ،کفایتی ،پائیدار ،محفوظ اور اعلیٰ درجے کی تدابیر فراہم کرتے ہیں ‘‘
’’21ویں صدی کا بھارت اپنے نوجوانوں پر مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ‘

نوجوان ساتھیو،

یقیناًآپ تمام اختراع کاروں سے مل کراور بات کرکے بڑی خوشی ہوئی ۔آپ جس طرح  نئی بلندیوں کوچھورہے ہیں اوراپنے کاموں میں جدت لارہے ہیں اور جس خود اعتمادی سے آپ اپنا کام کرتے ہیں ،یہ خود میرے اور دیگرافراد کے لئے ترغیب کا باعث ہے ۔آپ کو لوگوں کے لئے ترغیب کا باعث بننے پرمبارکباد دیتاہوں ۔

اسمارٹ انڈیا ہیکاتھون میں عوام کی شرکت، ایک بہترین مثال ہے ۔ اس مرتبہ کا اسمارٹ انڈیا ہیکاتھون کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے ۔ اب سے کچھ دن قبل ہم نے آزادی کے 75سال مکمل کئے ہیں ۔ آزادی کے 100سال مکمل ہونے پرہمارا ملک کیسا ہوگا اس کے لئے ملک بڑے بڑے  عزائم پرکام کررہاہے ۔ ان عزائم کی تکمیل کے لئے ‘‘جئے انوسندھان ’’اس نعرے کے پرچم بردار آپ سبھی اختراع کا رہیں ۔

امرت کال کی پچیس سال کی  یہ مدت  آپ کے لئے بے پناہ امکانات لے کرآیاہے ۔ یہ امکانات اور یہ عزم براہ راست آپ کے کیریئرکی ترقی سے بھی جڑے ہیں ۔ اگلے پچیس برسوں میں آپ نوجوانوں کی کامیابی ہندوستانی کی کامیابی طے کریگی ۔ آپ کی کامیابی پر مجھے پورایقین ہے ۔ ہندوستان کو آپ پرفخرہے ، آپ تمام کی اختراعی ذہنیت آئندہ پچیس برسوں میں ہندوستان کواعلیٰ مقام پرلے جائیگا ۔ آپ تمام پرمیرے یقین کی  پختہ وجوہات بھی ہیں ۔

ساتھیو،

رواں سال 15اگست کو میں نے لال قلعہ سے کہاتھا کہ ہندوستان میں متاثرکن سوسائٹی تیارہورہی ہے، اس کی توسیع ہورہی ہے ۔اس سنہرے دور میں یہ متاثرکن سوسائٹی ایک ڈرائیونگ فورس کی طرح کام کرے گی ۔ اس کی توقعات  ، اس سے جڑے ہوئے چیلنجیز آپ کے لئے متعدد نئے مواقع پیداکریں گے ۔

ساتھیو،

 آپ سبھی نے اپنی تعلیم کے شروعاتی دورمیں پڑھاہوگا کہ 60سے 70کی دہائی میں سبز انقلا ب کاجنم ہواتھا ۔ ہندوستان کے کسانو ں نے  اپنی طاقت دکھائی ہے اورہمیں خوراک کے معاملے میں خود کفیل بنادیاہے ۔ لیکن آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ سات آٹھ برسوں میں ملک  ایک کے بعد ایک انقلابی کام کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہاہے ۔

ہندوستان میں آج بنیاد ی ڈھانچے کے کاموں میں زبردست تبدیلی آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ صحت کے شعبو ں میں انقلاب آرہاہے ۔ ڈجیٹل شعبے میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔ مزید یہ کہ ٹکنالوجی میں بھی ہم آگے بڑھ رہے ہیں ۔ہندوستان میں آج مہارت ، صلاحیت ، زراعت ، تعلیم ، دفاعی شعبے میں انقلاب لانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا زور ہرشعبے کو جدید تراور خود کفیل بنانے پرہے ۔ اس لئے آج آپ سبھی نوجوانوں کے لئے ہردن نئے مواقع پیداہورہے ہیں ۔

ڈرون ٹکنالوجی ، ٹیلی –کنسلٹیشن ، ڈجیٹل انسٹی ٹیوشنس ، ورچوئل سالیوشنس ان تمام میں خدمات سے مینوفیکچرنگ تک آپ کے لئے بڑے امکانات ہیں ۔ آپ تمام نوجوان زراعت اور صحت کے شعبے میں ڈرون ٹکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے نئے نئے سالیوشنس پرکام کرسکتے ہیں ۔اپنے آب پاشی کے آلات کو ، آبپاشی کے نیٹ ورک کو ہم کس طرح اسمارٹ بناسکتے ہیں ، اس میں بھی بڑے امکانات ہیں ۔

ساتھیو،

آج ملک کے ہرگاؤں میں آپٹیکل بچھانے کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے ۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہندوستان میں 5جی کی شروعات ہورہی ہے۔ اس دہائی کے آخرتک ہم 6جی کی شروعات کی تیاری کررہے ہیں ۔ حکومت گیمنگ اور انٹرٹینمنٹ میں بھی ہندوستانی سالیوشنس کوفروغ دے رہی ہے ۔ حکومت ان تمام نئے شعبوں پر سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے ۔ان تمام چیزوں سے نوجوانوں کو مستفید ہونا چاہیئے ۔

ساتھیو،

آپ کوایک اوربات یادرکھنی ہے دنیا میں ایک بہت بڑی آبادی ہے جن کے مسائل ہندوستان ہی جیسے ہیں ۔لیکن وہاں ان مسائل کے حل کے لئے اختراع اور اسٹارٹ اپس کے امکانات محدود ہیں ۔ ہندوستان کا انوویشن دنیا میں سب سے زیادہ مسابقت ، کفایتی ، دیرپا ، محفوظ اور بڑے پیمانے پر نافذ ہونے والے حل فراہم کرتے ہیں ۔ اس لئے دنیا کی امیدیں آپ جیسے نوجوانوں سے ہیں ۔

ساتھیو ،

آج کے اس پروگرام میں ہمارے ساتھ تعلیمی دنیا کی بڑی شخصیات اورپالیسی ساز بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ہندوستا ن میں اختراع کے کلچر کو بڑھانے کے لئے ہمیں دوامور، سماجی اور ادارہ جاتی مدد پر مسلسل توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح صنعت کے تعلق سے معاشرے کے نظریئے میں تبدیلی آرہی ہے ۔ ہم کیریئر بنانے کے روایتی متبادل کے علاوہ نئے شعبوں میں بھی اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ یعنی سماج میں پیشے کے طورپر اختراع کے شعبے میں کام کرنے کی دلچسپی میں اضافہ ہواہے ۔ ایسے حالات میں ہمیں نئے خیالات اور اصل سوچ کی مدد کرنے کے ساتھ ان کا احترام کرنا ہوگا۔ تحقیق اوراختراع کو وے آف ورکنگ سے وے آف لیونگ بناناہوگا۔

ساتھیو ،

حکومت تحقیق اوراختراع کی سمت میں ادارہ جاتی مدد کو فروغ دینے کے لئے مسلسل کام کررہی ہے ۔نئی قومی تعلیمی پالیسی میں اس طرح کے لئے ایک مضبوط بنیاد تیارکرنے کا خاکہ ہے ۔اٹل انکیوبیشن مشن کے تحت قائم ہورہے اٹل ٹنکرنگ لیبس اسکولو ں میں اختراع کا روں کی ایک نئی نسل تیارہو رہی ہے ۔ ملک میں آئی –کری ایٹ جیسے  ادارے بھی  کامیابی کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ جو اب تک 500سے زیادہ اسٹارٹ اپس کو مدد کرچکےہیں ۔

ساتھیو،

اکیسویں صدی میں آج کا ہندوستان اپنے نوجوانوں  پر بھرپوراعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اختراعی اشاریئے میں بھارت کی رینکنگ بڑھ گئی ہے ۔ پچھلے 8برسوں میں پیٹنٹ کی تعداد میں سات گنا کا اضافہ ہواہے ۔ یونیکارن کی تعداد بھی بڑھ کر 100سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ ہرمسائل کا حل سرکارکے پاس ہے ، اب ہم اس پریقین نہیں رکھتے ہیں ۔ آپ دیکھئے میں توحکومت کو آپ کے پاس لے کر آیاہوں ۔ حکومت کے ان مسائل کا حل میرے نوجوان دے رہے ہیں ۔ آپ کی طاقت کومیں بخوبی سمجھتاہوں ۔ آج کی نوجوان نسل زیادہ تیز اور اسمارٹ سالیوشن کے ساتھ آگے آرہی ہے ۔

اس ہیکاتھون کے انعقاد کا مقصد یہ بھی ہے کہ حکومت جن مسائل کا حل چاہتی ہے ، اسے ملک کے نوجوان  سمجھیں اور اس کے اسباب اور اس سے نجات کے راستے تلاش کریں اور اسے حل کرنے کی کوشش کریں ۔ طلباء حکومت اور پرائیویٹ اداروں کے درمیان تعاون  اور سب کی کوششوں کے یہ جذبے ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے لازمی ہے ۔

ساتھیو،

مجھے پورا یقین ہے کہ آپ تمام ان باتوں کا خیال کریں گے اور اختراع کے اس چراغ کو ایسی ہی روشن کرتے رہیں گے ۔ میں آپ کو اس بات کی یقین دہانی کراتاہوں کہ حکومت آپ کی محنت اورکوشش کی مسلسل حمایت کریگی ۔حکومت ہرقدم پرآپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔

یہاں پرموجود سبھی نوجوانوں کی باتیں سن کر ہمیں بھی کچھ سیکھنے کا موقع ملاہے ۔آپ کے پاس بہت کچھ ہے۔ میں نے ہرشخص کی بات نہیں سنی ہے ۔ نوجوانوں کی نمائندگی کررہے کچھ افراد سے بات ہوئی ۔جن سے بات نہیں ہوئی ہے ان کا بھی کام کم نہیں ہے ، ان کی کوشش کم نہیں ہے اور میں آپ کو یقین  دلاتاہوں کہ اپنے محکمے کے ذریعہ مختصراً ان کے آراء کو جاننے کی کوشش کروں گا ۔ آپ لوگوں نے جو کام کیاہے اس کو سمجھنے کی کوشش کروں گا ، جن لوگوں سے بات نہیں ہوئی ہے ،ان کا کا م بھی اتنا ہی اہم ہے ۔

میں سبھی نوجوانوں کو دلی مبارکباد پیش کرتاہوں ۔ حکومت کے کام میں ہمیشہ کھڑے رہنا اورعوام کی فلاح وبہبود کے لئے اس مہم میں مسلسل آگے بڑھنے کی میری دعائیں اورنیک تمنائیں ۔

بہت بہت شکریہ ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.