Share
 
Comments
Pipeline would improve the ease of living for the people of Kerala and Karnataka : PM
Blue Economy is going to be an important source of Aatamnirbhar India : PM


کیرل کے گورنر ، عارف محمد خان جی، کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا جی، کیرلہ کے وزیراعلیٰ جناب پینارائی وجیئن جی، کرناٹک کے وزیراعلیٰ جناب بی ایس یدیورپا جی، مرکزی وزرائے کے میرے رفقائے کار جناب دھرمیندر پردھان جی، پرہلاد جوشی جی ، وی مرلی دھرن جی، رکن پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی، بھائیوں اور بہنوں۔

450 کلو میٹر طویل کوچی- مینگلورو قدرتی گیس پائپ لائن کو قوم کے نام وقف کرنا ایک اعزاز ہے۔ بھارت کے لیے اور خاص طور پر کیرلہ اور کرناٹک کے عوام کے لیے یہ دن بہت اہم ہے۔ ان دو ریاستوں کو قدرتی گیس کے پائپ لائن سے جوڑا جا رہا ہے۔ سبھی متعلقہ فریقوں کو بھی مبارکباد کہ انہوں نے صاف ستھری توانائی کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کےلیے اقدامات کیے۔ اس پائپ لائن کا ان دونوں رایاستوں کی اقتصادی ترقی پر مثبت اثر ہوگا۔

ساتھیو،

 

کوچی –مینگلورو پائپ لائن اس بات کی بہت بڑی مثال ہے کہ ترقی کو ترجیح دیتے ہوئے، سبھی مل کر کام کریں، تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں۔ یہ پروجیکٹ سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ انجینئرنگ کے لحاظ سے اسے پورا کرنا کتنا مشکل تھا۔ پروجیکٹ میں دیگر کئی مشکلات بھی درپیش آئیں۔ لیکن ہمارے مزدوروں، ہمارے انجینئروں ، ہمارے کسانوں اور ریاستی سرکاروں کی مدد سے یہ پائپ لائن مکمل ہوئی۔ کہنے کو یہ صرف ایک پائپ لائن ہے، لیکن دونوں ریاستوں کی ترقی کورفتار دینے میں اس کا بہت بڑا رول ہونے والا ہے۔ کیوں آج ملک گیس پر مبنی معیشت پر اتنا زور دے رہا ہے؟ کیوں، ایک ملک ، ایک گیس گرڈ، پر اتنی تیزی سے کام ہو رہا ہے؟ کیوں خود کفیل بھارت کے لیے گیس پر مبنی معیشت کی تیزی سے توسیع بہت ضروری ہے؟ وہ صرف اس ایک پائپ لائن کے فائدوں سے سمجھ میں آجائے گا۔

پہلا – یہ پائپ لائن دونوں ریاستوں میں لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کو آسان بنانے میں اضافہ کرے گی۔ دوسرا – یہ پائپ لائن دنوں ہی ریاستوں کے غریب ، اوسط درجے اور صنعت کاروں کا خرچ کم کرے گی۔ تیسرا – یہ پائپ لائن بہت سے شہروں میں شہر کے گیس تقسیم کے نظام میں اس کا ایک ذریعہ بنے گی۔چوتھا - یہ پائپ لائن بہت سے شہروں میں سی این جی پر مبنی ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کی بنیاد بنے گی۔ پانچواں– یہ پائپ لائن مینگلور کیمیکل اور فرٹی لائزر پلانٹ کو توانائی فراہم کرے گی، کم خرچ میں کھاد بنانے میں مدد کرے گی، کسان کو مدد دے گی۔ چھٹا – یہ پائپ لائن مینگلور ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل کو توانائی فراہم کرے گی، انہیں صاف ایندھن دے گی۔ ساتواں – یہ پائپ لائن دونوں ہی ریاستوں میں آلودگی کم کرنے میں بڑا رول نبھائے گی۔ آٹھواں – آلودگی کم ہونے کا براہ راست اثر ہوگا ماحولیات پر، جتنی کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج اس سے کم ہوگا، وہ لاکھوں درخت لگانے کے بعد ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

ساتھیو،

 

نواں فائدہ یہ کہ ماحولیات بہتر ہونے سے لوگوں کی صحت بھی اچھی رہے گی، بیماری پر ہونے والا ان کا خرچ بھی کم ہوگا۔ دسواں – جب آلودگی کم ہوگی، ہوا صاف – ستھری ہوگی، شہر میں گیس پر مبنی انتظامات ہوں گی تو اور زیادہ سیاح آئیں گے، سیاحتی شعبے کو بھی اس کا فائدہ ہوگا اور ساتھیو، اس پائپ لائن کے دو اورفائدے ہیں جن کا ذکر بہت ضروری ہے۔ اس پائپ لائن کی تعمیر کے دوران 12 لاکھ دن کا روزگار پیدا ہوا ہے۔ پائپ لائن کے شروع ہونے کے بعد بھی روزگار اور خود روزگار کا ایک نیا معاشی نظام کیرلہ اور کرناٹک میں بہت تیزی سے فروغ پائے گا۔ فرٹی لائزر صنعت ہوں، پیٹروکیمیکل صنعت ہوں، بجلی صنعت ہوں، ہر صنعت اس سے فائدہ حاصل کرے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ساتھیو،

اس پائپ لائن کا ایک اور بڑا فائدہ پورے ملک کو ہوگا۔ جب یہ پائپ لائن پوری صلاحیت سے کام کرنا شروع کر دے گی تو ملک کی ہزاروں کروڑ کی غیر ملکی رقم خرچ ہونے سے بھی بچے گی۔ بھارت کوپ – 21 کے نشانوں کے سلسلے میں جس سنجیدگی سے کام کر رہا ہے، یہ کوشش ہمیں اس میں بھی مدد دے گی۔

ساتھیو،

دنیا بھر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 21ویں صدی میں جو بھی ملک ، اپنی کنکٹیویٹی پر اور کلین اینرجی پر سب سے زیادہ زور دے گا ، تیزی سے کام کرے گا، وہ تیزی سے نئی اونچائی پر پہنچے گا۔ آج آپ جس محاذ پر بھی دیکھیں، ہائی وے کنکٹیویٹی، ریل کنکٹیویٹی ، میٹرو کنکٹیویٹی ، ایئر کنکٹیویٹی، واٹر کنکٹیویٹی، ڈیجیٹل کنکٹیویٹی یا پھر گیس کنکٹیویٹی، بھارت میں جتنا کام ابھی ہو رہا ہے، ایک ساتھ سبھی شعبوں میں اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایک بھارتی کے طور پر یہ ہم سبھی کی خوش نصیبی ہے کہ ہم یہ ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، ہم سبھی ترقی کی اس نئی مہم کا حصہ ہیں۔

بھائیوں اور بہنوں،

پچھلی صدی میں بھارت جس بھی رفتار سے چلا، اس کی اپنی وجہیں رہی ہے۔ میں ان کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن اتنا طے ہے کہ آج کا نوجوان بھارت ، دنیا پر چھا جانے کے لیے مضطرب بھارت، اب ہلکے نہیں چل سکتا۔ اس لیے ہی گزشتہ برسوں میں ملک نے رفتار بھی بڑھائی ہے اور پیمانے میں بھی اضافہ کیا ہے، اور ساتھ ساتھ گنجائیش میں بھی اضافہ کیا ہے۔

ساتھیو،

 

بھارت کی نئی نسل کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر چیزوں کو پرکھتی ہے اور اس کی کامیابی، ناکامی کا تقابلی شکل میں بھی تجزیہ کرتی ہے۔ اور ہر ایک بات کو منطق اور حقیقت کی بنیاد پر تسلیم کرتی ہے۔ بھارت نے گیس پر مبنی معیشت کے سلسلے میں ابھی جو کام ہو رہا ہے اس میں بھی کئی منطق اور حقائق بہت ہی اہم ہیں۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں پہلی بین ریاستی قدرتی گیس پائپ لائن سال 1987 میں کمیشن ہوئی تھی۔ اس کے بعد سال 2014 تک، یعنی 27 سال میں بھارت میں 15 ہزار کلومیٹر قدرتی گیس پائپ لائن بنی۔ آج ملک بھر میں، مشرق – مغرب – شمال – جنوب ، 16 ہزار کلو میٹر سے زیادہ نئی گیس پائپ لائن پر کام چل رہا ہے۔ یہ کام اگلے 4 سے 6 برس میں پورا ہونے والا ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جتنا کام 27 برس میں ہوا ، ہم اس سے زیادہ کام ، اس کے آدھے وقت میں کرنے کا نشانہ لے کر چل رہے ہیں۔

ساتھیو،

اسی طرح ایک اور مثال ہے سی این جی اسٹیشن کی۔ ہمارے ملک میں پہلا سی این جی اسٹیشن 1992 کے آس پاس شروع ہوا تھا۔ سال 2014 تک 22 سال میں ہمارے ملک میں سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد 900 سے زیادہ نہیں تھی۔ جبکہ پچھلے 6 سال میں 1500 کے قریب نئے سی این جی اسٹیشن شروع ہوئے ہیں۔ اب حکومت اس نشانے پر کام کر رہی ہے کہ ملک بھر میں سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد کو 10 ہزار تک پہنچایا جائے۔ ابھی جو یہ پائپ لائن شروع ہوئی ہے، یہ بھی کیرلہ اور کرناٹک کے بہت سے شہروں میں 700 سی این جی اسٹیشن کھولنے میں مدد کرے گی۔

ساتھیو،

ایک اور دلچسپ اعداد و شمار ہیں پی این جی کنکشن کے، رسوئی میں پائپ سے جو گیس پہنچائی جاتی ہے، اس کا۔ سال 2014 تک ہمارے ملک میں صرف 25 لاکھ پی این جی کنکشن تھے۔ آج ملک میں 72 لاکھ سے زیادہ گھروں کی رسوئی میں پائپ سے گیس پہنچ رہی ہے۔ کوچی – مینگلورو پائپ لائن سے 21 لاکھ مزید نئے لوگ پی این جی سہولت کا فائدہ حاصل کر پائیں گے۔ بھائیوں اور بہنوں، لمبے وقت تک بھارت میں ایل پی جی فراہمی کی صورتحال کیا رہی ، یہ ہم سبھی جانتے ہیں۔ سال 2014 تک جہاں 14 کروڑ ایل پی جی کنکشن ملک بھر میں تھے، وہیں پچھلے 6 برسوں میں اتنے ہی نئے کنکشن اور دیئے گیے ہیں۔ اجولا یوجنا جیسی اسکیم سے ملک کے 8 کروڑ سے زیادہ غریب کنبوں کے گھر رسوئی گیس تو پہنچی ہی ہے، ساتھ ہی اس سے ایل پی جی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ بھی ملک بھر میں مضبوط ہوا۔ ساتھیو، یہ ایک بڑی وجہ رہی کہ کورونا وبا میں ملک میں رسوئی گیس کی قلت کبھی نہیں ہوئی۔ غریب سے غریب کو ہم اس مشکل وقت میں تقریباً 12 کروڑ مفت سلنڈر فراہم کرا رہے تھے۔

ساتھیو،

حکومت کی ان کوششوں کا اتنی تیزی سے کیے جانے والے کاموں کا ایک اور اثر ہوا ہے۔ اس کی ذکر اتنا ہو نہیں پاتا۔ یاد کیجیے ہمارے یہاں کیروسین کے سلسلے میں کتنی لمبی لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں۔ ریاستی سرکاریں، بھارت سرکار کو خط لکھتی تھیں، کیروسن کا کوٹا بڑھانے کے لیے ۔ کیروسین کی فراہمی کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان ہمیشہ کشیدگی رہتی تھی۔ آج جب رسوئی کے لیے گیس آسانی سے مل رہی ہے، رسوئی تک گیس آسانی سے پہنچ رہی ہے، تو کیروسین کی قلت بھی کم ہوئی ہے۔ آج ملک کے کئی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے خود کو کیروسین سے پاک ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دوستو،

حکومت کی ان کوششوں کا اتنی تیزی سے کیے جانے والے کاموں کا ایک اور اثر ہوا ہے۔ اس کی ذکر اتنا ہو نہیں پاتا۔ یاد کیجیے ہمارے یہاں کیروسین کے سلسلے میں کتنی لمبی لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں۔ ریاستی سرکاریں، بھارت سرکار کو خط لکھتی تھیں، کیروسن کا کوٹا بڑھانے کے لیے ۔ کیروسین کی فراہمی کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان ہمیشہ کشیدگی رہتی تھی۔ آج جب رسوئی کے لیے گیس آسانی سے مل رہی ہے، رسوئی تک گیس آسانی سے پہنچ رہی ہے، تو کیروسین کی قلت بھی کم ہوئی ہے۔ آج ملک کے کئی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے خود کو کیروسین سے پاک ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دوستو،

ہماری حکومت توانائی سے متعلق منصوبے کے لیے ایک مربوط نظریے میں یقین رکھتی ہے۔ ہمارا توانائی سے متعلق ایجنڈا پوری طرح سب کی شمولیت والا ہے۔ 2014 سے ہم نے تیل اور قدرتی گیس کے شعبے میں مختلف اصلاحات کیے ہیں۔ ان اصلاحات میں تلاش اور پیداوار ، قدرتی گیس، مارکیٹنگ اور تقسیم کو شامل کیا ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم ایک ملک ، ایک گیس گرڈ کا نشانہ حاصل کریں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ گیس پر مبنی ایک معیشت میں منتقل ہو جائیں۔ قدرتی گیس کے استعمال کے بہت سے ماحولیاتی فائدے ہیں۔ حکومت پالیسی پر مبنی اقدامات کر رہی ہے کہ بھارت کی توانائی کی ضرورت میں قدرتی گیس کے حصے میں اسے 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کیا۔ محض ان دہائی میں قدرتی گیس کے شعبے میں کروڑوں روپے کا سرمایہ کرایا جائے گا۔ گیل کی اس کوچی – مینگلورو قدرتی گیس پائپ لائن کی اس پائپ لائن کو قوم کے نام وقف کیا جانا ایک ملک ، ایک گیس گرڈ کی جانب ہمارے سفر کا حصہ ہے۔ صاف ستھری توانائی ، ایک بہتر مستقبل کے لیے اہم ہے۔ اس پائپ لائن سے صاف ستھری توانائی کی بہتری میں مدد ملے گی۔ ہماری حکومت دیگر شعبوں میں بھی بہت سی کوششیں کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر سوچھ بھارت تحریک ایل ای ڈی بلبس یا بجلی کو لانے لے جانے کی کوششوں میں اضافہ۔

ساتھیو،

آج کوشش یہ ہے کہ ملک کو مستقبل کی ضرورتوں، مستقبل کی توانائی کی ضرورتوں کےلیے آج سے ہی تیار کیا جائے۔ اس لیے، ایک طرف ملک میں قدرتی گیس پر توجہ دی جا رہی ہے تو دوسری طرف ملک اپنے توانائی کے وسائل میں بھی تنوع لا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں گجرات میں دنیا کے سب سے بڑے قابل تجدید تونائی پلانٹ کا کام شروع ہوا ہے۔ اسی طرح آج ملک میں ہی بایو ایندھن پر بہت بڑے پیمانے پر کام چل رہا ہے۔ گنا ہو یا دیگر زرعی پیداوار ہو ان سے ایتھنول کی پیداوار پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ اگلے 10 سال میں پیٹرول میں ہونے والی ایتھنال بلینڈنگ کو 20 فیصد تک کرنےکا نشانہ رکھا گیا ہے۔ یہی نہیں الیکٹرکس موبیلیٹی سے متعلق شعبے کو ، اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بھی بہت زیادہ فروغ دیا جا رہا ہے۔ ملک کے ہر شہری کو وافر ، سستا، آلودگی سے پاک ایندھن ملے، بجلی ملے، اس کےلیے ہماری حکومت پوری عہدبستگی سے کام کر رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ملک کی متوازن اور تیز رفتار ترقی کی سوچ ہمارے ساحلی علاقے کی ترقی کے سلسلے میں واضح طور سے نظر آتی ہے۔ کیرلہ ہو، کرناٹک ہو، جنوبی بھارت کے ہر ریاست میں جو سمندر سے متصل ہیں، وہاں بحری معیشت کی ترقی کےلیے ایک جامع منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ بحری معیشت آتم نربھر بھارت کا ایک بہت بڑاوسیلہ بننے والا ہے۔ ہماری بندرگاہیں ہوں، ساحلی سڑکیں ہوں، ان کو دوسرے ذرائع سے مربوط کیا جا رہا ہے۔ ملٹی ماڈل کنکٹیویٹی پر ہماری خاص توجہ ہے۔ ہمارا ساحلی خطہ، لوگوں کے لیے زندگی کو آسان بنانےکا بھی ماڈل ہو رہا ہے۔ کاربار کرنے میں آسانی بھی بہترین ہو، اسی نشانے کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

سمندری کنارے پر آباد ایک بڑی آبادی ہمارے کسانوں کی ہے، ہمارے ماہی گیر ساتھیوں کی ہے۔ یہ سبھی ساتھی سمندری خزانے پر منحصر ہی نہیں ہیں، بلکہ اس کے بہت بڑے محافظ بھی ہیں۔ اس لیے پورے ساحلی ایکو- سسٹم کی حفاظت اور خوشحالی بہت ضروری ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس کے لیے بہت سے بامعنی اقدامات کیے گیے ہیں۔ ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے ضروری مدد ہو، ماہ پروری کا الگ محکمہ بنانا ہو، ماہی تجارت سے وابستہ ساتھیوں کو بھی سستے قرض کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ دینا ہو، اس سے عام سے عام ماہی گیر ساتھی کو بھی فائدہ مل رہا ہے۔ کچھ مہینے پہلے ملک میں 20 ہزار کروڑ روپے کی فیشریز اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ کیرلہ اور کرناٹک کے لاکھوں ماہی گیر ساتھیوں کو ہونے والا ہے۔ آج مچھلی سے متعلق برآمدات میں ہم تیزی سے آگے بڑھ ہی رہے ہیں، ایک معیاری ڈبہ بند سمندری غذا کا مرکز بھارت ہو، اس کےلیے بھی ہر ضروری قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ دنیا میں سی ویڈ کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کو پورا کرنے میں بھارت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ سی ویڈ فارمنگ کےلیے کسانوں کی جتنی زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے گی، اتنی ہی تیزی سے اس شعبے میں بھی ہم آگے بڑھیں گے۔

ہم یکجا ہوکر، پرعزم جذبات کے ساتھ کام کریں گے، تبھی ہم ہر قومی نشانے کو تیزی سے حاصل کر پائیں گے۔ ایک بار پھر کوچی – مینگلورو گیس پائپ لائن کے لیے کیرالہ اور کرناٹک کے سبھی شہری بھائیوں- بہنوں کو، اس کام سے وابستہ سبھی معزز حضرات کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں، بہت بہت نیک خواہشات دیتا ہوں۔

شکریہ!

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India's FDI inflow rises 62% YoY to $27.37 bn in Apr-July

Media Coverage

India's FDI inflow rises 62% YoY to $27.37 bn in Apr-July
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Press Release on Arrival of Prime Minister to Washington D.C.
September 23, 2021
Share
 
Comments

Prime Minister Shri Narendra Modi arrived in Washington D.C.(22 September 2021, local time) for his visit to the United States of America at the invitation of His Excellency President Joe Biden of the USA.

Prime Minister was received by Mr. T. H. Brian McKeon, Deputy Secretary of State for Management and Resources on behalf of the government of the USA.

Exuberant members of Indian diaspora were also present at the Andrews airbase and they cheerfully welcomed Prime Minister.