آج ہم حکمرانی کے جس بنیادی اصول پر عمل کر رہے ہیں وہ ’ناگرک دیوو بھوا‘ ہے جس کا بنیادی مقصد عوامی خدمات کو زیادہ اہل ، شہریوں کے لیے زیادہ حساس بنا نا ہے: وزیر اعظم
آج کا ہندوستان امنگوں والا ہے ، ہر شہری کے خواب اور اہداف ہیں اور ان خوابوںکو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے: وزیر اعظم
ہر فیصلہ لینے سے پہلے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا فرض ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے تو ہمارے فیصلوں کا اثر اپنے آپ میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے: وزیر اعظم
ہمیں اپنی موجودہ کوششوں کو مستقبل کے بڑے کینوس کےضمن میں دیکھنا چاہیے کہ کس طرح ایک فیصلہ بہت سے شہریوں کی زندگیوں کو تبدیل کر سکتا ہے ، کس طرح ہماری انفرادی تبدیلی ادارہ جاتی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے: وزیر اعظم
ایک بہتر منتظم ، ایک بہتر سرکاری ملازم وہ ہوگا جو ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کی مضبوط تفہیم رکھتا ہو ، یہ فیصلہ سازی کی بنیاد رکھے گا: وزیر اعظم
ہمیں کام کی حدود کو(سائلوز) کو توڑ کر،بہتر ہم آہنگی ، مشترکہ افہام و تفہیم اور مکمل حکومت کے نقطہ ٔنظر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ، تبھی ہماراہر مشن کامیاب ہوگا: وزیر اعظم

پرنسپل سکریٹری جناب پی کے مشرا جی، کرمایوگی بھارت کے چیئرمین جناب ایس رامادورئی جی، کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن کی چیئرپرسن ایس رادھا چوہان جی، دیگر معزز مہمانان، خواتین و حضرات!

کرم یوگی سادھنا سپتہ کے اس انعقاد کے لیے آپ سبھی کو بہت سی نیک خواہشات۔ 21ویں صدی کے اس دور میں تیزی سے بدلتے ہوئے نظام، تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور ان کے درمیان اسی رفتار سے آگے بڑھتا ہوا ہمارا ہندوستان—اس کے لیے پبلک سروس کو وقت کے مطابق مسلسل اپڈیٹ کرنا ضروری ہے۔ کرم یوگی سادھنا ہفتہ اسی کوشش کی ایک اہم کڑی ہے۔ آپ سب واقف ہیں کہ آج ہم جس طرز حکمرانی کے اصول کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اس کا بنیادی منتر ہے—’ناگرک دیوو بھوا‘۔ اس منتر میں شامل جذبے کے ساتھ آج پبلک سروس کو زیادہ قابل اور شہریوں کے لیے زیادہ حساس بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اب حکمرانی کو شہری  پرمرکوز بنا کر ایک نئی پہچان دی جا رہی ہے۔

ساتھیو،

کامیابی کا ایک بڑا اصول یہ بھی ہے کہ دوسروں کی لکیر چھوٹی کرنے کے بجائے اپنی لکیر بڑی کرو۔ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد مختلف ادارے مختلف مقاصد کے ساتھ کام کر رہے تھے، لیکن ضرورت ایک ایسے ادارے کی تھی جس کا مرکز کیپیسٹی بلڈنگ ہو، جو حکومت میں کام کرنے والے ہر ملازم، ہر کرم یوگی کی صلاحیت میں اضافہ کرے۔ اسی سوچ نے کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن (سی بی سی) کو جنم دیا۔ آج سی بی سی کے یومِ تاسیس پر یہ نئی شروعات اور آئی جی او ٹی مشن کرم یوگی کا کامیاب کردار ہماری کوششوں کو کئی گنا توانائی دے رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان اقدامات سے ہم جدید، باصلاحیت، مخلص اور حساس کرم یوگیوں کی ایک مضبوط ٹیم بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

ساتھیو،

چند ہفتے پہلے جب سیوا تیرتھ کا افتتاح ہو رہا تھا، تب بھی میں نے آپ کے سامنے تفصیل سے وکست بھارت  کے عزم پر بات کی تھی۔ اس ہدف کے حصول کے لیے ہمیں تیز رفتار اقتصادی ترقی درکار ہے، جدید بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے، ہمیں ملک میں بڑی تعداد میں ہنر مند افرادی قوت تیار کرنی ہوگی اور ان اہداف کی کامیابی میں ہمارےعوامی اداروں اور سرکاری ملازمین کا کردار نہایت اہم ہے۔ہم سب دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کر رہے ہیں کہ آج کا ہندوستان کتنا خواہش مند اور ترقی کا متلاشی ہے۔ ہر شہری کے اپنے خواب ہیں، اپنے مقاصد ہیں اور ہم سب پر یہ ذمہ داری ہے کہ ان خوابوں کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون فراہم کریں۔ ہماری حکمرانی ایسی ہونی چاہیے کہ ملک کے شہریوں کی زندگی میں آسانی اور معیار زندگی روز بروز بہتر ہو—یہی ہماری اصل کسوٹی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر دن کچھ نیا سیکھیں اور خود کو کرم یوگی کے جذبے کے مطابق ڈھالیں۔

ساتھیو،

جب ہم انتظامی خدمات میں اصلاحات اور تبدیلی کی بات کرتے ہیں، تو اس کا ایک مطلب سرکاری ملازمین کے رویّے میں تبدیلی بھی ہوتی ہے۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ پرانے نظام میں افسر ہونے پر زور زیادہ دیا جاتا تھا، لیکن آج ملک میں فرض شناسی پرزیادہ زور ہے—عہدہ نہیں بلکہ کام کی اہمیت بڑھی ہے۔ آئین بھی ہمیں ہمارے فرائض کے ذریعے ہی حقوق عطا کرتا ہے۔ہر فیصلے سے پہلے جب آپ یہ سوچیں گے کہ آپ کی ذمہ داری (ڈیوٹی) کیا کہتی ہے، تو آپ کے فیصلوں کا اثر خود بخود کئی گنا بڑھ جائے گا اور میں ایک بات پھر دوہرانا چاہوں گا کہ ہمیں اپنی موجودہ کوششوں کو مستقبل کے ایک بڑے کینوس پر دیکھنا چاہیے۔ 2047 وکست بھارت—یہی ہمارا کینوس ہے، یہی ہمارا ہدف ہے۔ہم آج جو کام کر رہے ہیں، اس کا ملک کی ترقی کے سفر پر کیا اثر ہوگا، ہمارے ایک فیصلے سے کتنے شہریوں کی زندگی بدل سکتی ہے اور ہماری ذاتی تبدیلی کیسے ادارہ جاتی تبدیلی میں بدل سکتی ہے—یہ سوالات ہماری ہر کوشش کا حصہ ہونے چاہئیں۔اپنے تجربے سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے اور یہ توانائی ہمیں صرف اور صرف خدمت کے جذبے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

ساتھیو،

جب ہم سیکھنے (لرننگ) کی بات کرتے ہیں تو آج کے تناظر میں ٹیکنالوجی کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ 11 برسوں میں سرکاری اور انتظامی کاموں میں کس طرح ٹیکنالوجی کا انضمام ہوا ہے۔ ہم نے حکمرانی اور خدمات کی فراہمی سے لے کر معیشت تک ٹیکنالوجی انقلاب کی طاقت کو دیکھا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آمد کے بعد یہ تبدیلی مزید تیز ہونے والی ہے۔ اس لیے ٹیکنالوجی کو سمجھنا اور اس کا درست استعمال کرنا پبلک سروس کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اب بہتر منتظم اور بہتر پبلک سرونٹ وہی ہوگا، جسے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کی سمجھ ہوگی اور یہی آپ کے فیصلہ سازی کی بنیاد بنے گا۔ اسی لیے اے آئی کے شعبے میں صلاحیت سازی اور مسلسل سیکھنے کےعمل کو فروغ دینے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اس میں آپ سب کی شرکت اور شمولیت نہایت اہم ہے۔ مجھے امید ہے کہ کرم یوگی سادھنا سپتہ میں اس موضوع پر بھی بھرپور توجہ دی جائے گی۔

ساتھیو،

ہمارے وفاقی ڈھانچے میں ملک کی کامیابی کا مطلب ہے ریاستوں کی اجتماعی کامیابی۔ ہم نے دہائیوں تک ملک میں ریاستوں کی درجہ بندی دیکھی ہے—کیاکیا سنتے تھے،ترقی کرنے والی ریاستیں، پسماندہ ریاستیں، بیمار ریاستیں—لیکن آج ہم ایسی تمام اصطلاحات کو ختم کر رہے ہیں۔ ہمیں ریاستوں کے درمیان ہر قسم کے فرق کو ختم کرنا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا، جب ہر ریاست یکساں عزم اور شدت کے ساتھ کام کرے گی۔ ہمیں رکاوٹوں اور الگ تھلگ نظام کو ختم کرنا ہے اور بہتر ہم آہنگی اور مشترکہ فہم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں ’ہول آف گورنمنٹ اپروچ‘ کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور بیوروکریسی دونوں اس اپروچ کو اپنائیں تو ہر مشن میں کامیابی حاصل ہوگی۔ سادھنا سپتہ کے ذریعے اسی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ساتھیو،

ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عام شہری کے لیے مقامی دفتر ہی حکومت کا چہرہ ہوتا ہے۔ آپ کا طرزِ عمل اور آپ کا رویہ ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ جمہوریت اور آئینی نظام پر شہریوں کا کتنا اعتماد ہے۔ اس لیے ہم جو بھی کریں، جس بھی سطح پر کریں، ہمیں اس اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔ میں ایک بار پھر کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ کرم یوگی سادھناسپتہ، وکست بھارت کے ہمارے سفر میں ایک اہم باب ثابت ہوگا۔

بہت بہت شکریہ۔

نمسکار۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's manufacturing outlook remains resilient despite global headwinds; machine tools, metals and auto lead optimism

Media Coverage

India's manufacturing outlook remains resilient despite global headwinds; machine tools, metals and auto lead optimism
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves a Road Construction project in Uttar Pradesh worth Rs.7145.14 crore
July 01, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the construction of 117.7 km Kanpur–Kabrai Access-Controlled Greenfield Highway, a four-lane access-controlled corridor with structures designed for future six-laning, forming a key segment of the Bhopal–Kanpur Economic Corridor under the National Highways (O) Programme. With an estimated total capital cost of Rs.7145.14 crore, the project will be implemented by the National Highways Authority of India (NHAI) on BOT (Toll) mode, together with the operation and maintenance of the existing Kanpur-Kabrai section of NH-34.

The project will provide seamless, high-speed connectivity between Kanpur and Kabrai, while strengthening onward connectivity to Sagar, Bhopal and other parts of Madhya Pradesh, thereby creating a modern access controlled economic corridor linking the industrial and commercial centres of Uttar Pradesh with mineral-rich, manufacturing and agricultural regions of Madhya Pradesh thereby improving.

Designed for operating speeds of 80–100 kmph, the corridor will reduce travel time between Kanpur and Kabrai from 3.5 hours to 1.5 hours (58%), while improving road safety, reducing vehicle operating costs and facilitating efficient movement of passenger and freight traffic. The project will also provide strategic connectivity with NH-34, NH-35, the Bundelkhand Expressway, Kanpur Ring Road, and State Highways SH-46, SH-91, SH-10B and SH-42, thereby strengthening integration with the regional highway network. The corridor further strengthen connectivity to the Kabrai mining belt, improving the movement of minerals, industrial goods, construction materials and agricultural produce, thereby enhancing logistics efficiency, supply chain resilience and regional economic development.

Aligned with the PM GatiShakti National Master Plan, the project will improve connectivity to 16 Economic Nodes, including the Unnao, Banther, Pankhi, Rania, Jainpur, Rooma, Chakeri, Sumerpur and Bhuragarh Industrial Areas, Trans Ganga Integrated Township, Growth Centre Jaipur, Kanpur Nagar Node and Bengal Chemicals & Pharmaceuticals Ltd. It will also strengthen connectivity to 9 Social Nodes, namely Fatehpur, Mahoba, Kanpur Zoological Park, Buddha Park, J.K. Temple & Garden, Radha Krishna Temple, Siddheshwar Mahadev Temple, Gopeshwar Mandir and Mahoba Tourist Place, and 10 Logistics Nodes, including Kanpur, Ghatampur, Hamirpur, Mahoba, Kabrai, Bharwa Sumerpur and Banda Railway Stations, together with Kanpur, Chakeri and Khajuraho Airports.

Overall, improve logistics competitiveness, industrial development and economic growth across Bundelkhand and adjoining regions of Uttar Pradesh and Madhya Pradesh, while advancing the objectives of PM GatiShakti.

The project is expected to generate approximately 11,188 direct and 13,985 indirect person-days of employment per lane per km during construction and is projected to carry an Annual Average Daily Traffic (AADT) of about 18,069 Passenger Car Units (PCUs) by FY 2028, underscoring its long-term economic, logistics and transport significance. The proposed project will thus generate close to 1.2 Crore person-days of direct employment and indirect employment.

Map of Corridor: