پنی تاریخ میں اتنے سارے اتار چڑھاؤ کے دوران منی پور کے لوگوں کا اتحاد ہی اُن کی اصلی طاقت رہی ہے‘‘
’’منی پور کو امن کی ضرورت ہے اور بند اور بلاکیڈ سے اُسے آزادی ملنی چاہئے‘‘
’’حکومت ،منی پور کو ملک میں کھیل کا اہم مرکز بنانے کے لئے پابند عہد ہے‘‘
’’شمال مشرق کو ’مشرق نواز پالیسی‘ کا مرکز بنانے کے وژن میں منی پور کا کلیدی کردار ہے‘‘
’’ریاست کی ترقی کے سفر میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کردیا گیا ہے اور اگلے 25 سال منی پور کی ترقی کے امرت کال ہوں گے‘‘

کُھرومجری !

نمسکار

ریاست کے قیام کے 50 سال پورے ہونے پر منی پور کے عوام کو بہت بہت مبارکباد !

منی پور ایک ریاست کی شکل میں آج جس مقام پر پہنچا ہے، اس کے لیے بہت سے لوگوں نے ایثار و قربانی پیش کی ہے۔ ایسے ہر شخص کو میں عزت کے ساتھ سلام پیش کرتا ہوں۔ منی پور نے گزشتہ 50 برسوں میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہے۔منی پور کے لوگوں نے ہر طرح کے حالات کو ایک ساتھ مل کر جیا ہے اورہر طرح کی صورت حال کا مل کر سامنا کیا ہے۔ یہی منی پور کی اصل طاقت ہے۔ گزشتہ 7 برسوں میں میری مسلسل کوشش رہی ہے کہ آپ کے درمیان آؤں اور آپ کی امیدوں ،تمناؤں اور ضرورتوں کا فوری طور پر جائزہ لے سکوں، یہی وجہ ہے کہ میں آپ کی امیدوں کو آپ کے جذبات کو اور بہتر طریقے سے سمجھ پایا اور آپ کے مسائل کے حل کرنے کے نئے راستے تلاش کرپایا۔ منی پور امن چاہتا ہے۔ ہر طرح کی رکاوٹوں سے آزادی چاہتا ہے۔ منی پور کے لوگوں کی یہ ایک بہت بڑی خواہش رہی ہے۔ آج مجھے خوشی ہے کہ بیرین سنگھ جی کی قیادت میں منی پور کے لوگوں نے اسے حاصل کیا ہے، طویل انتظار کے بعدحاصل کیا ہے۔ آج بلا تفریق منی پور کے ہر شعبے اورہر طبقے تک ترقی پہنچ رہی ہے۔میرے لئے یہ ذاتی طور پر بہت اطمینان بخش ہے۔

ساتھیوں،

مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے کہ آج منی پور اپنی صلاحیتوں کا استعمال ترقی کے لئے کررہا ہے۔یہاں کے نوجوانوں کی صلاحتیں عالمی سطح پر نکھر کر آرہی ہے۔ آج جب ہم منی پور کے بیٹے۔ بیٹیوں کا کھیل کے میدان پر جذبہ اور جنون دیکھتے ہیں تو پورے ملک کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ منی پور کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ریاست کو ملک کا اسپورٹ پاور ہاؤس بنانے کا بیڑا ٹھایا ہیں۔ ملک کی پہلی قومی اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کے پیچھے یہی سوچ کار فرماں ہے۔ کھیل کو کھیل سے جڑی تعلیم ، کھیل کے انتظام اور تکنیک کو فروغ دینے کے لیے یہ بہت بڑی کوشش ہے۔ کھیل کود ہی نہیں، اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ کے معاملے میں بھی منی پور کے نوجوان کمال کر رہے ہیں۔ اس میں بھی بہنوں-بیٹیوں کا رول قابل تعریف ہے۔ دستکاری کی جو طاقت منی پور کے پاس ہے اور زیادہ مالا مال کرنے کے لئے حکومت عہد بستگی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

ساتھیوں،

شمال مشرق کو مشرق نواز پالیسی کا مرکز بنانے کے لئے جس ویژن کو لے کر ہم آگے بڑھ رہے ہیں، اس میں منی پور کا اہم رول ہے۔ آپ کو پہلی مسافر ٹرین کے لیے 50 سال کا انتظار کرنا پڑا۔ اتنے طویل عرصے کے بعد، کئی دہائیوں کے بعد آج ریل کا انجن منی پور پہنچا ہے اور جب اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دیکھتے ہے تو سبھی منی پور کے لوگوں کہتے ہیں ڈبل انجن کی سرکار کا کمال ہے ۔ اتنی بنیادی سہولیات پہنچنے میں دہائیوں کا وقت لگا۔ لیکن اب منی پور کی کی کنیکٹیوٹی پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ آج ہزاروں کروڑ روپئے کی کنیکٹیوٹی پروجیکٹس پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں جربم۔توپل۔انفال ریلوے لائن بھی شامل ہے۔ انفال ہوائی اڈوں کو بین الاقوامی درجہ دینے سے شمال مشرق کی ریاستوں کی کولکاتا، بنگلورو اور دہلی سے فضائی کنیکٹیوٹی بہتر ہوئی ہے۔ انڈیا، میانمار،تھائی لینڈ، ٹرائیٹرل ، ہائی وے پر بھی تیزی سے کام چل رہا ہے۔ شمال مشرق میں 9 ہزار کروڑ روپے سےجو قدرتی گیس پائپ لائن بچھ رہی ہے اس کا فائدہ بھی منی پور کو ملنے والا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

50 سال کے طویل سفر کے بعد آج منی پور ایک اہم مقام پر کھڑا ہے۔ منی پور نے تیز تر ترقی کی طرف سفر شروع کردیا ہے۔ جو رکاوٹیں تھی وہ اب دور ہوگئی ہیں۔یہاں اب ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہے ۔ جب ہمارا ملک اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو منی پور کو ریاست کادرجہ حاصل کئے ہوئے 75 سال ہوجائیں گے۔ اس لئے منی پور کے لئے بھی یہ ترقی کا امرت کال ہے۔ جن طاقتوں نے لمبے عرصے تک منی پور کی ترقی کو روکے رکھا، ان کو پھر سر اٹھانے کا موقع نہ ملے، یہ ہمیں یاد رکھنا ہے۔ اب ہمیں آنے والی دہائی کے لئے نئے خوابوں ، نئے عزم کے ساتھ چلنا ہے۔ میں خاص طور سے نوجوان بیٹے ۔بیٹیوں سے گزارش کروں گا کہ آپ کو آگے آنا ہے۔ اس تعلق سے آپ کے درخشاں مستقبل کے لئے میں بہت پر امید ہوں، ترقی کے ڈبل انجن کے ساتھ منی پور کو تیزی سے آگے بڑھانا ہے۔ منی پور کے میرے پیارے بھائی اور بہنوں ایک بار پھر آپ کو بہت بہت مبارک باد !

بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.