وزیراعظم نے اس موقع پر ایک یادگاری سکہ اور ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا
ملک قابل احترام گروؤ ں کی تعلیمات کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے
سینکڑوں سالوں کی غلامی سے بھارت کی آزادی کو اس کےروحانی اور ثقافتی سفر سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا
اورنگ زیب کی ظالمانہ سوچ کے سامنے گرو تیغ بہادر جی نے ‘ہندکی چادر’ کی حیثیت سے کام کیا
ہم ‘نئے بھارت’ کی مخصوص فضا میں گرو تیغ بہادر جی کے آشیرواد کو ہر جگہ محسوس کرتےہیں
ہم گروؤں کی حکمت و دانائی اور برکتوں کی شکل میں ہر جگہ‘‘ ایک بھارت’’ کو دیکھتے ہیں
آ ج کا بھارت ، عالمی تنازعات کے دوران بھی مکمل استحکام کے ساتھ اس کے لئے کوشش کررہا ہے اور بھارت ملک کے دفاع اور سلامتی کے لئے بھی اتنا ہی مضبوط ہے

واہے گرو جی کا خالصہ۔

واہے گرو جی کی  فتح۔

اسٹیج پر موجود تمام معززین، تقریب میں موجود تمام خواتین و حضرات اور ورچوئل طور پر  پوری دنیا سے جڑی تمام معزز شخصیات!

گرو تیغ بہادر جی کے 400 ویں پرکاش پرب کے لیے وقف اس عظیم الشان تقریب میں، میں آپ سب کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں۔ شبد کیرتن سن کر مجھے جو سکون ملا اب الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

آج مجھے گرو کے لیے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ جاری کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ میں اسے اپنے گرو کا خاص کرم سمجھتا ہوں۔ اس سے قبل 2019 میں ہمیں گرو نانک دیو جی کا 550 واں پرکاش پرب اور 2017 میں گرو گوبند سنگھ جی کا 350 واں پرکاش پرو منانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

مجھے خوشی ہے کہ آج ہمارا ملک پوری لگن کے ساتھ اپنے گرووں کے نظریات پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اس پروقار موقع پر میں تمام دس گرووں کے قدموں میں عقیدت کے ساتھ جھکتا ہوں۔ آپ سب کو، تمام ہم وطنوں کو اور پوری دنیا میں گرووانی پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں کو، میں پرکاش پرو کے موقع پر اپنی گرمجوشی سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

 یہ لال قلعہ کئی اہم ادوار کا گواہ رہا ہے۔ اس قلعے نے گرو تیغ بہادر صاحب جی کی شہادت بھی دیکھی ہے اور ملک کے لیے جان دینے والے لوگوں کے جذبے کا بھی امتحان لیا ہے۔ آزادی کے 75 سالوں میں ہندوستان کے بہت سے خوابوں کی بازگشت یہاں سے گونجی ہے۔ اس لیے آزادی کے امرت مہوتسو کے دوران لال قلعہ میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام بہت خاص ہو گیا ہے۔

ساتھیوں،

آج ہم جس مقام پر ہیں، وہ  ہمارے لاکھوں  کروڑوں آزادی پسندوں کی تیاگ  اور قربانیوں کی وجہ سے ہیں۔ ایک آزاد ہندوستان کے خواب کی تکمیل دیکھنا، ایک ایسا ہندوستان جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے، ایک جمہوری ہندوستان، ایک ہندوستان جو دنیا میں انسان دوستی کا پیغام پھیلاتا ہے۔

ایک ایک فرد نے اِس  کے لئے اپنی قربانی دی۔

یہ بھارت بھومی صرف ایک ملک نہیں ہے، بلکہ ہمارا ایک عظیم ورثہ ہے، ایک عظیم روایت ہے۔ یہ ہماری رشیوں، باباؤں اور گرؤوں نے سیکڑوں ہزاروں سالوں تک تپسیا سے سیراب کیا، اس کے خیالات کو تقویت بخشی۔ اس روایت کو عزت دینے کے لیے، دس گرووں نے اس کی شناخت کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔

اس لئے ساتھیو،

سینکڑوں بار کی غلامی سے آزادی کو ہندوستان کے روحانی اور ثقافتی سفر سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک آزادی کا امرت مہوتسو اور گرو تیغ بہادر جی کا 400 واں پرکاش پرو ایک ساتھ مل کر، اسی طرح کے عزائم  کے ساتھ منا رہا ہے۔

ساتھیوں،

ہمارے گرووں نے ہمیشہ علم اور روحانیت کے ساتھ معاشرے اور ثقافت کی ذمہ داری لی۔ انہوں نے شکتی کو خدمت کا ذریعہ بنایا۔ جب گرو تیغ بہادر جی پیدا ہوئے تو گرو کے والد نے کہا تھا:

’’دین رچھ سنکٹ ہرن‘‘۔

یعنی یہ بچہ  ایک عظیم روح ہے۔ وہ مظلوموں کا محافظ ہے، مصیبت کو شکست دینے والا ہے۔ اسی لیے سری گرو ہرگوبند صاحب نے ان کا نام تیاگمل رکھا۔ اس قربانی کا مظاہرہ گرو تیغ بہادر جی نے بھی اپنی زندگی میں کیا۔ گرو گوبند سنگھ جی نے ان کے بارے میں لکھا ہے۔

’’تیگ بہادر سمریے، گھر نو ندھی آوے دھائی۔

سب تھائی ہو ئی سہائی‘‘

یعنی تمام سدھیاں صرف گرو تیغ بہادر جی کے یاد کرنے  سے  ہی اپنے آپ  ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ گرو تیغ بہادر جی ایسی شاندار روحانی شخصیت کے مالک تھے، وہ ایسی غیر معمولی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔

ساتھیوں،

یہاں، لال قلعہ کے قریب، گرودوارہ شیش گنج صاحب بھی ہے، جو گرو تیغ بہادر کی لازوال قربانی کی علامت ہے۔ یہ مقدس گرودوارہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری عظیم ثقافت کی حفاظت کے لیے گرو تیغ بہادر جی کی کتنی عظیم قربانی تھی۔ اس وقت ملک میں مذہبی جنونیت کا طوفان برپا تھا۔ ہمارے ہندوستان کے سامنے ایسے لوگ تھے، جو مذہب کو فلسفہ، سائنس اور خود تحقیق کا موضوع سمجھتے تھے، جنہوں نے مذہب کے نام پر ظلم و زیادتی کی  کی انتہا کر دی تھی۔  اس وقت ہندوستان کو گرو تیغ بہادر جی کی شکل میں اپنی شناخت بچانے کی بڑی امید تھی۔ اورنگ زیب کی ظالمانہ سوچ کے سامنے اس وقت گرو تیغ بہادر جی ’ہند دی چادر‘بن کر چٹان کی طرح کھڑے تھے۔ تاریخ گواہ ہے،  یہ وقت  گواہ ہے اور یہ لال قلعہ بھی گواہ ہے کہ اورنگ زیب اور اس  جیسے  ظالموں نے  بھلے ہی بہت سے سر دھڑ سے الگ کر  دیئے ہوں گے، لیکن وہ ہمارے ایمان کو ہم سے جدا نہ کر سکے۔ گرو تیغ بہادر جی کی قربانی نے ہندوستان کی کئی نسلوں کو اپنی ثقافت کے وقار، اس کی عزت اور احترام کی حفاظت کے لیے جینے اور مرمٹنے  کی ترغیب دی ہے۔ بڑی طاقتیں ناپید ہو گئیں، بڑے طوفان تھم گئے، لیکن ہندوستان آج بھی امر ہے، ہندوستان آگے بڑھ رہا ہے۔ آج ایک بار پھر دنیا انسانیت کی رہنمائی کے لیے ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ہم ’نیو انڈیا‘ کی آغوش میں ہر جگہ گرو تیغ بہادر جی کے احسانات کو محسوس کر سکتے ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

یہاں جب بھی نئے چیلنج آتے ہیں، کوئی نہ کوئی عظیم روح اس قدیم ملک کو نئی راہیں دکھا کر رہنمائی کرتی ہے۔ ہندوستان کا ہر خطہ، ہر گوشہ ہمارے گرؤوں کے اثر اور علم سے منور ہوا ہے۔ گرو نانک دیو جی نے پورے ملک کو ایک دھاگے میں جوڑ دیا۔ گرو تیغ بہادر کے پیروکار ہر جگہ موجود تھے۔ پٹنہ میں پٹنہ صاحب اور دہلی میں رکاب گنج صاحب، ہم ہر جگہ گرؤوں کی حکمت اور آشیرواد کی شکل میں ’ایک بھارت‘ کے درشن ہوتے ہیں۔

بھائیو اور بہنو،

میں اپنی حکومت کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اسے گرؤوں کی خدمت کے لیے اتنا کچھ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ پچھلے سال ہی ہماری حکومت نے صاحبزادوں کی عظیم قربانی کی یاد میں 26 دسمبر کو ویر بال دیوس منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہماری حکومت بھی سکھ روایت کے یاتریوں کو جوڑنے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ کرتارپور صاحب کوریڈور کی تعمیر کر کے جس کا کئی دہائیوں سے انتظار تھا، ہماری حکومت نے گرو کی خدمت کے لیے اپنی وابستگی ظاہر کی ہے۔ ہماری حکومت نے پٹنہ صاحب سمیت گرو گوبند سنگھ جی سے منسلک مقامات پر ریل کی سہولیات کو بھی جدید بنایا ہے۔ ہم ’سودیش درشن یوجنا‘کے ذریعے پنجاب کے آنند پور صاحب اور امرتسر میں امرتسر صاحب سمیت تمام اہم مقامات کو جوڑنے والا تیرتھ سرکٹ بھی بنا رہے ہیں۔ اتراکھنڈ میں ہیم کنڈ صاحب کے لیے روپ وے بنانے کا کام بھی آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو!

سری گرو گرنتھ صاحب جی ہمارے لیے خود شناسی کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے تنوع اور اتحاد کی ایک زندہ مثال بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان میں بحران پیدا ہوتا ہے، ہمارے مقدس گرو گرنتھ صاحب کے نسخوں کو واپس لانے کا سوال پیدا ہوتا ہے، حکومت ہند اپنی پوری طاقت لگاتی ہے۔ ہم نہ صرف گرو گرنتھ صاحب کے نسخے کو پورے احترام کے ساتھ اپنے سروں پر لاتے ہیں بلکہ اپنے سکھ بھائیوں کو مصیبت میں بھی بچاتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون نے پڑوسی ممالک سے آنے والے سکھ اور اقلیتی خاندانوں کے لیے ملک کی شہریت حاصل کرنے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا ہے کہ ہمارے گرؤوں نے ہمیں انسانیت کو اولین ترجیح دینا سکھایا ہے۔ محبت اور ہم آہنگی ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔

ساتھیوں،

ہمارے گرو کی وانی  (آواز) ہے،

بھے کاہوکو دیت نہیں،

نہیں، بھے مانت آن۔

کہو نانک سنی رے منا،

گیانی تاہی بکھانی،

یعنی عقلمند وہ ہے جو نہ کسی کو ڈراتا ہے اور نہ کسی سے ڈرتا ہے۔ ہندوستان  نےکبھی کسی ملک یا معاشرے کے لیے خطرہ نہیں  پیدا کیا ہے۔ آج بھی ہم پوری دنیا کی بھلائی کے لیے سوچتے ہیں۔ صرف ایک تمنا کرتے ہیں،  اگر ہم خود انحصار ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو ہم پوری دنیا کی ترقی کے ہدف کو سامنے رکھتے ہیں۔ اگر ہندوستان یوگا کو دنیا میں پھیلاتا ہے تو وہ پوری دنیا کی صحت اور امن کی خواہش کے ساتھ ایسا کرتا ہے۔ میں کل ہی گجرات سے واپس آیا ہوں۔ وہاں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے گلوبل سینٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اب ہندوستان روایتی ادویات کے فوائد کو دنیا کے کونے کونے تک لے جائے گا، جو لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ساتھیوں،

آج کا ہندوستان عالمی تنازعات کے درمیان بھی مکمل استحکام کے ساتھ امن کے لیے کوشش کرتا ہے، کام کرتا ہے اور ہندوستان آج بھی اپنے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے اتنا ہی مضبوط اور اٹل ہے۔ ہمارے سامنے گرؤوں کی طرف سے دی گئی عظیم سکھ روایت ہے۔ پرانی سوچ، پرانے دقیانوسی تصورات کو ایک طرف رکھ کر گرو نے نئے خیالات کو آگے بڑھایا۔ ان کے شاگردوں نے اسے اپنایا، سیکھا۔ نئی سوچ کی یہ سماجی مہم ایک نظریاتی اختراع تھی۔ اسی لیے نئی سوچ، مسلسل محنت اور صد فیصد لگن، آج بھی ہمارے سکھ معاشرے کی پہچان ہے۔ آزادی کے امرت مہوتسو میں آج ملک کا یہی عزم ہے۔ ہمیں اپنی شناخت پر فخر کرنا چاہیے۔ ہمیں لوکل  پر فخر کرنا ہے، ہمیں خود انحصار ہندوستان بنانا ہے۔ ہمیں ایک ایسا ہندوستان بنانا ہے جس کی صلاحیت دنیا دیکھے، جو دنیا کو نئی بلندیوں پر لے جائے۔ ملک کی ترقی، ملک کی تیزی سے ترقی ہم سب کا فرض ہے۔ اس کے لیے ’سب کی کوشش‘کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ گرؤوں کے آشیرواد سے ہندوستان اپنی شان کے عروج پر پہنچے گا۔ جب ہم آزادی کے سو سال منائیں گے تو ایک نیا ہندوستان ہمارے سامنے ہوگا۔

گرو تیغ بہادر جی کہا کرتے تھے۔

سادھو،

گوبند کے گُن گاؤ۔

مانس جنم اَمول کپایو

ویرتھا کاہے گنواوو

اسی جذبے کے ساتھ ہمیں اپنی زندگی کا ہر لمحہ ملک کے لیے لگانا ہے، ملک کے لئے  وقف کر دینا ہے۔ ہم مل کر ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے، اس یقین کے ساتھ، ایک بار پھر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔

واہے گرو جی کا خالصہ۔

واہے گرو جی کی فتح۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time

Media Coverage

As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Uttarakhand and UP on 14 April
April 13, 2026
PM to inaugurate Delhi–Dehradun Economic Corridor
Corridor to reduce travel time between Delhi and Dehradun from over 6 hours to around 2.5 hours
Corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict
Project include a 12 km long wildlife elevated corridor which is one of the longest in Asia
PM to also visit and undertake review of the Wildlife Corridor

Prime Minister Shri Narendra Modi, will visit Uttarakhand and Uttar Pradesh on 14 April 2026. At around 11:15 AM, the Prime Minister will visit Saharanpur in Uttar Pradesh to undertake a review of the Wildlife Corridor on the elevated section of the Delhi-Dehradun Economic Corridor. At around 11:40 AM, the Prime Minister will perform Darshan and Pooja at Jai Maa Daat Kali Temple near Dehradun. Thereafter, at around 12:30 PM, Prime Minister will inaugurate the Delhi-Dehradun Economic Corridor at a public function in Dehradun and will also address the gathering on the occasion.

The 213 km long six-lane access-controlled Delhi-Dehradun Economic Corridor has been developed at a cost of over ₹12,000 crore. The corridor traverses through the states of Delhi, Uttar Pradesh and Uttarakhand, and will reduce travel time between Delhi and Dehradun from over six hours at present to around two and a half hours.

Implementation of the project also includes the construction of 10 interchanges, three Railway Over Bridges (ROBs), four major bridges and 12 wayside amenities to enable seamless high-speed connectivity. The corridor is equipped with an Advanced Traffic Management System (ATMS) to provide a safer and more efficient travel experience for commuters.

Keeping in view the ecological sensitivity, rich biodiversity and wildlife in the region, the corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict. To ensure the free movement of wild animals, the project incorporates several dedicated wildlife protection features. These include a 12 km long wildlife elevated corridor, which is one of the longest in Asia. The corridor also includes eight animal passes, two elephant underpasses of 200 metres each, and a 370 metre long tunnel near the Daat Kali temple.

The Delhi-Dehradun Economic Corridor will play a pivotal role in strengthening regional economic growth by enhancing connectivity between major tourism and economic centres as well as opening new avenues for trade and development across the region. The project reflects the vision of the Prime Minister to develop next-generation infrastructure that combines high-speed connectivity with environmental sustainability and improved quality of life for citizens.