قابل احترام مہاسنگھ کے معزز اراکین، نیپال اور سری لنکا کے وزرائے اعظم، میرے  کابینی رفقا جناب پرہلاد سنگھ اور جناب کرن رجیجو، ،  انٹرنیشنل بدھشٹ کنفڈریشن کے سکریٹری جنرل، قابل احترام ڈاکٹر دھما پیا جی، محترم اسکالرز، دھما کے متبعین، دنیا بھر کی بہنوں اور بھائیو!

 نمو بدھایا

نمستے

بیساکھ کے خصوصی دن پر آپ سب سے خطاب کرتے ہوئے میں اعزاز محسوس کررہا ہوں۔ بیساکھ مہاتما بدھ کی زندگی کا جشن منانے کا دن ہے اور اعلیٰ آدرشوں اور ہمارے کرہ  کی بہتری کی لئے ان کے ذریعے پیش کی گئی قربانیوں کے اظہار کا بھی  دن ہے۔

دوستو!

 گذشتہ برس میں نے یوم بیساکھ پروگرام سے خطاب کیا تھا۔ اس پروگرام کو کووڈ-19 کی وبا کے خلاف انسانیت کی جنگ کی قیادت کرنے والے سبھی صفحہ اول کے کارکنان کے نام منسوب کیا  گیاتھا۔  ایک سال بعد بھی ہم تسلسل اور تبدیلی کا ایک ملغوبہ دیکھ رہے ہیں۔ کووڈ-19 کی وبا نے ہمارا  پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔بھارت سمیت متعدد ملکوں کو دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دہائیوں میں انسانیت کو درپیش یہ بدترین بحران ہے۔ ہم نے  ایک صدی کے اندر اس طرح کی وبا نہیں دیکھی۔  یہ وبا بہت سے لوگوں کے لئے مصیبت اور پریشانی لے کر آئی ہے اور اس نے ہر ملک کو متاثر کیا ہے۔

اس وبا نے ہر ملک کو متاثر کیا ہے۔ اس وبا کے ذریعے جو اقتصادی اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ بہت وسیع ہیں اور ہمارا کرہ ارض کووڈ-19 کے بعد آج جیسا نہیں رہ جائے گا۔ آنے والے وقتوں میں ہم یقیناً واقعات کو کووڈ سے پہلے یا کووڈ کے بعد کے طور پر یاد کریں گے۔  لیکن  گذشتہ برس کے مقابلے متعدد قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔  جیسا کہ پہلے کے مقابلے اس وبا کے تعلق سے بہتر سمجھ پیدا ہوئی ہے، جس سے اس وبا کے خلاف لڑنے کی حکمت عملی بنانے کے کام میں تقویت ملی ہے۔ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہمارے پاس ٹیکہ ہے، جو جان بچانے وبا جو شکسٹ دینے کے لئے انتہائی اہم ہے۔ ایک سال کے اندر ٹیکہ تیار ہونے سے عزم اور اس کی قوت ارادی کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔  بھارت کو اپنے سائنسدانوں پر فخر ہےم جنھوں نے کووڈ-19 ٹیکوں پر کام کیا ہے۔

اس فورم سے میں اپنے پہلے ریسپانڈرس، صحت اول کے کارکنوں، ڈاکٹروں، نرسوں اور رضاکاروں کا روزانہ ضرورت مندوں کی خدمت کے لئے بے لوث انداز میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں  کو سلام کرتا ہوں۔جنھوں نے اپنے عزیزو اقارب کو کھو دیا ہے میں ان سے تعزیت  کرنا چاہتا ہوں۔ میں ان کے دکھ میں شامل ہوں۔

دوستو!

جب ہم  مہاتما بدھ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو  چار فلسفوں کا ذکر ملتا ہے۔ ان چار فلسفوں نے مہاتما بدھ کو  انسانی  تکالیف  سے روشناس کرایا۔ اسی وقت اس نے ان کے اندر یہ تحریک بھی پیدا کی کہ وہ اپنی زندگی انسانوں کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے وقف کردیں۔

مہاتما بدھ نے ہمیں تعلیم دی  भवतु सब्ब मंगलमیعنی  سبھی  کے تئیں جذبہ خیرخواہی ، رحمدلی اور سبھی کی فلاح و بہبود کا جذبہ رکھیں۔ گذشتہ برس متعدد افراد اور تنظیمیں اس موقع پر اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور انسانوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لئے جو ممکن تھاکیا۔

مجھے دنیا بھر کی بدھ تنظیموں اور بدھ دھرم کے عقیدتمندوں  کے ذریعے دئیے گئے  سازو سامان کی شکل میں  ان کے فراخ دلانہ تعاون کا بھی علم ہوا ہے۔ آبادی اور کام کے جغرافیائی پھیلاؤ، دونوں اعتبار سے یہ کام بہت بڑا ہے۔ انسانوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر جس فیاضی اور تعاون کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اس سے انسانیت کو سکون میسر آیا ہے اور حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔  یہ کام مہاتما بدھ کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ ان کا اظہار अप्प दीपो भव: کے منتر میں ہوتا ہے۔

 کووڈ-19  یقیناً ہمیں درپیش ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں ہمیں اس سے لڑنے کے لئے سب کچھ کرنا ہے، وہیں ہمیں انسانیت کو درپیش دوسرے چیلنجوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا ہے۔ سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج ہے۔ موجودہ نسل کی ناعاقبت اندیشانہ طرز زندگی آئندہ نسلوں کے لئے خطرناک ہے۔ موسم کے پیٹرن میں تبدیلی آرہی ہے، گلیشئر ؤپگھل رہے ہیں، ندیاں اور جنگلات خطرے میں ہیں۔ ہم اپنے کرہ کو زخموں سے چور نہیں رہنے دے سکتے۔ مہاتما بدھ نے ایسی طرز زندگی پر  زور دیا گیا ہے جس میں  فطرت کے تئیں احترام انتہائی اہم ہے۔

مجھے یہ بات مشترک کرتے ہوئے فخر ہورہا ہے کہ  بھارت ان چند بڑی معیشتوں میں سے ہے جو اپنے پیرس اہداف کے حصول کے لئے ٹریک پر واپس لوٹ آئے گا۔ ہمارے لئے پائیدار زندگی نہ صرف درست الفاظ ہیں، بلکہ درست اعمال بھی ہیں۔

دوستو!

گوتم بدھ کی زندگی امن، خیرسگالی اور بقائے باہم سے عبارت تھی۔ لیکن آج بھی ایسی قوتیں موجود ہیں، جن کا وجود نفرت، دہشت گردی اور اندھادھند تشدد پر قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسی طاقتیں روادار جمہوری اصولوں میں یقین نہیں رکھتیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ انسانیت میں یقین رکھنے والے سبھی لوگوں سے دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو شکست دینے کے لئے ایک ساتھ آئیں۔

اس کے لئے  مہاتما بدھ کے ذریعے دکھائی گئی راہ انتہائی موزوں ہے۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات اور سماجی انصاف کو  ان کے ذریعے دی گئی اہمیت دنیا کو متحد کرنے والی ایک قوت بن سکتی ہے۔

 انھوں نے درست کہا ہے کہ  "नत्ती संति परण सुखं: یعنی امن سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔

مہاتما بدھ پوری کائنات کے لئے ذہانت کا مخزن تھے۔ ان سے ہم وقتاً فوقتاً روشنی حاصل کرسکتے ہیں اور رحم دلی، آفاقی ذمہ داری اور فلاح و بہبود کی راہ  اپنا سکتے ہیں۔  مہاتما بدھ کے تعلق سے ،مہاتما گاندھی کے ذریعے کہی گئی بات کا  حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے  ہرکسی سے درخواست کی کہ وہ مہاتما بدھ کے آئیڈیل کے تئیں اپنی عہد بستگی  کا اعادہ کریں۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ‘‘بدھ نے ہمیں ظواہر کو شکست دینے  اور سچائی و محبت کی حتمی جیت میں یقین رکھنے کی تعلیم دی ہے۔’’

آج بدھ پورنیما کے موقع پر آئیے ہم مہاتما بدھ کے آئیڈیل کے تئیں اپنی عہد بستگی کی تجدید کریں۔

میں جواہر ثلاثہ کے لئے دعا میں آپ کے ساتھ شریک ہوں۔ تاکہ کووڈ-19 کی عالمی وبا کے پپرآزمائش وقت سے ہمیں راحت ملے۔

 شکریہ

آپ کا بہت بہت شکریہ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”