دس کروڑ سے زیادہ استفادہ کنندہ کسان خاندانوں کو 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ رقم منتقل کی گئی
وزیراعظم نے تقریباً 351 ایف پی اوز کو 14 کروڑ روپے سے زیادہ کی اکوٹی گرانٹ بھی جاری کی جس سے 1.24 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ہوگا
’’ایف پی اوز ہمارے چھوٹے کسانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ایک اجتماعی شکل دینے کے لئے نمایاں کردار ادا کررہے ہیں‘‘
’’ملک کے کسانوں کا اعتماد، ملک کی کلیدی طاقت ہے‘‘
’’ہمیں 2021 کی کامیابیوں سے تحریک حاصل کرتے ہوئے ایک نیا سفر شروع کرنے کی ضرورت ہے‘‘
’’آج ’نیشن فرسٹ‘ کے جذبے کے ساتھ ملک اور قوم کے لئے وقف ہوجانا ہر ایک ہندوستانی کا جذبہ بن گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہماری کوششوں میں اور ہمارے فیصلوں میں اتحاد نظر آتا ہے، آج ہماری پالیسیوں میں استحکام اور ہمارے فیصلوں میں دور اندیشی نظر آتی ہے‘‘
’’پی ایم کسان سمان ندھی بھارت کے کسانوں کے لئے ایک بڑی مدد ہے، اگر ہم آج کی منتقلی کو شامل کرلیں تو

نئی دہلی، یکم جنوری 2022:

تمام معزز حاضرین،سب سےپہلے میں ماتا ویشنو دیوی کمپلیکس میں پیش آئے افسوس ناک سانحے پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔ میںان تمام لوگوں سے تعزیت کرتا ہوں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، جو بھگدڑ میں زخمی ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ میں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی سے بھی بات کی ہے۔ راحتی کاموں کا خیال رکھا جارہا ہے اور زخمیوں کے علاج کیا جارہا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

مرکزی کابینہ کے میرے معزز ساتھیو جو اس پروگرام میں ہمارے ساتھ شریک ہوئے، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، ریاستوں کے وزرائے زراعت، دیگر معززین اور ملک کے کونے کونے سے میرے کروڑوں کسان بھائیو اور بہنو، بھارت میں رہنے والے، بھارت سے باہر رہنے والے ہر بھارتی، بھارت اور عالمی برادری کے ہر خیر خواہ کو سال 2022 کی مبارک باد اور نیک خواہشات۔سال کا سال کا آغاز ملک کے لاکھوں ان داتاؤں کے ساتھہو، سال کے آغاز میں، مجھے ملک کے کونے کونے میں اپنے کسانوں سے ملنے کا موقع ملے، یہ میرے لیے اپنے آپ میں ایک بہت بڑی تحریک کا لمحہ ہے۔ آج ملک کے کروڑوں کسان خاندانوں خصوصاً چھوٹے کسانوں کو وزیراعظم کسان سمان ندھی کی دسویں قسط مل چکی ہے۔ 20 ہزار کروڑ روپے کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ آج ہماری کسان مصنوعات کی تنظیم فارمرز پروڈیوس آرگنائزیشنز سے وابستہ کسانوں کو مالی مدد بھی بھیجی گئی ہے۔ سیکڑوں ایف پی اوز آج ایک نئی شروعات کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

ہمارے یہاں کہتے ہیں کہ کام یاب آغاز کام کے حصول، عزائم کے حصول کا پہلے سے اعلان کردیتا ہے۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہم 2021 کے گذشتہ سال کو بھی اسی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ ہم سب بھارتیوں کی اجتماعی طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیں، جو اس ملک نے دکھائی جب2021 میں 100 سال میں سب سے بڑی وبا سے ہم نمٹ رہے تھے۔آج جب ہم نئے سال میں داخل ہو رہے ہیں تو ہمیں گذشتہ سال کی اپنی کوششوں سے تحریک حاصل کرنی ہوگی اور نئے عزائم کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اس سال ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کریں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کے عزائم کے ایک نئے متحرک سفر کا آغاز کیا جائے، نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ 2021 میں ہم بھارتیوں نے پوری دنیا کو دکھایا ہے کہ جب ہم پرعزم ہوتے ہیں تو سب سے بڑا نشانہ بھی چھوٹا ہو جاتا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ اتنے کم عرصے میں بھارت جیسا وسیع ملک، جو تنوع سے بھرا ہوا ملک ہے، 1.45 کروڑ ویکسین کی خوراک مہیا کرسکے گا؟ کون سوچ سکتا تھا کہ بھارت ایک دن میں ڈھائی کروڑ ویکسین کی خوراک کا ریکارڈ قائم کرسکتا ہے؟ کون سوچ سکتا تھا کہ بھارت ایک سال میں 2 کروڑ گھرانوں کو پائپ کے ذریعے پانی کی سہولت سے جوڑ سکتا ہے؟

بھارتاس کورونا دور میں کئی مہینوں سے اپنے 80 کروڑ شہریوں کو مفت راشن کو یقینی بنا رہا ہے۔ اور بھارت نے صرف مفت راشن کی اس اسکیم پر 2 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ مفت اناج کی اس اسکیم سے گاؤں، غریبوں، گاؤں میں رہنے والے ہمارے کسان ساتھیوں، کھیت مزدوروں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

ساتھیو،

ہمارے یہان یہ بھ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں منظم رہنے میں ہی طاقت کا راز مضمرہے۔ منظم طاقت، یعنی ہر ایک کی کوشش، عزم کو کمال تک لے جانے کا طریقہ۔ جب 130 کروڑ بھارتی ایک قدم آگے اکٹھے ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک قدم نہیں ہوتا بلکہ یہ 130 کروڑ قدم ہوتے ہیں۔ یہ ہم بھارتیوں کی فطرت رہی ہے کہ کچھ اچھا کرنے سے ہمیں ایک الگ سکون ملتا ہے۔ لیکن جب یہ اچھے کام کرنے والے جمع ہوتے ہیں تو بکھرے ہوئے منکے بنتے ہیں تو بھارت ماتا نہال ہوجاتیہے۔ کتنے لوگ ملک کے لیے اپنی جان کھپا رہے ہیں، ملک کو بنا رہے ہیں۔ وہ یہ کام پہلے بھی کرتے تھے، لیکن ان کی شناخت کا کام ابھی ہوا ہے۔ آج ہر بھارتی کی طاقت کو اجتماعی شکل میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور ملک کی ترقی کو نئی تحریک اور نئی توانائی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان دنوں کی طرح جب ہم پدم ایوارڈ یافتگان کے نام دیکھتے ہیں جب ہمیں ان کے چہرے نظر آتے ہیں، تو خوشی سے بھر جاتے ہیں۔ ہر ایک کی کوششوں ہی سے بھارت آج کورونا جیسی بہت بڑی وبا کا مقابلہ کر رہا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

کورونا کے اس دور میں ملک میں صحت کے شعبے کو مزید مستحکم کرنے، صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید بڑھانے کے لیے مسلسل کام بھی کیا گیا ہے۔ 2021 میں ملک میں سیکڑوں نئے آکسیجن پلانٹ تعمیر کیے گئے ہیں، ہزاروں نئے وینٹی لیٹر بنائے گئے ہیں۔ 2021 میں ملک میں بہت سے نئے میڈیکل کالج قائم کیے گئے، درجنوں میڈیکل کالجوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔ 2021 میں ملک میں ہزاروں صحت مراکز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن سے ملک کے اضلاع، بلاکوں  تک اچھے اسپتالوں، اچھی ٹیسٹنگ لیبوں کے نیٹ ورک کو تقویت ملے گی۔ ڈیجیٹل انڈیا کو نئی طاقت دیتے ہوئے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل ہیلتھ مشن ملک میں صحت کی سہولیات کو مزید قابل رسائی اور موثر بنائے گا۔

بھائیو اور بہنو،

آج بہت سے معاشی اشاریے اُس وقت بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جب کورونا ہمارے درمیان نہیں تھا۔ آج ہماری معیشت کی شرح نمو 8 فیصد سے زیادہ ہے۔ بھارت میں ریکارڈ غیر ملکی سرمایہ کاری ہے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ جی ایس ٹی نے وصولی میں پرانے ریکارڈ کو بھی توڑ دیاہے۔ ہم نے برآمدات اور خاص طور پر زراعت کے لحاظ سے بھی نئے پیراڈائم قائم کیے ہیں۔

ساتھیو،

آج ہمارا ملک اپنے تنوع اور وسعت کے مطابق ہر شعبے میں ترقی کا ایک بہت بڑا معیار قائم کر رہا ہے۔ 2021 میں بھارت نے صرف یو پی آئی، ڈیجیٹل لین دین کے ذریعے تقریباً 70 لاکھ کروڑ روپے کا لین دین کیا تھا۔ آج بھارت میں 50 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپ کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے گذشتہ چھ ماہ کے دوران 10 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپ تشکیل دے چکے ہیں۔ 2021 میں بھارت کے نوجوانوں نے کورونا کے اس دور میں 42 یونیکورن بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ میں اپنے کسان بھائیوں اور بہنوں کو بتانا چاہوں گا کہ ایک ایک یونیکورن ایسا اسٹارٹ اپ ہے جس کی مالیت 7000 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ اتنے کم عرصے میں اتنی ترقی آج بھارت کے نوجوانوں کی کام یابی کی ایک نئی کہانی لکھ رہی ہے۔

اور ساتھیو،

آج جہاں بھارت اپنے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنا رہا ہے وہیں دوسری طرف وہ اپنی ثقافت کو بھی فخر کے ساتھ بااختیار بنا رہا ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام خوب حسن کاری پروجیکٹ سے لے کر کیدارناتھ دھام کے ترقیاتی پروجیکٹوں تک، آدی شنکرآچاریہ کی سمادھی کی تعمیر نو سے لے کر بھارت سے چوری ہونے والی سینکڑوں مورتیوں بشمول ماں اناپورنا کے مجسمے کو واپس لانے تک، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر سے لے کر دھولاویرا اور درگا پوجا تہواروں کو عالمی ورثے کا درجہ دلانے تک، بھارت کے پاس بہت کچھ ہے۔ بھارت پوری دنیا کے لیے مرکز توجہ بن گیاہے۔ اور اب جب ہم ان ورثے کو مضبوط بنا رہے ہیں تو سیاحت میں یقینی طور پر اضافہ ہوگا اور زیارت میں بھی اضافہ ہوگا۔

ساتھیو،

بھارت آجملک کی خواتین کے لیے اپنے نوجوانوں کے لیے بے مثال اقدامات کر رہا ہے۔ 2021 میں بھارت نے بیٹیوں کے لیے اپنے فوجی اسکول کھولے۔ 2021 میں بھارت نے خواتین کے لیے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے دروازے بھی کھول دیے تھے۔ 2021 میں بھارت نے بیٹیوں کی شادی کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی کوشش شروع کی یعنی آج بھارت میں پہلی بار پی ایم آواس یوجنا کی وجہ سے تقریباً 2 کروڑ خواتین کو گھر میں بھی ملکیت کا حق ملا ہے۔ ہمارے کسان بھائی بہن، ہمارے گاؤں کے ساتھی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا کام ہوا ہے۔

ساتھیو،

2021 میں ہم نے بھارتی کھلاڑیوں میں ایک نیا اعتماد بھی دیکھا ہے۔ کھیلوں کی طرف بھارت کی کشش بڑھ گئی ہے، ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی خوش تھا جب بھارت نے ٹوکیو اولمپکس میں اتنے تمغے جیتے تھے۔ جب ہمارے دویانگ کھلاڑیوں نے پیرالمپکس میں تاریخ رقم کی تو ہم میں سے ہر شخص کو فخر تھا۔ ہمارے دویانگ کھلاڑیوں نے گذشتہ پیرالمپکس میں اس سے زیادہ تمغے جیتے ہیں جتنے بھارت نے پیرالمپکس کی تاریخ میں اب تک جیتے تھے۔ بھارت نے کبھی بھی اپنے کھیلوں کے افراد اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں اتنی سرمایہ کاری نہیں کی جتنی آج کر رہا ہے۔ کل میں میرٹھ میں ایک اور اسپورٹس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہا ہوں۔

ساتھیو،

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے کر بلدیاتی اداروں تک بھارت نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ بھارت نے 2016 میں ایک نشانہ مقرر کیا تھا کہ وہ 2030 تک غیر فوسل توانائی وسائل کے ذریعے اپنی نصب بجلی کی صلاحیت کا 40 فیصد پورا کرے گا۔ بھارت نے نومبر 2021 میں 2030 کا نشانہ حاصل کیا تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف دنیا کی قیادت کرتے ہوئے بھارت نے 2070 تک دنیا کو خالص صفر کاربن اخراج کا نشانہ بھی مقرر کیا ہے۔ آج بھارت ہائیڈروجن مشن پر کام کر رہا ہے اور الیکٹرک گاڑیوں پر سبقت لے رہا ہے۔ ملک میں کروڑوں ایل ای ڈی بلب تقسیم کرکے ہر سال تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے غریب، متوسط طبقے کے بجلی کے بل کم ہوئے ہیں۔ ملک بھر کے شہروں میں بلدیاتی اداروں کی جانب سے اسٹریٹ لائٹس کو ایل ای ڈی سے تبدیل کرنے کی مہم بھی شروع کی جارہی ہے۔ اور بھارت میرے کسان بھائی کو توانائی کا عطیہ دینے والا ہمارا ان داتا بنانے کے لیے بھی ایک بڑی مہم چلا رہا ہے۔ پردھان منتری کسم یوجنا کے تحت کسانوں کو کھیتوں میں شمسی پینل لگا کر شمسی توانائی پیدا کرنے میں بھی مدد دی جارہی ہے۔ حکومت کی طرف سے لاکھوں کسانوں کو شمسی پمپ بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اس سے پیسہ بھی بچ رہا ہے اور ماحولیات کا تحفظ بھی ہو رہا ہے۔

ساتھیو،

وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی رفتار کو ایک نئی جہت دینے والا ہے۔ میک ان انڈیا کو ایک نئی جہت دیتے ہوئے ملک نے چپ مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز جیسے نئے شعبوں کے لیے اہم اسکیموں کو نافذ کیا ہے۔ گذشتہ سال ہی ملک کو دفاعی شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے 7 دفاعی کمپنیاں ملی ہیں۔ ہم نے پہلی پروگریسو ڈرون پالیسی بھی متعارف کرائی ہے۔ خلا میں ملک کی امنگوں کو نئی پرواز دیتے ہوئے بھارتی خلائی ایسوسی ایشن تشکیل دی گئی ہے۔

ساتھیو،

ڈیجیٹل انڈیا مہم بھارت میں ترقی کو گاؤں سے گاؤں لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ 2021 میں ہزاروں نئے دیہاتوں کو آپٹیکل فائبر کیبلوں سے جوڑا گیا ہے۔ اس سے ہمارے کسان ساتھیوں، ان کے اہل خانہ، ان کے بچوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ ای آر یو پی آئی جیسا نیا ڈیجیٹل ادائیگی حل بھی 2021 میں ہی شروع کیا گیا۔ ملک بھر میں ایک ملک، ایک راشن کارڈ پر بھی عمل درآمد کیا گیا۔ آج ملک کے غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو ای شرم کارڈ جاری کیے جارہے ہیں تاکہ سرکاری اسکیموں کے فوائد ان تک آسانی سے پہنچ سکیں۔

بھائیو اور بہنو،

2022 میں ہمیں اپنی رفتار کو اور تیز کرنا ہوگا۔ کورونا کے چیلنج درپیش ہیں لیکن کورونا بھارت کی رفتار کو نہیں روک سکتا۔ بھارت کورونا کا بھی انتہائی احتیاط سے مقابلہ کرے گا اور انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے قومی مفادات کو پورا کرے گا۔ ہمارے یہاں کہا گیا ہے:

یعنی: ڈر، خوف،اندیشوں کو چھوڑ کر ہمیں قوت اور صلاحیت کو یاد کرنا ہوگا، حب الوطنی کے جذبے کو بلند رکھنا ہے۔ ہمیں اپنے نشانون کو یاد رکھتے ہوئے مسلسل مقصد کی طرف بڑھنا ہے۔ قوم پہلےکے جذبے کے ساتھ قوم کے لیے مسلسل کوششیں کرنا آج ہر بھارتی کا جذبہ بن رہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ہماری کوششیں متحد ہیں، ہمارے عزائم میں کام یابی پانے  کی بے تابی ہے۔ آج ہماری پالیسیوں میں تسلسل ہے، ہمارے فیصلوں میں دور اندیشی ہے۔ ملک کے ان داتا کے لیے وقف آج کا پروگرام اس کی ایک مثال ہے۔

وزیر اعظم کسان سمان ندھی بھارت کے کسانوں کے لیے ایک بہت بڑی طاقت بن گیا ہے۔ ہر بار ہر قسط وقتاً فوقتاً منتقل ہوتی رہی، ہر سال ہزاروں کروڑ روپے، بغیر کسی کمیشن کے، بغیر کسی بچولیے کے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارت میں ایسا ہوسکتا ہے۔ اگر آپ آج کی رقم شامل کریں تو کسان سمان ندھی کے تحت کسانوں کے کھاتے میں ایک لاکھ 80 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم منتقل کی جاچکی ہے۔ آج یہ کسان سمان ندھی ان کے چھوٹے موٹے اخراجات کے لیے بہت مفید ہے۔ چھوٹے کاشتکار اچھی کھاد اور سازوسامان کا استعمال کرتے ہوئے اس رقم میں سے اچھے معیار کے بیج خرید رہے ہیں۔

ساتھیو،

ملک کے چھوٹے کسانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو منظم کرنے میں ایف پی او کا بڑا کردار ہے۔ پہلے الگ تھلگ ہونے والے چھوٹے کسان کے پاس اب ایف پی او کی شکل میں پانچ بڑی طاقتیں ہیں۔ پہلی طاقت بہتر سودے بازی ہے، یعنی سودے بازی کی طاقت۔ آپ سب جانتے ہیں، جب آپ اکیلے کاشت کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ بیج سے لے کر کھاد تک سب کچھ خریدتے ہیں، تو آپ خوردہ خریدکار ہیں، لیکن فروخت تھوک میں ہے۔ اس سے لاگت میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے اور منافع میں کمی ہوتی ہے۔ لیکن ایف پی اوز کے ذریعے اب یہ تصویر تبدیل ہو رہی ہے۔ ایف پی اوز کے ذریعے کاشتکار اب کاشتکاری کے لیے ضروری چیزیں بڑی مقدار میں خریدتے ہیں اور انھیں خوردہ میں فروخت کرتے ہیں۔

کسانوں کو ایف پی اوز سے جو دوسری طاقت ملی ہے وہ بڑے پیمانے پر تجارت ہے۔ ایف پی او کی حیثیت سے کسان مل کر کام کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ تیسری طاقت اختراع ہے۔ بہت سے کسان بیک وقت ملتے ہیں اور ان کے تجربات بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ نئی اختراعات کا راستہ کھولتا ہے۔ ایف پی او میں چوتھی طاقت رسک مینجمنٹ کی ہے۔ مل کر، آپ چیلنجوں کا بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں، ان سے نمٹنے کے طریقے بنا سکتے ہیں۔

اور پانچویں طاقت مارکیٹ کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ مارکیٹ اور مارکیٹ کی مانگ مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ لیکن چھوٹے کسانوں کو یا تو اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا یا وہ تبدیلی کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی تمام لوگ ایک ہی فصل بوتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اب طلب کم ہوگئی ہے۔ لیکن ایف پی او میں آپ نہ صرف مارکیٹ کے لحاظ سے، بلکہ آپ خود مارکیٹ میں نئی مصنوعات کی مانگ پیدا کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔

ساتھیو،

ایف پی او کی اس طاقت کو محسوس کرتے ہوئے آج ہماری حکومت ہر سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ان ایف پی او کو بھی 15 لاکھ روپے تک کی امداد مل رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں آج ملک میں آرگینک ایف پی او کلسٹرز، آئل سیڈ کلسٹرز، بانس کلسٹرز اور ہنی ایف پی اوز جیسے کلسٹرز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آج ہمارے کسان 'ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ' جیسی اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ملک اور بیرون ملک بڑی منڈیاں ان کے لیے کھل رہی ہیں۔

ساتھیو،

آج بھی ہمارے ملک میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جںھیں بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ان چیزوں کی ضرورت آسانی سے پوری کرسکتا ہے۔ خوردنی تیل اس کی ایک بہترین مثال ہیں۔ ہم بیرون ملک سے خوردنی تیل خریدتے ہیں۔ ملک کو دوسرے ممالک کو بہت پیسہ دینا پڑٹا ہے۔یہ رقم ملک کے کسانوں کو ملنی چاہیے، لہذا ہماری حکومت نے گیارہ ہزار کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ نیشنل پام آئل مشن کا آغاز کیا ہے۔

ساتھیو،

گذشتہ سال ملک نے زراعت کے شعبے میں ایک کے بعد ایک تاریخی سنگ میل حاصل کیا ہے۔ کورونا کے چیلنجوں کے بعد بھی آپ سب نے ملک میں خوراک کی پیداوار کو ریکارڈ سطح پر لے جا کر اپنی محنت کا مظاہرہ کیا۔ گذشتہ سال ملک میں اناج کی پیداوار 300 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ ہارٹی کلچر، فلوری کلچر – ہارٹی کلچر باغبانی میں پھولوں کی کاشت کی پیداوار اب 330 ملین ٹن سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ملک میں دودھ کی پیداوار میں بھی 6 سے 7 سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں اگر کسان ریکارڈ بنا رہا ہے تو ملک ایم ایس پی پر ریکارڈ خرید بھی رہا ہے۔ آبپاشی میں بھی ہم فی قطرہ زیادہ فصل کو فروغ دے رہے ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے ذریعے مائیکرو آبپاشی کے ذریعے تقریباً 60 لاکھ ہیکٹر اراضی کو ڈرپ آبپاشی سے جوڑا گیا ہے۔

ہم نے قدرتی آفات میں کسانوں کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا سے کسانوں کو معاوضہ ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بہت اہم ہیں۔ ملک بھر کے کسانوں نے پریمیم کے طور پر صرف 21,000 کروڑ روپے ادا کیے لیکن انھیں معاوضے کے طور پر ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ملے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں کہ کسان کو ہر اس چیز سے پیسہ ملے بھائیو اور بہنو، خواہ وہ فصلوں کی باقیات ہوں، بھوسی وغیرہ۔ زرعی باقیات سے بائیو فیول تیار کرنے کے لیے ملک بھر میں سیکڑوں نئے یونٹ قائم کیے جارہے ہیں۔ 7 سال پہلے جہاں ملک میں ہر سال 400 ملین لیٹر سے بھی کم ایتھنول تیار کیا جاتا تھا، آج یہ 340 کروڑ لیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔

ساتھیو،

آج پورے ملک میں گوبردھن اسکیم چل رہی ہے۔ اس کے ذریعے گاؤں میں گوبر سے بائیو گیس بنانے کے لیے سبسڈیاں دی جارہی ہیں۔ بائیو گیس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے ملک بھر میں پلانٹ بھی لگائے جارہے ہیں۔ یہ پلانٹ ہر سال لاکھوں ٹن اچھی نامیاتی کھاد بھی پیدا کریں گے جو کسانوں کو کم قیمت پر دستیاب ہوگی۔ جب گوبر بھی ادا کیا جائے گا تو ایسے جانوروں کا بوجھ نہیں پڑے گا جو دودھ نہیں دیتے یا جنھوں نے دودھ دینا چھوڑ دیا ہے۔ یہ بھی خود کفیلیہے کہ سب ملک کے کام آئیں، کوئی بے سہارا نہ ہو۔

ساتھیو،

آج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مہم شروع کی جارہی ہے کہ جانوروں کا گھر پر ہی علاج کیا جائے اور گھر میں مصنوعی حمل کیا جائے۔ جانوروں میں فٹ اینڈ ماوز  بیماری، کھرپا منہ پکا، کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹیکہ کاری مشن بھی جاری ہے۔ حکومت نے ڈیری سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کا خصوصی فنڈ کامدھینو کمیشن بھی تشکیل دیا ہے۔ یہ ہماری ہی حکومت ہے جس نے لاکھوں مویشی پالنے والوں کو کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت سے بھی جوڑا ہے۔

ساتھیو،

دھرتی ہماری ماں ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ جہاں دھرتی ماتا کو بچانے کیکوشش نہیں کی گئی، وہ زمین بنجر ہوگئی۔ کیمیائی طور پر پاک کاشت کاری ہماری زمین کو بنجر ہونے سے بچانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ چناں چہ گذشتہ سال ملک نے ایک اور وژنری کوشش شروع کی ہے۔ یہ قدرتی کاشت کاری کی کوشش ہے۔ اور آپ نے ابھی اس کی ایک فلم دیکھی ہے اور میں اس فلم کو سوشل میڈیا پر ہر کسان تک لے جانا چاہوں گا۔

ہم نے اپنی پرانی نسلوں سے قدرتی کاشت کاری کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ ہمارے اس روایتی علم کو منظم کرنے، جدید ٹکنالوجی سے جڑنے کا صحیح وقت ہے۔ آج دنیا میں کیمیائی مادوں سے پاک اناج کی بہت زیادہ مانگ ہے اور اس کے خریدار بہت زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کی لاگت کم ہے اور پیداوار بہتر ہے۔ جو زیادہ فوائد کو یقینی بناتا ہے: کیمیائی مادوں سے رہائی ہماری مٹی کی صحت، زرخیزی اور کھانے والوں کی صحت کو بھی بہتر بناتی ہے۔ میں آج آپ سب سے درخواست کروں گا کہ قدرتی کاشت کاری کو اپنی کاشت کاری سے جوڑنے پر توجہ دیں۔

بھائیو اور بہنو،

یہ نئے سال کا پہلا دن ہے، نئے عزائم کا دن ہے۔ یہ عزائم تحریک آزادی کے امرت کال میں ملک کو مزید قابل اور باصلاحیت بنانے والے ہیں۔ یہاں سے ہمیں جدت طرازی کا، کچھ نیا کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔ کاشتکاری میں یہ نیاپن آج وقت کی ضرورت ہے۔ ہم نئی فصلوں، نئے طریقوں کو اپنانے سے نہیں ہچکچاتے۔ ہمیں صفائی ستھرائی کے عزم کو بھی نہیں بھولنا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ دیہات، کھیتوں اور کھلیان ہر جگہ صفائی ستھرائی جاری رہے۔ سب سے بڑا عزم لوکل کے لیے، خود کفیلی کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ ہمیں بھارت میں بنائی گئی چیزوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرانا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھارت میں پیدا ہونے والی ہر شے، بھارت میں پیدا ہونے والی ہر خدمت کو ترجیح دیں۔

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہمارا آج کا کام اگلے 25 برسوں کے لیے ہمارے ترقیاتی سفر کی سمت کا تعین کرے گا۔اس سفر میں ہم سب کا پسینہ بہے گا، ملک کا پر باشندہ سخت محنت کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ملک کو اس کی قابل فخر شناخت لوٹائیں گے اور ملک کو ایک نئی بلندی عطا کریں گے۔ آج نئے سال کے پہلے دن ملک کے کروڑوں کسانوں کے بینک کھاتوں میں 20 ہزار کروڑ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔

آپ سب کو ایک بار پھر  نئے سال 2022 کی بہت بہت مبارکباد۔

آپ کا بہت شکريہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades

Media Coverage

Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to News X
May 21, 2024

In an interview to News X, Prime Minister Modi addressed the issue of toxic language in elections, explained why the Opposition frequently discussed him, and shared his views on job creation. He criticized the Congress' tax plans and appeasement politics.

Rishabh Gulati: A very warm welcome to the viewers of NewsX and India News. I’m Rishabh Gulati and with me is Aishwarya Sharma of The Sunday Guardian and Rana Yashwant. In today’s special episode, we proudly welcome a renowned ‘rashtra sevak’, and the Prime Minister of India in this Amrit Kaal, Hon’ble Shri Narendra Modi. Mr Prime Minister, you took the time to speak to us, we are very grateful.

Prime Minister: Namaskar, my warm greetings to all your viewers.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, the first question that comes to mind is about the Opposition, and it seems that the biggest item on their poll agenda is Narendra Modi. Why, in your opinion, do they talk so much about Narendra Modi?

Prime Minister: To understand why they discuss Narendra Modi, we must first understand the Opposition. To understand them, one can examine the administration between 2004 and 2014.

The Opposition has not been able to play a strong role. Even as the Opposition, the way they are falling apart, they did not play a constructive role of any kind. Despite deep discussions, they haven’t been able to bring serious issues to the public attention. They thought that by their antics, taking up space in the media, they would be able to keep their boat afloat. Even in this election, I have seen that they make fresh attempts every day to acquire media space, be it by making videos, nonsensical statements, or behaving in a way that people don’t normally behave. So they do this to acquire space in the media. Now abusing Modi is one such antic, where, if nothing else, they are guaranteed publicity. Even a small-time politician, if he bad-mouths me, will get about an hour of media attention. Perhaps they see Modi as a ladder to climb up in their political career.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, the I.N.D.I. alliance is talking about wealth redistribution. Do you think this is possible, and will the voters of the country be influenced by such a scheme?

Prime Minister: You can’t examine this in isolation. You must look at their overall thought process. When their (Congress) manifesto was released, I had said the manifesto had the imprint of the Muslim League. There was a statement made by Dr Manmohan Singh… I had attended the meeting in which he said that ‘Muslims have the first right to India’s resources.’ Now when I raised this in public, their media ecosystem raised a storm saying that ‘Modi is lying,’. So two days later, I brought Manmohan Singh’s press conference forward and put it in front of them. Then they stopped talking. So this was one example. Now in their Manifesto, they have said that they will give reservation (to Muslims) even when allotting government contracts.

So today, when a bridge is to be built somewhere, what is the criteria for awarding the contract? The company bidding is evaluated based on how resourceful they are, their experience, their capability, their ability to deliver on time, all these things. Now they say that they want to give reservations to the minorities, to the Muslims, in this process as well. It all adds up. Now when they say that they will impose inheritance tax, it means that taxes that go to the government, who will stand to benefit from it? It’s the same people that Manmohan Singh ji talked about. If you join the dots, this is the logic that comes from it. How will the country accept this? Secondly, has any developing country in the world indulged in such madness? Today, India needs to work hard to rise above its problems. We have made this attempt and pulled 25 crore people out of poverty. Where there used to be a few hundred start-ups, there are now over 1.25 lakh start-ups, and there are Unicorns. You must go among the people and work with energy, and that will bring the right result.

 

Rana Yashwant: Mr Prime Minister, the Ram Mandir has been built in Ayodhya, the consecration of Ram Lalla took place and there was joy among the people. In all this, there is Iqbal Ansari, who has fought the legal battle, and is an important person. He comes, holding a placard that says ‘Modi ka Parivaar’. Today, the minority community identifies with your policies and welfare schemes. Your opinion?

Prime Minister: Since you’ve brought up Ram Mandir and Iqbal Ansari, I will narrate an incident. Ram Mandir should have been built right after Independence. In all these years, it wasn’t built because they (Congress) felt it would affect their vote bank. Attempts were made in the Courts till the very end to stop it. It is a fact that Congress hindered the building of the Ram Mandir. Despite this, when the Supreme Court judgment came through, the Court constituted a trust, and the trust members, let go of all past differences and went to invite the Congress Party members to the consecration ceremony. They rejected the invitation. The same people went to invite Iqbal Ansari. The ironic thing is, that Iqbal Ansari, who fought the Babri Masjid case his entire life, respected the Supreme Court’s verdict and attended the ‘Shilanyas’ and the ‘Pran Prathistha’ ceremony as well. This is what I think, as far as Iqbal Ansari is concerned.

Now if you want to talk about secularism, it is my very serious allegation, that for over 75 years, through a very well-crafted conspiracy, a false narrative has been fed to the nation. It has been embedded in the nation from before our birth. Sardar Patel was targeted by this narrative, and maybe, today it may be my turn, tomorrow someone else… Why do they cry out ‘secularism’ over and over again? It’s because they want to divert the world’s attention from their communal activities.

They cry ‘thief’ over and over when they have defrauded the people, and they do this because they think crying ‘thief’ will divert the public’s attention. This is their ploy. I have called them out in front of everyone, that they are the ones who are communal. India’s constitution does not allow you to indulge in such sectarian acts, and I have brought out several such examples, like I mentioned earlier that they called the Muslims the rightful inheritors of India’s wealth. I am exposing them. They (Congress) hide behind their politics of appeasement and instead accuse me of being communal. I am talking about those communal parties that wear the ‘nikab’ of secularism and indulge in hardcore communalism. I find three things common among these people. They are hardcore sectarians, they are extremely casteist, and they are hardcore dynasts. They are so full of these three things that they can’t come out of it.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have spoken about lifting 25 crore people out of poverty. 80 crore poor people are receiving ration – it is necessary now and will be so in the future as well. What do you have to say about how crucial it will be in the future?

Prime Minister: When Manmohan Singh ji was the Prime Minister, news was rife with reports of food grains getting spoilt. So, the Supreme Court asked the government as to why the grains were not being distributed among the poor. Manmohan Singh ji, who was the Prime Minister then, stated on record that they could not distribute the grains and that it was impossible to do it. That is the consequence of his thinking. I faced the same issue, especially during COVID-19. My first goal was to ensure that a stove should be lit in every poor household. So, I started working on it. I have stated this for the next five years as well because in the lives of those who come out of poverty…

For example, one returns home from the hospital. The treatment has been done but precaution is necessary. A doctor advises you to take rest for a particular duration after returning home, tells you what to eat and what to refrain from consuming, and what to take care of. Why? The illness has already been addressed, but if anything is jeopardized then the condition of the person would return to what it was. That is why poor people who escape poverty need handholding. They should not return to that state in any condition. Once they escape poverty, they should be empowered to stand strong. In my understanding, in the next five years, those who have escaped poverty should be able to firmly stand on their feet. Any unfortunate incident in their family, should not push them to poverty again. And only then will the country eradicate poverty.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, our country is the youngest country. Under your tenure, 10 lakh government jobs have been filled. Now, the Opposition has vowed to fill 30 lakh government jobs. In your third term, how do you plan to boost employment opportunities for the youth?

Prime Minister: You must have read the SKOCH report that was released. I hope your TV channel studies the SKOCH report in detail and conducts a TV debate on this. They have analysed some 20 to 22 schemes of the government. They have published statistics about how many person-year-hours have been obtained. They have revealed how many hours it takes to build 4 crore houses and how many people it employs. They have published data for about 22 different parameters.

They have stated that 50 crore people have accrued benefits. Secondly, we brought the Mudra Yojana. We give bank loans without any guarantee. We have disbursed loans worth Rs 23 Lakh Crore. 80% of those who have received these loans are first-timers. Some have started their businesses and have employed a few people in this process. Start-ups used to be in the thousands and now they are in lakhs. People have been employed in this process, right? Consider that a 1000-kilometre road is being built and think about how many jobs are created. So, if a 2000-kilometre road is being built more people will be employed, right? Today, road and rail construction has doubled, electrification has doubled, and mobile towers are reaching every corner of India. All this is being created by people who have received jobs. That is why a lie is being peddled.

 What’s important is that we must move towards creating jobs for ourselves. The youth in this country are in the mood to do something and be productive and we must help them. We must encourage them. Our Mudra Yojana does exactly that. We also run the SVANidhi scheme. There are countless street hawkers, who are poor people. But today, they are taking money from the bank to run their businesses. Due to this, they can save money and expand their business. Earlier, a street hawker would sit on the footpath and now his goal is to buy a lorry. One who would owned a lorry earlier now wishes to provide home delivery services. Their aspirations are rising. This is why I believe that while people receive the benefits of government schemes, which will eventually result in development, we must also focus on several other areas.

 

Rana Yashwant: Prime Minister, your government works on the principle of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’. Beneficiaries avail welfare schemes without any discrimination – caste, religion, or community. Yet, the Opposition maintains that Muslims do not accrue the same benefits from these welfare schemes.

Prime Minister: You are the first person from whom I’ve heard this. The unique aspect of my government, in terms of delivering welfare schemes, has not raised any questions regarding discrimination.

 

Rana Yashwant: The Opposition has to say this.

Prime Minister: Even the Opposition does not say this. You are the first person from whom I’ve heard this. I have never heard this from anybody because everyone knows… and Muslims themselves say that they receive all benefits.

The primary reason is that I have two principles. First, 100% saturation. For example, if poor people must be given houses, complete delivery must take place. If 100% delivery is the goal, then where does the scope of discrimination even arise? Whether it is providing gas connections, building toilets, ensuring tap water connections, I believe in 100% delivery. Yes, some people will receive the benefits in January, some in April and some in November, but the scheme will apply to all and 100%. I believe that true secularism is when 100% delivery is done. Social justice is when 100% is done. So, if my mission is 100% saturation… and nobody has made this charge yet. They don’t have the courage to say it. I have lived in Gujarat as well, and on this topic, nobody can prop up any charges against me.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have taken out time to sit with us and relay your ‘Mann Ki Baat’. Thank you so much. Best of luck for the polls ahead.

Prime Minister: I thank you all. I have been campaigning day and night…

 

Rana Yashwant: You are constantly on the move. We see you morning until night on the run…

Rishabh Gulati: Today, you had a big rally at 8 in the morning.

Prime Minister: I started my day at 6 am and went to Jagannath Puri temple to offer my prayers. Since then I have been traveling and have at last got time to meet you.

 

Rana Yashwant: Where ever you go, Jagannath or Kashi, there is a sea of people that comes to greet you. You have experienced it yourself.

Prime Minister: I realise that my responsibilities are now increasing. I also see that the public has taken ownership of elections. Political parties are not fighting the elections. The public has taken ownership of this election. And the results will be as desired by the public.

Thank you!