نیا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور زیر زمین میٹرو ممبئی میں سفر اور روابط کو بدلنے کے لیے تیار ہیں: وزیر اعظم
وکست بھارت وہ ہے جہاں رفتار اور ترقی دونوں ہوں، جہاں عوامی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہو اور سرکاری اسکیمیں ہر شہری کی زندگی کو آسان بنائیں: وزیر اعظم
اُڑان یوجنا کی بدولت، لاکھوں لوگوں نے گزشتہ دہائی میں پہلی بار ہوائی سفر کیا اور اپنے خوابوں کو پورا کیا: وزیر اعظم
نئے ہوائی اڈوں اور اُڑان یوجنا نے ہوائی سفر کو آسان بنایا ہے، ساتھ ہی بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوا بازی کی منڈی بنا دیا ہے: وزیر اعظم
آج، بھارت دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے، ہماری طاقت ہمارے نوجوانوں میں ہے: وزیر اعظم
ہمارے لیے، ملک اور شہریوں کی سلامتی و تحفظ سے بڑھ کر کچھ نہیں: وزیر اعظم

مہاراشٹر کےگورنرجناب آچاریہ دیوورت جی، یہاں کے مقبول وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی رام داس اٹھاولے جی، کے۔ آر۔ نائیڈو جی، مرلی دھر موہول جی، مہاراشٹر حکومت کے نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے جی، اجیت پوار جی، دیگر وزراء، بھارت میں جاپان کے سفیر کیئچی اونو جی، دیگر معزز حضرات، بھائیو اور بہنو!

وجے دشمی گزر چکی ہے، کوجاگری پورنیما بھی اختتام پذیر ہو چکی ہے، اور اب دس دنوں میں ہم دیوالی منانے جا رہے ہیں۔ میں آپ سب کو ان تہواروں کی دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

دوستو،

آج ممبئی کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ممبئی کو اب اپنا دوسرا بین الاقوامی ہوائی اڈہ (انٹرنیشنل ایئرپورٹ) مل گیا ہے۔یہ ایئرپورٹ اس خطے کو ایشیا کے سب سے بڑے رابطہ جاتی مرکز (کنیکٹوِٹی ہب) کے طور پر قائم کرنے میں ایک بڑی کردار ادا کرے گا۔آج ممبئی کو مکمل طور پر زیرِ زمین میٹرو بھی حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے ممبئی میں سفر مزید آسان ہوگا اور لوگوں کا وقت بچے گا۔یہ زیرِ زمین میٹرو ترقی کرتے ہوئے بھارت کی ایک زندہ علامت ہے۔ممبئی جیسے مصروف شہر میں، زمین کے نیچے اور وہ بھی تاریخی عمارتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے یہ شاندار میٹرو تعمیر کی گئی ہے۔میں اس سے وابستہ تمام مزدوروں اور انجینئروں کو آج مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

دوستو،

یہ وقت بھارت کے نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع کا وقت ہے۔

کچھ دن پہلے ہی ملک کی متعدد آئی ٹی آئی کو صنعت سے جوڑنے کے لیے 60 ہزار کروڑ روپے کی پی ایم سیتو اسکیم لانچ کی گئی ہے۔آج سے مہاراشٹر حکومت نے سینکڑوں آئی ٹی آئی اور تکنیکی اسکولوں میں نئے پروگراموں کا آغاز کیا ہے۔اس سے اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کو ڈرون، روبوٹکس، الیکٹرک وہیکل، شمسی توانائی، گرین ہائیڈروجن جیسی بے شمار نئی ٹیکنالوجیز کی تربیت حاصل ہو سکے گی۔میں مہاراشٹر کے نوجوانوں کو دل سے بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

دوستو،

آج اس بڑے موقع پر، میں مہاراشٹر کے سپوت، لوک نیتا ڈی، بی، پاٹیل جی کو بھی یاد کر رہا ہوں۔انہوں نے جس جذبۂ خدمت کے ساتھ سماج اور کسانوں کے لیے کام کیا، وہ ہم سب کے لیے ایک تحریک ہے۔ان کی زندگی ہمیشہ سماجی خدمت میں لگے رہنے والوں کو حوصلہ اور تحریک دیتی رہے گی۔

دوستو،

آج پورا ملک وکست بھارت کے عزم کی تکمیل میں مصروف ہے۔ وکست بھارت، یعنی وہ جہاں رفتار بھی ہو اور ترقی بھی ہو، جہاں عوامی مفاد سب سے اوپر ہو، جہاں حکومت کی منصوبہ بندی عوام کی زندگی کو آسان بنائے۔ اگر آپ پچھلے 11 سالوں کے سفر پر نظر ڈالیں، تو بھارت کے ہر کونے میں اسی جذبے کے ساتھ تیز رفتار کام ہو رہا ہے۔ جب وندے بھارت سی می ہائی اسپیڈ ٹرینیں پٹریوں پر دوڑتی ہیں، جب بُلٹ ٹرین کا کام رفتار پکڑتا ہے، جب چوڑے ہائی وے اور ایکسپریس وے نئے شہروں کو جوڑتے ہیں، جب پہاڑوں کو چیر کر لمبی سرنگیں بنائی جاتی ہیں، جب لمبے اور بلند سی برج سمندر کے دونوں کناروں کو جوڑتے ہیں، تب بھارت کی رفتار بھی نظر آتی ہے، اور بھارت کی ترقی بھی دکھائی دیتی ہے۔ تب بھارت کے نوجوانوں کی پرواز کو نئے پر لگتے ہیں۔

 

دوستو،

آج کا پروگرام بھی اسی سلسلے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایک ایسا منصوبہ ہے، جس میں ترقی یافتہ بھارت کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ چھترپتی شیو جی مہاراج کی زمین پر بنایا گیا ہے، اور اس کا شکل کمَل کے پھول کی مانند ہے، یعنی یہ ثقافت اور خوشحالی کی زندہ علامت ہے۔ اس نئے ایئرپورٹ سے مہاراشٹر کے کسان یورپ اور مڈل ایسٹ کے سپر مارکیٹس سے بھی جڑ جائیں گے۔ یعنی کسان کی تازہ پیداوار، پھل، سبزیاں اور ماہی گیروں کی مصنوعات تیزی سے عالمی مارکیٹ تک پہنچ سکیں گی۔ اس ایئرپورٹ سے یہاں کے قریبی چھوٹے اورمائیکرو صنعتوں کے لیے برآمدات کی لاگت کم ہوگی، سرمایہ کاری بڑھے گی، نئے صنعتیں اور نئے کاروبار قائم ہوں گے۔ میں مہاراشٹر اور ممبئی کے تمام لوگوں کو اس ایئرپورٹ کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

دوستو،

جب خوابوں کو پورا کرنے کا عزم ہو، جب شہریوں تک تیز رفتار ترقی کا فائدہ پہنچانے کی خواہش ہو، تو نتائج بھی ملتے ہیں۔ ہماری ہوائی خدمات اور اس سے جڑی صنعت اس کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا، 2014 میں جب ملک نے مجھے موقع دیا، تو میں نے کہا تھا کہ میرا خواب ہے کہ وہ بھی جو ہوائی چپل پہنتا ہے، ہوائی سفر کر سکے۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ ملک میں نئے نئے ایئرپورٹس تعمیر کیے جائیں۔ ہماری حکومت نے اس مشن پر سنجیدگی سے کام شروع کیا تھا۔ پچھلے 11 سالوں میں ملک میں ایک کے بعد ایک نئے ایئرپورٹس بنے۔ سال 2014 میں ہمارے ملک میں صرف 74 ایئرپورٹس تھے۔ آج بھارت میں ایئرپورٹس کی تعداد 160 سے تجاوز کر گئی ہے۔

دوستو،

جب ملک کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں ایئرپورٹس بنتے ہیں، تو وہاں کے لوگوں کو ہوائی سفر کے لیے نئے اختیارات ملنے لگتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ، مالی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ہم نے اڑان اسکیم شروع کی تاکہ لوگوں کو سستے داموں ہوائی جہاز کے ٹکٹ مل پائے۔ اڑان اسکیم کی وجہ سے گذشتہ دہائی میں لاکھوں لوگوں نے پہلی بار ہوائی سفر کیا ہے اور اپنا خواب پورا کیا ہے۔

 

دوستو،

نئے ہوائی اڈے بننے اور اڑان اسکیم سے لوگوں کو سہولت تو ملی ہے، اور ساتھ ہی بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ڈومیسٹک ایوی ایشن مارکیٹ بھی بن گیا ہے۔ اب ہماری ایئرلائنز مسلسل اپنا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ اور لوگوں کے لیے حیرت انگیز بات ہوتی ہے، جب دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ اکیلے ہندستان سے ان دنوں ہوائی جہاز بنانے والی کمپنیوں کے پاس تقریباً 1 ہزار نئے ہوائی جہاز کے آرڈر بک ہیں۔ اس سے نئے پائلٹس، کیبن کرو، انجینئروں اور گراؤنڈ کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

دوستو،

جب ہوائی جہاز بڑھتے ہیں، تو  دیکھ بھال اور مرمت کا کام بھی بڑھتا ہے۔ اسی کے لیے ہم بھارت میں نئی سہولیات بھی قائم کر رہے ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ اس دہائی کے آخر تک بھارت ایک بڑاایم آر او ہب بن جائے۔ اس میں بھی بھارت کے نوجوانوں کے لیے بے شمار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

دوستو،

آج بھارت دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ ہماری طاقت، ہمارے نوجوان ہیں۔ اسی لیے ہماری ہر پالیسی کا فوکس نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر ہے۔ جب انفراسٹرکچر میں زیادہ سرمایہ کاری ہوتی ہے، تب روزگار پیدا ہوتا ہے۔ جب 76 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے وادھوان جیسے پورٹ بنتا ہے، تب جا کر روزگار پیدا ہوتا ہے۔ جب تجارت بڑھتی ہے اور لاجسٹکس سے جڑے شعبوں کو رفتار ملتی ہے، تب بے شمار روزگار کے مواقع بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو،

ہم ان تہذیب کے دائرے میں پروان چڑھےہیں، جہاں قومی پالیسی ہی سیاست کی بنیاد ہے۔ ہمارے لیے انفراسٹرکچر پر لگنے والا ہر ایک روپیہ شہریوں کی سہولت اور صلاحیت کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن دوسری طرف ملک میں ایک ایسی سیاسی دھار بھی رہی ہے، جو عوام کی سہولت کی بجائے اقتدار کی سہولت کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ترقی کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، گھوٹالے اور بدعنوانیاں کرکے ترقی سے جڑے منصوبوں کو پٹری سے اتار دیتے ہیں۔ دہائیوں تک ملک نے ایسے نقصان کو دیکھا ہے۔

دوستو،

آج جس میٹرو لائن کا افتتاح ہوا ہے، یہ ان لوگوں کے کارناموں کی یاد بھی دلاتا ہے۔ میں اس کے بھومی پوجن میں شامل ہوا تھا، تب ممبئی کے لاکھوں خاندانوں کو امید پیدا ہوئی تھی کہ ان کی مشکلات کم ہوں گی۔ لیکن پھر کچھ عرصے کے لیے جو حکومت آئی، اُس نے یہ کام ہی روک دیا۔ انہیں اقتدار ملا، لیکن ملک کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور اتنے سالوں تک شہریوں کو تکلیف برداشت کرنی پڑی۔ اب یہ میٹرو لائن بننے سے، دو سے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر 30-40 منٹ میں مکمل ہو جائے گا۔ جس ممبئی میں ہر ایک منٹ کی قدر ہے، وہاں تین چار سال تک اس سہولت سے شہری محروم رہے۔ یہ کسی گناہ سے کم نہیں ہے۔

دوستو،

پچھلے 11 سالوں سے شہریوں کی زندگی آسان بنانے اورEase of Living پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ریلوے، سڑکیں، ایئرپورٹس، میٹرو، الیکٹرک بسیں اور ایسی ہر سہولت پر بے مثال سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اٹل سیتو اور کوسٹل روڈ جیسے پروجیکٹ بنائے گئے ہیں۔

 

دوستو،

ہم ہر قسم کے ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو بھی آپس میں جوڑ رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ شہریوں کو  ہموار سفرملے اور ایک ذریعہ سے دوسرے ذریعہ تک بھٹکنے کی ضرورت نہ رہے۔ آج ملک ون نیشن ، ون موبلیٹی کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ممبئی ون ایپ بھی اسی سمت میں ایک اور کوشش ہے۔ اب ممبئی کے شہریوں کو ٹکٹ کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا۔ ممبئی ون ایپ سے ایک بار ٹکٹ لو، اور اسی ٹکٹ سے لوکل، بس، میٹرو یا ٹیکسی - سب میں سفر کرو۔

دوستو،

ممبئی بھارت کی اقتصادی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ بھارت کے سب سے متحرک شہروں میں سے ایک ہے۔ اسی لیے 2008 میں دہشت گردوں نے بھی ممبئی شہر کو بڑے حملے کے لیے منتخب کیا۔ لیکن اُس وقت جو کانگریس کی حکومت اقتدار میں تھی، اس نے کمزوری کا پیغام دیا اور دہشت گردی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا پیغام دیا۔حال ہی میں کانگریس کے ایک بڑے رہنما، جو ملک کے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں، انھوں نے ایک انٹرویو میں ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممبئی حملے کے بعد ہماری افواج پاکستان پر حملے کے لیے تیار تھیں۔ پورا ملک بھی اُس وقت یہی چاہتا تھا۔لیکن اُس کانگریس رہنما کے مطابق، کسی دوسرے ملک کے دباؤ کے سبب، اُس وقت کانگریس کی حکومت نے بھارتی افواج کو پاکستان پر حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔ کانگریس کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ کون تھا جس نے غیر ملکی دباؤ میں یہ فیصلہ لیا، جس نے ممبئی اور ملک کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ، اور ملک کو یہ جاننے کا حق ہے۔کانگریس کی اس کمزوری نے دہشت گردوں کو مضبوط کیا اور ملک کی سلامتی کو کمزور کیا، جس کی قیمت ملک کو بار بار جانیں گنوانے کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔

دوستو،

ہمارے لیے، وطن اور وطن والوں کی حفاظت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔آج کا بھارت دم دار جواب دیتا ہے۔آج کا بھارت گھر میں گھس  کرمارتا ہے۔یہ بات دنیا نے آپریشن سندور کے دوران بھی دیکھی اور اس پر فخر بھی محسوس کیا۔

 

دوستو،

غریب ہو ، نو متوسط طبقہ ہو یا متوسط طبقہ ہو ، ان کو بااختیار بنانا آج ملک کی ترجیح ہے۔ جب ان خاندانوں کو سہولت ملتی ہے، عزت ملتی ہے، تب ان کی طاقت بڑھتی ہے۔ ملک کے شہریوں کی طاقت سے ہی ملک مضبوط ہوتا ہے۔ ابھی جی ایس ٹی میں جو نیکسٹ جنریشن اصلاحات کی گئی ہیں، اور جو چیزیں سستی ہوئی ہیں، ان سے بھی ملک کے لوگوں کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ سے آنے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس بار نو راتری میں کئی سالوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ ریکارڈ تعداد میں لوگا سکوٹر، بائیک، ٹی وی، فریج، واشنگ مشین وغیرہ خرید رہے ہیں۔

 

دوستو،

جس سے ہم وطنوںکی زندگی بہتر ہو، جس سے ملک کو طاقت ملے، ہماری حکومت آگے بھی ایسے ہی اقدامات کرتی رہے گی۔ لیکن میرا آپ سے بھی ایک درخواست ہے۔سودیشی کو اپنائیں، فخر کے ساتھ کہیں کہ یہ سودیشی ہے ۔ یہ ہر گھر، ہر بازار کا نعرہ ہونا چاہیے۔ ہر شہری سودیشی کپڑے، جوتے خریدے گا، سودیشی سامان گھر لائے گا، اگر کسی کو تحفہ دینا ہو تو سودیشی دے گا، تو ملک کا پیسہ ملک میں ہی استعمال ہوگا۔ اس سے بھارت کے مزدور کو کام ملے گا اور بھارت کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ تصور کیجئے، جب پورا بھارت سودیشی کو اپنائے گا تو بھارت کی طاقت کتنی بڑھ جائے گی۔

دوستو،

مہاراشٹر ہمیشہ ملک کی ترقی کو تیز کرنے میں آگے رہا ہے۔ این ڈی اے کی ڈبل انجن سرکار مہاراشٹر کے ہر شہر اور ہر گاؤں کی طاقت بڑھانے کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔ ایک بار پھر میں آپ سب کو ترقیاتی کاموں کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں اور آپ سب کو بے شمار نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ میرے ساتھ بولئے۔بھارت ماتا کی جے! دونوں ہاتھ اوپر کر کے وِجئے اُتسَو منائیے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push

Media Coverage

India's electronics exports cross $47 billion in 2025 on iPhone push
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
List of Outcomes: Visit of His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan, President of UAE to India
January 19, 2026
S.NoAgreements / MoUs / LoIsObjectives

1

Letter of Intent on Investment Cooperation between the Government of Gujarat, Republic of India and the Ministry of Investment of the United Arab Emirates for Development of Dholera Special Investment region

To pursue investment cooperation for UAE partnership in development of the Special Investment Region in Dholera, Gujarat. The envisioned partnership would include the development of key strategic infrastructure, including an international airport, a pilot training school, a maintenance, repair and overhaul (MRO) facility, a greenfield port, a smart urban township, railway connectivity, and energy infrastructure.

2

Letter of Intent between the Indian National Space Promotion and Authorisation Centre (IN-SPACe) of India and the Space Agency of the United Arab Emirates for a Joint Initiative to Enable Space Industry Development and Commercial Collaboration

To pursue India-UAE partnership in developing joint infrastructure for space and commercialization, including launch complexes, manufacturing and technology zones, incubation centre and accelerator for space start-ups, training institute and exchange programmes.

3

Letter of Intent between the Republic of India and the United Arab Emirates on the Strategic Defence Partnership

Work together to establish Strategic Defence Partnership Framework Agreement and expand defence cooperation across a number of areas, including defence industrial collaboration, defence innovation and advanced technology, training, education and doctrine, special operations and interoperability, cyber space, counter terrorism.

4

Sales & Purchase Agreement (SPA) between Hindustan Petroleum Corporation Limited, (HPCL) and the Abu Dhabi National Oil Company Gas (ADNOC Gas)

The long-term Agreement provides for purchase of 0.5 MMPTA LNG by HPCL from ADNOC Gas over a period of 10 years starting from 2028.

5

MoU on Food Safety and Technical requirements between Agricultural and Processed Food Products Export Development Authority (APEDA), Ministry of Commerce and Industry of India, and the Ministry of Climate Change and Environment of the United Arab Emirates.

The MoU provides for sanitary and quality parameters to facilitate the trade, exchange, promotion of cooperation in the food sector, and to encourage rice, food products and other agricultural products exports from India to UAE. It will benefit the farmers from India and contribute to food security of the UAE.

S.NoAnnouncementsObjective

6

Establishment of a supercomputing cluster in India.

It has been agreed in principle that C-DAC India and G-42 company of the UAE will collaborate to set up a supercomputing cluster in India. The initiative will be part of the AI India Mission and once established the facility be available to private and public sector for research, application development and commercial use.

7

Double bilateral Trade to US$ 200 billion by 2032

The two sides agreed to double bilateral trade to over US$ 200 billion by 2032. The focus will also be on linking MSME industries on both sides and promote new markets through initiatives like Bharat Mart, Virtual Trade Corridor and Bharat-Africa Setu.

8

Promote bilateral Civil Nuclear Cooperation

To capitalise on the new opportunities created by the Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India (SHANTI) Act 2025, it was agreed to develop a partnership in advance nuclear technologies, including development and deployment of large nuclear reactors and Small Modular Reactors (SMRs) and cooperation in advance reactor systems, nuclear power plant operations and maintenance, and Nuclear Safety.

9

Setting up of offices and operations of UAE companies –First Abu Dhabi Bank (FAB) and DP World in the GIFT City in Gujarat

The First Abu Dhabi Bank will have a branch in GIFT that will promote trade and investment ties. DP World will have operations from the GIFT City, including for leasing of ships for its global operations.

10

Explore Establishment of ‘Digital/ Data Embassies’

It has been agreed that both sides would explore the possibility of setting up Digital Embassies under mutually recognised sovereignty arrangements.

11

Establishment of a ‘House of India’ in Abu Dhabi

It has been agreed in Principle that India and UAE will cooperate on a flagship project to establish a cultural space consisting of, among others, a museum of Indian art, heritage and archaeology in Abu Dhabi.

12

Promotion of Youth Exchanges

It has been agreed in principle to work towards arranging visits of a group of youth delegates from either country to foster deeper understanding, academic and research collaboration, and cultural bonds between the future generations.