’’گیمز میسکوٹ ’اشٹلکشمی‘ اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح شمال مشرق کی امنگوں کو نئے پنکھ مل رہے ہیں‘‘
’’کھیلو انڈیا کھیلوں کی تقریبات کا انعقاد ہندوستان کے ہر کونے میں کیا جا رہا ہے، شمال سے جنوب تک اور مغرب سے مشرق تک‘‘
’’جس طرح تعلیمی کامیابیوں کا جشن منایا جاتا ہے، ہمیں کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو عزت دینے کی روایت کو فروغ دینا چاہیے، ہمیں ایسا کرنے کے لیے شمال مشرق سے سیکھنا چاہیے‘‘
’’چاہے یہ کھیلو انڈیا، ٹاپس، یا دیگر اقدامات ہوں، ہماری نوجوان نسل کے لیے امکانات کا ایک نیا ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے‘‘
’’ہمارے کھلاڑی کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں اگر ان کی سائنسی نقطہ نظر سے مدد کی جائے‘‘

آسام کے وزیر اعلیٰ  جناب ہمنت  بسوا سرما جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی، جناب انوراگ ٹھاکر جی، آسام حکومت کے وزراء، دیگر معززین اور ملک کے کونے کونے سے موجود نوجوان کھلاڑی!

مجھے کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز میں آپ سب کے ساتھ شامل ہونے پر  انتہائی  خوشی ہو رہی ہے۔ اس بار یہ کھیل شمال مشرق کی سات ریاستوں کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ ان کھیلوں کا  میسکٹ  ایک تتلی اشٹ لکشمی  کو  بنایا گیا ہے۔ میں اکثر شمال مشرقی ریاستوں کو بھارت کی اشٹ لکشمی کہتا ہوں۔ ان کھیلوں میں تتلی کو  میسکٹ  بنانا بھی اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح شمال مشرق کی امنگوں کو نئے پنکھ مل رہے ہیں۔ میں اس ایونٹ میں شرکت کے لیے آنے والے تمام کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ آپ سبھی کھلاڑیوں نے ، جو ملک کے کونے کونے سے آئے ہیں، گواہاٹی میں ایک بھارت  شریشٹھ  بھارت کی شاندار تصویر  بنا دی ہے۔ آپ  جم کر کھیلیں، ڈٹ کر کھیلیں، خود جیتیے ، اپنی ٹیم کو جیتائیے اور ہار گئے تو بھی ٹینشن نہیں لینی ہے ۔  ہاریں گے تو بھی یہاں سے بہت کچھ سیکھ کر جائیں گے۔

ساتھیو ،

مجھے خوشی ہے کہ آج ملک کے کونے کونے میں، شمال سے لے کر جنوب تک اور مغرب سے لے کر مشرقی بھارت تک  ، اس طرح کے کھیلوں سے متعلق پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ آج ہم یہاں شمال مشرق میں کھیلو انڈیا یونیورسٹی گیمز کے گواہ بن رہے ہیں۔ چند روز قبل لداخ میں کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے  ، تمل ناڈو میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز منعقد ہوئے تھے۔ اس سے پہلے بھی بھارت کے مغربی ساحل پر دیو میں بیچ گیمز کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ انعقاد ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے کونے کونے میں نوجوانوں کو کھیلنے  کے لیے ،  کھلنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔ اس لیے میں آسام کی حکومت اور دیگر ریاستی حکومتوں کو اس تقریب کے انعقاد کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو ،

آج معاشرے میں کھیلوں کے حوالے سے ذہن اور مزاج بھی بدل چکے ہیں۔ پہلے کسی کو اپنے بچوں سے ملواتے وقت والدین  ، اس کی کھیلوں میں کامیابی کے بارے میں بتانے سے گریز کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ کھیلوں کی بات کریں گے تو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ بچہ نہ پڑھتا ہے اور نہ ہی لکھتا ہے۔ اب معاشرے کی یہ سوچ بدل رہی ہے۔ اب والدین بھی فخر سے کہتے ہیں کہ ان کے بچے نے اسٹیٹ کھیلا ، نیشنل کھیلا  یا انٹرنیشنل میڈل جیت کر لایا  ہے۔

ساتھیو ،

آج وقت کا تقاضا  ہے کہ کھیلوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کو بھی منایا جائے اور یہ کھلاڑیوں سے زیادہ معاشرے کی ذمہ داری ہے ،  جس طرح دسویں یا بارہویں کے بورڈ کے نتائج کے بعد اچھے نمبر حاصل کرنے والے بچے قابل احترام  ہوتے ہیں... جس طرح بچے بڑے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد قابل احترام ہوتے ہیں... اسی طرح معاشرے کو ایسے بچوں کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔  ان بچوں میں روایت کو بھی فروغ دینا چاہیے ،  جو کھیلوں میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اور اس کے لیے ہم شمال مشرق سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ پورے شمال مشرق میں کھیلوں کا احترام، وہاں کے لوگ  ، جس طرح کھیلوں کو مناتے ہیں، حیرت انگیز ہے۔ چنانچہ فٹ بال سے لے کر ایتھلیٹکس تک، بیڈمنٹن سے لے کر باکسنگ تک، ویٹ لفٹنگ سے لے کر شطرنج تک، یہاں کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں سے ہر روز نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ شمال مشرق کی  ، اس سرزمین نے کھیلوں کو آگے بڑھانے کا کلچر تیار کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام کھلاڑی  ، جو اس ٹورنامنٹ کے لیے  یہاں آئے ہیں  ، وہ نئی چیزیں سیکھیں گے اور اسے پورے بھارت میں لے جائیں گے۔

ساتھیو ،

کھیلو انڈیا ہو، ٹاپس ہو، یا اس طرح کی دیگر مہمات ہوں، آج ہماری نوجوان نسل کے لیے نئے امکانات کا ایک مکمل ماحولیاتی نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں تربیت سے لے کر اسکالرشپ دینے تک کھلاڑیوں کے لیے سازگار ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اس سال کھیلوں کے لیے ساڑھے تین ہزار کروڑ روپے کا ریکارڈ بجٹ دیا گیا ہے۔ ہم نے سائنسی نقطہ نظر سے ملک کے کھیلوں کے ٹیلنٹ کو نئی قوت فراہم کی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھارت ہر مقابلے میں پہلے سے زیادہ تمغے جیت رہا ہے۔ آج دنیا  ، بھارت کو دیکھ رہی ہے  ، جو ایشین گیمز میں نئے ریکارڈ بنا رہا ہے۔ آج دنیا ایک ایسے بھارت کی طرف دیکھ رہی ہے  ، جو پوری دنیا کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ بھارت نے ورلڈ یونیورسٹی گیمز میں بھی حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ 2019 ء میں  ، ہم نے ان کھیلوں میں 4 تمغے جیتے تھے ۔ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ 2023 ء میں ہمارے نوجوانوں نے 26 تمغے جیتے ہیں اور میں پھر کہوں گا کہ یہ صرف تمغوں کی تعداد نہیں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہمارے نوجوانوں کو  سائنسی نقطہ نظر کے ساتھ  مدد فراہم کی جائے  ، تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔

ساتھیو ،

کچھ دنوں کے بعد آپ یونیورسٹی سے باہر کی دنیا میں چلے جائیں گے۔ یقیناً مطالعہ ہمیں دنیا کے لیے تیار کرتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کھیل ہمیں دنیا کے چیلنجوں  کا مقابلہ کرنے کی ہمت فراہم کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ کامیاب لوگوں میں ہمیشہ کچھ خاص خوبیاں ہوتی ہیں۔ ان لوگوں میں صرف ٹیلنٹ ہی نہیں ہوتا،  جذبہ بھی ہوتا ہے۔ وہ ٹیم اسپرٹ کے ساتھ قیادت اور کام کرنا بھی جانتا ہے۔ یہ لوگ کامیابی کے بھوکے ہوتے ہیں لیکن یہ  بھی جانتے ہیں کہ ہارنے کے بعد دوبارہ کیسے جیتنا ہے، وہ دباؤ میں کام کرتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا جانتے ہیں۔ ان تمام خوبیوں کو حاصل کرنے کے لیے کھیل ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ جب ہم کھیلوں میں شامل ہوتے ہیں تو ہم ان خصوصیات میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں - جو کھیلتا ہے، وہ کھِلتا ہے۔

ساتھیو ،

اور آج میں اپنے نوجوان ساتھیوں کو کھیلوں کے علاوہ کچھ کام دینا چاہتا ہوں۔ہم سب شمال مشرق کی خوبصورتی کے بارے میں جانتے ہیں۔ ان کھیلوں کے بعد،  موقع نکال کر ، اپنے اردگرد  گھومنے ضرور جائیں  اور صرف گھومنا ہی نہیں، سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر بھی شیئر کریں۔ آپ  ہیش ٹیگ#نارتھ –ایسٹ میموریز    کا استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ لوگ  ،  یہ بھی کوشش کریں کہ جس ریاست میں کھیلنے جائیں ، وہاں مقامی زبان کے  4-5  جملے  ضرور سیکھیں۔ آپ وہاں کے لوگوں سے بات کرنے کے لیے بھاشنی  ایپ  کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ آپ واقعی اس سے لطف اندوز ہوں گے۔

ساتھیو ،

مجھے یقین ہے کہ  آپ اس تقریب میں  زندگی بھر یاد رکھنے  والے تجربات حاصل کریں گے ۔ اسی  خواہش کے ساتھ، ایک بار پھر  ، میں آپ سبھی  بہت ساری نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ !

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.