‘‘آج حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے مثبت اثرات وہاں نظر آرہے ہیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے’’
‘‘آج لوگ حکومت کو رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھتے۔ بلکہ لوگ ہماری حکومت کو نئے مواقع کے لیے ایک محرک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یقیناً ٹیکنالوجی نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے’’
‘‘شہری آسانی سے اپنے خیالات حکومت تک پہنچا سکتے ہیں اور ان کا فوری حل حاصل کر سکتے ہیں’’
‘‘ہم ہندوستان میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تشکیل دے رہے ہیں اور یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ڈیجیٹل انقلاب کے فوائد سماج کے ہر طبقے تک پہنچیں’’
‘‘کیا ہم معاشرے کے 10 ایسے مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں جو اے آئی سے حل ہو سکتے ہیں’’
‘‘حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان غلامی کی ذہنیت کا نتیجہ ہے’’
‘‘ہمیں معاشرے کے ساتھ اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے بہترین عالمی طور طریقوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے’’

نمسکار!

قومی سائنس ڈے پر آج کے بجٹ ویبنار کا موضوع بہت اہم ہے۔ 21ویں صدی کا بدلتا ہوا ہندوستان اپنے شہریوں کو ٹیکنالوجی کی طاقت سے مسلسل بااختیار بنا رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ہماری حکومت کے ہر بجٹ میں ٹیکنالوجی کی مدد سے اہل وطن کی زندگی میں مزید آسانی پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں بھی ہماری کوشش رہی ہے کہ ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے لیکن ساتھ ہی انسانی رابطے کو بھی۔

دوستو، ایک وقت تھا جب ہمارے ملک میں حکومت کی ترجیحات میں بہت زیادہ تضاد تھا۔ سماج کا ایک ایسا طبقہ تھا، جو چاہتا تھا کہ ان کی زندگی کے ہر قدم پر حکومت کا کوئی نہ کوئی عمل دخل ہو، حکومت کا اثر و رسوخ ہو، یعنی حکومت ان کے لیے کچھ کرے۔ لیکن پچھلی حکومتوں کے دوران اس طبقے نے ہمیشہ کمی  کا احساس کیا ہے۔فقدان میں زندگی لڑائی جھگڑے میں گزر جاتی تھی۔ معاشرے میں ایسے لوگوں کا ایک طبقہ تھا، وہ دوسری قسم کا تھا۔ جو اپنی طاقت سے آگے بڑھنا چاہتا تھا لیکن پچھلی حکومتوں کے دوران اس طبقے نے بھی ہر قدم پر حکومتی مداخلت کے دباؤ، طرح طرح کی رکاوٹوں کو محسوس کیا۔ گزشتہ چند سالوں میں ہماری حکومت کی کوششوں سے یہ صورتحال بدلنا شروع ہو گئی ہے۔ آج حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے مثبت اثرات ہر اس جگہ نظر آرہے ہیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ہماری کوششیں ہر غریب اور محروم کی زندگی کو آسان بنا رہی ہیں، ان کی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ عوام کی زندگیوں میں حکومت کی مداخلت اور دباؤ بھی کم ہوا ہے۔ آج لوگ حکومت کو راستے میں رکاوٹ نہیں سمجھتے۔ بلکہ لوگ ہماری حکومت کو نئے مواقع کے لیے ایک کیٹلسٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اور یقیناً ٹیکنالوجی نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔

آپ نے دیکھا کہ ٹیکنالوجی ون نیشن ون راشن کارڈ کی بنیاد بن گئی اور اس کی وجہ سے یہ یقینی بنایا گیا کہ کروڑوں غریبوں کو شفاف طریقے سے راشن ملے۔ اور دوسرے جو مہاجر مزدور ہیں۔ مہاجر مزدوروں کے لیے یہ بہت بڑی نعمت بن گیا ہے۔ ٹیکنالوجی، جن دھن اکاؤنٹ، آدھار اور موبائل ان تینوں نے کروڑوں غریبوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم بھیجنا ممکن بنایا۔

اسی طرح ٹیکنالوجی، آروگیہ سیتو اور کوون ایپ اس کے لیے ایک اہم ٹول بن گئے اور اس سے کورونا کے دوران ٹریسنگ اور ٹیکہ کاری میں بہت مدد ملی۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے ریلوے ریزرویشن کو مزید جدید بنا دیا ہے اور اس میں عام  سے عام آدمی کا سر درد دور ہو گیا ہے۔ کامن سروس سینٹر کا نیٹ ورک بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے غریب ترین لوگوں کو سرکاری خدمات سے جوڑ رہا ہے۔ اس طرح کے کئی فیصلے لے کر ہماری حکومت نے ہم وطنوں کی زندگی میں آسانی پیدا کی ہے۔

دوستو، آج ہندوستان کا ہر شہری اس تبدیلی کو صاف محسوس کر رہا ہے کہ حکومت سے بات چیت کرنا کتنا آسان ہو گیا ہے۔ یعنی اہل وطن آسانی سے حکومت تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں اور ان کا حل بھی انہیں فوری مل رہا ہے۔ اس طرح ٹیکس سے متعلق شکایات پہلے بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں اور اس وجہ سے ٹیکس دہندگان کو کئی طریقوں سے ہراساں کیا جاتا تھا۔ اسی لیے ہم نے ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکس کے پورے عمل کو فیس لیس(یعنی کسی کام کے لئے خود موجود ہونے کی ضرورت نہیں) بنا دیا ہے۔ اب آپ کی شکایات اور ان کے نبٹارے کے درمیان کوئی شخص نہیں، صرف ٹیکنالوجی ہے۔ یہاں میں نے آپ کو ایک مثال دی ہے۔ لیکن دیگر شعبوں میں بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔ مختلف محکمے اپنی خدمات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے ایک ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اسے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے، ہم ان شعبوں کی بھی نشاندہی کر سکتے ہیں جہاں حکومت کے ساتھ رابطے کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔

دوستو، آپ جانتے ہیں کہ ہم مشن کرمایوگی کے ذریعے سرکاری ملازمین کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ اس تربیت کے پیچھے ہمارا مقصد ملازمین کو سٹیزن سینٹرک بنانا ہے۔ اس تربیتی کورس کو اپ ڈیٹ کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے بہتر نتائج تب ہی ملیں گے جب لوگوں کے تاثرات کی بنیاد پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ہم ایک ایسا نظام بنا سکتے ہیں جو تربیتی کورس کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کی تجاویز حاصل کرتا رہے۔

دوستو، ٹیکنالوجی ہر کسی کو صحیح اور درست معلومات فراہم کر کے آگے بڑھنے کا مساوی موقع فراہم کر رہی ہے۔ ہماری حکومت ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ہم ہندوستان میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ڈیجیٹل انقلاب کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ آج، جی ای ایم پورٹل نے یہ موقع دیا ہے کہ دور دراز کے چھوٹے دکانداروں یا رہڑی پٹری والے دکانداروں کو بھی اپنی مصنوعات براہ راست حکومت کو فروخت کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ ای-نیم نے کسانوں کو مختلف جگہوں سے خریداروں سے رابطہ قائم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب کسان ایک جگہ رہ کر اپنی پیداوار کی بہترین قیمت حاصل کر سکتے ہیں۔

دوستو، آج کل 5جی اور اے آئی  پر کافی عرصے سے بحث ہو رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صنعت، طب، تعلیم، زراعت اور دیگر تمام شعبوں میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ لیکن اب ہمیں اپنے لیے کچھ مخصوص اہداف مقرر کرنے ہوں گے۔ اس ٹیکنالوجی کو عام آدمی کی بہتری کے لیے کون سے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ وہ کون سے شعبے ہیں جن پر ہمیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے؟ کیا ہم معاشرے کے 10 مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں جنہیں اے آئی  کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے؟ جب ہیکاتھون منعقد ہوتے ہیں تو وہ ملک کے نوجوانوں کے سامنے ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کے بارے میں بات کرتے ہیں اور لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوتے ہیں اور بہت اچھے حل پیش کرتے ہیں۔

دوستو، ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ہر فرد کے لیے ڈیجی لاکر کی سہولت لے کر آئے ہیں، اب اداروں کے لیے ڈیجی لاکر کی سہولت موجود ہے۔ یہاں کمپنیاں ایم ایس ایم ایز اپنی فائلوں کومحفوظ کر سکتی ہیں، اور اسے مختلف ریگولیٹرز اور سرکاری محکموں کے ساتھ شیئر کر سکتی ہیں۔ ڈیجی لاکر  کے تصور کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کن کن طریقوں سے لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

دوستو، پچھلے کچھ سالوں میں، ہم نے ایم ایس ایم ایز کی مدد کے لیے بہت سے اہم قدم اٹھائے ہیں۔ اس معاملے پر ذہن سازی کرنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کی چھوٹی صنعتوں کے لیے بڑی کمپنی بننے میں کیا رکاوٹیں ہیں؟ ہم چھوٹے کاروباروں اور چھوٹی صنعتوں کے لیے تعمیل کی لاگت کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کاروبار میں کہا جاتا ہے کہ وقت پیسہ ہے۔ لہذا تعمیل پر خرچ ہونے والے وقت کو بچانے کا مطلب تعمیل کی لاگت کو بچانا ہے۔ اگر آپ غیر ضروری تعمیل کی فہرست بنانا چاہتے ہیں، تو یہ صحیح وقت ہے، کیونکہ ہم پہلے ہی 40,000 تعمیل (کمپلائنسیز )مکمل کر چکے ہیں۔

ساتھیوں، حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان غلامی کی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ لیکن آج چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو ناقابل تعزیر بنا کر، اور ایم ایس ایم ای لون کے ضامن کے طور پر، حکومت نے لوگوں کا اعتماد جیت لیا ہے۔ لیکن ہمیں یہیں رکنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ معاشرے کے ساتھ اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک میں کیا کیا گیا ہے۔ ہم ان سے سیکھ کر اپنے ملک میں بھی ایسی ہی کوششیں کر سکتے ہیں۔

دوستو، بجٹ یا کسی بھی حکومتی پالیسی کی کامیابی کا انحصار کسی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کی تیاری کتنی اچھی ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر اس پر عمل درآمد کا طریقہ اہم ہے، اس میں لوگوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز  کی تجاویز  سے زندگی گذارنے میں آسانی کو بڑا فروغ ملے گا۔ اور میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں مینوفیکچرنگ ہب بنانا ہے۔ زیرو ڈیفکٹ، زیر ایفیکٹ، یہ ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ ہمارے معیار میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور ٹیکنالوجی اس میں بہت مدد کر سکتی ہے۔ ٹکنالوجی کی مدد سے، ہم پروڈکٹ کو پروڈکشن میں منٹ کی تفصیلات تک مکمل طور پر لا سکتے ہیں۔ اور تب ہی ہم عالمی منڈی پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ 21ویں صدی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ زندگی میں ٹیکنالوجی کا اثر بہت بڑھنے والا ہے۔ آئیے خود کو صرف انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک محدود نہ رکھیں۔ جس طرح آج آپٹیکل فائبر نیٹ ورک ہر گاؤں تک پہنچے گا، پنچایتیں پہنچیں گی، فلاح و بہبود کے مراکز پہنچیں گے، ٹینی میڈیسن چلے گی، حتیٰ کہ صحت کا شعبہ بھی مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتا جا رہا ہے۔ آج ملک بہت سی چیزیں بھاری مقدار  میں جیسے دفاع میں درآمد کرتا ہے ہم صحت میں بھی بہت کچھ درآمد کرتے ہیں۔ کیا میرے ملک کے صنعت کار ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کر کے اس سمت میں نہیں جا سکتے؟ اور یہی وجہ ہے کہ اب آپٹیکل فائبر ہر گاؤں تک پہنچ رہا ہے۔

جب تک پرائیوٹ پارٹیز خدمات لینے نہیں آتیں، وہ نئے سافٹ ویئر لے کر  نہیں آتیں۔ اس آپٹیکل فائبر سے عام شہری کیا خدمات لے سکتا ہے، کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ہم اس کا ماڈل تیار کر سکتے ہیں۔ اور ہم ہر چیز میں عوام کی شرکت چاہتے ہیں۔ یہ نہ ہماری سوچ ہے اور نہ ہی ہمارا دعویٰ ہے کہ حکومت کو تمام تر علم ہے۔ اور اسی لیے میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کرتا ہوں کہ جتنی جلدی ہم 21ویں صدی کو پھیلاتے ہیں، جو کہ ٹیکنالوجی سے چلنے والی صدی ہے، جتنی جلدی ہم اسے آسان بنائیں گے، جتنی جلدی ہم عام آدمی کو بااختیار بنائیں گے، اتنی ہی زیادہ ملک اور عوام کی فلاح و بہبود ہوگی۔ ٹکنالوجی ہمیں 2047 میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے میں بڑی طاقت فراہم کرتی ہے۔ اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہندوستان کے پاس قدرتی تحفہ ہے۔

ہمارے پاس باصلاحیت نوجوان، ہنر مند افرادی قوت ہے۔ اور ہندوستان کے دیہات کے لوگوں میں بھی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی بہت بڑی صلاحیت ہے۔ ہم اس کا فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس پر تفصیل سے بات کریں، اس پر تفصیل سے بات کریں اور جو بجٹ آیا ہے اس کا بہترین فائدہ کیسے اٹھایا جائے، اس کے بہترین فوائد عوام تک کیسے پہنچیں۔ اس پر آپ کی بحث جتنی گہری ہوگی، یہ بجٹ اتنا ہی زیادہ معنی خیز ہوگا۔

میں آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ.

 
Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
WEF chief praises PM Modi; expresses amazement with infrastructure development, poverty eradication

Media Coverage

WEF chief praises PM Modi; expresses amazement with infrastructure development, poverty eradication
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Our commitment is clear: corrupt individuals will be investigated: PM Modi at Agra rally
While Modi focuses on uplifting the poor, the SP-Congress alliance is indulging in blatant appeasement: PM Modi
We are ending 'Tushtikaran' and working for 'Santushtikaran': PM Modi at election rally in UP's Agra
I went into the sea with great devotion, I went there to seek the blessings of Lord Shri Krishna but Congress 'Shehzada' made fun of it, says the PM
Addressing a public rally in Aonla, PM Modi says this election is an election to completely free the country from the mentality of 1000 years of slavery

In anticipation of the 2024 Lok Sabha Elections, Prime Minister Narendra Modi delivered stirring addresses to massive crowds in Agra & Aonla in Uttar Pradesh. Amidst an outpouring of affection and respect, PM Modi unveiled a transparent vision for a Viksit Uttar Pradesh and a Viksit Bharat. The PM exposed the harsh realities of the Opposition’s trickery and their “loot system”.

Initiating his positively voluminous speech, PM Modi warned the audience that, “Some unnecessary force opposes India's growing power,” but at the same time the PM also assured that, “A defence corridor is being built here to manufacture deadly weapons for our army and for export. Arms brokers, who used to bribe Congress leaders, are furious. They don't want India's army to be Aatmanirbhar. They're united against Modi. We need the BJP-NDA government again to stop them.”

“While Modi focuses on uplifting the poor, the SP-Congress alliance is indulging in blatant appeasement. Congress's manifesto for the 2024 elections bears 100% imprint of the Muslim League, solely dedicated to strengthening their vote bank,” PM Modi remarked.

Addressing a crucial issue of the day, PM Modi shed light on the Opposition's deceitful tactics, remarking, “Congress, whether in Karnataka or Andhra Pradesh, has persistently pushed for religious-based reservation in its manifesto. Despite constitutional and judicial constraints, Congress is determined to pursue this agenda. Their strategy involves reallocating OBC quota to provide religious-based reservation, as seen in Karnataka where all Muslim castes were included in the OBC category by the Congress government.”

“In 2012, just before the Uttar Pradesh Assembly elections, the Congress government attempted to allocate a portion of OBC reservation to minorities based on religion but failed. Now, the people of UP, especially the OBC community, must recognize Congress and SP's dangerous game. They aim to take away the rights of OBC castes like Yadav, Kurmi, Maurya, Kushwaha, Jat-Gujjar, Rajbhar, Teli, and Pal, and give them to their preferred vote bank. The SP, for its own gains, is betraying the Yadavs and backward classes. This appeasement-driven mindset defines both the SP and Congress, who aim to surreptitiously redistribute OBC rights to their vote banks, before the arrival of Yogi ji, the slogan of the INDI Alliance here was – The land which is the government's, that land is ours,” the PM further added.

Launching his revolt against the Opposition parties, PM Modi observed that, “A new scheme by the Congress-INDI Alliance has emerged, and that is Congress Ki Loot…Jindagi Ke Sath Bhi, Jindagi Ke Baad Bhi! They claim they will investigate your belongings using the Congress prince's X-ray machine, seizing everything, including sisters' and daughters' jewellery, and distribute it among their vote banks. Not even the sisters' mangalsutras will be spared.”

With compelling facts and figures, PM Modi posed a critical question to the crowd: "The Congress-SP & INDI Alliance plans to impose a 55% tax on your inheritance. This means they'll seize a significant portion of what you leave for your children. If you built a 4-room house, only 2 rooms will go to your children, the rest seized by Congress-SP. Similarly, if you own 10 bighas of land, only 5 will be inherited by your children, the rest confiscated by Congress-SP. Are you ready to surrender your property to them?"

“Our commitment is clear: corrupt individuals will be investigated, and the money they've stolen from the poor will be returned to them. PM Modi is seeking legal advice on how to recover the looted money, including bungalows and vehicles seized from these corrupt individuals,” the PM established.

Also, PM Modi addressed the appalling paper leak incident in Rajasthan, highlighting its detrimental impact on the future of the nation's youth. He revealed that the Ashok Gehlot's government of the state played a significant role in the incident, placing the blame squarely on the Congress.

In his second rally in Aonla, PM Modi described the 2024 election as a choice to liberate the country entirely from the mentality of a thousand years of slavery. This election is about elevating India's pride to new heights.

In a blistering attack on Congress and SP, PM Modi stated, “Do you remember what the Samajwadi Party (SP) and Congress used to say ten years ago – ‘Mandir wahin banayenge, Tarikh nahi batayenge’. With your blessings, we built the temple, set a date, and even invited the SP and Congress. But they declined the invitation. Why? Because they feared upsetting their vote bank. They didn't abandon just Lord Ram, but also Lord Shyam. You know that our Lord Krishna's ancient city of Dwarka lies submerged beneath the sea. Some time ago, I went to visit Dwarka ji in the sea. But the scion of the Congress made a mockery of it too. And the family members of the SP, who claim to be from the Yadav dynasty, are now singing praises to those who ridiculed Lord Krishna.”

Emphasizing Modi's guarantee, PM Modi stated that the leaders of the INDI alliance are vying for votes to amend the Constitution and introduce reservation based on religio. “Today, I am pledging support to the OBC community of Uttar Pradesh, encompassing Yadavs, Kurmis, Maurya-Kushwahas, Jat-Gujjars, Rajbhar-Teli-Pal communities. I am committed to preventing the Samajwadi Party and Congress from depriving you of your reservation rights,” he said.

In the Aonla rally, PM Modi continued to criticize the opposition, whether it be the Congress or the Samajwadi Party, stating that they only think about their own families. He said, “For these people, their family is everything, and they do not care about anyone else. In Uttar Pradesh, the Samajwadi Party did not find a single Yadav outside their family to whom they could give a ticket. Whether it's Badaun, Mainpuri, Kannauj, Azamgarh, Firozabad, everywhere, tickets have been given only to members of the same family. Such people will always prioritize the welfare of their own family, and for them, anyone outside their family holds no significance.”

In his closing words, PM Modi humbly requested everyone in the crowd to spare a moment for their sevak and bless the BJP with a resounding victory. He also urged the crowd to visit each home, conveying his heartfelt gratitude and best wishes.