امرت کال میں ایک ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے ہندوستان کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے میں ہندوستان کی لیبر فورس کا بہت بڑا کردار ہے
ہندوستان کو ایک بار پھر تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک بنانے کا سہرا ہمارے کارکنوں کو جاتا ہے
گزشتہ آٹھ سالوں میں حکومت نے غلامی کے دور کے اور غلام ذہنیت کی عکاسی کرنے والے قوانین کو ختم کرنے کا اقدام کیا ہے
وزارت محنت امرت کال میں سال 2047 کے لیے اپنا وژن تیار کر رہی ہے
لچکدار کام کی جگہیں، گھر سے کام کرنے والا ماحولیاتی نظام، اور لچکدار کام کے اوقات مستقبل کی ضرورت ہیں
ہم لچکدار کام کی جگہوں جیسے نظام کو خواتین لیبر فورس کی شمولیت کے مواقع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں
عمارت اور تعمیراتی کارکنوں کے لیے ’محصول‘ کا مکمل استعمال ضروری ہے۔ ریاستوں کے ذریعہ 38000 کروڑ روپے سے زیادہ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے

نمسکار،

چنڈی گڑھ کے ایڈمنسٹریٹر جناب بنواری لال پروہت جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب بھوپندر یادو جی، جناب رامیشور تیلی جی، تمام ریاستوں کے معزز وزرائے محنت، لیبر سکریٹریز، دیگر شخصیات، خواتین و حضرات، سب سے پہلے میں بھگوان تروپتی بالا جی کے چرنوں میں نمن کرتا ہوں۔ جس مقدس مقام پر آپ سبھی موجود ہیں، وہ بھارت کی محنت اور قابلیت کا گواہ رہا ہے۔ مجھے یقین ہے، اس کانفرنس سے نکلے خیالات ملک کی محنت سے متعلق قابلیت کو مضبوط کریں گے۔ میں آپ سبھی کو، اور خاص کر محنت کی وزارت کو اس پروگرام کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

اس 15 اگست کو ملک نے اپنی آزادی کے 75 سال پورے کیے ہیں، آزادی کے امرت کال میں داخل ہوا ہے۔ امرت کال میں ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ہمارے جو خواب ہیں، جو آرزوئیں ہیں، انہیں پورا کرنے میں بھارت کے محنت کشوں کی طاقت کا بہت بڑا رول ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ ملک منظم اور غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے کروڑوں محنت کش ساتھیوں کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

پردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا، جیسی متعدد کوششوں نے مزدوروں کو ایک قسم کا سیکورٹی کور دیا ہے۔ ایسی اسکیموں کی وجہ سے غیر منظم شعبہ کے محنت کشوں کے من میں یہ جذبہ پیدا ہوا ہے کہ ملک ان کی محنت کی بھی اتنی ہی عزت کرتا ہے۔ ہمیں مرکز اور ریاستوں کی ایسی تمام کوششوں کو پوری سنجیدگی سے ایک ساتھ لانا ہوگا، تاکہ مزدوروں کو ان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ مل سکے۔

ساتھیو،

ملک کی ان کوششوں کا کتنا اثر ہماری معیشت پر پڑا ہے، اس کے گواہ ہم کورونا کے دور میں بھی بنے ہیں۔ ’ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم‘ اس کی وجہ سے لاکھوں چھوٹی صنعتوں کو مدد ملی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، اس اسکیم کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگوں کا روزگار جانا تھا، وہ نہیں گیا، وہ روزگار بچ گیا۔ کورونا کے دور میں ای پی ایف او سے بھی ملازمین کو بڑی مدد ملی، ہزاروں کروڑ روپے ملازمین کو ایڈوانس کے طور پر دیے گئے۔ اور ساتھیو، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے ضرورت کے وقت ملک نے اپنے محنت کشوں کا ساتھ دیا، ویسے ہی وبائی مرض پر قابو پانے میں محنت کشوں نے بھی پوری طاقت لگا دی ہے۔ آج بھارت پھر سے دنیا کی سب سے تیزی سے آگے بڑھ رہی معیشت بنا ہے، تو اس کا بہت بڑا کریڈٹ ہمارے مزدوروں کو ہی جاتا ہے۔

ساتھیو،

ملک کے ہر مزدورکو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانے کے لیے، کس طرح کام ہو رہا ہے، اس کی ایک مثال ’ای –شرم پورٹل‘ بھی ہے۔ یہ پورٹل پچھلے سال شروع کیا گیا تھا، تاکہ غیر منظم شعبہ کے مزدوروں کے لیے آدھار سے جڑا نیشنل ڈیٹا بیس بن سکے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس ایک سال میں ہی، اس پورٹل سے 400 الگ الگ شعبوں میں کام کرنے والے تقریباً 28 کروڑ محنت کش جڑ چکے ہیں۔ خاص طور سے اس کا فائدہ کنسٹرکشن ورکرز کو، مہاجر مزدوروں کو، اور ڈومیسٹک ورکرز کو مل رہا ہے۔ اب ان لوگوں کو بھی یونیورسل اکاؤنٹ نمبر جیسی سہولیات کا فائدہ مل رہا ہے۔ مزدوروں میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ’ای-شرم پورٹل‘ کو نیشنل کریئر سروس، اسیم پورٹل اور اُدیَم پورٹل سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

اس کانفرنس میں موجود آپ سبھی سے میری گزارش ہے کہ نیشنل پورٹلس کے انٹیگریشن کے ساتھ ساتھ ہم اسٹیٹ پورٹلس کو بھی ساتھ میں انٹیگریٹ کرنے پر ضرور کام کریں۔ اس سے ملک کے سبھی مزدوروں کے لیے نئے مواقع کھلیں گے، تمام ریاستوں کو ملک کے محنت کشوں کی طاقت کا مزید مؤثر فائدہ ملے گا۔

ساتھیو،

آپ سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایسے کتنے لیبر قانون رہے ہیں جو انگریزوں کے وقت سے چلے آ رہے تھے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں ہم نے  ملک میں غلامی کے دور کے، اور غلامی کی ذہنیت والے قوانین کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ملک اب ایسے لیبر قوانین کو بدل رہا ہے، رِفارم کر رہا ہے، انہیں آسان بنا رہا ہے۔ اسی سوچ سے 29 لیبر قوانین کو 4 آسان لیبر کوڈز میں بدلا گیا ہے۔ اس سے ہمارے مزدور بھائی بہن کم از کم تنخواہ، روزگار کی گارنٹی، سماجی تحفظ اور ہیلتھ سیکورٹی جیسے موضوعات پر مزید با اختیار ہوں گے۔ نئے لیبر کوڈز میں انٹر اسٹیٹ مائگرینٹ لیبرز کی تشریح کو بھی درست کیا گیا ہے۔ ہمارے مہاجر مزدور بھائی بہنوں کو ’وَن نیشن، ون راشن کارڈ‘ جیسی اسکیم سے بھی بہت مدد ملی ہے۔

ساتھیو،

ہمیں ایک اور بات یاد رکھنی ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اگر ہم نے خود کو تیزی سے تیار نہیں کیا تو پھر پچھڑے پن کا خطرہ ہو جائے گا۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے صنعتی انقلاب کا فائدہ اٹھانے میں بھارت پیچھے رہ گیا تھا۔ اب چوتھے صنعتی انقلاب کے وقت بھارت کو تیزی سے فیصلے بھی لینے ہوں گے اور انہیں تیزی سے لاگو بھی کرنا پڑے گا۔ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ، جس طرح نیچر آف جاب بدل رہا ہے، وہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔

آج دنیا ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے، پورا عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ آج ہم سب جی آئی جی اور پلیٹ فارم ایکانومی کے طور پر روزگار کے ایک نئے باب کے گواہ بن رہے ہیں۔ آن لائن شاپنگ ہو، آن لائن ہیلتھ سروس ہو، آن لائن ٹیکسی اور فوڈ ڈیلیوری ہو، یہ آج شہری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ لاکھوں نوجوان ان خدمات کو، اس نئے بازار کو رفتار عطا کر رہے ہیں۔ ان نئے امکانات کے لیے ہماری صحیح پالیسیاں اور صحیح کوششیں، اس شعبے میں بھارت کو گلوبل لیڈر بننے میں مدد کریں گی۔

ساتھیو،

ملک کی وزارت لیبر امرت کال میں سال 2047 کے لیے اپنا وژن بھی تیار کر رہی ہے۔ مستقبل کی ضرورت ہے- فلیگزیبل ورک پلیسز، ورک فرام ہوم ایکو سسٹم۔ مستقبل کی ضرورت ہے- لچکدار کام کے گھنٹے۔ ہم فلیگزیبل ورک پلیس جیسے انتظامات کو خواتین مزدوروں کی حصہ داری کے لیے موقع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

اس 15 اگست کو لال قلعہ سے میں نے ملک کی خواتین کی مکمل حصہ داری کی اپیل کی ہے۔ خواتین کی طاقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے بھارت اپنے اہداف کو اور تیزی سے حاصل کر سکتا ہے۔ ملک میں نئے ابھر رہے سیکٹرز میں خواتین کے لیے کیا کچھ اور کر سکتے ہیں، ہمیں اس سمت میں بھی سوچنا ہوگا۔

ساتھیو،

21ویں صدی میں بھارت کی کامیابی اس بات پر بھی منحصر ہوگی کہ ہم اپنے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ  کا کتنی کامیابی سے استعمال کرتے ہیں۔ ہم ہائی کوالٹی اسکلڈ ورک فورس کرئیٹ کر عالمی مواقع کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بھارت دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ مائگریشن اور موبلٹی پارٹنرشپ ایگریمنٹس بھی سائن کر رہا ہے۔ ملک کی تمام ریاستوں کو ان مواقع کا فائدہ ملے، اس کے لیے ہمیں کوششیں بڑھانی ہوں گی، ایک دوسرے سے سیکھنا ہوگا۔

ساتھیو،

آج جب اتنے بڑے موقع پر ہم سبھی ایک ساتھ اکٹھا ہوئے ہیں تو میں تمام ریاستوں سے، آپ سبھی سے مزید اپیل بھی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ سبھی واقف ہیں کہ ہمارے بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن ورکرز، ہماری ورکس فورس کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان کے لیے جس ’سیس‘ کا انتظام کیا گیا ہے، اس کا پورا استعمال ضروری ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ اس سیس میں سے تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے ابھی بھی ریاستوں کے ذریعے استعمال نہیں ہو پائے ہیں۔ ای ایس آئی سی، آیوشمان بھارت یوجنا کے ساتھ مل کر کیسے زیادہ سے زیادہ مزدوروں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، اس جانب بھی ہمیں دھیان دینا ہوگا۔

مجھے یقین ہے کہ ہماری یہ مشترکہ کوشش ملک کی حقیقی قابلیت کو سامنے لانے میں اہم رول نبھائے گی۔ اسی یقین کے ساتھ آپ سبھی کا بہت بہت شکریہ! اور مجھے یقین ہے کہ اس دو روزہ اجلاس میں آپ نئے عزائم کے ساتھ، نئے اعتماد کے ساتھ ملک کے محنت کشوں کی طاقت کی قابلیت کو بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔

بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.