سبھاش چندر بوس آپدا پربندھن پرسکار سے سرفراز کئے جانے والوں کو مبارکباد پیش کی
‘‘ترکی اور شام میں آنے والے زلزلوں کے بعد، دنیا کی طرف سے ہندوستان کی آفات سے نمٹنے کی کوششوں کے کردار کا اعتراف اور اس کی ستائش‘‘
‘‘ہندوستان نے جس طرح سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق ٹکنالوجی اور انسانی وسائل کا دائرہ وسیع کیا ہے اُس سے ملک کی اچھی خدمت ہوئی ہے‘‘
’ہمیں مقامی سطح پر ہاؤسنگ یا ٹاؤن پلاننگ کے ماڈل تیار کرنے ہوں گے۔ ہمیں ان شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے‘‘
‘‘شناخت اور اصلاحات ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کے دو اہم اجزاء ہیں’’
‘‘مقامی شراکت سے مقامی صلاحیت کے منتر پر عمل کرکے ہی آپ کو کامیابی حاصل ہو گی’’
‘‘گھر کتنے پرانے ہیں اور پانی کی نکاسی کیسی ہے یہ معلوم کرنے کے علاوہ بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت جیسے پہلوؤں کے بارے میں علم سے فعال اقدامات کرنے میں مدد ملے گی’’
‘‘ایمبولینس نیٹ ورک کو مستقبل کے لئے تیار کرنے کی خاطر اے آئی، 5 جی اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) کا استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا جائے‘
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں نیشنل پلیٹ فارم فار ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (این پی ڈی آر آر) کے تیسرے اجلاس کا افتتاح کیا۔ ‘‘بدلتی ہوئی آب و ہوا میں مقامی صلاحیت پیدا کرنا’’ اس پلیٹ فارم کے تیسرے اجلاس کا مرکزی موضوع ہے۔

سب سے پہلے، میں آفات سے نمٹنے اور آفات کے انتظامات سے وابستہ تمام ساتھیوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کیونکہ کام ایسا ہے کہ کئی بار آپ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بھی دوسروں کی جان بچانے کے لیے بہت ہی شاندار کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں ترکی اور شام میں ہندوستانی ٹیم کی کوششوں کو پوری دنیا نے سراہا ہے اور یہ ہر ہندوستانی کے لئے فخر کی بات ہے۔ ہندوستان نے جس طرح سے راحت اور بچاؤ سے متعلق اپنے انسانی وسائل اور تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، اس سے ملک میں بھی  مختلف آفات کے دوران بہت سے لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق نظام کو مضبوط کیا جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ملک بھر میں صحت مند مقابلے کی فضا بھی پیدا کی جائے، اسی لیے اس کام کے لیے خصوصی ایوارڈ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ آج یہاں دو اداروں کو نیتا جی سبھاش چندر بوس آپدا پربندھن پرسکار دیا گیا ہے۔ اوڈیشہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے طوفان سے سونامی تک مختلف آفات کے دوران بہترین کام کرتی رہی  ہے۔ اسی طرح میزورم کے لنگلی فائر اسٹیشن نے جنگل کی آگ پر قابو پانے کے لیے انتھک محنت کی ، پورے علاقے کو بچایا اور آگ کو پھیلنے سے روکا ۔ میں ان اداروں میں کام کرنے والے تمام ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

آپ نے اس سیشن کا موضوع رکھا ہے - "بدلتی ہوئی آب و ہوا میں مقامی لچک پیدا کرنا"۔ اس موضوع سے ہندوستان کا تعارف ایک طرح سےقدیم ہے کیونکہ ہماری پرانی روایت کا وہ ایک اٹوٹ حصہ رہا ہے۔ آج بھی جب ہم اپنے کنووں، حوض ، آبی ذخائر، مقامی فن تعمیر، قدیم شہروں کو دیکھتے ہیں تو یہ عنصر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ہندوستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق نظام ہمیشہ مقامی رہا ہے، حل بھی مقامی رہے ہیں، حکمت عملی بھی مقامی رہی ہے۔ اب جیسے کچھ کے لوگ  جن گھروں میں رہتے ہیں، انہیں بھونگا کہتے ہیں۔ کچے مکانات ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس صدی کے آغاز میں آنے والےتباہ کن زلزلے کا مرکز  کچھ تھا۔ لیکن ان بھونگا گھروں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ شاید بڑی مشکل سے کہیں کسی  ایک کونے میں کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔ یقیناً اس میں ٹیکنالوجی سے متعلق بہت سے اسباق ہیں۔ کیا ہم نئی ٹیکنالوجی کے مطابق مقامی سطح پر ہاؤسنگ یا ٹاؤن پلاننگ کے ماڈل رہے ہیں، انہیں تیار نہیں کر سکتے؟ خواہ مقامی تعمیراتی مواد ہو یا تعمیراتی ٹیکنالوجی، اسے آج کی ضرورت، آج کی  ٹیکنالوجی سے مالا مال کرنا وقت کی اہم  ضرورت ہے۔ جب ہم مستقبل کی ٹیکنالوجی کو مقامی لچک کی ایسی مثالوں سے جوڑیں گے، تب ہی ہم ڈیزاسٹر ریزیلینس کی سمت میں بہتر کام کر سکیں گے۔

ساتھیوں،

پہلے کا طرز زندگی بہت آرام دہ تھا اور تجربے نے ہمیں یہ سکھایا تھا کہ زیادہ بارشوں، سیلابوں، خشک سالی، آفات سے کیسے نمٹا جائے۔ اسی لیے قدرتی طور پر حکومتوں نے بھی آفات سے راحت  کو ہمارےیہاں محکمہ زراعت سے ہی   وابستہ کر رکھا تھا ۔ یہاں تک کہ جب زلزلے جیسی سنگین آفات آتی تھیں تو ایسی آفات کا سامنا مقامی وسائل سے ہی ہوتا تھا۔ اب دنیا چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ کر تعمیراتی تکنیک میں بھی نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن وہیں دوسری طرف آفات کی وباء بھی بڑھ رہی ہے۔ پرانے زمانے میں ایک وید راج پورے گاؤں میں سب کا علاج کرتے تھے اور پورا گاؤں تندرست رہتا تھا۔ اب ہر بیماری کے لیے الگ الگ ڈاکٹر ہیں۔ اسی طرح تباہی کے لیے بھی ایک متحرک نظام تیار کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر پچھلے سو سالوں کی تباہی کے مطالعہ سے زوننگ کی جا سکتی ہے کہ سیلاب کی سطح کتنی ہو سکتی ہے اور اس لیے کہاں تعمیر کی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، چاہے بات مواد کی ہو یا انتظامات کی۔

ساتھیوں،

آفات سے نمٹنے کے انتظامات کو مضبوط بنانے کے لیے شناخت اور اصلاحات بہت اہم ہیں۔ شناخت کا مطلب یہ سمجھنا ہے کہ تباہی کا امکان کہاں ہے اور مستقبل میں کیسے ہوسکتا ہے؟ اصلاح کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایسا نظام تیار کرنا چاہیے جس سے تباہی کے امکانات کم ہوں۔ تباہی کے خطرے کو کم کرنے کا بہترین طریقہ نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اسے بروقت زیادہ موثر بنائیں اور اس کے لیے شارٹ کٹ اپروچ کے بجائے طویل مدتی سوچ کی ضرورت ہے۔ اب اگر ہم سائیکلون کی بات کریں تو سمندری طوفانوں کے وقت ہندوستان کے حالات کو دیکھیں تو ذہن میں آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان میں سمندری طوفان آتا تھا تو لاکھوں لوگوں کی ناگہانی ہلاکت ہو جاتی تھی ۔ ہم نے کئی بار اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحلی علاقوں میں ایسا ہوتا دیکھا ہے۔ لیکن وقت بدلا، حکمت عملی بدلی، تیاریوں میں بہتری آئی اورہندوستان کی سمندری طوفانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا۔ اب جب کوئی طوفان آتا ہے تو جان و مال کا کم سے کم نقصان ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم قدرتی آفات کو روک نہیں سکتے لیکن اس آفت سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے انتظامات ضرور کر سکتے ہیں۔ اور اس لیے ضروری ہے کہ ہم رد عمل کے بجائے متحرک رہیں۔

ساتھیوں،

ہمارے ملک میں پہلے فعال ہونے کے حوالے سے کیا صورتحال تھی اور اب کیا صورتحال ہے، میں آپ سے یہ بھی بتانا چاہوں گا ۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد 5 دہائیاں گزر گئیں، نصف صدی گزر گئی، لیکن ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے کوئی قانون نہیں تھا۔ 2001 میں کچھ کے زلزلے کے بعد، گجرات ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ کرنے والی پہلی ریاست تھی۔ اس ایکٹ کی بنیاد پر سال 2005 میں مرکزی حکومت نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ بھی بنایا۔ اس کے بعد ہی ہندوستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا۔

ساتھیوں،

ہمیں اپنے مقامی اداروں،بلدیاتی مقامی اداروں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ گورننس کو مضبوط کرنا ہے۔ بلدیاتی مقامی اداروں کو اسی وقت رد عمل ظاہر کرنا چاہیے جب کوئی آفت آئے، اب اس پر بات کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہمیں منصوبہ بندی کو ادارہ جاتی بنانا ہے۔ ہمیں مقامی منصوبہ بندی کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارتوں کی تعمیر، انفراسٹرکچر کے نئے منصوبوں کے لیے نئے لائحہ عمل تیار کرنا  ہوگا ۔ ایک طرح سے پورے نظام کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں دو سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہاں کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق ماہرین کو عوام کی شرکت پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان کس طرح مقامی شراکت سے بڑے مقاصد حاصل کر رہا ہے۔ اس لیے جب ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی بات آتی ہے تو وہ بھی عوامی شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ آپ مقامی شرکت کے ذریعہ مقامی لچک کے منتر پر عمل کرکے ہی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ شہریوں کو زلزلوں، طوفانوں، آگ اور دیگر آفات سے منسلک خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک مسلسل عمل ہونا چاہیے۔ صحیح اصول و ضوابط اور فرائض سے متعلق ان تمام موضوعات کے بارے میں مسلسل بیدار لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوان ساتھیوں، یووا منڈل، سخی منڈل اور دیگر گروپوں کو گاؤں، گلی اور محلے کی سطح پر راحت اور بچاؤ کی تربیت دینی ہوگی۔ آپدا متروں ، این سی سی-این ایس ایس کی طاقت، سابق فوجیوں کے ساتھ رابطے کا انتظام بھی کرنا ہے کہ ہم ان کو ڈیٹا بینک بنا کر ان کی طاقت کا استعمال کیسے کر سکتے ہیں۔ کمیونٹی سینٹر میں فرسٹ رسپانس کے لیے ضروری آلات کا بندوبست، انہیں چلانے کی تربیت بھی بہت ضروری ہے۔ اور میرا تجربہ یہ ہے کہ بعض اوقات ڈیٹا بینک بھی اچھا کام کرتا ہے۔ جب میں گجرات میں تھا تو ہمارے پاس کھیڑا ضلع میں ایک ندی ہے۔ یہاں  5-7 سال میں ایک بار سیلاب آتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک سال میں پانچ بار سیلاب آیا، اس وقت اس آفت کے حوالے سے بہت سی سرگرمیاں تیار کی گئیں۔ چنانچہ ہر گاؤں میں موبائل فون دستیاب تھے۔ اب اس وقت کسی مقامی زبان میں پیغام رسانی کا نظام تو  نہیں تھا۔ لیکن انگریزی میں ہی گجراتی میں لکھ کر پیغام بھیجتے تھے، گاؤں کے لوگوں کو دیکھیں حالات ایسے ہیں، اتنے گھنٹے بعد پانی آنے کا امکان ہے۔ اور مجھے صاف یاد ہے کہ 5 سیلاب کے بعد بھی ایک انسان کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایک جانور بھی نہیں مرا۔ کوئی انسان نہیں مرا، جانور نہیں مرا۔ کیونکہ وقت پر کمیونی کیشن ہوا اور اسی لیے ہم ان انتظامات کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر بچاو اور راحت کا کام بروقت شروع ہو جائے تو ہم جانی نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ دوسرا، ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں ہر گھر اور ہر گلی کی ریئل ٹائم رجسٹریشن اور مانیٹرنگ کا نظام بنانا ہوگا۔ کون سا گھر، کتنا پرانا ہے، کون سی گلی، کس نالے کی حالت کیا ہے؟ ہمارے بنیادی ڈھانچے جیسے بجلی، پانی کی لچک کیا ہے؟ اب جیسا کہ میں کچھ دن پہلے میٹنگ کر رہا تھا اور میری میٹنگ کا موضوع یہی تھا کہ گرمی کی لہر پر بات ہے، تو کم از کم پچھلی بار ہم نے  دیکھا دو بار ہمارے ہسپتالوں میں آگ  لگی اور وہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ کوئی مریض بے بس ہوتا  ہے۔ اب ایک بار پورے ہسپتال کے نظام کو باریک بینی سے دیکھ لیں، ہو سکتا ہے کسی بڑے حادثے سے بچ جائیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس وہاں کے انتظامات کے بارے میں جتنی درست معلومات ہیں، تب ہی ہم فعال اقدامات کر سکتے ہیں۔

ساتھیوں،

آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے سالوں میں گھنے شہری علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ جب گرمی بڑھ جاتی ہے تو کبھی کبھی ہسپتال میں، کسی فیکٹری میں، کسی ہوٹل میں یا کسی کثیر منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں بہت منظم طریقے سے کام کرنا ہوگا، چاہے وہ انسانی وسائل کی ترقی ہو، ٹیکنالوجی ہو، وسائل ہو یا نظام، ہمیں ایک مربوط حکومتی نقطہ نظر کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ گنجان آباد علاقوں میں جہاں گاڑی کے ذریعے بھی پہنچنا مشکل ہوتا ہے، وہاں آگ بجھانے کے لیے پہنچنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ بلند عمارتوں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے ہمیں اپنے ساتھی فائر فائٹر کی مہارت کو مسلسل بڑھانا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان صنعتی آگ کو بجھانے کے لیے کافی وسائل موجود ہوں۔

ساتھیوں،

ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی ان کوششوں کے درمیان مقامی سطح پر مہارت اور ضروری آلات دونوں کو جدید رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر آج کل ایسے بہت سے آلات  دستیاب ہیں، جو جنگل کے فضلے کوحیاتیاتی ایندھن میں تبدیل کرتے ہیں۔ کیا ہم اپنے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں اور انہیں ایسا سامان دے سکتے ہیں، اگر وہاں جو کچرا پڑا ہے ، اسے جمع کرکے اس کو پروسیس کریں، اس سے چیزیں بنائیں اور انہیں دیں تاکہ جنگل میں آگ نہ لگے، امکانات کو کم کریں۔ اور اس سے ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں بھی کمی آئے گی۔ صنعت اور ہسپتال جیسے ادارے، جہاں آگ، گیس کے رساؤ جیسے خطرات زیادہ ہیں، حکومت کے ساتھ شراکت کرکے ماہر افراد کی ایک فوج  تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے ایمبولینس نیٹ ورک کو بھی بڑھانا ہے اور اسے مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔ ایک جامع بحث کے بعد ایک روڈ میپ بھی تیار کیا جانا چاہیے کہ کس طرح ہم اسے 5 جی ، اے آئی اور آئی او ٹی جیسی ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید ذمہ دار اور موثر بنا سکتے ہیں۔ ہم راحت اور بچاو میں ڈرون ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ کیا ہم ایسے آلات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، جو ہمیں تباہی کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں؟ ایسے پرسنل گیجٹ جو ملبے تلے دبے ہونے کی صورت میں مقام کی معلومات دے سکتے ہیں، کیا اس شخص کی پوزیشن کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں؟ ہمیں اس قسم کی اختراع پر توجہ دینی چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایسی سماجی تنظیمیں ہیں، جو ٹیکنالوجی کی مدد سے نئے نظام بنا رہی ہیں۔ ہمیں ان کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے، وہاں کے بہترین طریقوں کو اختیار کرنا چاہیے۔

ساتھیوں،

ہندوستان آج پوری دنیا میں آنے والی آفات کا فوری جواب دینے کی کوشش کرتا ہے اور لچکدار انفراسٹرکچر کے لیے بھی پہل کرتا ہے۔ آج دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک ہندوستان کی قیادت میں تشکیل دیے گئے آفات سے بچنے والے انفراسٹرکچر کے اتحاد میں شامل ہوئے ہیں۔ روایت اور ٹیکنالوجی ہماری طاقت ہیں۔ اس طاقت کے ساتھ، ہم نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے آفات سے متعلق لچک سے متعلق بہترین ماڈل تیار کر سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بحث تجاویز اور حل سے بھرپور ہوگی، ہمارے لیے بہت سی نئی راہیں کھلیں گی۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ اس دو روزہ سربراہی اجلاس میں قابل عمل نکات سامنے آئیں گے۔ مجھے یقین ہے اور وقت بھی صحیح ہے کہ بارش کے دنوں سے پہلے اس طرح کی تیاری اور اس کے بعد ریاستوں میں ، ریاستوں کے بعد شہروں اور میٹرو پولیٹن شہروں میں اس نظام کو  ہم آگے بڑھائیں ،  اگر ہم ایک سلسلہ شروع کریں تو شاید بارش کے پہلے ہی بہت سی چیزوں کو ہم ایک طرح سے پورے نظام کو حساس بنا سکتے ہیں، جہاں اس کی ضرورت ہے، ہم وہاں  اسے پورا بھی کر سکتے ہیں اور کم سے کم نقصان کے لیے تیار رہ سکتے ہیں۔ اس سربراہی اجلاس کے لیے میں اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔

شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream

Media Coverage

A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Srinagar Viksit Bharat Ambassadors Unite for 'Viksit Bharat, Viksit Kashmir'
April 20, 2024

Srinagar hosted a momentous gathering under the banner of the Viksit Bharat Ambassador or VBA 2024. Held at the prestigious Radisson Collection, the event served as a unique platform, bringing together diverse voices and perspectives to foster the nation's collective advancement towards development.

Graced by the esteemed presence of Union Minister Shri Hardeep Singh Puri as the Chief Guest, the event saw the attendance of over 400 distinguished members of society, representing influencers, industry stalwarts, environmentalists, and young minds, including first-time voters. Presidents of Chambers of Commerce, Federation of Kashmir Industrial Corporation, House Boat Owners Association, and members of the writers' association were also present.

The VBA 2024 meetup began with an interesting panel discussion on Viksit Kashmir, which focused on the symbiotic relationship between industry growth and sustainable development. This was followed by an interactive session by Minister Puri, who engaged with the attendees through an engaging presentation. Another event highlight was the live doodle capture by a local artist of the discussions.

Union Minister Hardeep Singh Puri discussed how India has changed in the last decade. He said India is on track to become one of the world's top three economies, surpassing Germany and Japan soon.

 

"The country is set to surpass Germany and Japan and will become the world's third-largest economy by 2027-28," he said.

 

According to official estimates, India's economy is projected to reach a remarkable $40 trillion by 2040. Presently, the economy stands at approximately $3.5 trillion.

He also stressed that India's progress is incomplete without a developed Kashmir.

 

"Bharat cannot be Viksit without a Viksit Kashmir," he said.

Hardeep Puri reflected on India's economic journey, noting that in the 1700s, India contributed a significant 25% to the global GDP. However, as experts documented, this figure gradually dwindled to a mere 2% by 1947.

 

He highlighted how India, once renowned as the 'sone ki chidiya' (golden bird), lost its economic strength during British colonial rule and continued to struggle even after gaining independence, remaining categorized under the 'Fragile Five' until 2014.

 

Puri emphasized that the true shift in India's economic trajectory commenced under the Modi government. Over the past decade, the nation has ascended from among the top 11 economies to ranking among the top 5 globally.

The Union Minister also encouraged everyone to participate in the Viksit Bharat 2047 mission, emphasizing that achieving this dream requires the active engagement and coordination of all "ambassadors" of change.

He highlighted India's rapid progress in metro network development, stating that the operational metro network spans approximately 950 kilometres. He expressed confidence that within the next 2-3 years, India's metro network will expand to become the second-largest globally, surpassing that of the United States.

 

Regarding Jammu and Kashmir, he mentioned that through the Smart project, over 68 projects totalling Rs 6,800 crores were conceptualized, with Rs 3,200 crores worth of projects already completed.

 

He further stated that Jammu and Kashmir possesses more potential than Switzerland but has faced setbacks due to man-made crises. He emphasized the Modi government's dedication to the comprehensive development of the region.

The minister highlighted a significant government policy shift from women-centred to women-led development. Drawing from his extensive experience as a diplomat spanning 39 years, he shared that when a country transitions to women-led development, there is typically a substantial GDP increase of 20-30%. 

He mentioned that the government is actively pursuing this objective, citing examples such as the Awas Yojana, where houses are registered in the names of women household members, and the implementation of 33% reservation for women in elected bodies as part of this broader mission. 

He also provided insight into the transformative impact of the Modi government's welfare policies on people's lives. He highlighted the Ujjwala Yojana, noting that 32 crore individuals have received LPG cylinders, a significant increase from the 14 crore connections in 2014. Additionally, he mentioned the expansion of the gas pipeline network, which has grown from 14,000 km to over 20,000 km over the past ten years.

The Vision of Viksit Bharat: 140 crore dreams, 1 purpose 

The Viksit Bharat Ambassador movement aims to encourage citizens to take responsibility for contributing to India's development. VBA meet-ups and events are being organized in various parts of the country to achieve this goal. These events provide a platform for participants to engage in constructive discussions, exchange ideas, and explore practical strategies for contributing to the movement.

Join the movement on the NaMo App: https://www.narendramodi.in/ViksitBharatAmbassador

The NaMo App: Bridging the Gap

Prime Minister Narendra Modi's app, the NaMo App, is a digital bridge that empowers citizens to participate in the Viksit Bharat Ambassador movement. The NaMo App serves as a one-stop platform for individuals to:

Join the cause: Sign up and become a Viksit Bharat Ambassador and make 10 other people

Amplify Development Stories: Access updates, news, and resources related to the movement.

Create/Join Events: Create and discover local events, meet-ups, and volunteer opportunities.

Connect/Network: Find and interact with like-minded individuals who share the vision of a developed India.

The 'VBA Event' section in the 'Onground Tasks' tab of the 'Volunteer Module' of the NaMo App allows users to stay updated with the ongoing VBA events.