Share
 
Comments
آزادی کا 75 واں تہوار منانے کے ساتھ ساتھ آزادی کا مہوتسو مستقبل کے بھارت کے لئے ایک واضح وژن اور روڈ میپ تیار کرنے کا ایک موقع ہے: وزیراعظم
فزیکل ، ٹیکنولوجیکل اور مالیاتی کنکٹی وٹی کی وجہ سے سکڑتی ہوئی دنیا میں ہماری برآمدات کی توسیع کے لئے دنیا بھر میں نئے امکانات تیار پیدا کئے جارہے ہیں: وزیراعظم
ہماری معیشت اور امکانات، ہماری مینوفیکچرنگ اور خدمات کی صنعت کی بنیاد کے سائز پر غور کرتے ہوئے برآمدات کے فروغ کے لئے بہت زیادہ امکانات ہیں: وزیراعظم
پروڈکشن سے جڑی تحریک کی اسکیم سے نہ صرف ہماری مینوفیکچرنگ کے پیمانے میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیار اور اہلیت کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا: وزیراعظم
ریٹرو اسپیکٹیو ٹیکزیشن سے نجات پانے کے لئے ہندوستان کے ذریعہ لئے گئےفیصلے سے ہماری عہد بندی کا اظہار ہوتا ہے، پالیسیوں کی ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہے اور تمام سرمایہ کاروں کو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ بھارت نہ صرف نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے بلکہ ایک فیصلے کرنے والی حکومت ہند اپنے وعدے پورے کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے: وزیراعظم
مرکزی حکومت ضابطہ بندی کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے: وزیراعظم
ریاستوں کو برآمدات کے مراکز بنانے کے لئے ریاستوں کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دیا جارہا ہے: وزیراعظم
ہمیں نئی منزلیں تلاش کرنی ہوں گی اور نئی مصنوعات لانی ہوں گی، کیا ہم نئے شعبوں کے لئے بہترین حکمت عملیاں تیار کرسکتے ہیں؟

نئی دہلی۔ 06 اگست        مرکزی کابینہ کے میرے تمام ساتھیوں، سفارت کاروں  ، ہائی کمشنروں ، مرکزی وریاستی حکومتوں کے عہدیدار وں ، مختلف برآمداتی کونسلوں اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تمام رہنماؤں،  خواتین و حضرات! یہ آزادی کے امرت مہوتسو کا وقت ہے۔ یہ نہ صرف اپنی آزادی کے 75 ویں سالگرہ  کا جشن منانے کا وقت ہے ، یہ مستقبل کے ہندوستان کے لیے ایک واضح تصور اور لائحہ عمل بنانے کا موقع بھی ہے۔اس میں ہماری برآمدات کی امنگوں  اور اس میں آپ تمام کی  شمولیت ،اقدامات ، آپ کا رول بہت بڑا ہے۔ آج جو عالمی سطح پر ہو رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اور یہاں جو میرے سامنے ہیں ، وہ ان تمام چیزوں سے زیادہ واقف ہیں۔ آج دنیا جسمانی ، تکنیکی اور مالی رابطہ  کاری کی وجہ سے ہر روز مزید چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ہماری برآمدات میں توسیع کے لیے دنیا بھر میں نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ آپ مجھ سے زیادہ تجربہ کارہیں  اور اس میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ میں آپ سبھی کو آج کی اس پہل کے لیےاور اس طرح دونوں طرف  کی باتیں رکھنے کا موقع میسر ہوا اس کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ سبھی نے برآمدات کے حوالے سے ہمارے  پرجوش اہداف کے حصول کے لیے  جو جوش و خروش ، امید اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی قابل تحسین ہے۔

دوستو ،

جب عالمی معیشت میں ہماری  سب سے زیادہ شراکت داری تھی، یہ وہ وقت تھا جب ہمارے ملک کی ایک بڑی وجہ ہندوستان کی مستحکم تجارت اور برآمد ات تھی۔ ہمارے پاس دنیا کے تقریبا ہر حصے کے ساتھ تجارتی روابط اور تجارتی راستے رہے ہیں۔ آج جب ہم عالمی معیشت میں اپنی اس پرانی حصہ داری کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، تب بھی ہماری برآمدات کا رول  بہت اہم ہے۔ کووڈ کے بعد گلوبل ورلڈ میں ، جب گلوبل سپلائی چین پر وسیع بحث ہو رہی ہے ، تب ہمیں نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں لگانی ہوں گی۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت ہماری برآمدات جی ڈی پی کا تقریبا 20فیصد ہیں۔ ہماری معیشت کا حجم ، ہماری صلاحیت ، ہماری مینوفیکچرنگ اور سروس انڈسٹری کی بنیاد پر غور کرتے ہوئے ، اس میں زبردست ترقی کی صلاحیت ہے۔ ایسی صورت حال میں ، آج جب ملک خود انحصار ہندوستان کے مشن پر چل رہا ہے ، تو اس کا ایک ہدف برآمدات کی عالمی سپلائی چین میں ہندوستان کی حصہ داری کئی گنا بڑھانے کا بھی ہے۔ اور اس لیے آج ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمیں بین الاقوامی طلب کے مطابق ہمیں رسائی حاصل ہو تاکہ ہمارا کاروبار بڑھے ، مزید فروغ پائے۔ ہماری صنعت کو بھی بہترین ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنا ہوگا ، جدت پر توجہ دینی ہوگی اور تحقیق و ترقی میں اپنی  حصہ داری  بڑھانی  ہوگی۔ گلوبل ویلیو چین میں ہمارا شیئر اسی راستے پر چلنے سے ہی بڑھے گا۔ مقابلہ اور بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ، ہمیں ہر شعبے میں عالمی چیمپئن تیار کرنا ہے۔

ساتھیوں
برآمدات بڑھانے کے لیے چار عوامل بہت اہم ہیں۔ پہلا – ملک میں مینوفیکچرنگ کئی گنا بڑھے ۔ اور معیار کے لحاظ سے مسابقت ہونی چاہیے۔ اور جس طرح  ساتھیوں نے کہا کہ آج دنیا میں ایسا طبقہ تیار ہوا ہے ، جو قیمت سے زیادہ معیار پر توجہ دیتا ہے۔ اور ہمیں اس چیز کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ دوسرا –  نقل و حمل کی لاجسٹک کے مسائل ختم ہوں ۔ اس میں ریاستی حکومتیں بھی ، مرکزی حکومت اور جو بھی پرائیویٹ کھلاڑی ہیں، ان سب کو اپنا  رول ادا کرنا ہوگا۔ تیسرا –حکومت برآمد کنندگان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے ۔ اگر ان میں سے کوئی بھی ریاستی حکومت اس میں شامل نہیں ہے، اگر ریاست میں برآمد کنندگان کی کونسلیں اس میں شامل نہیں ہیں اور کوئی ایک تاجر اپنے طریقے سے الگ تھلگ رہ کربرآمد کرتا رہتا ہےتو ہمیں وہ نتیجہ نہیں ملے گا جو ہم چاہتے ہیں۔ ہمیں مل کر کوشش کرنی ہوگی ۔ اور چوتھا عنصر ، جو کہ آج کی تقریب سے متعلق ہے –  ہندوستان مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ۔ یہ چار عوامل متحد ہوں گے ، تبھی ہندوستان کے مقامی عالمی ہوں گے ، تب ہی ہم بہتر طریقے سے دنیا کے لیے میک ان انڈیا کا ہدف حاصل کر سکیں گے۔

دوستو ،

آج ملک میں جو حکومت  ہے، ریاستوں میں جو حکومتیں ہیں ، وہ کاروباری دنیا کی ضروریات کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خود انحصار ہندوستان ، اس مہم کے تحت تعمیل میں بہت سی نرمیاں دی گئی ہیں۔ اس سے معاشی سرگرمیوں کو چلانے میں آسانی ہوئی ہے۔ 3 لاکھ کروڑ روپے کی ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم نے ایم ایس ایم ای اور دیگر متاثرہ شعبوں کو راحت دی ہے۔ بحالی اور نشو و نما کی حوصلہ افزائی کے لیے حال ہی میں مزید 1.5 لاکھ کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

دوستو۔
پروڈکشن سے منسلک حوصلہ افزائی اسکیم سے  نہ صرف ہماری مینوفیکچرنگ کے پیمانے بلکہ عالمی معیار اور کارکردگی کی سطح کو بڑھانے میں بہت مدد ملے گی۔ اس سے خود انحصار ہندوستان  کا میڈ ان انڈیا کے ایک نئے ماحولیاتی نظام کی ترقی میں بہت مدد ملے گی اورفروغ مل  سکتا ہے. ملک کو مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ میں نئے عالمی چیمپئن ملیں گے ۔ موبائل فون کے شعبے میں  تو  ہم اس کے اثرات کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں۔ 7 سال پہلے ، ہم تقریبا 8 بلین ڈالر کے موبائل فون درآمد کرتے تھے ، ہم باہر سے منگواتے  تھے۔ اب یہ کم ہو کر 2 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ 8 ارب ڈالر سے 2 ارب ڈالر پر آ گئے ہیں۔ 7 سال پہلے ، ہندوستان صرف 0.3 بلین ڈالر کے موبائل فون برآمد کرتا تھا۔ اب یہ بڑھ کر 3 ارب ڈالر سے  بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

ساتھیوں
حکومت کی توجہ مینوفیکچرنگ اور برآمدات سے متعلق ایک اور مسئلہ کو حل کرنے پر بھی مرکوز ہے۔ ملک میں لاجسٹکس کے وقت اور قیمت کو کم کرنا مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کی ترجیح رہی ہے اور رہنی چاہیے۔ اس کے لیے چاہے وہ پالیسی ڈیزائن ہوں یا انفراسٹرکچر کی تعمیر ، ہر سطح پر ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہو گا۔ آج ہم تیزی سے ملٹی ماڈل رابطے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

دوستو ،

ہم نے ابھی سنا بنگلہ دیش نے تجربہ بتایا ہے کہ اب چیزیں ریلوے روٹ سے جانے لگی ہیں۔ تو اس میں اچانک اضافہ ہونے لگا ہے۔ دوستو ، حکومت کی طرف سے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وبائی امراض کے اثرات کم سے کم کیسے ہو ۔ یہ ہماری پوری کوشش ہے کہ وائرس کے انفیکشن کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ ملک میں ٹیکہ کاری کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ہم وطنوں اور صنعت کی ہر ضرورت ، ہر پریشانی کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا ہے۔ آپ ماضی میں کی گئی کوششوں کے نتائج بھی دیکھ رہے ہیں۔ ہماری صنعت نے اس دوران ہمارے کاروبار میں بھی جدت لائی ہے اور نئے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالا ہے۔ انڈسٹری نے ملک کو میڈیکل ایمرجنسی سے نمٹنے میں بھی مدد کی اور ترقی کو بحال کرنے میں بھی  اپنا رول ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ادویات اور دواسازی کے ساتھ ساتھ ہماری برآمدات زراعت جیسے شعبوں میں بھی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ آج ہم نہ صرف معیشت کی بحالی بلکہ اعلی ترقی کے حوالے سے بھی مثبت اشارے دیکھ رہے ہیں ۔ دنیا کی بہت سی بڑی معیشتوں سے بھی تیزی سے بحالی کے اشارے آ رہے ہیں۔ لہذا ، میرے خیال میں برآمدات کے لیے بڑے اہداف رکھنے اور ان کو حاصل کرنے کا یہ بہتر وقت ہے۔ اس کے لیے بھی حکومت ہر سطح پر ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ حال ہی میں ، حکومت نے برآمد کنندگان کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اس فیصلے سے ہمارے برآمد کنندگان کو انشورنس کور کی شکل میں تقریبا88 ہزار کروڑ روپے کا فروغ  حاصل ہوگا ۔ اسی طرح اسے برآمداتی مراعات کو منطقی بنانےاور ڈبلیو ٹی او کے مطابق بنانے سے ہماری برآمدات کوتقویت ملے گی۔

ساتھیوں
دنیا کے مختلف ممالک میں کاروبار کرنے والے ہمارے برآمد کنندگان اچھی طرح جانتے ہیں کہ استحکام کے اثرات کتنے بڑے ہوتے ہیں۔ ماضی کے ٹیکس سے نجات حاصل کرنے کے لیےہندوستان نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ہماری عہد بستگی  اور  پالیسیوں میں مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تمام سرمایہ کاروں کو واضح پیغام دیتا ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے ہندوستان نہ صرف نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے بلکہ ہندوستان کی فیصلہ کن حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

دوستو ،

برآمدات سے متعلق ہمارے مقاصد کچھ بھی ہوں ، ہماری اصلاحات جو بھی ہوں ، ان میں ملک کی ہر ریاست کی بہت بڑی شراکت ہے۔ سرمایہ کاری ہو ، کاروبار میں آسانی  ہو، آخری میل کا بنیادی ڈھانچہ ہو ، اس میں ریاستوں کا رول بہت اہم ہے۔ برآمدات ہو یا سرمایہ کاری ، اسے فروغ دینے کے لیے ریگولیٹری بوجھ کو کم سے کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ریاستوں میں برآمداتی مراکز بنے، اس  کے لیے ایک صحت مند مقابلے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہر ضلع میں کسی ایک پروڈکٹ پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔

دوستو ،

برآمدات کے حوالے سے ہمارابلند نظر ہدف ایک جامع اوروسیع لائحہ عمل کے ذریعہ ہی  حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی موجودہ برآمدات کو بھی تیز کرنا ہے اور نئی مصنوعات کے لیے نئی مارکیٹ ، نئی  منزلیں ہموار کرنے کے لیے بھی کام کرنا ہے۔ اور میں آپ کو کچھ تجاویز بھی دینا چاہوں گا۔ ہمارے جو مشن ہیں،  وہ یہ طے کر سکتے ہیں کہ آج جس ملک میں وہ بہت چھوٹا ملک ہے ، اس لیے میں اس کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن باقی ملکوں میں آج گویا تین جگہوں پر ہی ہندوستان کا سامان جا رہا ہے۔ صرف تین ہی منزلیں ہیں۔ کیا ہم اس آزادی کے 75 سالوں کے لیے پانچ نئی منزلیں شامل کر سکتے ہیں؟ جہاں کوئی نہ کوئی چیز ہندوستان سے آتی ہوگی ۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ کیا ہمارے مشن آزادی کے 75 سالوں کی خاطر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کم از کم اب ہندوستان سے ہمارے ملک میں آنے والی چیزوں کے علاوہ ، ہم نئی 75 مصنوعات کو اپنے اس ملک لے جائیں گے جہاں ہم مشن میں کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح ، وہاں جو ہندوستانی تاریکین وطن ہم نے دیکھا ہے وہ پچھلے سات سالوں میں بہت فعال ہوگئے ہیں۔ ایک طرح سے ، یہ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے میں آپ کی کوششوں سے وابستہ ہے۔ ہم ریاستی لحاظ سے ، ہم تاریکین وطن  کے کچھ دھڑے بنائیں اور اس آزادی کے 75 ویں سال میں ، ان کی متعلقہ ریاستوں کے ساتھ ، اسی ایک موضوع کو لے کر برآمدات کے موضوع پر ورچوئل طریقے سے چوٹی کانفرنس کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، فرض کریں کہ بہار حکومت اس کا اہتمام کرتی ہے، حکومت ہند بھی ہو۔ بہار سے جو چیزیں برآمد ہوتی ہیں ان کے تمام برآمد کنندگان بھی ہوں اور اس ملک میں رہنے والے بہار کے باشندے ہیں ، وہ اس کے ساتھ وابستہ ہوں ۔ اور بہار کی وہ کون سی چیزیں ہیں، جو اس متعلقہ ملک تک پہنچنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں بیرون ملک مقیم ہندوستانی جذباتی طور پر منسلک ہوگا۔ یہ اس کی مارکیٹنگ میں برانڈنگ میں بہت مدد کر سکتا ہےاور ہماری چیزیں بہت تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اسی طرح کیا ریاستی حکومتیں بھی یہ طے کر سکتی ہیں کہ ہم اپنی ریاست کی پانچ یا دس ایسی اولین ترجیحی  اشیاء طے کریں گے،  جنہیں ہمیں برآمد کرنا ہے۔ اور دنیا کے کم از کم 75 ممالک میں میری ریاست سے کچھ نہ کچھ  جانا چاہیے۔ یہ ریاستوں کے اندر ایک ہدف بن سکتا ہے۔ یعنی ہم آزادی کے 75 سال بعد دنیا تک پہنچنے کے لیے نئے طریقے اختیار کرتے ہوئے بہت فعال کوشش کر سکتے ہیں۔ ہماری بہت سی مصنوعات ایسی ہوں گی کہ دنیا کو پتہ بھی نہیں ہوگا۔ اب جیسا کہ ہمارا ایل ای ڈی بلب ہندوستان میں اتنا سستا ایل ای ڈی بلب بنایا ، دنیا گلوبل وارمنگ کے بارے میں پریشان ہے۔ توانائی کی بچت کے بارے میں باتیں کر رہی ہیں۔ اس موضوع کو ہی لے کر ، آئیے ایل ای ڈی بلب کو دنیا کے سامنے لائیں، اسے سستے میں پہنچائیں۔ ہم گلوبل وارمنگ سے دنیا ئے انسانیت کے لیے بھی ایک کام کریں گےاور ہندوستان کو ایک بہت بڑی مارکیٹ بھی ملے گی۔ ایسی بہت سی چیزیں ہیں۔ میں نے ایسی مثالوں کے نام  پیش کیے ہیں۔ ہم بہت سے کام کر سکتے ہیں۔ اس وقت ہماری تقریبا نصف برآمدات صرف 4 بڑی منزلوں کے لیے ہوتی  ہیں۔اسی طرح ہماری برآمدات کا تقریبا 60 60 فیصد انجینئرنگ کے سامان ، جواہرات اور زیورات ، پٹرولیم اور کیمیائی مصنوعات اور دواسازی سے متعلق ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اتنا بڑا ملک ، اتنے تنوع سے بھرپور ملک ، اتنی بڑی منفرد مصنوعات والا ملک ، اگر وہ دنیا تک نہیں پہنچ پاتے ہیں تو ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کو دور کرنا ہوگا اور مل بیٹھ کر راستے تلاش کرنا ہوں گے۔ ہمیں مل کر اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں نئی ​​منزلیں بھی ڈھونڈنی ہیں اور اپنی نئی مصنوعات کو بھی دنیا تک   پہنچانا ہے۔ کانکنی ، کوئلہ ، دفاع ، ریلوے جیسے شعبوں کے کھولنے سے ہمارے تاجروں کو برآمدات بڑھانے کے نئے مواقع بھی مل رہے ہیں۔ کیا ہم ان نئے شعبوں کے لیے مستقبل کی حکمت عملی وضع کر سکتے ہیں؟

دوستو ،

آج اس پروگرام میں موجود اپنے سفیروں ، وزارت خارجہ کے ساتھیوں سے ایک اور بات کی میں درخواست کروں گا ۔ آپ جس بھی ملک میں ہندوستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ، آپ اس ملک کی ضروریات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس ملک میں کس چیز  کی مانگ ، ہندوستان کے کس علاقے سے مانگ پوری ہو سکتی ہے، آپ  لوگوں کو اس کا بہتر اندازہ بھی ہے۔ اور پچھلے 7 سالوں میں ہم نے ایک نیا تجربہ کیا کہ جو مشن کے لوگ ہندوستان آتے ہیں  تو ان کو ریاستوں  میں بھیجتے ہیں۔ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ دو دوتین تین  دن کی بات چیت کرتے ہیں۔ تاکہ اگر اس ریاست کو اپنی کچھ چیزیں اس ملک میں لے جانی ہوں تو  اس کی سہولت ہو۔ یہ کام پہلے سے جاری ہے ۔ ایسی صورتحال میں ہندوستان کے برآمد کنندگان کے لیے یہاں کامرس انڈسٹری کے لیے آپ سبھی ایک بہت مضبوط پل کے مانند بھی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ مختلف ممالک میں موجود انڈیا ہاؤس بھی ہندوستان کی مینوفیکچرنگ پاور کا نمائندہ بن جائے۔ وقتا فوقتا، اگر آپ یہاں انتظامات کو آگاہ کرتے رہیں گے ، رہنمائی کرتے رہیں گے تو اس کا فائدہ برآمدات بڑھانے میں ہوگا۔میں وزارت کامرس سے بھی کہوں گا کہ ایسا نظام بنائے جس سے ہمارے برآمد کنندگان اور ہمارے مشنوں کے درمیان مسلسل رابطہ قائم رہے۔میرا ماننا ہے کہ آج اس ورچوئل نظام کے باعث ان چیزوں کو بڑی تیزی سے اور آسانی سے ہم کرسکتے ہیں۔ پہلے سفر کرنا ، میٹنگ کرنا دشوار تھا لیکن کورونا کے بعد ، پوری دنیا میں ایک نظام  مقبول ہو رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس ورچوئل انداز کو اتنا بڑھایا جانا چاہیے۔اس طرح کی تمام جماعتوں ، تمام شراکت داروں کے مشترکہ پہل والی کوشش ، زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔

ساتھیوں ،

ہماری برآمدات سے ہماری معیشت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے ، اس کے لیے  ہمیں ملک کے اندر بھی ہموار اور اعلیٰ معیار کی سپلائی چین بنانے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس کے لیے ہمیں نئے تعلقات ، نئی شراکت داری  قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ میں تمام برآمد کنندگان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمارے ایم ایس ایم ای ، ہمارے کسانوں ، ہمارے ماہی گیروں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط کریں۔ ہمارے اسٹارٹ اپ کو فروغ دیں ، ہمارے بہت سے برآمد کنندگان ہوں گے ، شاید آج کے اسٹارٹ اپ کی دنیا میں ہماری نوجوان نسل کتنا بڑا فائدہ دنیا کو دے سکتی ہے، اس سے واقف نہیں ہوں گے۔  اگر ممکن ہو تو ایک دن وزارت تجارت یہ اقدامات کرے ۔ ہمارے اسٹارٹ اپس ، ہمارے برآمد کنندگان ، ہمارے سرمایہ کار کا ایک مشترکہ ورکشاپ ہو۔ ایک دوسرے کی خوبیوں کو جانیں۔ عالمی منڈی سے متعارف ہوں۔ شاید ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم ان کی حمایت کریں۔ جہاں تک معیار اور کارکردگی کا تعلق ہے ، تو ہم نے اپنی ادویات ، اپنی ویکسین کے حوالے سے دنیا میں اسے  ثابت کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال سے ہم معیار کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں اس کی ایک اور مثال ہمارا شہد کا شعبہ ہے۔ میں چھوٹی چھوٹی مثالیں اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بڑی طاقت کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہیں۔ یہاں میں آپ کے سامنے شہد کی مثال دے رہا ہوں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی پہچان بڑھانے کے لیے شہد کے معیار کو یقینی بنانا ضروری تھا۔ ہم نے شہد کی جانچ کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیسٹ متعارف کرایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے پچھلے سال تقریبا  97 ملین ڈالرکی  مالیت کا شہد برآمد کیا۔ کیا ہم اسی طرح فوڈ پروسیسنگ ، پھل ، ماہی پروری  کے تعلق سے اس طرح کے نئے اختراعات نہیں کر سکتے؟ آج پوری دنیا میں مجموعی حفظان صحت کا ماحول ہے۔ بیک ٹو بیسک کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ہمارے یوگا کی وجہ سے ہندوستان کی جانب اس سمت میں دیکھنے کی ایک وجہ بنی ہے۔ ایسی صورت حال میں ، ہماری نامیاتی زراعت کی جو مصنوعات ہیں ،دنیا میں ان کی بہت بڑی منڈی کا امکان ہے۔ ہم اپنی نامیاتی چیزوں کو کیسے فروغ دیں؟

دوستو ،

یہ وقت برانڈ انڈیا کے لیے نئے اہداف کے ساتھ ایک نئے سفر کا ہے۔ یہ وقت ہمارے لیے معیار اور قابل اعتماد کی نئی شناخت قائم کرنے کا ہے۔ ہمیں یہ کوشش کرنی ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں انڈیا کی اعلی اقدار کے حامل مصنوعات ہو کیونکہ ابھی یہ موضوع آیا ہے کہ ہمیں اپنے ویلیو ایڈڈ کی طرف زور دینا ہوگا۔ ہمیں اپنی ہر چیز میں مسلسل ویلو ایڈیشن کرتے رہنا ہے۔ اس کے لیے فطری ڈیمانڈ پیدا ہو، ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے۔ میں صنعتوں کو ، تمام برآمد کنندگان کو بھی یقین دلاتا ہوں کہ حکومت آپ کی ہر طرح سے مدد کرے گی۔ آئیے ، ہم مل کر ایک خودانحصار ہندوستان ، ایک خوشحال ہندوستان کے عزم کو ثابت کریں! میں آپ سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ ایک ہفتے کے بعد پوری دنیا میں ہمارے مشن اور ہندوستان میں بھی ہم 15 اگست منائیں گے۔ آزادی کے  امرت مہوتسو کی باضابطہ شروعات بھی ہو جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے ترغیب کا باعث ہو۔ دنیا میں اپنا نقش چھوڑنے کے لیے ، دنیا میں پہنچنے کے لیے یہ آزادی کے 75 سال بذات خود ہمارے لیے ایک بہت بڑی ترغیب کا موقع ہے ۔ اور 2047 ، جب ملک آزادی کے سو سال منائے گا ، 25 سال کا یہ وقت ہمارے لیے بہت قیمتی وقت ہے۔ آئیے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیرابھی ایک لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ آج کی گفتگو سے ہم سب اس عزم کو پورا کرلیں گے ۔ اسی یقین کے ساتھ ، میں آپ سب کے لیے بہت بہت نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ شکریہ  

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
How India is building ties with nations that share Buddhist heritage

Media Coverage

How India is building ties with nations that share Buddhist heritage
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM interacts with CEOs and Experts of Global Oil and Gas Sector
October 20, 2021
Share
 
Comments
Our goal is to make India Aatmanirbhar in the oil & gas sector: PM
PM invites CEOs to partner with India in exploration and development of the oil & gas sector in India
Industry leaders praise steps taken by the government towards improving energy access, energy affordability and energy security

Prime Minister Shri Narendra Modi interacted with the CEOs and Experts of the global oil and gas sector earlier today, via video conferencing.

Prime Minister discussed in detail the reforms undertaken in the oil and gas sector in the last seven years, including the ones in exploration and licensing policy, gas marketing, policies on coal bed methane, coal gasification, and the recent reform in Indian Gas Exchange, adding that such reforms will continue with the goal to make India ‘Aatmanirbhar in the oil & gas sector’.

Talking about the oil sector, he said that the focus has shifted from ‘revenue’ to ‘production’ maximization. He also spoke about the need to enhance  storage facilities for crude oil.  He further talked about the rapidly growing natural gas demand in the country. He talked about the current and potential gas infrastructure development including pipelines, city gas distribution and LNG regasification terminals.

Prime Minister recounted that since 2016, the suggestions provided in these meetings have been immensely useful in understanding the challenges faced by the oil and gas sector. He said that India is a land of openness, optimism and opportunities and is brimming with new ideas, perspectives and innovation. He invited the CEOs and experts to partner with India in exploration and development of the oil and gas sector in India. 

The interaction was attended by industry leaders from across the world, including Dr. Igor Sechin, Chairman & CEO, Rosneft; Mr. Amin Nasser, President & CEO, Saudi Aramco; Mr. Bernard Looney, CEO, British Petroleum; Dr. Daniel Yergin, Vice Chairman, IHS Markit; Mr. Olivier Le Peuch, CEO, Schlumberger Limited; Mr. Mukesh Ambani, Chairman & Managing Director, Reliance Industries Limited; Mr Anil Agarwal, Chairman, Vedanta Limited, among others.

They praised several recent achievements of the government towards improving energy access, energy affordability and energy security. They appreciated the leadership of the Prime Minister towards the transition to cleaner energy in India, through visionary and ambitious goals. They said that India is adapting fast to newer forms of clean energy technology, and can play a significant role in shaping global energy supply chains. They talked about ensuring sustainable and equitable energy transition, and also gave their inputs and suggestions about further promotion of clean growth and sustainability.