Text of PM’s address at Mahabodhi Society in Sri Lanka

Published By : Admin | March 13, 2015 | 13:59 IST

मेरे लिए यह बड़े सौभाग्‍य की बात है कि आज महाबोधक सोसायटी के इस पवित्र स्‍थल पर आ करके सभी पूज्‍यों संतों के आशीर्वाद लेने का अवसर मिला और मैं इसके लिए विशेष रूप से महाबोधि सोसायटी के अध्‍यक्ष जी का हृदय से धन्‍यवाद देता हूं। मैं आपका विशेष रूप से आभारी हूं कि आपने मुझे सांची relics के दर्शन करने का और पुण्य पाने का अवसर दिया।

28 PM MODI VISIT at Mahabodhi Society SRILANKA (6)

बुद्धभिक्षुओं के आर्शीवाद मिले। उन्‍होंने मेरे लिए, भारत और श्रीलंका के लिए, हमारी एकता के लिए, हमारी प्रगति के लिए प्रार्थना की - यह बात अपने आप में हृदय को छूने वाली है और मैं फिर एक बार सबको प्रणाम करता हूं।

श्रीलंका में सांस्‍कृतिक और राजनैतिक पुनर्जागरण में श्रीमद Anagarika Dharmapala का की अहम भूमिका रही है। बौद्ध धर्म के पुनरूथान के लिए महाबोधि के सोसायटी के गठन में उनकी अहम भूमिका रही है। इस सोसायटी ने बौद्धगया में स्थित महादेवी वर्मा के प्राचीन मंदिर की महिमा को बहाल करने में भी अहम योगदान दिया है

कहा जाता है कि विश्‍व में सबसे पुराना बौद्ध धर्म पर चलने वाला कोई अगर देश है तो वो देश श्रीलंका है।

आज विश्‍व के कई देशों में हम अगर जाएंगे तो हमें श्रीलंका के बोधभिक्षु वहां पर इस पवित्र काम को करते हुए नजर आते हैं।

बुद्ध हम सबको जोड़ते हैं, और मेरा तो यह सौभाग्‍य रहा जैसे स्‍वामी जी ने बताया कि जब मैं गुजरात का मुख्‍यमंत्री था तो मैंने एक अंतर्राष्‍ट्रीय बुद्ध सभा का आयोजन किया था। दुनिया के 20 अधिक देशों से अधिक देशों से सभी महानुभव आये थे, आप भी पधारे थे, क्‍योंकि सामान्‍य ऐसी छवि है कि बुद्ध भारत के पूर्वी हिस्‍से में ही प्रभावित थे लेकिन मैं तो गुजरात से, भारत के पश्चिमी छोर से आता हूं, लेकिन वहां पर भी बुद्ध का उतना ही प्रभाव था।

28 PM MODI VISIT at Mahabodhi Society SRILANKA (12)

मेरा यह सौभाग्‍य रहा है कि मेरा जन्‍म जिस गांव में हुआ वर्णगढ़ Chinese Philosopher Hiuen Tsang करीब आठ सौ साल पहले हिंदुस्‍तान आए थे और उन्‍होंने आठ सौ साल पहले भारत का जो वर्णन लिखा है, उसमें वो लम्‍बे अरसे तक मेरे गांव में रहे थे। और उन्‍होंने लिखा है कि मेरे गांव में जहां मैं पैदा हुआ, वहां पर बुद्ध भिक्षुओं की Training का एक बहुत बड़ा Centre था। 10 हजार से ज्‍यादा बुद्धभिक्षु वहां रह सके, इतना बड़ा Hostel था।

28 PM MODI VISIT at Mahabodhi Society SRILANKA (1)

तो Hiuen Tsang की इस बात को लेकर के जब मैं मुख्‍यमंत्री बना, तो मैंने मेरे गांव में excavation करवाया। और आप सबको जानकार के खुशी होगी कि जब excavation किया तो सारी चीजें मिल आई - वो बड़ी-बड़ी Hostel, वो बुद्ध भिक्षुओं का Training का Centre. और इतना ही नहीं, हमारे यहां एक जगह है गुजरात में देव की मोरी, उस जगह पर excavation किया तो भगवान बुद्ध के relics हमें एक Golden Box में मिले।

28 PM MODI VISIT at Mahabodhi Society SRILANKA (8)

और मैं थेरो जी को ले गया था, वो सारी चीजें दिखाने के लिए, उनको दर्शन कराने के लिए ले गया था।

और मेरा एक मन का Dream रहा, जब मैं मुख्‍यमंत्री था कि जहां से हमें भगवान बुद्ध के relics मिले हैं, वहां पर मेरा सपना है एक भव्‍य भगवान बुद्ध का मंदिर बनाना। मैं हमेशा अनुभव करता हूं कि आज विश्‍व जिस संकटों से गुजर रहा है। जो आतंकवाद के साए में दुनिया भयभीत होकर के जी रही है, बुद्ध का रास्‍ता यही है जो युद्ध से मुक्ति दिलाता है।

28 PM MODI VISIT at Mahabodhi Society SRILANKA (19)

और मैं फिर एक बार इस पवित्र स्‍थल पर सब संतों का आशीर्वाद लेने का मुझे सौभाग्‍य भी मिला... मैं फिर एक बार सबको प्रणाम करता हूं। स्‍वागत सम्‍मान के लिए प्रणाम करता हूं, और आप सबका धन्‍यवाद करता हूं। 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Conferred With Slovakia’s 'Order Of The White Double Cross', His 33rd Global Honour So Far

Media Coverage

PM Modi Conferred With Slovakia’s 'Order Of The White Double Cross', His 33rd Global Honour So Far
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...

عزت مآب، وزیر اعظم فِتسو،

دونوں ممالک کے مندوبین،

میڈیا کے ساتھیو،

نمسکار!

ڈوبری دین

میں وزیراعظم فِتسو کا ان کے پُرتپاک استقبال کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

وہ ایک تجربہ کار رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت کے سچے دوست بھی ہیں۔ بھارت اور سلوواکیہ کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں ان کی دوستی اور غیر متزلزل وابستگی کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج ان سے ملاقات کر کے مجھے ہمارے تعلقات کے ایک تاریخی لمحے کا گواہ بننے کا موقع ملا۔

میرا یہ دورہ کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا سلوواکیہ کا پہلا دورہ ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس تاریخی موقع پر ہم نے اپنے تعلقات کو جامع شراکت داری  کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ہمارے مشترکہ اعتماد، مشترکہ ترجیحات اور مشترکہ مستقبل کی علامت ہے۔

 

دوستو،

آج وزیراعظم صاحب اور میں نےہمارے تعاون کو نئی سمت اور نئی توانائی دینے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ ہمارے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون میں ہونے والی پیش رفت ہمارے لیے اطمینان کا باعث ہے۔

لیکن ہماری صلاحیتیں وسیع ہیں، اور ہماری امنگیں اس سے بھی بڑی ہیں۔ آٹوموبائل، ریلوے، جدید مینوفیکچرنگ اور گرین ٹیکنالوجیز ہمارے لیے خاص دلچسپی کے شعبے ہیں۔ ان تمام امور پر آج ہم نے اپنی طاقتوں کو یکجا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اہم فیصلے لیے۔

انڈیا-ای یو  ایف  ٹی اےکو حتمی شکل دینے میں سلوواکیہ کی جانب سے ملنے والے تعاون کے لیے میں وزیراعظم صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم اس کے جلد از جلد نفاذ کے لیے کام کریں گے تاکہ دونوں ممالک کی صنعتیں، اسٹارٹ اپس اور تاجر اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

دوستو،

ٹیکنالوجی ہماری مستقبل کی شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر آج کیے گئے ایم او یو سے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

مجھے خوشی ہے کہ سلوواکیہ کی ایک یونیورسٹی میں اے آئی  کے موضوع پر انڈیا چیئر قائم کی جا رہی ہے۔ اے آئی انسانیت کی خدمت اور ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بنے، یہی ہماری مشترکہ سوچ ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ اے آئی  کا مستقبل صرف اختراع پر نہیں بلکہ اعتماد، ذمہ داری اور انسانی وقار پر بھی مبنی ہونا چاہیے۔

ہمارے درمیان خلائی شعبے میں تعاون کو بڑھانے کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ 2017 میں سلوواکیہ کا پہلا سیٹلائٹ بھارت کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔ آج بھارت میں خلائی شعبہ غیر معمولی رفتار سے نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ میں سلوواکیہ کی کمپنیوں کو اس ترقیاتی سفر میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔

سول نیوکلیئر انرجی بھی دونوں ممالک کے لیے ایک اہم ترجیحی شعبہ ہے۔ ہم نے اس شعبے میں دونوں ممالک کی صنعتوں اور ماہرین کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

دفاعی تعاون ہمارے گہرے باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کا ثبوت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس اہم شعبے میں آج ہم نے ایک لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں۔ اس سے مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔

 

دوستو،

عالمی سطح پر بھی بھارت اور سلوواکیہ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم متفق ہیں کہ تمام تنازعات اور کشیدگیوں کا حل پرامن طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔ ہم تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے۔

ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ عالمی اداروں کو اکیسویں صدی کے حقائق اور چیلنجوں کے مطابق خود کو نئی شکل دینی ہوگی۔ اس حوالے سے ہم عالمی کوششوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں کام کریں گے۔

 دوستو،

دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی اور عوامی روابط ہمارے تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ بھارت کے قدیم اُپنشدوں کا سلوواک زبان میں ترجمہ کیا جانا ہماری ثقافتی قربت کی ایک بہترین مثال ہے۔

سلوواکیہ میں مقیم بھارتی نژاد افراد یہاں کی معیشت اور معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ور افراد اور ہنر مند کارکنوں کی نقل و حرکت بڑھانے کے لیے آج ہم نے لیبر مائیگریشن سے متعلق ایم او یو کا اعلان کیا ہے۔ ہم جلد ہی سماجی تحفظ سے متعلق مفاہمت نامے کو بھی حتمی شکل دیں گے۔

 

 

عزت مآب،

آج کی انتہائی بامقصد گفتگو اور بھارت کے لیے آپ کے مثبت نقطۂ نظر پر میں ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میں 140 کروڑ بھارتیوں کی جانب سے آپ کو بھارت آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ اور مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اس دعوت کو عوامی طور پر بھی قبول کیا ہے۔ ہم آپ کا خیرمقدم کرنے کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ ہماری جامع شراکت داری آنے والے برسوں میں نئے مواقع، مشترکہ خوشحالی اور ہمارے عوام کے روشن مستقبل کی بنیاد بنے گی۔

بہت بہت شکریہ۔ نمسکار۔