Share
 
Comments
کئی اقدامات کو فہرست میں شامل کیا جو میئر اپنے شہروں کے احیاء نو کے لئے اٹھا سکتے ہیں
‘‘جدیدیت کے اس دور میں ہمارے شہروں کا قدیم ہونا بھی یکساں طور پر اہم ہے’’
‘‘ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنے شہروں کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھیں’’
‘‘دریاؤں کو شہر کی زندگی میں مرکز ی حیثیت حاصل ہونی چاہئے، یہ آپ کے شہروں میں ایک نئی زندگی لائے گا’’
‘‘ہمارے شہر ہماری معیشت کی قوت محرکہ ہیں۔ ہمیں شہر کو ایک متحرک معیشت کا مرکز بنانا چاہیے’’
‘‘ہمارے ترقیاتی ماڈل میں ایم ایس ایم ایز کو مضبوط کرنے کے طریقے پر غور کرنے کی ضرورت ہے’’
‘‘وبائی بیماری نے گلیوں میں پھیری لگا کر سودا بیچنے والوں کی اہمیت کو ظاہر کردیا ہے۔ وہ ہمارے سفر کا حصہ ہیں۔ ہم انہیں پیچھے نہیں چھوڑ سکتے’’
‘‘میں کاشی کے لیے آپ کی تجاویز کا شکر گزار ہوں گا اور میں آپ کا پہلا طالب علم ہوں گا’’
‘‘سردار پٹیل احمد آباد کے میئر تھے اور ملک آج بھی انہیں یاد کرتا ہے’’

نمسکار،

پروگرام میں موجود اترپردیش کے کامیاب  اور مقبول  وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، کابینہ میں میرے ساتھی جناب ہردیپ سنگھ پوری جی، یو پی حکومت میں وزیر جناب آشوتوش ٹنڈن جی، نیل کنٹھ تیواری جی، آل انڈیا میئرکاونسل کے چیئرمین جناب نوین جین جی، کاشی میں موجود اور ملک کےکونے-کونے سے جڑے آپ سبھی میئرزساتھیوں ، دیگر معززین ، بھائیو اور بہنو،

کاشی کے ایم پی کے طور پر میں آپ سب کا کاشی  میں دل سے استقبال کرتا ہوں۔  میرے لیے یہ بہت ہی خوشی  کا موقع ہوتا کہ میں خود وہاں رہ کر کہ میری کاشی میں آپ کا استقبال کر کے آپ کی عزت  افزائی کرتا  -لیکن وقت کی کچھ رکاوٹوں  کی وجہ سے میں خود  تووہاں رہ کر آپ کا استقبال نہیں کر پا رہا ہوں۔ لیکن مجھے پختہ یقین ہے کہ کاشی کے لوگوں نے آپ کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں رکھی ہوگی۔ آپ کی بھرپور خاطرداری کی ہوگی، فکر کی ہوگی۔ اور اگر کچھ کمی رہ بھی گئی ہو تو قصور کاشی واسیوں کا نہیں ہوگا، وہ قصور میرا ہوگا اور اس لئے آپ ضرور معاف کریں گے۔ اور کاشی کے آپ کے اس بیان کو آپ بھرپور  enjoy بھی کریں گے، اور مل بیٹھ کر مستقبل کے بھارت  کے لئے، بھارت کے شہروں کے روشن مستقبل کے لئے اپنے تجربات کو مشترک کریں گے۔ بہت سی چیزیں ایک دوسرے سے سیکھیں گے۔ اور اپنے اپنے شہر کو اپنے اپنے طریقے سے اور آگے بڑھانے کے لئے خوبصورت سے خوبصورت شہر بنانے کے لئے vibrant شہر بنانے کے لئے ، ایک  بیدار شہر بنانے کے لئے آپ  کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ایسا میرا پورا یقین ہے۔ آپ سبھی میئر صاحبان  ضرور اپنی مدت کار میں اپنے شہر کو کچھ نہ کچھ دینا چاہتے ہوں گے۔ آپ ضرور چاہتے ہوں گے کہ آپ اپنے شہر میں کچھ ایسا کرکے جائیں تاکہ آنے والے وقت میں  5،  50 ، 20 سال کے بعد جب بھی کوئی شہر  میں آئے تو چرچہ کرے کہ جب فلاں  سجن یا میئر تھے یا فلاں بہن یہاں میئر تھیں تب اس شہر میں یہاں یہ کام ہوا تھا۔ ایک یاد بن جائے، ایک سمت بن جائے اور ہر کسی کے من میں یہ خواب بھی رہنا چاہئے، یہ عزم بھی رہنا چاہئے اور اس عزم کو پورا کرنے کے لئے  جی جان سے جٹ جانابھی چاہئے۔ اور عوام نے جب ہم پر یقین  کیا ہو، شہر کی پوری ذمہ داری ہمیں دی ہو تو ہمیں بھی اس کو اچھی طرح سے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور مجھے پختہ یقین ہے ، کہ آپ سب اس  سمت میں ضرور کچھ نہ کچھ کرتے ہوں گے۔ ضرور اس کے اچھے نتائج ملے اس کے لئے آپ کوشش کرتے ہوں گے۔ اور  آج میں  شہری ترقی کی وزارت کو، یو پی سرکار کو اور آپ سبھی کو بھی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے اس اہم پروگرام کے لئے بنارس کو منتخب کیا، میری کاشی کو منتخب کیا ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے آپ کے  سنکلپوں سے بابا وشوناتھ کا آشرواد جڑے گا، تو آپ سب کچھ نہ کچھ نیا حاصل کرکے، نئی تحریک لے کر کے، نئی امنگ لے کر ضرور اپنے کام کی جگہ پر لوٹیں گے۔ کاشی میں ہورہے اس پرگرام کو میں کئی امکانات کے ساتھ جوڑ کر دیکھ رہا ہوں ۔ ایک طرف بنارس جیسا دنیا کے سب سے قدیم شہروں میں سے ایک مقام، اور دوسری طرف  جدید بھارت کے جدید شہروں کا خاکہ! ابھی حال میں، جب میں کاشی میں تھا تب میں نے کہا  بھی تھا، کاشی کی ترقی پورے ملک کے لئے ترقی کا ایک اور روڈمیپ بن سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں زیادہ تر شہر روایتی شہر ہی ہیں، روایتی طریقہ سے ہی ترقی ہوئی ہے، جدیدکاری کے اس دور میں ہمارے ان شہروں کی قدیم ہونے کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے۔ ہم اپنے قدیم شہروں میں ان کی ہر گلی میں ہر پتھر سے ، ہر لمحہ سے، تاریخ کے ہر پہلو سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ان کے تاریخی تجربات کو، ہم اپنی زندگی کے لئے تحریک بنا سکتے ہیں۔ ہماری وراثت کو محفوظ رکھنے اور  سنوارنے کے نئے طور طریقوں کو ہم  فروغ دےسکتے ہیں۔ ہم سیکھ سکتے ہیں کہ ، مقامی آرٹ  اور ہنر  کو آگے بڑھانے کے طریقوں، کیسے لوکل اسکل اور پروڈکٹس  شہر کی پہچان بناسکتے ہیں، اس تجربہ کو !

ساتھیو،

آپ لوگ جب بنارس گھومیں گے، اور آپ میں سے بہت لوگ آئے ہیں جو پہلے کبھی نہ کبھی تو آئے ہی ہوں گے۔ تو پرانی یادوں کے ساتھ نئی تبدیلی کو موازنہ  کے طور پر ضرور دیکھیں گے۔ اور  ساتھ ساتھ آپ کے دماغ میں اپنا شہر بھی ضرور آئے گا۔ اور آپ ہر لمحہ دیکھیں گے کہ میں جس شہر سے ہوں، وہاں کی گلی اور کاشی  کی یہ گلی، میں جس شہر میں ہوں وہاں کی ندی اور یہاں کی  ندی  ہر چیز کا آپ ہر لمحہ موازانہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور آپ کے ساتھ  جو اور میئر ہوں گے  ان کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے کیا کیا ہے، کیسے کیا ہے۔ ہم سب کوبات کرتے کرتے نئے خیالات  ملیں گے۔ نئے تصورات ملیں گے، نئے پروگراموں کا کاکہ  طے ہوگا ۔ اور وہ اپنے شہر میں جاکر آپ کی قیادت اس کام کو کرے گی، تو آپ کے شہر کے لوگوں کو، آپ کی ریاست کے لوگوں کو ایک نئی خوشی ملے گی اور نیا اعتماد ملے گا۔ اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے  ہم evolution میں یقین کریں، Revolution کی آج بھارت کو ضرورت نہیں ہے ۔ ہمیں کایہ پلٹ کی ضرورت ہے، پرانا سب توڑنا-پھوڑنا ختم کرنا یہ ہمارا راستہ نہیں ہے۔ لیکن پرانا جو کچھ بھی ہے اس کو سنوارتے ہوئے جدت کی طرف ہم کیسے جائیں، جدید دور کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ہم کیسے آگے بڑھیں یہ ہم لوگوں کی کوشش ہونی چاہئے۔ اب آپ دیکھئے سوچھتا ابھیان چل رہا ہے، پورے ملک میں ہر سال سوچھ شہر کا اعلان ہوتا ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں رفتہ رفتہ کہ کچھ ہی شہروں نے اپنی جگہ بنالی ہے ، اچھی بات ہے۔ لیکن باقی شہر مایوس ہو کر بیٹھ جائیں کہ بھائی یہ  تو انہیں کو انعام جانے والا ہے، وہی آگے بڑھ گئے ہیں ہم تو نہیں کر پائیں گے یہ ذہنیت نہیں ہونی چاہئے۔ آپ سبھی میئر عہد کریں، کہ اگلی بار سوچھتا کی مسابقت میں آپ کسی سے پیچھے نہیں ہوں گے، آپ کا شہر کسی سے پیچھے نہیں ہوگا یہ عہد کرسکتے ہیں، نہیں کرسکتے ہیں ۔ میں تو کہوں گا۔ ہمارے ہردیپ پوری جی کو اب ہم   یہ بھی  کوشش کرسکتے ہیں کہ جو بہترین، سوچھ شہرہیں ان کو تو انعام دیں گے ہی دیں گے ، ان کو  ریکونائز کریں گے    لیکن جو سب سے زیادہ  اچھا ہونے کی کوشش کررہے ہیں  ، ان کو بھی ہم recognize کریں اور جو بالکل آنکھ بند کرکے بیٹھ گئے ہیں کچھ کرنا ہی نہیں ہے ان کی فہرست بھی نکالے اور ان ریاستوں میں Advertisement کریں کہ دیکھئے اس ریاست کے تین شہر  جو سوچھتا میں کچھ نہیں کررہے۔تو عوام کا دباؤ اتنا بڑھے گا کہ ہر کسی کو کام کرنے کا من کرجائے گا۔  اور میری میئرز سے  درخواست ہے کہ آپ صرف سوچھتا کو سال بھر کے پروگرام کےطور پر نہ دیکھیں ۔ کیا آپ ہر ماہ بورڈ کے بیچ ہر بورڈ کے بیچ سوچھتا  کی مسابقت organize کرسکتے ہیں کیا۔ جیوری بناکرکے اس ماہ میں کون سا بورڈ سب سے زیادہ سوچھتا کا انعام لے رہا ہے۔ اگر شہر کے بورڈوں میں competition ہوگی ، بورڈ کے کاونسلر کے بیچ میں مسابقت ہوگی تو اس کا cumulative effect, total جو effect ہے وہ پورے شہر کی تصور بدلنے میں کام آئے گا۔ اور اس لئے میں کہوں گا دوسرا جیسے سوچھتا کی ایک اہمیت ہے، زیبائش بھی، beautification یہ بھی میں تو چاہتا ہوں۔  دنیا میں beauty competition ہوتی ہیں  جو ہوتی ہیں وہ ہوتی ہیں ، مجھے اس میں کچھ کہنا نہیں ہے۔ لیکن کیا ہمارے نگر میں بورڈ beauty competition کرسکتے ہیں کیا! کون سا بورڈ سب سے زیادہ beautiful ہے۔ صفائی کا perimeter ہوسکتا ہے، خوبصورتی کے لحاظ سے  کئے گئے initative کا perimeter ہوسکتا ہے۔ ہر نگر اپنا بھی ثابت کرے جیوری بنائیں۔ دیواروں کو کیسے رنگا گیا ہے ، دکانیں ہیں تو بورڈ کیسے لگے ہوئے ہیں گلیوں کے سائن بورڈ ہیں تو کیسے لکھے گئے ہیں، ایڈریس کیسے لکھا جاتا ہے۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں ان ساری باتوں کو اگر آپ لگاتار شہر میں یہ جوڑ دیں جیسے ابھی ایک مقابلہ organize ہوا ہے۔ آزادی کا امرت مہوتسو اب آزادی کا امرت مہوتسو اس میں تین چیزیں کہی ہیں جو آپ عام آدمی سے کرا سکیں۔  ایک- کہ آزادی کے امرت مہوتسو کی رنگولی مقابلہ لیکن رنگولی بھی خوبصورتی کے ساتھ جڑی ہوئی رنگولی نہیں آزادی کی، آندولن کے کسی نہ کسی واقعہ سے جڑی ہوئی ہو۔ اگر آپ پورے شہر میں یہ مقابلہ کریں۔ آنے والی 26 جنوری تک اس کو بڑا ماحول بنائیں، دیکھئے بدل ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سے آپ کے شہر میں آزادی کے آندولن میں جو ہوا ہو اس کے لئے کچھ گیت لکھے جائیں، آپ کے شہر میں آزادی کے آندولن میں پیش آئے واقعہ کے سلسلے میں کچھ گیت لکھے جائیں، ان گیتوں کا مقابلہ ہو۔ آپ کی ریاست کے اندر جو واقعات پیش آئے ہیں  اس کے گیتوں کا مقابلہ ہو، ملک کے  بڑے واقعات کو جوڑ کر کے ان کا مقابلہ ہو۔ آپ دیکھئے تبدیلی ہوگی کہ نہیں ہوگی۔ اسی طرح سے ہماری ماووں – بہنوں  کو جوڑنے کا ایک بڑا پروگرام ہوسکتا ہے۔ ہمارے یہاں پرانی روایت تھی لوری گانے کی ۔ بچے جب نوزائدہ بچے ہوتے تھے تو لوری گاتے تھے ہر گھر میں مائیں -بہنیں اب کیا ہم جدید لوری بناسکتے ہیں۔ جدید طور پر مستقبل کا بھارت کیسا ہوگا۔ 2047 میں جب ملک 100 سال کا ہوگا تو وہ کون سے خواب ہوں گے جو بچہ آج پیدا ہوا ہے، جس کو اس کی ماں لوری سنا رہی ہے ، وہ روشن مستقبل کی لوری سنائیں اور اس کو  مہذب بنائیں ، ابھی سے مہذب بنائیں  کہ دیکھو ہم سب نے مل کر 2047 میں جب ہندوستان 100 سال کی آزادی کا جشن منائے گا تو ایسا ایسا کریں گے۔ ایسا کرسکتے ہیں  کیا! اب دیکھئے ہمارے یہاں کل آپ نے دیکھا شاید  آپ کو موقع ملا ہوگا یا تو آج جانے والے ہوں گے، گنگا گھاٹ دیکھے ہوں گے۔ دنیا بھر کے ٹورسٹ آتے ہیں ۔ کاشی کی اکونامی کو چلانے میں ماتا گنگا کا بہت بڑا رول ہے۔ماتا گنگا کے ساحل  پر جو کچھ بھی ہوا ہے، اس سے کاشی کی اکونامی کو طاقت ملتی ہے۔ کیا ہم ہمارے قریب -قریب بہت سے شہر ایسے ہیں جو کسی نہ کسی ندی کے کنارے پر ہیں۔ یا تو شہر میں سے ندی گزرتی ہے، لیکن مختلف دور سے گزرتے ہوئے  وہ ندی ایک طرح سے تباہ ہوگئی۔ کبھی کبھی  تو گندی نالی بن گئی ہے، یا تو بارش میں پانی آتا ہوگا تب وہ ندی  نظرآتی ہوگی پھر ندی نظرنہیں آتی ہوگی۔ ہمیں اس ندی کے تئیں  ایک انتہائی حساس نظریہ اختیار کرنا چاہئے۔ آج جب پوری دنیا پانی کے بحران  کی بات کرتی ہے۔ آج جب ساری دنیا گلوبل وارمنگ، کلائمیٹ چینج  پر بات کرتی ہے اور ہم اپنے شہر کی ندی کی پروا ہی نہ کریں، اس ندی کو سنبھالنا، اس ندی کو سنوارنا ، اس ندی کی اہمیت کو سمجھنا ،یہ اگر نہ کریں تو پھر ہم کیسے فخر کرسکتے ہیں۔

کیا ہم ایک کام کرسکتے ہیں، ہر سال سات دن کے لئے جب بھی آپ کو سہولت ہو ندی اتسو منائیں۔ ندی اتسو مناکر پورے شہر کو اس میں جوڑیں، اس میں صفائی کا کام ہوسکتا ہے ندی کا، ندی کی تاریخ کے سلسلے میں کچھ باتیں ہوسکتی ہیں ، ندی کے ساحل پر پیش آنے والے واقعات کے بارے میں باتیں ہوسکتی ہیں۔ ندی  کی تعریف کرنے والی باتیں ہوسکتی ہیں۔ کبھی ندی کے ساحل پر جاکر کچھ تقریبات ہوسکتی ہیں۔ کچھ کوی سمیلن ہوسکتے ہیں۔ یعنی ندی کو کیندر میں  نگر کی ترقی کے سفر میں ندی کو پھر ایک بار اہم مقام جہاں ندی ہے وہاں اس کو ہمیں ہلکا پھلکا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ آپ دیکھئے آپ کے نگر میں ایک نئی جان آجائے گی ،  نیا جوش آجائے گا۔ ندی کی اہمیت کیسے بڑھے اس کئے ہمیں کرنا چاہئے۔

اسی طرح آپ نے دیکھا ہوگا کہ سنگل یوز پلاسٹک  کے سلسلے میں  ہم اپنے شہر میں کتنے بیدار ہیں۔  ہم دکانداروں کو سمجھائیں ، تاجروں کو سمجھائیں کہ ہمارے نگر میں ہم سنگل یوز پلاسٹک کا کہیں استعمال نہیں کریں گے ۔ہم نظام سے اس کو نکال دیں۔ اور غریب کی بنائی ہوئی اخبار کی رد کی جو چھوٹی چھوٹی تھیلیاں ہوتی ہیں ان کا استعمال کرو یا  تو عادت  ڈالو کہ گھر سے تھیلا لے کر خریداری  کرنے جانے کی عادت ڈالی جائے۔ اور اب تو دنیا بھر میں سرکولر اکونومی  کی اہمیت بڑھ رہی ہے ، ویسٹ میں سے بیسٹ بنانے کا بن رہا ہے۔ کبھی -کبھی شہر میں یہ بھی competition ہوسکتی ہے، کہ چلو بھائی ویسٹ میں سے بیسٹ بنا کر کے اس کی ایک نمائش، اس کا ایک مارکٹنگ  میلہ لگے۔ جتنے بھی ٹیلنٹ ہیں، ڈیزائنر ہیں، پرانی پرانی چیزوں کا اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ  کتنی بہترین چیزیں لوگ بناتے ہیں۔  اور ایک طرح سے ایک چوراہے پر رکھیں تو ایک یادگار بن جاتی ہے۔ ہمیں ایک بیسٹ منیجمنٹ کو لے کر کے اس کا ایک ریونیو ماڈل بن سکتا ہے۔ وہ ماڈل کیسے بن سکتا ہے اس سمت میں ہمیں کام کرنا چاہئے اور کچھ شہروں نے کیا ہے۔ اور سیوج کا پانی ری یوز ہوسکتا ہے۔ باغیچوں میں اگر ہم آج پانی کا استعمال کرتے ہیں ۔ آپ تصور کرسکتے ہیں اگر گاوں کے کسانوں کو پانی ملنا بند ہوجائے  اور ہم کہیں کہ شہر کو پانی دو تو کیا حالت ہوگی۔

ہمارے جو پینے کے سوا کام ہیں ، اس میں سیوج واٹر کا ٹریٹمنٹ کرکے اس میں سے پانی باغیچوں کے لئے باقی کاموں کے لئے بڑی مقدار میں استعمال کرسکتے ہیں۔ تو جو ویسٹ ہے وہ ویلتھ میں کنورٹ ہوگا اور جو پانی کی گندگی وہ بھی دور جائے گی۔ اور شہر کے آروگیہ میں بھی بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ اگر ہم شہر میں آروگیہ کے لئے یہ preventive چیزوں پر زور نہیں دیں گے تو کنے ہی اسپتال بنوائیں کم پڑ جائیں گے۔ فطری بات ہے اور اس لئے ہم ہمارا شہر صاف ستھرا رہے ، صحت مند بھی رہے، یہ بھی ہم لوگوں کی کوشش ہونی چاہئے ۔اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم گھر سے نکلے کوڑے-کچرے سے لے کرکے ، رسوئی سے نکلے کوڑے-کچرے سے لے کرکے، گلی محلے کے کوڑے کچرے تک یا عمارتیں پرانی توڑ کرکے نئی بن رہی ہیں تو وہ بھی ان ساری  چیزوں کے لئے  ایک جگہ طے کریں اور کوڑا-کچرا پھینک دے ایسا نہیں۔ ہم کوشش کریں  اس میں سے کیسے آگے آسکتے ہیں۔اب جیسے  سورت میں سیوج واٹر ٹریٹمنٹ کا ایک جدید ماڈل ڈیولپ کیا گیا ہے۔ وہاں سیوج واٹر کو ٹریٹمنٹ کے بعد انڈسٹری کو فروخت کیا جارہا ہے اور لوکل باڈی کو آمدنی ہورہی ہے ۔ ایسا کئی شہروں میں ہوتا ہوگا۔  تو مجھے جانکاری تھی اس لئے میں نے اس کا ذکر کیا ۔ ایسے کئی شہر ہیں جو آج کررہے ہیں اور اس کی وجہ سے شہرکے رینیو کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ شہر کے ریونیو میں اس سمت میں، میں مانتا ہوں کہ شہر کا یوم تاسیس ہمیں پتہ ہونا چاہئے ، ہمارے شہر کا جنم دیوس کب ہے، نہیں ہے تو پرانی چیزوں کو تلاش کرنا چاہئے، نکالنا چاہئے، ریکارڈ پر available ہوگا۔ شہر کا جنم دیوس کافی دھوم دھام سے منانا چاہئے۔ اپنے شہر  کے تئیں فخر ہو اس کے ساتھ کئی مسابقت ہوں اور میرا شہر کیسا ہو ہر شہری کے دل میں ایک جذبہ پیدا ہوکہ میرا شہر مجھے کچھ ایسا بنانا ہے۔ میں اس کے لئے ایسا ایسا کرنے والا ہوں، میں یہ کوشش کروں گا۔ یہ جب تک ہم نہیں کرتے ہیں تو پھر کیا ہوتا ہے،ٹیکس بڑھایا کی کم کیا، فلانا کیا کی ڈھکانا کیا۔ اسی میں بحث ہورہی ہے۔

اب یوگی جی اپنی تقریر میں ایل ای ڈی بلب کی بات کررہے تھے ۔ کیا آپ طے کرسکتے ہیں کہ میرے شہر میں ایک بھی گلی ، ایک بھی کھمبا  ایسا نہیں ہوگا جس پر ایل ای ڈی بلو نہ لگا ہو۔ آپ دیکھئے  میونسپلٹی  کے میونسپل کارپویشن کے بجلی کا بل ایکدم سے کم ہو جائے اور روشنی بدلے گی وہ تو الگ۔ اب یہ بڑی مہم کے لئے طے کرنا چاہئے کہ یہ کام مجھے دو مہینے میں، تین مہینے میں پورا کرنا ہے۔ ایک بھی بلب ایسا نہیں ہوگا  ۔ جو ایل ای ڈی بلب نہ ہو، اسی طرح سے آپ اپنے  ووٹروں کو اپنے شہر کے لوگوں کو ان کو خوش کرنے کے لئے بھی ایک کام کرسکتے ہیں۔ ہر گھر میں ایل ای ڈی بلب ہو متوسط طبقے کی فیملی کے گھر میں اگر ایل ای ڈی بلب سے روشنی ہوگی ، تو اس کا بجلی کا بل دو سو، پانچ سو، ہزار دو ہزار کم آئے گا، متوسط طبقے کے پیسے بچ جائیں گے۔  یہ کوشش ہم لوگوں کو کرنا چاہئے اور یہ سارے کے لئے نئے اسکیمیں دستیاب ہیں گے۔ ان دستیاب اسکیموں کا استعمال کرتے ہوئے، ہم ان باتوں کو کیسے آگے بڑھائیں۔

آج آزادی کا امرت مہوتسو جاری ہے ۔ دیکھئے شہر کی ترقی بھی شراکت داری سے ہونی چاہئے ۔ عوام کی شراکت داری پر زور دینا چاہئے، جتنی تعداد میں عوامی شراکت داری  اب جیسے ہماری درخواست ہے کہ اگر آپ کے شہر میں  این سی سی کی یونٹ چلتی ہے اسکولوں میں تو این سی سی کی یونٹ کے لوگوں سے بات کرو۔جتنے بھی آپ کے یہاں اسٹیچو لگے ہوئے ہیں ، بابا صاحب امبیڈکر کا اسٹیچو ہوگا، مہاتما گاندھی کا اسٹیچو ہوگا، کہیں سوامی وویکانند جی کا اسٹیچو ہوگا، کہیں شہید ویر بھگت سنگھ جی کا اسٹیچو ہوگا، کہیں  مہارانا پرتاپ جی کا اسٹیچو ہوگا، کہیں چھترپتی شیواجی مہاراج جی کا ہوگا، الگ الگ اسٹیچو ہوتے ہیں۔  لگاتے وقت  تو ہم بہت بیدار ہوتے ہیں۔وہاں تام جھام لگ جاتا ہے لیکن لگ جانے کے بعد کوئی اس کی طرف دیکھتا نہیں۔ سال میں ایک دن جب ان کا یوم پیدائش ہوگا تب تو ہم دیکھ لیتے ہیں کیا ہم ہمارے این سی سی کیڈیکس ان کی ٹولیاں بناکرکے ہر دن سبھی اسٹیچو کو صاف ستھرا کریں گے، اس کی صفائی کریں گے۔ اور جو بچے جمع ہوں گے و ہ اسٹیچو کس کا ہے اس پر پانچ منٹ تقریر کریں گے۔ ہر دن نئے نئے بچے آئیں گے تو ان کو پتہ چلے گا ہاں بھائی یہ ان کا اسٹیچو ہے۔ اس عظیم شخص نے یہ کام کیا تھا۔ اور آج ہماری باری ہے چلو اس چوراہے کو صاف-سفائی کا ہمیں موقع ملا ہے۔ چیزیں چھوٹی ہیں لیکن پورے  شہر میں تبدیلی لانے کی بڑی  طاقت رکھتی ہیں۔

آپ کی مدت کار  میں آزادی کا یہ امرت مہوتسو آیا ہے۔ جب آزادی کا امرت مہوتسو آیا ہے۔ تو کیا آپ کم از کم ایک چوراہا، اپنے شہر میں ایک  سرکل، جہاں سے چار چھ راستے نکلتے ہوں۔ ایسا شاندار سرکل اس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سرکار کا میونسپل کے پیسوں سے نہیں اپنی عوامی شراکت داری سے کوئی ایسی یادگار بناسکتے ہیں۔ یونک اسمارک جو آزادی کے امرت مہوتسو سے متعلق ہو، آزادی کے آندولن کو  یا ملک کے فرائض کے جذبہ کو روشن مستقبل کے بھارت کی کچھ چیز نظرآئے ایسا سرکل کا بیوٹیفکیشن competition کریں ،فنکاروں کو کہیں بھائی آپ بتائیے کیا ہونا چاہئے، ڈیزائن کرکے competition ہو competition میں انعام ملے۔ پھر اس میں سے بنانے والے منتخب کیے جائیں ۔ ایک آپ کی زندگی کی یادگار آپ چھوڑ کر جائیں گے۔ اور میں مانتا ہوں کہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جس پر ہم زور دیں گے۔ اسی طرح سے آپ کے شہر کی ایک شناخت ہو۔ کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ آپ کےشہر کی ایک شناخت بنے ، ہوسکتا ہے کوئی شہر ہو جو کھانے کی کسی ایک چیز کے لئے جانا جاتا ہو۔ اسی کو چلو کہو کہ ہمارا یہ شہر کہ وہاں کے کھانے کی چیز کافی مقبول  ہے۔ اب جیسے بنارس کا پان، کہیں پر بھی پوچھو لوگ بنارس کا پان بولتے ہی بولتے ہیں۔ کسی نے محنت کی ہوگی ایک پہچان بن گئی، ہو سکتا ہے یہ سارے میئر بھی ٹیسٹ کریں گے، بنارس کے پان کا۔ لیکن کہنے کا میرا مطلب ہے کہ آپ کے شہر میں ویسا ہی کوئی پروڈکٹ ہوگا ، ویسا ہی کوئی تاریخی مقام ہوگا، آپ  اپنے شہر کی برانڈنگ ، اپنے شہر کی کسی پروڈکٹ۔

جیسے آپ کبھی دیکھ لینا، آپ اترپردیش میں کبھی آئے ہوں، اترپردیش میں ایک بہت ہی اچھا پروگرام چل رہا ہے۔ ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ اور انہوں نے میپنگ کرکے  اس ضلع میں کون سی چیز زیادہ مشہور ہے ، کو ن سی چیزوں کی اہمیت ہے، اس کا souvenir بھی ہے ۔ اگر ہو سکے تو وہاں کے وزیراعلیٰ جی آپ کو دیں گے۔ آپ دیکھیں اس کا اتنا اثر ہوا ہے، کہ جیسے کوئی ایک علاقہ ہوگا۔ وہاں کھیل کود کے وسائل بن رہے ہیں، تو اس کی پہچان وہ ہوگئی۔ آپ اپنے شہر کی ویسی کیا خصوصیت ہے، جو ہندوستان میں کسی کو بھی جیسے بنارسی ساڑی فیمس ہوگئی۔ دنیا میں ہندوستان کے کسی بھی کونے میں شادی ہوتی ہے تو  ہر ایک کو من کرتا ہے کہ ایک تو بنارسی ساڑی خریدیں گے۔ کسی نے اس کی برانڈنگ کردی۔ کیا آپ کے شہر کی ایسی چیز ہے ، جو پورے ہندوستان کے ہر کونے میں معلوم ہو، کہ ہاں پٹنہ کی ایک چیز بہت اچھی ہے، حیدرآباد کی یہ چیز اچھی ہے، کوچی کی یہ چیز اچھی ہے، ترواننت پورم کی یہ چیز اچھی ہے، چنئی کی یہ چیزاچھی ہے ۔ آپ کے شہر کے اندر ایسی کون سی خصوصیت ہے ۔ پورا شہر مل کر کے طے کرے ہاں ہماری یہ سب سے بڑی طاقت ہے  اس کو کیسے بڑھایا جائے۔ آپ دیکھئے اکونومک اکٹیویٹی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن جائے گا۔ یعنی شہروں کا ڈیولپمٹ اس کو ہمیں ایک نئی سطح پر لے جانا ہے، اس کی سمت میں ہمیں کوشش کرنی ہے۔ اب آپ دیکھتے ہیں شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی موبلٹی کی وجہ، ٹریفک جیم کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اب ہم کتنے ہی فلائی اوور بنادیں۔ اب آپ سورت میں جائیں گے۔ ہر سو میٹر جانے کے بعد کوئی نہ کوئی فلائی اوور آجاتا ہے۔ شاید وہ فلائی اوور کا شہر بن گیا ہے ۔ کتنے فلائی اوور بنائیں گے ،مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ ہم نے لوگوں کو آنے جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم، میٹرو پر بہت زور دیا جارہا ہے، ہمارے ملک میں میٹرو پر کافی کام بھی ہورہا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں ہیں۔ ہم سماجی زندگی میں  رویہ کیسے بنائیں اس کے لئے ہم کیسی کوششیں کریں ، جب تک ہم ان چیزوں پر توجہ نہیں دیں گے۔ ان چیزوں کی اہمیت نہیں سمجھیں گے۔ اب دیکھئے دیویانگ جن ، میرے شہر میں دیویانگ جنوں کے لئے جو کچھ بھی ضروری ہے۔ کوئی بھی نئی عمارت تعمیر ہوگی ، کوئی بھی نیا روڈ بنے گا، کہیں بھی کراس  سیکشن آئے گا۔  میں سوگمیہ  بھارت ابھیان کے تحت  اس کی تعمیر کے ضابطے کے اندر  وہ ڈالوں گا، تاکہ دیویانگ جنوں کے لئے سماج میں مقام ہے۔ ٹائلیٹ بنیں گے تو ایک تو دیویانگ جنوں کی ضرورتوں کے مطابق بنیں گے، راستے بنیں گے تو دیویانگ جنوں کو جو سہولت ہے وہ ہوگی، بس میں چڑھنے اترنے کا جو اسٹیپس ہے تو دیویانگ جنوں  کی تکلیفوں کو ذہن میں رکھا جائے گا۔ یہ ہمیں اپنی اسکیموں کا حصہ بنانا پڑے گا۔ تبھی جاکر کے ہوگا اور ایک بات صحیح ہے، کہ ہماری اکونامی  کا جو ڈرائیونگ فورس ہے وہ ہمارا شہر ہے۔  ہمیں شہر کو vibrant economy ہب بنانا چاہئے۔ اس کے لئے ہماری توجہ ہونی چاہئے ، کہ جہاں پر نئی صنعت لگ سکتی ہے ، وہ  جگہ identify کریں۔ لوگوں کے رہنے کے لئے مزدوروں کے رہنے کے لئے جگہ بھی ساتھ ساتھ بنتی رہے تاکہ ان کو بہت لمبا جانا نہ پڑے۔ ایک سے دوسری جگہ پر وہیں پر ان کو کام بھی مل جائے اور وہیں پر ان کے رہنے کا بندوبست  بھی ہو جائے ،سہولت مل جائے۔ ہمارے ڈیولپمنٹ کے ماڈل میں ہمیں یہ integrated approach, holistic approach یہ ہمیں رکھنا ہی ہوگا اور تب جاکر کے اکونامک اکٹیویٹی کے لئے ہر کوئی آئے گا  کہ یہاں ایک ایکوسسٹم ہے۔ یہ نظام ہے ، میں جاکرکے اپنی صنعت لگا سکتا ہوں، اپنا کارخانہ لگا سکتا ہوں، اور میں روزگار پیدا کرسکتا ہوں۔میں پروڈکشن کرسکتا ہوں ۔ ہمارے ترقی کے ماڈل میں ایم ایس ایم ای کو کیسے تقویت ملے یہ ہمیں فکرکرنی چاہئے۔ اور ایک بات آپ سب کو میری درخواست ہے اور میں سبھی میئر صاحبان سے میں نے جتنا بتایا ہوسکتا ہے  سب آپ کرپائیں نہ کرپائیں،آپ کی priority ہو نہ ہو لیکن ایک کام آپ کریں گے، آپ کو بہت سکون ملے گا، بہت اطمینان ملے گا  اور وہ ہے پی ایم سونیدھی یوجنا۔

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہر شہر میں اسٹریٹ وینڈر ہوتے ہیں، جو ریہڑی پٹری والے لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کی ہر ایک کی زندگی میں کافی اہمیت ہوتی ہے۔ مائیکرواکونومی میں بھی وہ ایک بہت بڑی طاقت ہوتے ہیں لیکن سب سے زیادہ محروم رہے ہیں کو ئی ان کو پوچھنے والے نہیں ہے ۔ وہ بے چارے کافی مہنگے سود سے ساہوکار سے کہیں سے پیسے لے آتے ہیں، اپنا گھر بار چلاتے ہیں، آدھا پیسہ سود میں چلا جاتا ہے ۔وہ غریبی سے لڑنا  چاہتا ہے، محنت کرنا چاہتا ہے، دن میں آواز لگا کر گلیوں میں جاکر اپنا مال بیچتا ہے کیا کبھی اس کی فکر ہم نے کی ہے۔ یہ پی ایم سوانیدھی یوجنا اس کے لئے ہے۔ اور کورونا کے دور میں تو اچھے اچھوں نے دیکھ لیا ہے کہ ان لوگوں کے بغیر زندگی مشکل ہے۔ کیونکہ کورونا دور میں وہ لوگ نہیں تھے، پہلے تو پتہ نہیں چلتا تھا لیکن جب دو دن تک سبزی والا نہیں آتا تھا ، تو پھر بڑی پریشانی ہوتی تھی۔ پھر یاد آتا تھا کہ ارے سبزی والا نہیں آیا، دودھ والا نہیں آیا، آخبار والا نہیں آیا، گھر میں صفائی کرنے والا نہیں آیا، کھانا پکانے والا نہیں آیا، کپڑے دھونے والا نہیں آیا، سب کا پسینہ نکل گیا تھا۔

کورونا نے ہمارے یہ جو ہماری مدد کرنے والا پورا طبقہ ہے جن کے بھروسے ہماری زندگی چلتی ہے۔ یہ کتنے اہم ہیں، کتنے قیمتی ہیں، یہ ہم کو سمجھا دیا ہے۔ اس کی طاقت کا ہمیں احساس کردیا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اب ایک زندگی کو ذمہ داری کا حصہ بنائیں، کہ ہم ان کو کبھی  تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ ہمارے اپنے سفر کا حصہ ہیں۔ ان کی مصیبتوں کو ہم ہر پل دیکھیں گے اور ا سکے لئے پی ایم سونیدھی یوجنا لائے ہیں۔ پی ایم سوانیدھی یوجنا بہت ہی اعلیٰ ہے۔ آپ اپنے شہر میں ان کی لسٹ بنائیں اور ان کو موبائل فون سے لین دین سکھا دیجئے۔ بینک سے ان کو پیسہ ملے گا۔ تھوک  کاروباری کے یہاں سے وہ مال لینے جائیں  جہاں وہ سبزی فروخت کرتا ہے، صبح وہ مارکٹ میں جاکر کے 500 روپئے کی سبزی لے کر کے اپنی لاری بھر دیتا ہے، تو وہ پیسے ان کو موبائل فون سے ہی دیں۔ تو پھر وہ 200، 300 گھروں میں سبزی فروخت کرنے جاتا ہے ، ان سے وہ موبائل فون سے ہی پیسے لے، کیش نہ لے ، ڈیجیٹل لے۔ اگر اس کا 100 فیصد ڈیجیٹل ریکارڈ بنتا ہے تو پتہ چلے گا ، بنک والوں کو پتہ چلے گا کہ ان کا تو کاروبار اچھا ہے۔ تو ابھی 10000 روپئے دیا ہے تو وہ 20000 کردے گا، 20000 دیا ہے تو 50000 تک کردے گا۔ اور میں نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ 100 فیصد ڈیجیٹل ٹرانزیکشن  کرتے ہو تو جو حساب کتاب بنتا ہے ،سود قریب قریب زیرو ہو جاتا ہے۔

یہ ہمارے ریہڑی پٹری والوں کو اتنا بڑا پیسوں کا کاروبار ، بغیر سود کے مل جائے، میں پکا مانتا ہوں ، وہ بہت اچھا کرلیں گے،اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں گے،وہ اچھی کوالٹی کا مال فروخت کرنا شروع کردیں گے، زیادہ بڑا کاروبار کرنا شروع کردیں گے، اور آپ کے شہر میں لوگوں کی خدمت اچھی ہوگی۔ کیا آپ پردھان منتری سوانیدھی یوجنا  اس کو ترجیح بنا سکتے ہیں۔ کاشی کی سرزمین سے ماں گنگا کے ساحل پر آپ عہد کرکے جائیے کہ اسی 2022 میں جب 26 جنوری آئے گی، 26 جنوری کو پہلے ہم یہ  کام کرکے جائیں گے۔26 جنوری کے پہلے ہمارے شہر کے 200،500،1000،2000 جو بھی ریہڑی پٹری والے ہیں ان کا بینک کھاتہ کھل جائے گا۔ ان کو ڈیجیٹل لین دین کی ٹریننگ دی جائے گی۔ وہ جن کاروباریوں سے مال خریدتے ہیں، ان کو بھی ڈیجیٹل ٹریننگ دی جائے گی۔ جہاں وہ جاکرکے اپنا مال فروخت کرتے ہیں ، ان کو ڈیجیٹل ٹریننگ دی جائے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ڈیجیٹل کا کاروبار بھی بڑھ جائے گا۔ اور میرے ریہڑی پٹری والوں کو کم سے کم سود میں ہوسکے تو زیرو سود سے اپنا کاروبار بڑھانے کا ایک بہت ہی بڑا موقع مل جائے گا۔

بہت سی باتیں ہیں ساتھیوں آپ یہاں آئے ہیں کاشی میں، کاشی کو بہت باریکی سے دیکھیں بھی اور کئی نئی نئی تجاویز آپ کے من میں ہوں گی، اگر آپ تجاویز مجھے بھیجیں گے  تو مجھے میرے کاشی میں کام کرنے میں بہت مدد  ملے گی ۔ آپ اپنے میئر کے ناطے کئے   ہوئے کام اور آپ کو لگتا ہے ایسا کام مودی جی کو کاشی میں کرنا چاہئے ۔ اگر آپ مجھے یہ دیں گے تو میں آپ کا شکرگزار رہوں گا۔ کیونکہ میں تو آپ لوگوں سے سیکھنا چاہتا ہوں۔ سب نے مجھے  وہاں بلایا ہے اس لئے بلایا ہے کہ آپ  ہمارے کاشی والوں کو کچھ سکھائیے، کچھ سمجھائیے، جو آپ نے نیا کیا ہے انہیں بتائیے، ہم کاشی میں ضرور آپ سے سیکھیں گے۔ آپ سے چیزیں سیکھ کر کے ہم ضرور اپنے کاشی میں لاگو کریں گے اور میں سب سے پہلا طالب علم بنوں گا۔میں اس کو سیکھوں گا ۔ دوسرا ہم سب سیاست سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ آپ سب کو پتہ ہوگا کہ یہ ایک ایسا عہدہ ہوتا ہے ، جہاں سے سیاسی زندگی میں آگے بڑھنے کے کافی اچھے موقع ملتے ہیں۔ آپ سب کو پتہ ہوگا سردار ولبھ بھائی پٹیل جب احمدآباد شہر بہت چھوٹا تھا، ایک میونسپلٹی تھی، سردار صاحب غلامی کے  دور میں اس کے میئر بنے تھے، چیئرمین بنے تھے، اور وہیں سے ان کی زندگی کا سفر شروع ہوا۔ اور آج بھی ملک ان کو یاد کررہا ہے۔ بہت سے رہنما ایسے ہیں ، جن کی زندگی کا سفر ایسے ہی کسی میونسپلٹی سے شروع ہوا ہے ، کسی نگرپالیکا سے شروع ہوا ہے، کسی مہانگرپالیکا سے شروع ہوا ہے۔ آپ کی زندگی بھی ایک ایسے پڑاؤ پر ہے ،مجھے پختہ یقین ہے کہ  آپ بھی اپنے سیاسی روشن مستقبل کے لئے بھی پوری لگن سے اپنے علاقہ کی ترقی کے لئے جڑ جائیں گے ،جدید شہر بنانے ہی ہوں گے، وراثت کو سنوانے بھی ہوں گے۔وراثت بھی چاہئے، ترقی بھی چاہئے۔ پورے خوابوں کو لے کر آپ چلیں گے۔ میری طرف سے پھر سے ایک بار کاشی میں آپ کا بہت بہت خیرمقدم ہے اور مجھے پختہ یقین ہے ،کاشی میں آپ سب کی خاطرتواضع بہت اچھی ہوگی ، کاشی کے لوگ بہت پیار کرتے ہیں، بہت پیار کرنے والے لوگ ہیں، آپ کو کبھی کمی محسوس ہونے نہیں دیں گے۔ اس پیار کو لے کر کے آپ جائیے۔

بہت بہت شکریہ ۔ بہت بہت نیک خواہشات ۔

Share beneficiary interaction videos of India's evolving story..
Explore More
وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی  ایم مودی کے ساتھ کا متن

Popular Speeches

وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی ایم مودی کے ساتھ کا متن
In 5 charts: Why India needs Agnipath for military modernisation

Media Coverage

In 5 charts: Why India needs Agnipath for military modernisation
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi takes part in 14th BRICS Summit
June 24, 2022
Share
 
Comments

Prime Minister Shri Narendra Modi led India’s participation at the 14th BRICS Summit, convened under the Chairship of President Xi Jinping of China on 23-24 June 2022, in a virtual format. President Jair Bolsonaro of Brazil, President Vladimir Putin of Russia, and President Cyril Ramaphosa of South Africa also participated in the Summit on 23 June. The High-level Dialogue on Global Development, non-BRICS engagement segment of the Summit, was held on 24 June.

On 23 June, the leaders held discussions including in fields of Counter-Terrorism, Trade, Health, Traditional Medicine, Environment, Science, Technology & Innovation, Agriculture, Technical and Vocational Education & Training, and also key issues in the global context, including the reform of the multilateral system, COVID-19 pandemic, global economic recovery, amongst others. Prime Minister called for strengthening of the BRICS Identity and proposed establishment of Online Database for BRICS documents, BRICS Railways Research Network, and strengthening cooperation between MSMEs. India will be organizing BRICS Startup event this year to strengthen connection between Startups in BRICS countries. Prime Minister also noted that as BRICS members we should understand security concerns of each other and provide mutual support in designation of terrorists and this sensitive issue should not be politicized. At the conclusion of the Summit, BRICS Leaders adopted the ‘Beijing Declaration’.

On 24 June, Prime Minister highlighted India’s development partnership with Africa, Central Asia, Southeast Asia, and from Pacific to Caribbean; India’s focus on a free, open, inclusive, and rules-based maritime space; respect for sovereignty and territorial integrity of all nations from the Indian Ocean Region to Pacific Ocean; and reform of multilateral system as large parts of Asia and all of Africa and Latin America have no voice in global decision-making. Prime Minister noted the importance of circular economy and invited citizens of participating countries to join Lifestyle for Environment (LIFE) campaign. The participating guest countries were Algeria, Argentina, Cambodia, Egypt, Ethiopia, Fiji, Indonesia, Iran, Kazakhstan, Malaysia, Senegal, Thailand and Uzbekistan.

Earlier, in the keynote speech delivered at the Opening Ceremony of BRICS Business Forum on 22 June, Prime Minister appreciated BRICS Business Council and BRICS Women Business Alliance which continued their work despite COVID-19 Pandemic. Prime Minister also suggested the BRICS business community to further cooperate in field of technology-based solutions for social and economic challenges, Startups, and MSMEs.