‘‘جینوم انڈیا پروجیکٹ ملک کے بائیوٹیکنالوجی منظرنامے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، پروجیکٹ سے جڑے تمام افراد کو میری نیک خواہشات’’: وزیراعظم
‘‘ اکیسویں صدی میں، بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو ماس کا امتزاج بائیو معیشت کے طور پر وِکست بھارت کی بنیاد کا ایک اہم حصہ ہے’’:وزیراعظم
‘‘بائیو معیشت پائیدار ترقی اور اختراع میں تیزی لاتی ہے’’: وزیراعظم
‘‘ جس طرح آج ملک نے دوا سازی کے مرکز کےطور پر دنیا بھرمیں اپنی جوشناخت قائم کی ہے، اسی طرح جینوم انڈیا پروجیکٹ بھارت کی عالمی سطح پر بائیو ٹکنالوجی تحقیق کے میدان میں شناخت کو مزید مستحکم کرے گا’’: وزیراعظم
‘‘دنیا عالمی مسائل کے حل کے لیے ہماری طرف دیکھ رہی ہے، یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک ذمہ داری اور موقع دونوں ہے’’: وزیراعظم
‘‘جس طرح ہماری عوام دوست حکمرانی اور ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچے نے دنیا کو ایک نیا ماڈل فراہم کیا ہے، بالکل اسی طرح جینوم انڈیا پروجیکٹ بھی بھارت کی شبیہ کو جینیاتی تحقیق کے میدان میں مزید مستحکم کرے گا’’: وزیراعظم

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ جی، ملک بھر سے یہاں موجود تمام سائنسدان، دیگر معززین، خواتین و حضرات!

آج ہندوستان نے تحقیق کی دنیا میں ایک بہت ہی تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ جینوم انڈیا پروجیکٹ کو پانچ سال پہلے منظوری دی گئی تھی۔ اسی درمیان کووِڈ کے چیلنجوں کے باوجود ہمارے سائنسدانوں نے بڑی محنت سے اس پروجیکٹ کو مکمل کیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ملک کے 20 سے زیادہ معروف تحقیقی اداروں جیسے آئی آئی ایس سی، آئی آئی ٹی، سی ایس آئی آر، اور بی آر آئی سی نے اس تحقیق میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا ڈیٹا، 10,000 ہندوستانیوں کا جینوم سیکوئنس، اب انڈین بائیولوجیکل ڈیٹا سینٹر میں دستیاب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ منصوبہ بایو ٹیکنالوجی ریسرچ کے میدان میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ میں اس پروجیکٹ سے وابستہ تمام ساتھیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

جینوم انڈیا پروجیکٹ ہندوستان کے بایو ٹیکنالوجی انقلاب میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کی مدد سے ہم ملک میں متنوع جینیاتی وسائل پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ملک میں مختلف آبادیوں سے تعلق رکھنے والے 10 ہزار افراد کی جینوم سیکوینسنگ کی گئی ہے۔ اب یہ ڈیٹا ہمارے سائنسدانوں اور محققین کے لیے دستیاب ہونے والا ہے۔ اس سے ہمارے اسکالروں اور ہمارے سائنس دانوں کو ہندوستان کے جینیاتی منظر نامے کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔ ان معلومات سے ملک کی پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کا کام بھی آسان ہو جائے گا۔

ساتھیوں،

آپ سبھی یہاں اپنے شعبوں کے ماہر ہیں، عظیم سائنسدان ہیں۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان کی وسعت اور تنوع صرف خوراک، زبان اور جغرافیہ تک محدود نہیں ہے۔ ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے جین میں بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے۔ ایسے میں بیماریوں کی نوعیت بھی قدرتی طور پر تنوع سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کونسی دوا کس شخص کو فائدہ دے گی۔ اس کے لیے شہریوں کی جینیاتی شناخت جاننا ضروری ہے۔ اب سیکل سیل انیمیا کی بیماری ہمارے قبائلی معاشرے میں ایک بڑا بحران ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہم نے ایک قومی مشن شروع کیا ہے۔ لیکن اس میں چیلنج بھی کم نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ سیکل سیل کا مسئلہ جو ہمارے قبائلی معاشرے میں ایک علاقے میں موجود ہے، دوسرے علاقے کے قبائلی معاشرے میں موجود نہ ہو، وہاں یہ مختلف نوعیت کا ہو۔ یہ سب باتیں ہم یقینی طور پر تب ہی جان پائیں گے جب ہم مکمل جینیاتی مطالعہ کریں گے۔ اس سے ہندوستانی آبادی کے منفرد جینومک نمونوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اور اس کے بعد ہی ہم کسی خاص گروہ کے مخصوص مسائل کے لیے خصوصی حل یا موثر ادویات تیار کر سکتے ہیں۔ میں نے سکیل سیل کی مثال دی ہے۔ لیکن بات یہیں تک محدود نہیں ہے، میں نے یہ بات صرف مثال کے طور پر بتائی ہے۔ ہندوستان میں، ہم ابھی تک جینیاتی بیماریوں کے ایک بڑے حصے سے لاعلم ہیں، یعنی ایسی بیماریاں جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔ جینوم انڈیا پروجیکٹ ہندوستان میں ایسی تمام بیماریوں کا مؤثر علاج تیار کرنے میں مدد کرے گا۔

ساتھیوں،

اکیسویں صدی میں، بایو ٹیکنالوجی اور بایو ماس کا امتزاج ایک بایو اکانومی کے طور پر ہندوستان کی ترقی کی بنیاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ بایو اکانومی کا مقصد قدرتی وسائل کا صحیح استعمال، بایو بیسڈ مصنوعات اور خدمات کا فروغ اور اس شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا پائیدار ترقی کو تیز کرتا ہے اور جدت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں ملک کی بایو اکانومی نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ بایو اکانومی جس کی مالیت 2014 میں 10 بلین ڈالر تھی، آج 150 بلین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ہندوستان بھی اپنی جیو اکانومی کو نئی بلندیوں پر لے جانے میں مصروف ہے۔ حال ہی میں بھارت نے بایو ای3 پالیسی شروع کی ہے۔ اس پالیسی کا وژن یہ ہے کہ ہندوستان آئی ٹی انقلاب کی طرح گلوبل بایوٹیک لینڈ اسکیپ میں ایک رہنما کے طور پر ابھرے۔ آپ تمام سائنسدانوں کا اس میں بڑا کردار ہے اور اس کے لیے میں آپ سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

ہندوستان نے دنیا کے ایک بڑے فارما ہب کے طور پر جو شناخت بنائی ہے، آج ملک اسے ایک نئی جہت دے رہا ہے۔ پچھلی دہائی میں، ہندوستان نے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے بہت سے انقلابی قدم اٹھائے ہیں۔ کروڑوں ہندوستانیوں کے لیے مفت علاج کی سہولیات، جن اوشدھی کیندروں پر 80 فیصد رعایت پر دواؤں کی دستیابی، جدید طبی انفراسٹرکچر کی تعمیر، یہ پچھلے 10 سالوں کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ کورونا کے دور میں ہندوستان نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارا فارما ایکو سسٹم کتنا قابل ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہندوستان میں ادویات کی تیاری کے لیے ایک مضبوط سپلائی اور ویلیو چین بنایا جائے۔ جینوم انڈیا پروجیکٹ اب اس سمت میں ہندوستان کی کوششوں کو نئی تحریک دے گا اور اسے نئی توانائی سے بھر دے گا۔

ساتھیوں،

آج دنیا عالمی مسائل کے حل کے لیے ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ذمے داری بھی ہے اور موقع بھی۔ اس لیے آج ہندوستان میں ایک بہت بڑا ریسرچ ایکو سسٹم بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں تعلیم کی ہر سطح پر تحقیق اور اختراع پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آج ہمارے طلبا 10 ہزار سے زیادہ اٹل ٹنکرنگ لیب میں روزانہ نئے تجربات کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کے اختراعی خیالات کو فروغ دینے کے لیے ملک بھر میں سینکڑوں اٹل انکیوبیشن سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے دوران تحقیق کے لیے پی ایم ریسرچ فیلو شپ سکیم بھی چلائی جا رہی ہے۔ کثیر ضابطہ اور بین الاقوامی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے قومی تحقیقی فنڈ بنایا گیا ہے۔ انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن ملک میں سائنس، انجینئرنگ، ماحولیات اور صحت جیسے ہر شعبے میں نئی ​​پیش رفت لانے جا رہا ہے۔ سن رائز ٹیکنالوجی میں تحقیق اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپے کا کارپس بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس سے بایو ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی ترقی کرے گا اور نوجوان سائنسدانوں کو بہت مدد ملے گی۔

ساتھیوں،

حال ہی میں حکومت نے ون نیشن ون سبسکرپشن کے حوالے سے ایک اور اہم فیصلہ لیا ہے۔ ہماری حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہندوستانی طلبا اور محققین کو دنیا کے ممتاز جرائد تک آسانی سے رسائی حاصل ہو اور انھیں پیسہ خرچ نہ کرنا پڑے۔ ان تمام کوششوں سے ہندوستان کو 21ویں صدی کی دنیا کا علمی مرکز اور اختراعی مرکز بنانے میں بہت مدد ملے گی۔

ساتھیوں،

جس طرح سے ہماری ’پرو پیپل گورننس‘، ہمارے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر نے دنیا کو ایک نیا ماڈل دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جینوم انڈیا پروجیکٹ اسی طرح جینیاتی تحقیق کے میدان میں ہندوستان کی شبیہہ کو مزید مضبوط کرے گا۔ ایک بار پھر، جینوم انڈیا کی کامیابی کے لیے آپ سب کو میری نیک خواہشات۔

 

شکریہ، نمسکار۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
FPOs’ sales rise via commodity exchanges in FY26

Media Coverage

FPOs’ sales rise via commodity exchanges in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to UAE, Netherlands, Sweden, Norway, and Italy (May 15 - 20, 2026)
May 11, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will pay an official visit to the United Arab Emirates on May 15, 2026, where he will meet the President of the UAE, His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan. The two leaders will have the opportunity to exchange views on bilateral issues, in particular energy cooperation, as well as regional and international issues of mutual interest. They will also discuss ways to advance the bilateral Comprehensive Strategic Partnership underpinned by strong political, cultural, economic and people-to-people links. The visit will serve to promote the significant trade and investment linkages between the two countries. The UAE is India’s third largest trade partner and its seventh largest source of investment cumulatively over the past 25 years. With the UAE hosting over 4.5 million - strong Indian community, the visit will also be an opportunity to discuss their welfare.

For the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Netherlands, H.E. Mr. Rob Jetten, Prime Minister Modi will pay an official visit to the Netherlands from May 15-17, 2026. This will be Prime Minister’s second visit to the Netherlands after his previous visit in 2017. During the visit, Prime Minister will call on Their Majesties King Willem-Alexander and Queen Máxima, and hold talks with Prime Minister Rob Jetten. Prime Minister’s visit will build on the momentum of high-level engagements and close cooperation spanning diverse sectors, including defence, security, innovation, green hydrogen, semiconductors and a Strategic Partnership on Water. Prime Minister’s visit early in the tenure of the new Government will provide an opportunity to further deepen and expand the multifaceted partnership. Netherlands is one of India's largest trade destinations in Europe, with bilateral trade worth USD 27.8 billion (2024-25); and India's 4th largest investor with cumulative FDI of USD 55.6 billion.

For the third leg of the visit, at the invitation of the Prime Minister of the Kingdom of Sweden, H.E. Mr. Ulf Kristersson, Prime Minister will travel on 17-18 May 2026 to Gothenburg, Sweden. Prime Minister had earlier visited Sweden in 2018 for the first-ever India-Nordic Summit. PM Modi will hold bilateral talks with PM Kristersson to review the entire gamut of bilateral relations and explore new avenues of cooperation to enhance bilateral trade, which has reached USD 7.75 billion (2025), and Swedish FDI into India which has reached USD 2.825 billion (2000 – 2025), as well as collaboration in green transition, AI, emerging technologies, startups, resilient supply chains, defence, space, climate action and people-to-people ties. The two Prime Ministers will also address the European Round Table for Industry, a leading pan-European business leaders forum, along with H.E. Ms. Ursula von der Leyen, President of the European Commission.

In the fourth leg of his visit, Prime Minister will pay an official visit to Norway from 18 - 19 May 2026 for the 3rd India-Nordic Summit and bilateral engagements. This will be the first visit of Prime Minister Modi to Norway, and will mark the first Prime Ministerial visit from India to Norway in 43 years. Prime Minister will call on with Their Majesties King Harald V and Queen Sonja, and hold bilateral talks with Prime Minister H.E. Mr. Jonas Gahr Støre. Prime Minister will also address the India-Norway Business and Research Summit along with the Norwegian Prime Minister. The visit will provide an opportunity to review the progress made in India-Norway relations and explore avenues to further strengthen them, with a focus on trade and investment, capitalizing on the India – EFTA Trade and Economic Partnership Agreement, as well as on clean & green tech and blue economy. The visit will also be an opportunity to induce momentum in bilateral trade worth around USD 2.73 billion (2024), and investments by Norway’s Government Pension Fund (GPFG) of close to USD 28 billion in the Indian capital market.

The 3rd India-Nordic Summit will take place in Oslo on 19 May 2026. Prime Minister Shri Narendra Modi will be joined by the Prime Minister of Norway, H.E. Mr. Jonas Gahr Støre; Prime Minister of Denmark, H.E. Ms. Mette Frederiksen; Prime Minister of Finland, H.E. Mr. Petteri Orpo; Prime Minister of Iceland, Ms. Kristrún Frostadóttir; and Prime Minister of Sweden, Mr. Ulf Kristersson for the Summit. The Summit will build upon the two previous Summits held in Stockholm in April 2018 and in Copenhagen in May 2022, and will impart a more strategic dimension to India’s relationship with the Nordic countries, especially in technology and innovation; green transition and renewable energy; sustainability; blue economy; defence; space and the Arctic. The visit will also provide an impetus to India’s bilateral trade (USD 19 billion in 2024) and investment ties with Nordic countries as well as help build resilient supply chains following the India-EU FTA and India-EFTA TEPA.

In the final leg of his visit, at the invitation of Prime Minister of the Italian Republic, H.E. Ms. Giorgia Meloni, Prime Minister will undertake an official visit to Italy from 19–20 May 2026. Prime Minister had last visited Italy in June 2024 for the G7 Summit. During the visit, he will call on the President of the Italian Republic, H.E. Mr. Sergio Mattarella and hold talks with Prime Minister Meloni. The visit takes place in the backdrop of a strong momentum in bilateral ties with both sides proactively implementing the Joint Strategic Action Plan 2025-2029, a comprehensive road map for cooperation in various sectors including in bilateral trade which reached USD 16.77 in 2025; boosting investment, which has recorded a cumulative FDI of USD 3.66 billion (April 2000-September 2025); defence and security; clean energy; innovation; science and technology; and people - to - people ties.

Prime Minister’s upcoming visit will further deepen India’s partnership with Europe across sectors, particularly trade and investment ties in light of the recently concluded India-EU FTA.