وزیر اعظم مودی نے غیر ملکی شخصیات کو دیے جانے والے مالدیپ کے اعلیٰ ترین اعزاز سے سرفراز کیے جانے کے لئے مالدیپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ہر ہندوستانی کے لئے عزت کی بات ہے۔
بھارت مالدیپ کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لئے عہد بستہ ہے: وزیر اعظم مودی
بحری اور دفاعی تعلقات قابل ترجیح ہیں: مالدیپ کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس ملاقات کے موقع پر وزیر اعظم کا اظہار خیال

یور ایکسی لینسی میرے دوست صدر صالح،

خواتین وحضرات!

مجھے خوشی ہے کہ میری دوسری  میعاد کار کے پہلے غیر ملکی دورے پر آپ کے خوبصورت شہر مالدیپ میں آنے کا موقع حاصل ہوا ہے۔

یہ اور بھی خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے قریبی دوست سے ایک بار پھر ملنے کا  موقع  بھی مجھے ملا۔

اس موقعے کے لیے اور آپ کی شاندار مہمان نوازی کے لیے اپنی ٹیم اور اپنی جانب سے میں آپ کا اور مالدیپ حکومت کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ہمارے ممالک نے چند  ہی روز  پہلے عید کا تہوار خوشی اور جوش وجذبے سے منایا ہے۔

میری نیک خواہشات ہے کہ اس تہوار کی روشنی ہمارے شہریوں کی زندگی کو ہمیشہ روشن کرتی رہے۔

ایکسی لینسی

آج مجھے مالدیپ کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نواز کر آپ نے مجھے ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کو ایک نئی عظمت دی ہے۔

نشان عزالدین کا اعزاز میرے لیے خوشی اور فخر کا موضوع ہے۔ یہ میرا ہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور گہرے تعلقات کا اعزاز ہے۔

میں اسے بڑی انکساری اور ممنونیت کے ساتھ تمام ہندوستانیوں کی جانب سے تسلیم کرتا ہوں۔

ہمارے دونوں ملکوں کو بحر ہند کی لہروں نے ہزاروں سال سے قریبی تاریخی اور ثقافتی تعلقات میں باندھا ہے۔

یہ اٹوٹ دوستی مشکل وقت میں بھی ہماری رہنما بنی ہے۔

سن 1988 میں باہر حملہ ہو یا سنامی جیسی قدرتی آفت یا پھر حال میں پینے کے پانی کی قلت۔ ہندوستان ہمیشہ مالدیپ کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور مدد کے لیے سب سے آگے آیا ہے۔

دوستو!

ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات اور مالدیپ میں صدر اور مجلس کے انتخابات میں عوامی رائے سے واضح ہے کہ ہمارے دونوں ملکوں کے لوگ استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔ ایسے میں عوام پر مرکوز اور شمولیت والی ترقی  اور اچھی حکمرانی کی ہماری ذمہ داری اور بھی اہم ہوجاتی ہے۔

میں نے ابھی صدر صالح کے ساتھ بہت تفصیل سے اور مفید تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم نے باہمی مفاد کے شعبوں اور عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ہمارے دو طرفہ تعاون پر تفصیل سے تبصرہ کیا ہے۔ ہماری ساجھے داری کی آئندہ صنف پر ہمارے درمیان پورا اتفاق ہے۔

صدر صالح ، آپ کے قلمدان سنبھالنے کے بعد سے دو طرفہ تعاون کی رفتار اور سمت میں بنیادی بدلاؤ آیا ہے۔ دسمبر 2018 کے آپ کے ہندوستان کے دورے کے دوران لئے گئے فیصلوں کو ٹھوس اور معینہ مدت کے اندر نافذ کیا جارہا ہے۔

دوستو!

صدر صالح کے ہندوستانی دورے کے دوران اعلان شدہ 1.4 بلین ڈالر کے مالی پیکیج سے  مالدیپ کی فوری مالی ضروریات تو پوری ہوئی ہی ہیں۔ ساتھ ہی سوشل امپیکٹ کے کئی نئے پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔ اور 800 ملین ڈالر کی لائن آف کریڈٹ کے تحت ترقی کے کاموں کے نئے راستے بھی کھلے ہیں۔

ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان ترقی کی ساجھے داری کو اور مضبوط کرنے کے لیے ہم نے مالدیپ کے عام شہریوں کو فائدہ پہنچانے والے پروجیکٹوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔

آج ہمارا دوطرفہ تعاون مالدیپ میں عام زندگی کے ہر پہلو کو چھو رہا ہے۔

  • مختلف جزائر پر پانی اور صفائی کا انتظام؛
  • چھوٹی اور بہت چھوٹی صنعتوں کے لیے کافی مالیاتی انتظام؛
  • بندرگاہوں کی ترقی؛
  • کانفرنس اور کمیونٹی سینٹروں کی تعمیر؛
  • کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر؛
  • ایمرجنسی طبی خدمات؛
  • ایمبولینس خدمات؛
  • ساحلی تحفظ کو یقینی بنانا؛
  • آؤٹ ڈور فٹنس کے آلات کا انتظام؛
  • ڈرگ ڈیٹاکس سینٹر؛
  • اسٹوڈینٹ فیری؛
  • زراعت اور ماہی گیری؛
  • قابل تجدید توانائی اور سیاحت۔

ایسے متعدد ہندوستانی تعاون والے پروجیکٹوں سے مالدیپ کے عوام کو سیدھا فائدہ پہنچتا ہے۔

ہم اڈّو میں  بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تاریخی فرائیڈے ماسک کے تحفظ پر تعاون کے لیے بھی متفق ہوئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے شہریوں کے درمیان رابطے بڑھانے کے لیے ہم ہندوستان میں کوچی اور مالدیپ میں کلدھو فشی اور مالے کے بیچ کشتی خدمات شروع کرنے پر بھی متفق ہوئے ہیں۔

مالدیپ میں روپے کارڈ جاری کرنے سے ہندوستانی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس بارے میں ہم جلد ہی کارروائی کریں گے۔

تحفظ کے تعاون کو اور مضبوط کرنے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

آج ہم نے مشترکہ طور پر مالدیپ ڈیفنس فورسز کے کمپوزٹ ٹریننگ سینٹر ساحلی نگرانی  کے راڈار سسٹم کا افتتاح کیا ہے۔ یہ مالدیپ کی سمندری حفاظت کو اور بڑھائے گا۔

ہندوستان، مالدیپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایک گہری اور مضبوط ساجھے داری چاہتے ہیں۔ ایک خوشحال جمہوری اور پرامن مالدیپ پورے علاقے کے مفاد میں ہے۔

میں یہ دہرانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان مالدیپ کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے ہمیشہ پابند عہد ہے۔

میں ایک بار پھر صدر محترم اور مالدیپ کے عوام کی گرمجوشی سے بھری مہمان نوازی کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ہندوستان۔ مالدیپ دوستی امر رہے۔

دویہی راجّے آ انڈیاگے راہ میتھیری کھن ابدہ،

شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.