‘‘ میں ہندوستان کے ہر شہری کے ساتھ بار بار حکومت پر اعتماد ظاہر کرنے کے لئے بے حد ممنونیت کااظہار کرنے آیا ہوں’’
‘‘بہت سی اہم قانون سازیوں پر وہ بحث نہیں ہو سکی جس کی وہ حقدار تھیں کیوں کہ اپوزیشن نے سیاست کو ان سے اوپر رکھا’’
‘‘اگلے ہزار برسوں تک 21ویں صدی کا یہ وقت ملک کو متاثر کرے گا۔ ہم سب کی توجہ کا مرکزایک ہی ہونا چاہئے ’’
‘‘ہم نے ہندوستان کے نوجوانوں کو گھوٹالوں سے پاک حکومت دی ہے’’
‘‘آج غریب کے دل میں اپنے خوابوں کی تکمیل کے بارے میں ایک اعتماد پیدا ہوا ہے’’
‘‘اپوزیشن عوام کا اعتماد نہیں دیکھ پا رہی کیونکہ وہ بے اعتمادی میں ڈوبی ہوئی ہے’’
‘‘ جب آپ 2028 میں تحریک عدم اعتمادلائیں گے، ملک ٹاپ 3 میں شامل ہو گا’’
‘‘اپوزیشن نام بدلنے پر یقین رکھتی ہے لیکن اپنا ورک کلچر نہیں بدل سکتی’’
‘‘مجاہدین آزادی اور ملک کے بانیوں نے ہمیشہ خاندانی سیا ست کی مخالفت کی’’
‘‘خواتین کے خلاف جرائم ناقابل قبول ہیں اور مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کریں گی کہ قصورواروں کو سزا دی جائے’’
‘‘منی پورمیں امن ہوگا اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا’’
‘‘میں منی پور کے لوگوں، منی پور کی ماؤں اور بیٹیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ایوان ان کے ساتھ کھڑا ہے’’
‘‘حکومت منی کو دوبارہ ترقی کی پٹری پر لانے کے سلسلے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھے گی’’
‘‘ہماری حکومت نے شمال مشرق کی ترقی کو پہلی ترجیح دی ہے’’
‘‘ہمارے لئے سب کا ساتھ سب کا وشواس کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے، ایک عہد ہے’’
‘‘پارلیمنٹ کسی پارٹی کا پلیٹ فارم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ ملک کا سب سے قابل احترام ادارہ ہے۔ یہاں کا ہر لمحہ ملک کے لئے استعمال کیاجانا چاہئے’’
‘‘آج کا ہندوستان دباؤ سے ٹوٹتا نہیں ہے ۔ آج کا ہندوستان نہ جھکتا ہے، نہ تھکتا ہے اور نہ رکتا ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد کا جواب دیا۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ حکومت پر بار بار اعتماد ظاہر کرنے پر ہندوستان کے ہر شہری کا بے حد شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ یہ حکومت کے لیے فلور ٹیسٹ نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اسے 2018 میں ایوان میں پیش کیا تھا جب اپوزیشن تحریک عدم اعتمادلے کرآئی تھی۔ ‘‘جب ہم 2019 میں انتخابات میں گئے تھے، لوگوں نے ان پر پوری طاقت کے ساتھ عدم اعتماد کا اعلان کیا تھا’’، وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ این ڈی اے اور بی جے پی دونوں نے زیادہ سیٹیں جیتیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرح سے اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد حکومت کے لیے خوش قسمتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین ظاہر کیا کہ این ڈی اے اور بی جے پی تمام ریکارڈ توڑ دیں گے اور عوام کے آشیرواد سے 2024 میں فتح حاصل کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن اجلاس کے آغاز سے ہی سنجیدگی کے ساتھ شرکت کرتی تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں اہم قانون سازی کی گئی اور ان پر اپوزیشن کو بحث کرنی چاہیے تھی جنہوں نے ان اہم قانون سازیوں پر سیاست کو ترجیح دی۔ کئی بل ایسے تھے جو ماہی گیروں، ڈیٹا، غریبوں، محروموں اور قبائلیوں سے منسلک تھے لیکن اپوزیشن کو ان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ عوام کی امیدوں کے ساتھ دھوکہ تھا۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے لیے پارٹی ملک سے بالاتر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک اپوزیشن کو دیکھ رہا ہے اور انہوں نے ہمیشہ عوام کو مایوس کیا ہے۔

وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ قوم کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ پرانی زنجیروں سے آزاد ہوکر نئی توانائی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے زوردے کر کہا ‘‘21ویں صدی کا یہ وقت ہماری تمام خواہشات کو پورا کرنے کا وقت ہے۔ اس مدت کے دوران جوکچھ بھی صورتحال سامنے آئے گی وہ اگلے ہزار برسوں تک ملک کو متاثر کرے گی۔ لہٰذا، ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمیں اپنی توجہ کامرکز ایک ہی رکھنا چاہیے- ملک کی ترقی اور ہم وطنوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے پوری لگن’’ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام اور نوجوانوں کی طاقتیں ہمیں منزل تک پہنچا سکتی ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2014 اور بعد میں ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے ملک نے مکمل اکثریت والی حکومت کا انتخاب کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی صلاحیت کہاں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ ‘‘ہم نے ہندوستان کے نوجوانوں کو گھوٹالوں سے پاک حکومت دی ہے۔ ہم نے انہیں ہمت دی ہے اور کھلے آسمانوں میں اڑنے کا موقع دیا ہے۔ ہم نے دنیا میں ہندوستان کے موقف کو ٹھیک کیا ہے اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے’’ ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کی آڑ میں عوام کے اعتماد کو توڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ جناب مودی نے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں ترقی، ریکارڈ غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات کی نئی چوٹیوں کا ذکر کیا اور کہا، ’’آج غریبوں کے دل میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایک اعتماد پیدا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے این آئی ٹی آئی کی رپورٹ کے بارے میں بھی بات کی جس میں 13.5 کروڑ لوگ غربت سے باہر آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کے ورکنگ پیپر کا ذکر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے انتہائی غربت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی ڈی بی ٹی اسکیم اور دیگر سماجی بہبود کی اسکیمیں ایک ’لاجسٹک معجزہ‘ ہیں۔ انہوں نے ڈبلیو ایچ او کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ جل جیون مشن ملک میں 4 لاکھ جانیں بچانے میں مدد کر رہا ہے اور سوچھ بھارت ابھیان 3 لاکھ جانیں بچانے میں مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ‘‘یہ ملک کے غریب لوگ ہیں جو شہری کچی آبادیوں میں رہتے ہیں’’ ۔ سوچھ بھارت ابھیان پر یونیسیف کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ملک کے غریب خاندانوں کو سالانہ 50،000 روپے بچانے میں مدد کر رہا ہے۔

اپوزیشن کے شتر مرغ کے انداز پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ لوگوں کا اعتماد نہیں دیکھ پا رہے کیونکہ وہ بے اعتمادی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی بد زبانی اور مسلسل نکتہ چینی ‘کالا ٹیِکا’ (بد شگون سے بچنے کے لیے) کی طرح کام کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی تنقید کے نشانے پر آنے والے تمام ادارے ہمیشہ چمکتے ہیں اور اسے اپوزیشن کا خفیہ اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘جس کے لیے وہ برا چاہتے ہیں، آخر کار وہ اچھا کام کرتا ہے۔’’

وزیر اعظم نے بینکنگ سیکٹر میں ہونے والی پیش رفت پر اپوزیشن کے رویے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غلط معلومات پھیلانے اور لوگوں کو الجھانے کی پوری کوشش کی۔ وزیر اعظم نے کہا تاہم، پبلک سیکٹر بینکوں کے خالص منافع میں دو گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے فون بینکنگ اسکام پر بھی بات کی جس نے ملک کو این پی اے بحران کی طرف دھکیل دیا اور کہا کہ ملک اس سے خود کو باہر نکال چکا ہے اور اب آگے بڑھ رہا ہے۔ جناب مودی نے ایچ اے ایل کی مثال بھی دی جس پر اپوزیشن نے سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ اے ایل کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور اس نے اب تک کی سب سے زیادہ آمدنی درج کی ہے۔ ایل آئی سی کے بارے میں اپوزیشن کی طرف سے کہی جانے والی برائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایل آئی سی ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہا ہے۔

‘‘اپوزیشن قوم کی صلاحیتوں اور لگن پر یقین نہیں رکھتی’’، وزیر اعظم نے یہ ریمارکس کچھ دن پہلے کہے گئے اپنے جملوں کو یاد کرتے ہوئے دیئے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی تیسری مدت میں ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔ ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر وزیراعظم نے کہا کہ انہیں اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت سے اپنے روڈ میپ پر سوال کرنا چاہیے تھا یا کم از کم تجاویز پیش کرنی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے اپوزیشن کی سستی کواس کا سبب قرار دیا جس کا دعویٰ ہے کہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے اس طرح کا نقطہ نظر پالیسیوں، ارادوں، وژن، عالمی اقتصادیات کی جانکاری اور ہندوستان کی صلاحیتوں کو سمجھنے کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کس طرح غربت میں ڈوبا اور 1991 میں دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا۔ تاہم، 2014 کے بعد ہندوستان نے دنیا کی 5 اعلیٰ معیشتوں میں جگہ پائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقینی منصوبہ بندی اور محنت کے ساتھ‘اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی’ کے منتر سے حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ 2028 میں جب آپ تحریک عدم اعتماد لائیں گے تو ملک ٹاپ 3 میں شامل ہوچکا ہوگا۔

اپوزیشن کے ناقابل اعتماد انداز پراپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے، وزیر اعظم نے سوچھ بھارت، جن دھن اکاؤنٹ، یوگا، آیوروید، اسٹارٹ اپ انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا اور میک ان انڈیا جیسی مہموں میں ان کے اعتماد کی کمی کے بارے میں بات کی۔

وزیر اعظم نے کانگریس کے دور حکومت میں کشمیر میں عسکریت پسندوں کی دراندازی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس وقت کی حکومت پاکستان کے ساتھ اتفاق کرتی تھی اور بیک وقت امن مذاکرات جاری رکھتی تھی ۔ انہوں نے کشمیری عوام کی بجائے حریت سے ان کی وابستگی پر بھی زور دیا۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ کس طرح اپوزیشن نے اس معاملے پر حکومت پر بھروسہ کرنے کے بجائے دشمن کے بیانیے پر یقین کرنے کا انتخاب کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘اپوزیشن ان لوگوں پر بھروسہ کرنے میں جلدی کرتی ہے جو ملک کے بارے میں برا بولتے ہیں’’، اور ایک غیر ملکی ایجنسی کی غلط اطلاع پر مبنی رپورٹ کا تذکرہ کیا جس میں خوراک کی عدم تحفظ سے نمٹنے والے ملک کو بعض پیرامیٹرز میں ہندوستان سے آگے بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس طرح کی غلط خبروں پر جھوٹ بولتی ہے اور ہر موقع پر ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے میڈ اِن انڈیا کورونا ویکسین کی مثال بھی دی اور کہا کہ اپوزیشن نے اس پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ غیر ملکی تیار کردہ ویکسین کی طرف دیکھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اپوزیشن کو ہندوستان اور اس کے عوام کی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں ہے اور اسی طرح عوام کی نظروں میں اپوزیشن کے اعتماد کی سطح انتہائی کم ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اتحاد سازی کی ظاہری تبدیلیاں ملک کے عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتیں اور نام کی معمولی تبدیلی سے اپوزیشن اتحاد کی قسمت نہیں بدلے گی۔ ‘‘انہوں نے زندہ رہنے کے لیے این ڈی اے کا سہارا لیا ہے لیکن اس میں تکبر والی دوآئیز(I's ) کا اضافہ کیا ہے، پہلا 26 پارٹیوں کی انا کے لیے اور دوسرا 'I' ایک خاندان کی انا کے لیے’’۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہندوستان کو I.N.D.I.A میں تقسیم کر دیا۔’’، انہوں نے کہا۔ "اپوزیشن نام بدلنے پر یقین رکھتی ہے لیکن وہ اپنا ورک کلچر نہیں بدل سکتی’’ ۔ تمل ناڈو حکومت کے ایک وزیر کے تفرقہ انگیز تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے ریاست میں اپنے اعتماد کا اعادہ کیا اور کہا کہ تمل ناڈو ایک ایسی ریاست ہے جہاں حب الوطنی کا ایک دھارا مسلسل بہتا ہے۔ وزیر اعظم نے ناموں کے ساتھ حزب اختلاف کے لگاؤ اور رغبت پر توجہ دی اور بتایا کہ کس طرح ہر اسکیم اور کلیدی نشان ایک خاندان کے افراد کے نام پر رکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے I.N.D.I.A، ایک ‘گھمنڈی’ اتحاد (متکبر اتحاد) کہا اور شراکت داروں کے درمیان تضادات کو اجاگر کیا۔

جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ آزادی کے جنگجوؤں اور ملک کے بانی سرپرستوں نے ہمیشہ خاندانی سیاست کی مخالفت کی۔ خاندانی نظام عام شہری کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی سیاست کی وجہ سے اہم رہنماؤں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سیاست کا شکار ہونے والے بہت سے قدآوروں کے پورٹریٹ کو صرف غیر کانگریسی حکومتوں کے بعد کے سالوں میں ہی پارلیمنٹ میں جگہ ملی۔ انہوں نے اسٹیچو آف یونٹی اور پردھان منتری سنگرہالیہ کا بھی ذکر کیا۔ میوزیم تمام وزرائے اعظم کے لیے وقف ہے اور پارٹی سیاست سے بالاتر ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگرچہ ہندوستان کے عوام نے 30 برسوں کے بعد دو بار مکمل اکثریت والی حکومت کو منتخب کیا ہے، لیکن حزب اختلاف ایک ‘غریب کےبیٹے’ سے پریشان ہے جو وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اپوزیشن کی جانب سے ماضی میں ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے غلط استعمال کو اب ویکسین کی نقل و حمل اور بیرون ملک پھنسے افراد کو واپس لانے کے لیے درست کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے انعامات کی سیاست کے خلاف خبردار کیا اور پڑوسی ممالک کے حالات کو اس تباہی کی مثال کے طور پر پیش کیا جو اس طرح کی سیاست لا سکتی ہے۔ انہوں نے ناعاقبت اندیشانہ یقین دہانیوں کے ذریعے الیکشن جیتنے کے رجحان پر افسوس کا اظہار کیا اورکہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو روکے جانے کی وجہ سے لوگوں پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو منی پور کی صورتحال پر بات کرنے میں کبھی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے انتہائی تحمل کے ساتھ اور بغیر کسی سیاست کے مسائل کی وضاحت کی۔ وزیر داخلہ کی وضاحت ملک اور قوم کی تشویش سے آگاہ کرنے کی ایک کوشش تھی، یہ ایوان کے اعتماد کو منی پور تک پہنچانے کی کوشش تھی۔ بات چیت اور راستے تلاش کرنے کی یہ ایک ایماندارانہ کوشش تھی۔

منی پور مسئلہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ منی پور میں تشدد افسوسناک ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ‘‘خواتین کے خلاف جرائم ناقابل قبول ہیں اور مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گی کہ قصورواروں کو سزا دی جائے۔ میں ہندوستان کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری کوششوں کی بنیاد پر ہم یہ کر رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں منی پور میں امن ہو گا’’ ۔ انہوں نے منی پور کے لوگوں، منی پور کی ماؤں اور بیٹیوں کو یقین دلایا کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ایوان ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی کہ منی پور دوبارہ ترقی کی پٹری پر آجائے۔

وزیر اعظم نے ایوان میں ماں بھارتی کے لیے قابل اعتراض زبان کے استعمال کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا اور کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو تقسیم کے ذمہ دار ہیں اور جنہوں نے وندے ماترم کا نعرہ بھی لگایا۔ جناب مودی نے اپوزیشن کی ناکامی کی مثال کے طور پر کچاتھیو مسئلہ کا بھی ذکر کیا۔

وزیر اعظم نے شمال مشرق سے متعلق تین واقعات کا ذکر کیا۔ سب سے پہلے، 5 مارچ 1966 کو، جب میزورم میں لوگوں پر حملہ کرنے کے لیے فضائیہ کا استعمال کیا گیا۔ دوسرا، 1962 میں اس وقت کے وزیر اعظم نہرو کی طرف سے ایک ریڈیو ٹرانسمیشن جب چین کے حملے کے دوران شمال مشرق کے لوگوں کو اپنی حفاظت خود کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے علاقے کو نظر انداز کرنے کے بارے میں رام منوہر لوہیا کے الزام کا بھی حوالہ دیا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ موجودہ حکومت میں وزراء نے شمال مشرق کے مختلف ضلع ہیڈکوارٹرز میں 400 رات قیام کیا ہے اور وزیر اعظم خود 50 بار جا چکے ہیں۔ جناب مودی نے کہا ‘‘میرا شمال مشرق کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ وزیر اعظم بننے سے پہلے بھی میں نے پورے خطے کا سفر کیا ہے’’ ۔

وزیر اعظم نے دہرایا کہ منی پور کی صورتحال کو اس طرح پیش کیا جا رہا ہے کہ تنازعہ حال ہی میں پیدا ہوا ہے لیکن منی پور میں تمام مسائل کی جڑ کانگریس اور اس کی سیاست ہے۔ انہوں نے کہاکہ ‘‘منی پور بھرپور ہندوستانی ثقافت اور ورثے سے بھرا ہوا ہے۔ منی پور بے شمار قربانیوں کی سرزمین ہے’’۔ انہوں نے ریاست میں کانگریس حکومت کے دور کو یاد کیا جب ہر ادارہ انتہا پسند تنظیموں کے اشارے پر چلتا تھا اور سرکاری دفاتر میں مہاتما گاندھی کی تصویر لگانا منع تھا۔ انہوں نے موئرنگ میں آزاد ہند فوج کے عجائب گھر میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے پر بمباری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مزیداس بات کاذکر کیا کہ جب منی پور کے اسکولوں میں قومی ترانہ گانا منع تھا اور لائبریریوں سے کتابوں کو جلانے کی مہم شروع کی گئی تھی۔ وزیر اعظم نے کانگریس کے دور میں خطے میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی کئی مثالیں دیں اور مندروں کو شام 4 بجے اپنے دروازے بند کرنے کا ذکر کیا، امپھال میں اسکون مندر پر بمباری جس میں جانوں کا نقصان ہوا، اور سرکاری افسران کی طرف سےانتہا پسندوں کو تحفظ کی رقم ادا کی گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں شمال مشرق ترقی کا مرکز بننے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ عالمی نظام میں حرکت جنوب مشرقی ایشیا اور آسیان ممالک میں تبدیلی لائے گی اور اس کا شمال مشرق پر کیا اثر پڑے گا۔ وزیر اعظم نے کہا، ‘‘اسی لیے ہماری حکومت نے شمال مشرق کی ترقی کو پہلی ترجیح دی ہے۔’’ جناب مودی نے شمال مشرق میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ کس طرح جدید شاہراہیں، ریلوے اور ہوائی اڈے شمال مشرق کی شناخت بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا “اگرتلہ پہلی بار ریل رابطے سے منسلک ہوا، پہلی بار گڈز ٹرین منی پور پہنچی، پہلی بار وندے بھارت جیسی جدید ٹرین اس خطے میں چلی، اروناچل پردیش میں پہلا گرین فیلڈ ہوائی اڈہ بنایا گیا، سکم کو ہوائی سفر سے جوڑا گیا۔ شمال مشرق میں پہلی بار ایمس کھولا گیا، منی پور میں نیشنل اسپورٹس یونیورسٹی کھولی جا رہی ہے اور میزورم میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن پہلی بار وزراء کی کونسل میں شمال مشرق کی شرکت میں اضافہ ہوا، اور پہلی بار ایک خاتون نے ناگالینڈ کی نمائندگی کی۔ راجیہ سبھا میں پہلی بار شمال مشرق کے اتنے زیادہ لوگوں کو پدم ایوارڈز سے نوازا گیا اور لچیت برفوکن جیسے ہیروکے لئے یوم جمہوریہ پرجشن منایا گیا اور رانی گیڈینلیو کے نام سے ایک میوزیم قائم کیا گیا’’۔

‘‘ہمارے لیے سب کا ساتھ سب کا وشواس کوئی نعرہ نہیں ہے بلکہ ایمان کاحصہ ہے، ایک عہد ہے’’، وزیر اعظم نے مزید کہا ‘‘میں ملک کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں جسم کا ایک ایک ذرہ اور ہر لمحہ ہم وطنوں کی خدمت کے لیے وقف کروں گا۔’’

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا،‘‘پارلیمنٹ کسی پارٹی کا پلیٹ فارم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ ملک کا سب سے قابل احترام ادارہ ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اس کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ اتنے وسائل یہاں وقف کیے جا رہے ہیں۔ یہاں کا ہر سیکنڈ ملک کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ سنجیدگی کے فقدان سے سیاست تو کر سکتے ہیں لیکن ملک نہیں چلا سکتے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے 9 برسوں میں عام شہریوں کا اعتماد نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور ہر ہندوستانی اعتماد سے بھرا ہوا ہے۔ جناب مودی نے کہا‘‘ آج کا ہندوستان دباؤ میں نہیں ٹوٹتا۔ آج کا ہندوستان نہ جھکتا ہے، نہ تھکتا ہے اور نہ رکتا ہے” ۔ انہوں نے شہریوں سے اعتماد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ عام لوگوں کا اعتماد ہے جو دنیا کو ہندوستان پر یقین کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں دنیا کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو عام شہریوں کے اعتماد میں اضافے کا باعث قراردیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں میں حکومت ترقی یافتہ بھارت کی مضبوط بنیادیں رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہی بنیاد ہے جو سال 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم مل کر بدتر حالات سے نکل آئی ہے اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ منی پور کی سرزمین کو معمولی سیاست کے لیے غلط طور پر استعمال نہ کریں۔ وزیر اعظم نے اپیل کی ‘‘ہمیں درد اور تکلیف کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور بحالی کے لئے اپنی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ یہ آگے بڑھنے کا راستہ ہے”۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26

Media Coverage

Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address at the News18 Rising Bharat Summit
February 27, 2026
Developed nations are eager to sign trade deals with India because a confident India is rising beyond doubt and despair: PM
In the last 11 years, a new energy has flowed into the nation's consciousness, India is determined to regain its rightful strength: PM
India's Digital Public Infrastructure has today become a subject of global discussion: PM
Today, every move India makes is closely watched and analysed across the world, the AI Summit is a clear example of this: PM
Nation-building never happens through short-term thinking; It is shaped by a long-term vision, patience and timely decisions: PM

The air of Israel has reached here too.

Namaskar!

All journalists of Network 18, all colleagues overseeing this arrangement, all distinguished guests present here, ladies and gentlemen!

You are all discussing Rising India. And in this, your emphasis is on strength within-in simple words, your focus is on the nation’s own inherent capability. In our scriptures it is said: Tat Tvam Asi!-that which we seek in the Brahman is within us, it is us ourselves. The strength lies within us, and we must recognize it. In the past 11 years, India has recognized that very strength, and today the nation is continuously striving to empower it.

Friends,

Strength in a nation does not suddenly emerge; it is built over generations. It is refined through knowledge, tradition, hard work, and experience. But during a long period of history, through centuries of slavery, the very spirit of being strong was filled with inferiority. Imported ideologies instilled deeply into society the belief that we were uneducated and mere followers. Our scriptures say: Yādṛśī bhāvanā yasya, siddhir bhavati tādṛśī-as is one’s belief, so is the accomplishment. When the belief itself was inferior, the accomplishment was also inferior. We copied foreign technologies, waited for foreign approval-this was slavery not just political or geographical, but mental. Unfortunately, even after independence, India could not free itself from this mentality of slavery. And we are still paying the price for it. A fresh example can be seen in the discussions around trade deals. Some people are surprised-how did this happen, why are developed nations so eager to make trade deals with India? The answer lies in a confident India, emerging out of despair and hopelessness. If the country were still stuck in the pre-2014 gloom, counted among the “Fragile Five,” trapped in policy paralysis-who would have made trade deals with us, who would have even looked at us?

But friends,

In the past 11 years, new energy has flowed into the nation’s consciousness. India is now striving to regain its lost strength. Once upon a time, when India had the greatest dominance in the global economy, what was our strength? India’s manufacturing, the quality of Indian products, India’s economic policies. Today’s India is once again focusing on these aspects. That is why we worked on manufacturing, emphasized Make in India, strengthened our banking system, controlled inflation that was running in double digits, and made India the growth engine of the world. It is this strength of India that has developed nations themselves coming forward to make trade deals with us.

Friends,

When the hidden power of a nation awakens, it achieves new milestones. Let me give you some more examples. Whenever I meet heads of government from other countries, they are eager to hear about the immense power of Jan Dhan, Aadhaar, and Mobile. In a country where ATMs arrived much later compared to developed nations, how did India achieve global leadership in digital payments? Where leakage in government aid was accepted as bitter truth, how did India, through DBT, transfer 24 lakh crore rupees-twenty-four trillion rupees-to beneficiaries? India’s digital public infrastructure has today become a subject of global discussion.

Friends,

The world is astonished-how India where until 2014 nearly 30 million families lived in darkness, became one of the top countries in solar power capacity? How did India whose cities had no hope of improved public transport, become the third-largest metro network country in the world? How did India whose railways were known only for delays and slow speed achieve semi-high-speed connectivity with Vande Bharat and Namo Bharat?

Friends,

There was a time when India was only a consumer of new technology. Today, India is also a creator of new technology and is setting new standards. And this has happened because we recognized our own strength-the very strength within you are discussing is an example of this.

Friends,

When we move forward with pride, the way the world looks at us also changes. Remember, just a few years ago, how little global media discussed India’s events. Events in India were not given much importance. And today, see how every action of India is analyzed globally. The AI Summit is an example-it was held right here in this building. More than 100 countries participated. Whether Global North or Global South, all sat together at one table. From large corporations to small startups, all gathered together.

Friends,

In all the industrial revolutions so far, India and the entire Global South were only followers. But in this era of Artificial Intelligence, India is not only a participant in decisions but is also shaping them. Today we have our own AI startup ecosystem, the strength to invest in data centers, and we are working rapidly on the power most needed to store and process AI data. The reforms we have made in the nuclear power sector will also help strengthen India’s AI ecosystem.

Friends,

The organization of the AI Summit was a moment of pride for the whole of India. But unfortunately, the country’s oldest party tried to tarnish this celebration. In front of foreign guests, Congress did not just strip off clothes, but also exposed its ideological bankruptcy. When failure breeds despair and arrogance takes over, such thinking emerges that seeks to defame the nation. Clearly, Congress’s actions have angered the country. To justify its sin, they brought Mahatma Gandhi forward. Congress always does this-when it wants to hide its sins, it puts Bapu forward; when it wants to glorify itself, it gives all credit to one family.

Friends,

Congress has now reduced itself to a mere toolkit of opposition in the name of ideology. This mentality of blind opposition has grown so much that they do not miss any chance to belittle the nation on every stage, every platform. Whatever good happens for the country, whatever auspicious occurs, Congress only knows how to oppose.

Friends,

I have a long list-the new Parliament building was constructed, they opposed it. The lions of the Ashoka pillar atop Parliament-they opposed it. Those whose lions once ran away after eating ordinary citizens’ shoes, were frightened by the teeth of the Parliament’s lions. The Kartavya Path was built, they opposed it. The armed forces carried out surgical strikes, they opposed it. The Balakot air strike happened, they opposed it. Operation Sindoor was conducted, they opposed it. In short, for every achievement of the nation, Congress’s toolkit produces only one thing-opposition.

Friends,

The nation brought down the wall of Article 370, the country rejoiced. But Congress opposed it. We enacted the CAA law-they opposed it. We introduced the Women’s Reservation Bill-they opposed it. We brought a law against triple talaq-they opposed it. We launched UPI-they opposed it. We initiated the Swachh Bharat Mission-they opposed it. The country developed its own COVID vaccine, and even that they opposed.

Friends,

In a democracy, opposition does not mean blind resistance. In democracy, opposition means presenting an alternative vision. That is why the enlightened citizens of the country have been teaching Congress a lesson-not just today, but continuously for the past four decades. What I am about to say, I urge my media colleagues to analyze as well. You will see that Congress’s votes are not being stolen; rather, the people of the country no longer consider Congress worthy of their vote. And this decline began after 1984. In 1984, Congress received 39 percent of the vote and more than 400 seats. In subsequent elections, Congress’s vote share kept declining. And today, Congress’s condition is such that only four states remain where Congress has more than 50 legislators. Over the past 40 years, the number of young voters has increased, and Congress has steadily disappeared. Congress has become a club of people enslaved to one family. That is why first the millennials taught Congress a lesson, and now Gen Z is also ready.

Friends,

Congress and its allies have such a narrow mindset that they have even made long-term vision a crime. Today, when we talk about a developed India by 2047, some people ask-“Why talk about something so far ahead now?” Some even say, “Modi won’t be alive till then.” The truth is that nation-building never happens through short-term thinking. It happens through a grand vision, patience, and timely decisions. Let me present some facts before Network 18’s viewers. Every year, India spends more than 6 lakh crore rupees on freight through foreign ships. On fertilizer imports, we spend 2.25 lakh crore rupees annually. On petroleum imports, we spend 11 lakh crore rupees annually. That means, every year, trillions of rupees are flowing out of the country. If this investment had been directed towards self-reliance 20–25 years ago, today this capital would have been strengthening India’s infrastructure, research, industry, farmers, and youth. Today, our government is working with this very vision. To avoid paying 6 lakh crore rupees to foreign ships, Indian shipping and port infrastructure is being strengthened. To increase domestic fertilizer production, new plants are being set up, and nano-urea is being promoted. To reduce dependence on petroleum, ethanol blending, the Green Hydrogen Mission, solar energy, and electric mobility are being prioritized.

And friends,

We must take decisions today while keeping the future in mind. That is why India is building a semiconductor ecosystem. In defense production, mobile manufacturing, drone technology, the critical minerals sector, and investments therein-we are laying the foundation for economic security in the coming decades. The 2047 goal is not a political slogan. It is also a resolve to correct the historical mistakes where Congress governments failed to invest in time. Today, if we build indigenous ships, produce our own energy, and develop new technologies ourselves, then future generations will not discuss the burden of imports, but the capacity for exports. The progress of a nation is determined not by “today’s convenience” but by “tomorrow’s preparation.” And the hard work done with foresight is the foundation of a self-reliant, strong, and prosperous India in 2047. And no matter how many clothes Congress tears in protest, we will continue to work tirelessly.

Friends,

One very important condition of nation-building is sincerity of intent. Congress and its allies have failed even here. They have never worked with sincerity. They have no concern for the suffering of the poor. For example, in Bengal, the Ayushman Bharat scheme has still not been implemented. If there were sincerity, would they have blocked a scheme that provides free treatment up to 5 lakh rupees for the poor? No. You also know that under the PM Awas Yojana, permanent houses are being built for the poor. Let me give another figure to Network 18’s viewers. In Tamil Nadu, about 9.5 lakh permanent houses have been allocated for poor families-9.5 lakh. But construction of 3 lakh of these houses has stalled. Why? Because the DMK government is not showing interest in building these homes for the poor. And the reason is clear-their intent is not sincere.

Friends,

Let me also give you an example from the agriculture sector. During Congress’s time, farming was left to its fate. Small farmers were ignored, crop insurance was in shambles, the Swaminathan Committee’s report on MSP was buried in files. Congress made announcements in the budget, but nothing happened on the ground-because they lacked sincerity. We began working sincerely for the farmers of the country, and today the world is witnessing the results. Today, India is becoming one of the major agricultural exporters in the world. We have created a safety net for farmers at every level. Through the PM Kisan Samman Nidhi, more than 4 lakh crore rupees have been deposited directly into farmers’ accounts. We set MSP at 1.5 times the cost and made record purchases. Let me give you just one figure-pulses. The UPA government, in 10 years, purchased only 6 lakh metric tons of pulses at MSP-6 lakh metric tons. Our government has already purchased about 170 lakh metric tons of pulses at MSP-nearly 30 times more. Now you decide who truly works for the farmers.

Friends,

The UPA government was also stingy in providing help to farmers through the Kisan Credit Card. In its 10 years, the UPA government gave 7 lakh crore rupees in agricultural loans-7 lakh crore rupees. Whereas our government has given four times more-28 lakh crore rupees. During UPA’s time, only 5 crore farmers benefited from this. Today, the number has more than doubled, reaching nearly 12 crore farmers. That means, for the first time, even small farmers have received help. Our government has also given farmers the protective shield of the PM Fasal Bima Yojana. Under this, about 2 lakh crore rupees have already been provided to farmers in times of crisis. Because we are working with sincerity, the confidence of India’s farmers is rising, their productivity is increasing, and their incomes are growing.

Friends,

A quarter of the 21st century has already passed. The next phase is the decisive period of India’s development. The decisions taken today will determine the direction of the future. We must move forward by recognizing and enhancing our strength. Every individual must aim for excellence in their field, every institution must make excellence its culture. We should not just produce products, but produce best-quality products. We should not just do routine work, but world-class work. We must convert capability into performance. As I said from the Red Fort-this is the time, the right time. This is the time to take India to new heights. Once again, my heartfelt congratulations and thanks to all of you. Namaskar.