عزت مآب حضرات گرامی،

نمسکار!

آج 23 ویں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں آپ کا پرتپاک خیرمقدم ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران شنگھائی تعاون تنظیم ایشیائی خطے میں امن، خوش حالی اور ترقی کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے۔ اس خطے کے ساتھ بھارت کے ہزاروں سال پرانے ثقافتی اور لوگوں کے درمیان تعلقات ہمارے مشترکہ ورثے کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ ہم اس علاقے کو نہ صرف ’’توسیع شدہ محلے‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، بلکہ ایک ’’توسیع شدہ خاندان‘‘ کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے بھارت نے کثیر جہتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ ہم نے ان تمام کوششوں کی بنیاد دو بنیادی اصولوں پر رکھی ہے۔ سب سے پہلے، وسودھیوا کٹمبکم، یعنی پوری دنیا ایک کنبہ ہے۔ یہ اصول قدیم زمانے سے ہی ہمارے سماجی طرز عمل کا لازمی حصہ رہا ہے۔ اور یہاں تک کہ جدید دور میں بھی، ہمارے لیے ایک نئی تحریک اور توانائی کا منبع ہے۔ اور دوسرا، سیکیور(SECURE) یعنی سلامتی، اقتصادی ترقی، رابطہ کاری، اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اور ماحولیاتی تحفظ۔ یہ ہماری صدارت کا موضوع ہے اور ہمارے شنگھائی تعاون تنظیم کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وژن کے ساتھ بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم میں تعاون کے پانچ نئے ستون تعمیر کیے ہیں:

  • اسٹارٹ اپ اور جدت طرازی

  • روایتی طب

  • نوجوانوں کو بااختیار بنانا

  • ڈیجیٹل شمولیت، اور

  • مشترکہ بودھی وراثت

عزت مآب حضرات،

بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت میں ایک سو چالیس سے زیادہ تقریبات، کانفرنسوں اور اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ ہم نے چودہ مختلف تقریبات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام مشاہدین اور مفاہمے کے شراکت داروں کو شامل کیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے چودہ وزارتی سطح کے اجلاسوں میں ہم نے مل کر کئی اہم دستاویزات تیار کی ہیں۔ ان کے ساتھ، ہم اپنے تعاون میں نئی اور جدید جہتوں کا اضافہ کر رہے ہیں – جیسے

  • توانائی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے ایندھنوں پر تعاون

  • نقل و حمل کے شعبے میں ڈی-کاربونائزیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی پرتعاون

  • ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون

بھارت کی کوشش رہی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں تعاون صرف حکومتوں تک محدود نہ رہے۔

لوگوں کے درمیان رابطے کو مزید گہرا کرنے کے لیے بھارت کی صدارت میں نئے اقدامات کیے گئے ہیں۔

پہلی بار ایس سی او ملٹ فوڈ فیسٹیول، فلم فیسٹیول، ایس سی او سورج کنڈ کرافٹ میلہ، تھنک ٹینک کانفرنس، مشترکہ بودھی ورثے پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

ایس سی اوکا پہلا سیاحتی اور ثقافتی دارالحکومت، ابدی شہر، وارانسی، مختلف تقریبات کے لیے توجہ کا مرکز بنا ۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے نوجوانوں کی توانائی اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ہم نے ینگ سائنٹسٹس کنکلیو، ینگ رائٹرز کنکلیو، ینگ ریزیڈنٹ اسکالر پروگرام، اسٹارٹ اپ فورم، یوتھ کونسل جیسے نئے فورمز کا انعقاد کیا۔

عزت مآب حضرات،

موجودہ وقت میں عالمی صورت حال ایک نازک موڑ پر ہے۔ تنازعات، تناؤ اور وبائی امراض سے بھری دنیا میں خوراک، ایندھن اور کھاد کا بحران تمام ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

آئیے ہم سب مل کر اس بات پر غور کریں کہ کیا ہم ایک تنظیم کے طور پر اپنے عوام کی توقعات اور امنگوں پر پورا اترنے کے قابل ہیں۔

کیا ہم جدید چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

کیا شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایسی تنظیم بن رہی ہے جو مستقبل کے لیے مکمل طور پر تیار ہے؟

اس موضوع پر شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت اختراع اور جدیدکاری کی تجویز کی حمایت کرتا ہے۔

ہمیں شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھارت کے مصنوعی ذہانت پر مبنی لنگویج پلیٹ فارم بھاشنی کو سبھی کے ساتھ ساجھا کرنے میں خوشی ہوگی۔

یہ جامع ترقی کے لیے ڈیجیٹل ٹکنالوجی کی ایک مثال بن سکتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں میں اصلاحات کے لیے بھی ایک اہم آواز بن سکتا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ آج ایران شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک نئے رکن کی حیثیت سے شامل ہونے جا رہا ہے۔

اس کے لیے میں صدر رئیسی اور ایرانی عوام کو اپنی نیک امنگوں پیش کرتا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی ہم بیلاروس کی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لیے میمورنڈم آف آبلیگیشن پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

آج شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت میں دیگر ممالک کی دلچسپی اس تنظیم کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس عمل میں یہ ضروری ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیادی توجہ وسطی ایشیائی ممالک کے مفادات اور امنگوں پر مرکوز رہے۔

عزت مآب حضرات،

دہشت گردی علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے۔ دہشت گردی، کسی بھی شکل میں اور کسی بھی شکل میں، ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ کچھ ممالک سرحد پار دہشت گردی کو اپنی پالیسیوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو ایسے ممالک پر تنقید کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح کے سنجیدہ موضوع پر دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں دہشت گردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔ ایس سی او کے آر اے ٹی ایس میکانزم نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمیں اپنے ممالک کے نوجوانوں میں بنیاد پرستی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید فعال اقدامات کرنے ہوں گے۔ بنیاد پرستی کے بارے میں آج جو مشترکہ بیان جاری کیا جا رہا ہے وہ ہمارے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔

عزت مآب حضرات،

افغانستان کی صورت حال کا ہم سب کی سلامتی پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ افغانستان کے بارے میں بھارت کے خدشات اور توقعات شنگھائی تعاون تنظیم کے بیشتر ممالک سے ملتی جلتی ہیں۔ ہمیں افغانستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ افغان شہریوں کے لیے انسانی امداد؛ ایک جامع حکومت کی تشکیل۔ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ۔ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانا ہماری مشترکہ ترجیح ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے دوستانہ تعلقات ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہم نے افغانستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2021 کے واقعات کے بعد بھی ہم انسانی امداد بھیجتے رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے یا انتہا پسند نظریات کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہ ہو۔

عزت مآب حضرات،

کسی بھی شعبے کی ترقی کے لیے مضبوط رابطہ بہت ضروری ہے۔ بہتر رابطے سے نہ صرف باہمی تجارت بلکہ باہمی اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ان کوششوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کے بنیادی اصولوں بالخصوص رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔ ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے بعد ہم چابہار بندرگاہ کے بہتر استعمال کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ وسطی ایشیا کے زمین سے گھرے ہوئے ممالک کے لیے بین الاقوامی شمالی جنوبی ٹرانسپورٹ کوریڈور بحر ہند تک پہنچنے کا ایک محفوظ اور آسان راستہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اس کی پوری صلاحیت کا ادراک کرنا چاہیے۔

عزت مآب حضرات،

شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کے چالیس فیصد لوگوں اور عالمی معیشت کو دیکھتی ہے۔یہ دنیا کی ایک تہائی آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور اسی وجہ سے ایک دوسرے کی ضروریات اور حساسیت کو سمجھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بہتر تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے تمام چیلنجوں سے نمٹیں۔ اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے مستقل کوششیں کریں۔ ہم سبھی کو بھارت کی صدارت کو کامیاب بنانے میں لگاتار حمایت ملی ہے۔ اس کے لیے میں آپ سب کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں پورے بھارت کی طرف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اگلے صدر، قازقستان کے صدر اور اپنے دوست صدر توکائیف کو اپنی نیک امنگوں پیش کرتا ہوں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیابی کے لیے بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیابی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے عزم بستہ ہے۔

بہت بہت شکريہ۔ 

 

 

 

 

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Unstoppable bull run! Sensex, Nifty hit fresh lifetime highs on strong global market cues

Media Coverage

Unstoppable bull run! Sensex, Nifty hit fresh lifetime highs on strong global market cues
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses a vigorous crowd in Dumka, Jharkhand
May 28, 2024
JMM and Congress are looting Jharkhand from all sides: PM Modi in Dumka rally
I will not let the reservation for SC, ST, and OBC be looted: PM Modi in Jharkhand
Jharkhand is now known for 'mountains of cash' as JMM-Congress indulged in rampant loot, says PM Modi

Dumka, Jharkhand warmly welcomed Prime Minister Narendra Modi at a vibrant public rally, today. The PM pledged to advance tribal development and guaranteed a Viksit Jharkhand.

PM Modi counted his blessings and reiterated his commitment to a Viksit Bharat, vowing to prevent any opposition forces from derailing this vision, "You blessed Modi in 2014 when the whole country was fed up with Congress's misrule. Remember the daily scams? Congress looted money in the name of the poor. Modi came and stopped all that. Today, public money is used for public interest. Our mothers and sisters, neglected by previous governments, were uplifted by Modi. We changed their lives and solved their problems."

PM Modi outlined his future plans for a Viksit and prosperous Bharat, urging the people to continue their support for transformative progress, he remarked, "The work we've accomplished in the past 10 years must be taken further in the next 5 years. We will make 3 crore mothers and sisters 'Lakhpati Didis.' After forming the government, we will provide new and permanent houses to 3 crore more poor. To eliminate your electricity bills, I've launched the PM Surya Ghar Muft Bijli Yojana, for installing solar panels on your homes. You will use the electricity generated at home and earn money by selling the surplus to the government."

The PM highlighted the rampant corruption, asking the audience to recognize the stark reality under JMM and Congress rule, "JMM and Congress are looting Jharkhand from all sides. Look around you... beautiful mountains, but Jharkhand is now infamous for its mountains of currency notes. Crores of rupees are being seized. Where is this money coming from? Liquor scams, tender scams, and massive mining scams! This is the reality under JMM-Congress."

PM Modi expressed his deep disregard towards the INDI Alliance's neglect of tribal interests, emphasizing their destructive policies, “For the INDI Alliance, only their vote bank matters. They have no regard for the tribal society’s interests. Wherever they come to power, tribal society and culture are in danger. Their weapons against tribals are racism, infiltration, and appeasement!"
"Our tribal daughters are being targeted by infiltrators. Their safety and lives are in danger. We must act to protect them and their future,” the PM added further.

PM Modi heavily criticized the dangerous politics of the INDI Alliance, "Their formula is simple: engage in extreme communal politics and appeasement, protect separatists and terrorists, and accuse anyone opposing them of dividing Hindus and Muslims. The INDI Alliance wants to give reservations to Muslims based on religion. Modi stands firm—I will not let the reservation for SC, ST, and OBC be looted. And this stance unsettles the INDI crowd."

PM Modi underscored his commitment to uplifting marginalized communities and established strongly, "Coming from a humble background, Modi understands the needs of the Dalit, deprived, and tribal areas that were long overlooked. Through the creation of aspirational districts, we have initiated development where it was most needed. Tribal areas have greatly benefited, and today, our Jharkhand, especially Santhal Pargana, is witnessing unprecedented progress and new dimensions of growth."

In his concluding statement, PM Modi inspired the crowd with a vision for a prosperous future and observed, "We must take Jharkhand to new heights of development, and this promise starts with your vote. Ensure a resounding victory for us. Each vote is a blessing for Modi.” The PM also reassured them that their vote would pave the way for a Viksit Bharat.