Share
 
Comments
India’s vibrant democracy and conducive ease of doing business environment make it an attractive investment destination: PM
India is playing the role of the pharmacy to the world. We’ve provided medicines to around 150 countries so far during this pandemic: PM
The Indian story is strong today and will be stronger tomorrow: PM Modi

میرے عزیز دوستو، نمستے!

سب سے پہلے، میں اس فورم کی تشکیل کے لیے جناب پریم وتس کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کناڈا کے اتنے سارے سرمایہ کاروں اور کاروباریوں کو یہاں دیکھنا خوش آئند ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کو بھارت میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے شاندار مواقع سے روبرو کرایا جا رہا ہے۔

دوستو، سامعین میں موجود زیادہ تر لوگوں کے درمیان ایک چیز مشترک ہے۔ یہ لوگ ہی ہوتے ہیں جو سرمایہ کاری کا فیصلہ لیتے ہیں۔ ایسے فیصلے جن میں خطرات بھی ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلے جو سرمایہ کاری کے وقت بدلے میں ملنے والی چیزوں کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔

میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ملک میں مرتعش جمہوریت ہے؟ کیا ملک میں سیاسی استحکام ہے؟ کیا ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے دوستانہ پالیسیاں ہیں؟ کیا ملک میں گورننس میں شفافیت ہے؟ کیا ملک میں ہنرمند اور با صلاحیت لوگ موجود ہیں؟ کیا ملک میں بڑا بازار ہے؟ ایسے ہی کچھ سوالات ہوں گے، جو شاید آپ پوچھتے ہوں۔

اور ان تمام سوالات کا ایک غیر متنازع جواب ہے: اور وہ بھارت ہے۔

ہر ایک کے لیے موقع ہے- ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، حیاتیاتی نظام میں اختراع کے حامیوں اور انفراسٹرکچر کمپنیوں، سبھی کے لیے۔ سرمایہ کاری کرنے، اکائیاں نصب کرنے اور کاروبار چلانے کا موقع ہے۔ ہمارے پرائیویٹ سیکٹر اور سرکاری شعبوں کے ساتھ شراکت داری کرنے کا موقع ہے۔ کمانے کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا موقع ہے، یہی نہیں بلکہ قیادت کرنے، آگے بڑھنے کا موقع ہے۔

دوستو، کووڈ کے بعد کی دنیا میں، آپ اکثر متعدد قسم کے مسائل کے بارے میں سنیں گے- سامان بنانے کے مسائل، سپلائی چین کے مسائل، پی پی ای کے مسائل، وغیرہ وغیرہ۔ مسائل تو قدرتی ہیں۔

تاہم، بھارت نے یہ مسائل پیدا نہیں ہونے دیے ہیں۔ ہم نے لچک دکھائی اور حل پیش کرنے والی سر زمین بن کر ابھرے۔

ہم نے 800 ملین لوگوں کو مفت میں غذائی اناج فراہم کیے اور تقریباً 80 ملین لوگوں کو مفت میں رسوئی گیس دی- وہ بھی ایک طویل عرصے تک۔ لوجسٹکس میں رکاوٹوں کے باوجود، ہم چند دنوں کے اندر 400 ملین سے زیادہ کسانوں، عورتوں، غریبوں اور ضرورت مند لوگوں کے بینک کھاتوں میں براہِ راست پیسے بھیجنے میں کامیاب رہے۔

یہ گورننس کے ڈھانچے اور نظام کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے جس کی تعمیر ہم نے گزشتہ چند سالوں میں کی ہے۔

دوستو، بھارت دنیا کے لیے دوا سازی کا رول ادا کر رہا ہے۔ ہم نے اس وبائی مرض کے دوران تقریباً 150 ممالک کو دوائیں فراہم کی ہیں۔

اس سال مارچ-جون کے دوران، ہماری زرعی برآمدات میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ تب ہوا، جب پورے ملک میں سختی سے لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

آج، ہماری مینوفیکچرنگ پوری رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ وبائی مرض سے پہلے بھارت مشکل سے پی پی ای کٹ تیار کرتا تھا۔ آج، بھارت ہر مہینے نہ صرف لاکھوں پی پی ای کٹ تیار کر رہا ہے، بلکہ انہیں برآمد بھی کر رہا ہے۔

ہم پیداوار کو بڑھانے کے لیے بھی پر عزم ہیں۔ کووڈ-19 کے لیے ویکسین بنانے کے معاملے میں، ہم پوری دنیا کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

دوستو، بھارت کی کہانی آج مضبوط ہے اور کل اور بھی مضبوط ہوگی۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کیسے۔

آج، ایف ڈی آئی ریجیم کو بہت زیادہ لبرل بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے ’ساورین ویلتھ‘ اور ’پنشن فنڈز‘ کے لیے دوستانہ ٹیکس ریجیم تیار کیا ہے۔

ہم نے ایک مضبوط بانڈ مارکیٹ تیار کرنے کے لیے قابل قدر اصلاحات کی ہیں۔ ہم چیمپئن سیکٹروں کے لیے انسینٹو اسکیمیں لیکر آئے ہیں۔

فارما، طبی آلات اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں پہلے سے ہی اسکیمیں چل رہی ہیں۔ ہم سرمایہ کاروں کے لیے اعلیٰ سطحی توجہ اور مؤثر تعاون کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے، سیکریٹریوں کا ایک با اختیار گروپ تیار کیا گیا ہے۔

ہم پوری سرگرمی کے ساتھ تمام شعبوں میں اثاثوں پر پیسے لگا رہے ہیں- جیسے کہ ہوائی اڈّے، ریلوے، شاہراہیں، بجلی سپلائی کرنے والی لائنیں وغیرہ۔ پبلک اور پرائیویٹ دونوں اثاثوں کے لیے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ اور انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ کو پوری طرح بروئے کار لایا جا چکا ہے۔

دوستو، آج بھارت کی سوچ اور بازاروں میں بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ آج، بھارت نے کمپنیز ایکٹ کے تحت متعدد جارحانہ عمل کے اوپر سے پابندیوں کو ہٹانے اور انہیں جرم کے دائرہ سے باہر کرنے کا سفر شروع کیا ہے۔

عالمی اختراعی اشاریہ کی درجہ بندی میں بھارت کا مقام گزشتہ 5 سالوں میں 81 سے بڑھ کر اب 48 ہو چکا ہے۔ عالمی بینک کی تجارت کرنے میں آسانی کی درجہ بندی میں 5 سال پہلے بھارت کا مقام 142 تھا، لیکن اب یہ 63 ہو گیا ہے۔ جنوری 2019 سے جولائی 2020 کے درمیان، ڈیڑھ سال کے اندر بھارت نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے تقریباً 70 بلین امریکی ڈالر حاصل کیے ہیں۔ یہ رقم 2013 سے 2017 کے درمیان چار سالوں میں حاصل ہونے والی رقم کے تقریباً برابر ہے۔ عالمی سرمایہ کار برادری کا بھارت کے اوپر مسلسل اعتماد اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 میں بھارت کے اندر ایف ڈی آئی میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا، وہ بھی تب جب عالمی ایف ڈی آئی کی منتقلی میں 1 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔

بھارت کو اس سال پہلے چھ مہینوں میں ہی پوری دنیا سے 20 بلین سے زیادہ امریکی ڈالر حاصل ہو چکا ہے۔ جب کہ اس وقت پوری دنیا میں کووڈ-19 اپنے عروج پر ہے۔

جی آئی ایف ٹی سٹی میں بین الاقوامی مالیاتی خدمات مرکز (آئی ایف ایس سی) ہماری ایک بہت بڑی پہل ہے۔ سرمایہ کار اس کا استعمال عالمی سطح پر کاروبار کرنے کے لیے اسے ترجیحی پلیٹ فارم کے طور پر کر سکتے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں ایک پوری طرح سے با اختیار یونیفائیڈ ریگولیٹر بھی قائم کر دیا ہے۔

دوستو، بھارت نے کووڈ-19 وبائی مرض سے نمٹنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔

ہم نے کمزور اور چھوٹے کاروباریوں کو راحت پیکیج فراہم کیے ہیں۔ لیکن ہم نے اس موقع کا استعمال بنیادی ڈھانچوں کو درست کرنے میں بھی کیا ہے۔ یہ اقدام پیداواریت اور خوشحالی کو یقینی بناتے ہیں۔

بھارت نے تعلیم، محنت اور زراعت کے شعبوں میں اصلاحات کی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تینوں شعبے تقریباً ہر ہندوستانی شہری پر اثر ڈالتے ہیں۔

بھارت نے محنت اور زراعت کے شعبے میں پرانے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ یہ پرائیویٹ سیکٹر کی بڑے پیمانے پر حصہ داری کے ساتھ ساتھ سرکار کے حفاظتی تانے بانے کی مضبوطی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔

یہ اصلاحات سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ہمارے محنتی لوگوں کے لیے بھی کامیابی کا ضامن ہیں۔ تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات سے ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان اصلاحات کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کو بھارت آنے کی سہولت حاصل ہوگی۔

لیبر قوانین میں اصلاحات سے لیبر کوڈ کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ یہ ملازم اور آجر دوست ہیں اور ان سے کاروبار کرنے میں مزید آسانیاں پیدا ہوں گی۔

زراعت کے شعبہ میں اصلاحات کے دور رس نتائج ہونے والے ہیں۔ ان سے نہ صرف کسانوں کو مزید متبادل حاصل ہوں گے، بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔

ان اصلاحات سے آتم نربھر بھارت یا خود کفیل ہندوستان کی تعمیر کی ہماری کوششیں بارآور ہوں گی۔ خود کفیل بننے کے ساتھ ساتھ ہم پوری دنیا کی اچھائی اور خوشحالی کے لیے بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔

دوستو،

اگر آپ تعلیم کے شعبہ میں شراکت داری کرنا چاہتے ہیں، تو اس کی جگہ ہے بھارت۔

اگر آپ مینوفیکچرنگ یا سروسز میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تو اس کی جگہ ہے بھارت۔

اگر آپ زراعت کے شعبہ میں اشتراک کرنا چاہتے ہیں، تو اس کی جگہ ہے بھارت۔

دوستو،

ہند-کناڈا دو طرفہ تعلقات کے محرک مشترکہ جمہوری قدریں اور متعدد مشترکہ مفادات ہیں۔ ہمارے درمیان تجارت و سرمایہ کاری ہمارے کثیر جہتی تعلقات کا اٹوٹ حصہ ہے۔

کناڈا بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں میں سے 20واں سب سے بڑا ملک ہے۔ بھارت میں کناڈا کی 600 سے زیادہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کناڈین پنشن فنڈز نے بھارت میں اب تک تقریباً 50 بلین امریکی ڈالر کا عہد کیا ہے۔

ہمارے تعلقات شاید ان اعدادوشمار سے بھی کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ایک ساتھ مل کر ہم اور بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

کناڈا میں سب سے بڑے اور سب سے تجربہ کار انفراسٹرکچر سرمایہ کاروں میں سے کچھ لوگ رہتے ہیں۔ کناڈین پنشن فنڈز بھارت میں سب سے پہلے براہِ راست سرمایہ کاری کرنے والوں میں سے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کو شاہراہوں، ہوائی اڈوں، لوجسٹکٹس، مواصلات اور ریئل اسٹیٹ جیسے متعدد شعبوں میں پہلے ہی بڑے مواقع حاصل ہو چکے ہیں۔ اب وہ اپنی موجودگی کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ پختہ کناڈیائی سرمایہ کار جو کئی سالوں سے بھارت میں ہیں، اب وہ ہمارے بہترین برانڈ امبیسڈر بن سکتے ہیں۔

خود ان کا تجربہ، ان کا اپنے کاروبار کو پھیلانے اور ہمہ گیر کرنے کا منصوبہ آپ سبھی کو بھی یہاں آنے کے لیے سب سے معتبر ثبوت بن سکتا ہے۔ مزید برآں، آپ پہلے سے ہی بھارت کو اچھی طرح جانتے ہیں، کیوں کہ پوری دنیا میں اگر کہیں پر سب سے زیادہ ہندوستانی رہتے ہیں، تو وہ کناڈا ہے۔ یہاں پر آپ کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ آپ یہاں ویسا ہی محسوس کریں گے جیسا کہ آپ خود اپنے ملک میں محسوس کرتے ہیں۔

اس ایونٹ سے مخاطب ہونے کی دعوت دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔ ایک بار پھر آپ سبھی کا شکریہ۔

Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
From Gulabi Meenakari ship to sandalwood Buddha – Unique gifts from PM Modi to US-Australia-Japan

Media Coverage

From Gulabi Meenakari ship to sandalwood Buddha – Unique gifts from PM Modi to US-Australia-Japan
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Fact Sheet: Quad Leaders’ Summit
September 25, 2021
Share
 
Comments

On September 24, President Biden hosted Prime Minister Scott Morrison of Australia, Prime Minister Narendra Modi of India, and Prime Minister Yoshihide Suga of Japan at the White House for the first-ever in-person Leaders’ Summit of the Quad. The leaders have put forth ambitious initiatives that deepen our ties and advance practical cooperation on 21st-century challenges: ending the COVID-19 pandemic, including by increasing production and access to safe and effective vaccines; promoting high-standards infrastructure; combatting the climate crisis; partnering on emerging technologies, space, and cybersecurity; and cultivating next-generation talent in all of our countries.

COVID and Global Health

Quad leaders recognize that the most immediate threat to lives and livelihoods in our four countries and the world is the COVID-19 pandemic. And so in March, Quad leaders launched the Quad Vaccine Partnership, to help enhance equitable access to safe and effective vaccines in the Indo-Pacific and the world. Since March, the Quad has taken bold actions to expand safe and effective COVID-19 vaccine manufacturing capacity, donated vaccines from our own supply, and worked together to assist the Indo-Pacific in responding to the pandemic. The Quad Vaccine Experts Group remains the heart of our cooperation, meeting regularly to brief on the latest pandemic trends and coordinate our collective COVID-19 response across the Indo-Pacific, including by piloting the Quad Partnership COVID-19 Dashboard. We welcome President Biden’s September 22 COVID-19 Summit, and acknowledge that our work continues. The Quad will:

Help Vaccinate the World: As Quad countries, we have pledged to donate more than 1.2 billion vaccine doses globally, in addition to the doses we have financed through COVAX. To date we have collectively delivered nearly 79 million safe and effective vaccine doses to the Indo-Pacific region. Our Vaccine Partnership remains on track to expand manufacturing at Biological E Ltd. this fall, so that it can produce at least 1 billion doses of COVID-19 vaccines by the end of 2022. As a first step towards that new capacity, the leaders will announce bold actions that will immediately help the Indo-Pacific in its quest to end the pandemic. We recognize the importance of open and secure supply chains for vaccine production. The Quad welcomed India’s announcement to resume exports of safe and effective COVID-19 vaccines, including to COVAX, beginning in October 2021.

Through $3.3 billion in the COVID-19 Crisis Response Emergency Support Loan program, Japan will continue to help regional countries to procure safe, effective, and quality-assured vaccines. Australia will deliver $212 million in grant aid to purchase vaccines for Southeast Asia and the Pacific. In addition, Australia will allocate $219 million to support last-mile vaccine rollouts and lead in coordinating the Quad’s last-mile delivery efforts in those regions. Quad member countries will coordinate with the ASEAN Secretariat, the COVAX Facility, and other relevant organizations. We will continue to strengthen and support the life-saving work of international organizations and partnerships, including the WHO, COVAX, Gavi, CEPI, and UNICEF; and national governments. At the same time, the leaders are fully committed to strengthening vaccine confidence and trust. To that end, Quad countries will host an event at the 75th World Health Assembly (WHA) dedicated to combatting hesitancy.

Save Lives Now: Together as the Quad, we are committed to taking further action in the Indo-Pacific to save lives now. Japan, through Japan Bank for International Cooperation, will work with India to enhance key investments of approximately $100 million in the healthcare sector related to COVID-19, including vaccine and treatment drugs. We will utilize the Quad Vaccine Experts Group and convene as needed to urgently consult in relation to our emergency assistance.

Build Back Better Health Security: The Quad commits to better preparing our countries and the world for the next pandemic. We will continue to build coordination in our broader COVID-19 response and health-security efforts in the Indo-Pacific, and we will jointly build and conduct at least one pandemic preparedness tabletop or exercise in 2022. We will also further strengthen our science and technology cooperation in support of the 100-Day Mission—to have safe and effective vaccines, therapeutics, and diagnostics available within 100 days—now and into the future. This includes collaboration on current and future clinical trials, such as launching additional sites for the international Accelerating COVID-19 Therapeutic Interventions and Vaccines (ACTIV) trials, which can expedite investigation of promising new vaccines and therapeutics, while at the same time supporting countries in the region to improve their capacity to undertake scientifically sound clinical research. We will support the call for a "global pandemic radar” and will improve our viral genomic surveillance, including by working together to strengthen and expand the WHO Global Influenza Surveillance and Response System (GISRS).

Infrastructure

Building on the G7’s announcement of Build Back Better World (B3W)—an infrastructure partnership focused on digital connectivity, climate, health and health security, and gender equality infrastructure—the Quad will rally expertise, capacity, and influence to strengthen ongoing infrastructure initiatives in the region and identify new opportunities to meet the needs there. The Quad will:

Launch the Quad Infrastructure Coordination Group: Building on existing leadership from Quad partners on high-standards infrastructure, a senior Quad infrastructure coordination group will meet regularly to share assessments of regional infrastructure needs and coordinate respective approaches to deliver transparent, high-standards infrastructure. The group will also coordinate technical assistance and capacity-building efforts, including with regional partners, to ensure our efforts are mutually reinforcing and complementary in meeting the significant infrastructure demand in the Indo-Pacific.

Lead on High-Standards Infrastructure: Quad partners are leaders in building quality infrastructure in the Indo-Pacific region. Our complementary approaches leverage both public and private resources to achieve maximum impact. Since 2015, Quad partners have provided more than $48 billion in official finance for infrastructure in the region. This represents thousands of projects, including capacity-building, across more than 30 countries in support of rural development, health infrastructure, water supply and sanitation, renewable power generation (e.g., wind, solar, and hydro), telecommunications, road transportation, and more. Our infrastructure partnership will amplify these contributions and further catalyze private-sector investment in the region.

Climate

Quad countries share serious concern with the August Intergovernmental Panel on Climate Change’s report findings on the latest climate science, which has significant implications for climate action. To address the climate crisis with the urgency it demands, Quad countries will focus their efforts on the themes of climate ambition, including working on 2030 targets for national emissions and renewable energy, clean-energy innovation and deployment, as well as adaptation, resilience, and preparedness. Quad countries commit to pursue enhanced actions in the 2020s to meet anticipated energy demand and decarbonize at pace and scale to keep our climate goals within reach in the Indo-Pacific. Additional efforts include working together on methane abatement in the natural-gas sector and on establishing responsible and resilient clean-energy supply chains. The Quad will:

Form a Green-Shipping Network: Quad countries represent major maritime shipping hubs with some of the largest ports in the world. As a result, Quad countries are uniquely situated to deploy green-port infrastructure and clean-bunkering fuels at scale. Quad partners will organize their work by launching a Quad Shipping Taskforce and will invite leading ports, including Los Angeles, Mumbai Port Trust, Sydney (Botany), and Yokohama, to form a network dedicated to greening and decarbonizing the shipping value chain. The Quad Shipping Task Force will organize its work around several lines of efforts and aims to establish two to three Quad low-emission or zero-emission shipping corridors by 2030.

Establish a Clean-Hydrogen Partnership: The Quad will announce a clean-hydrogen partnership to strengthen and reduce costs across all elements of the clean-hydrogen value chain, leveraging existing bilateral and multilateral hydrogen initiatives in other fora. This includes technology development and efficiently scaling up the production of clean hydrogen (hydrogen produced from renewable energy, fossil fuels with carbon capture and sequestration, and nuclear for those who choose to deploy it), identification and development of delivery infrastructure to safely and efficiently transport, store, and distribute clean hydrogen for end-use applications, and stimulating market demand to accelerate trade in clean hydrogen in the Indo-Pacific region.

Enhance Climate Adaptation, Resilience, and Preparedness: Quad countries commit to increasing the Indo-Pacific region’s resilience to climate change by improving critical climate information-sharing and disaster-resilient infrastructure. The Quad countries will convene a Climate & Information Services Task Force and build a new technical facility through the Coalition for Disaster Resilient Infrastructure that will provide technical assistance in small island developing states.

People-to-People Exchange and Education

The students of today will be the leaders, innovators, and pioneers of tomorrow. To build ties among the next generation of scientists and technologists, Quad partners are proud to announce the Quad Fellowship: a first-of-its-kind scholarship program, operated and administered by a philanthropic initiative and in consultation with a non-governmental task force comprised of leaders from each Quad country. This program will bring together exceptional American, Japanese, Australian, and Indian masters and doctoral students in science, technology, engineering, and mathematics to study in the United States. This new fellowship will develop a network of science and technology experts committed to advancing innovation and collaboration in the private, public, and academic sectors, in their own nations and among Quad countries. The program will build a foundational understanding among Quad Scholars of one another’s societies and cultures through cohort-wide trips to each Quad country and robust programming with each country’s top scientists, technologists, and politicians. The Quad will:

Launch the Quad Fellowship: The Fellowship will sponsor 100 students per year—25 from each Quad country—to pursue masters and doctoral degrees at leading STEM graduate universities in the United States. It will serve as one of the world’s leading graduate fellowships; but uniquely, the Quad Fellowship will focus on STEM and bring together the top minds of Australia, India, Japan, and the United States. Schmidt Futures, a philanthropic initiative, will operate and administer the fellowship program in consultation with a non-governmental taskforce, comprised of academic, foreign policy, and private sector leaders from each Quad country. Founding sponsors of the fellowship program include Accenture, Blackstone, Boeing, Google, Mastercard, and Western Digital, and the program welcomes additional sponsors interested in supporting the Fellowship.

Critical and Emerging Technologies

Quad leaders are committed to working together to foster an open, accessible, and secure technology ecosystem. Since establishing a new critical and emerging technologies working group in March, we have organized our work around four efforts: technical standards, 5G diversification and deployment, horizon-scanning, and technology supply chains. Today, the Quad leaders launch a statement of principles on technology, along with new efforts that together will advance critical and emerging technologies shaped by our shared democratic values and respect for universal human rights. The Quad will:

Publish a Quad Statement of Principles: After months of collaboration, the Quad will launch a statement of principles on technology design, development, governance, and use that we hope will guide not only the region but the world towards responsible, open, high-standards innovation.

Establish Technical Standards Contact Groups: The Quad will establish contact groups on Advanced Communications and Artificial Intelligence focusing on standards-development activities as well as foundational pre-standardization research.

Launch a Semiconductor Supply Chain Initiative: Quad partners will launch a joint initiative to map capacity, identify vulnerabilities, and bolster supply-chain security for semiconductors and their vital components. This initiative will help ensure Quad partners support a diverse and competitive market that produces the secure critical technologies essential for digital economies globally.

Support 5G Deployment and Diversification: To support the critical role of Quad governments in fostering and promoting a diverse, resilient, and secure telecommunications ecosystem, the Quad has launched a Track 1.5 industry dialogue on Open RAN deployment and adoption, coordinated by the Open RAN Policy Coalition. Quad partners will jointly facilitate enabling environments for 5G diversification, including with efforts related to testing and test facilities.

Monitor Biotechnology Scanning: The Quad will monitor trends in critical and emerging technologies, starting with advanced biotechnologies, including synthetic biology, genome sequencing, and biomanufacturing. In the process, we will identify related opportunities for cooperation.

Cybersecurity

Building on longstanding collaboration among our four countries on cybersecurity, the Quad will launch new efforts to bolster critical-infrastructure resilience against cyber threats by bringing together the expertise of our nations to drive domestic and international best practices. The Quad will:

Launch a Quad Senior Cyber Group: Leader-level experts will meet regularly to advance work between government and industry on driving continuous improvements in areas including adoption and implementation of shared cyber standards; development of secure software; building workforce and talent; and promoting the scalability and cybersecurity of secure and trustworthy digital infrastructure.

Space

Quad countries are among the world’s scientific leaders, including in space. Today, the Quad will begin space cooperation for the first time with a new working group. In particular, our partnership will exchange satellite data, focused on monitoring and adapting to climate change, disaster preparedness, and responding to challenges in shared domains. The Quad will:

Share Satellite Data to Protect the Earth and its Waters: Our four countries will start discussions to exchange Earth observation satellite data and analysis on climate-change risks and the sustainable use of oceans and marine resources. Sharing this data will help Quad countries to better adapt to climate change and to build capacity in other Indo-Pacific states that are at grave climate risk, in coordination with the Quad Climate Working group.Enable Capacity-Building for Sustainable Development: The Quad countries will also enable capacity-building in space-related domains in other Indo-Pacific countries to manage risks and challenges. The Quad countries will work together to support, strengthen, and enhance space applications and technologies of mutual interest.

Consult on Norms and Guidelines: We will also consult on norms, guidelines, principles, and rules for ensuring the long-term sustainability of the outer space environment.