Share
 
Comments
India’s vibrant democracy and conducive ease of doing business environment make it an attractive investment destination: PM
India is playing the role of the pharmacy to the world. We’ve provided medicines to around 150 countries so far during this pandemic: PM
The Indian story is strong today and will be stronger tomorrow: PM Modi

میرے عزیز دوستو، نمستے!

سب سے پہلے، میں اس فورم کی تشکیل کے لیے جناب پریم وتس کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کناڈا کے اتنے سارے سرمایہ کاروں اور کاروباریوں کو یہاں دیکھنا خوش آئند ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کو بھارت میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے شاندار مواقع سے روبرو کرایا جا رہا ہے۔

دوستو، سامعین میں موجود زیادہ تر لوگوں کے درمیان ایک چیز مشترک ہے۔ یہ لوگ ہی ہوتے ہیں جو سرمایہ کاری کا فیصلہ لیتے ہیں۔ ایسے فیصلے جن میں خطرات بھی ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلے جو سرمایہ کاری کے وقت بدلے میں ملنے والی چیزوں کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔

میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ملک میں مرتعش جمہوریت ہے؟ کیا ملک میں سیاسی استحکام ہے؟ کیا ملک میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے دوستانہ پالیسیاں ہیں؟ کیا ملک میں گورننس میں شفافیت ہے؟ کیا ملک میں ہنرمند اور با صلاحیت لوگ موجود ہیں؟ کیا ملک میں بڑا بازار ہے؟ ایسے ہی کچھ سوالات ہوں گے، جو شاید آپ پوچھتے ہوں۔

اور ان تمام سوالات کا ایک غیر متنازع جواب ہے: اور وہ بھارت ہے۔

ہر ایک کے لیے موقع ہے- ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، مینوفیکچررز، حیاتیاتی نظام میں اختراع کے حامیوں اور انفراسٹرکچر کمپنیوں، سبھی کے لیے۔ سرمایہ کاری کرنے، اکائیاں نصب کرنے اور کاروبار چلانے کا موقع ہے۔ ہمارے پرائیویٹ سیکٹر اور سرکاری شعبوں کے ساتھ شراکت داری کرنے کا موقع ہے۔ کمانے کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا موقع ہے، یہی نہیں بلکہ قیادت کرنے، آگے بڑھنے کا موقع ہے۔

دوستو، کووڈ کے بعد کی دنیا میں، آپ اکثر متعدد قسم کے مسائل کے بارے میں سنیں گے- سامان بنانے کے مسائل، سپلائی چین کے مسائل، پی پی ای کے مسائل، وغیرہ وغیرہ۔ مسائل تو قدرتی ہیں۔

تاہم، بھارت نے یہ مسائل پیدا نہیں ہونے دیے ہیں۔ ہم نے لچک دکھائی اور حل پیش کرنے والی سر زمین بن کر ابھرے۔

ہم نے 800 ملین لوگوں کو مفت میں غذائی اناج فراہم کیے اور تقریباً 80 ملین لوگوں کو مفت میں رسوئی گیس دی- وہ بھی ایک طویل عرصے تک۔ لوجسٹکس میں رکاوٹوں کے باوجود، ہم چند دنوں کے اندر 400 ملین سے زیادہ کسانوں، عورتوں، غریبوں اور ضرورت مند لوگوں کے بینک کھاتوں میں براہِ راست پیسے بھیجنے میں کامیاب رہے۔

یہ گورننس کے ڈھانچے اور نظام کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے جس کی تعمیر ہم نے گزشتہ چند سالوں میں کی ہے۔

دوستو، بھارت دنیا کے لیے دوا سازی کا رول ادا کر رہا ہے۔ ہم نے اس وبائی مرض کے دوران تقریباً 150 ممالک کو دوائیں فراہم کی ہیں۔

اس سال مارچ-جون کے دوران، ہماری زرعی برآمدات میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ تب ہوا، جب پورے ملک میں سختی سے لاک ڈاؤن نافذ تھا۔

آج، ہماری مینوفیکچرنگ پوری رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ وبائی مرض سے پہلے بھارت مشکل سے پی پی ای کٹ تیار کرتا تھا۔ آج، بھارت ہر مہینے نہ صرف لاکھوں پی پی ای کٹ تیار کر رہا ہے، بلکہ انہیں برآمد بھی کر رہا ہے۔

ہم پیداوار کو بڑھانے کے لیے بھی پر عزم ہیں۔ کووڈ-19 کے لیے ویکسین بنانے کے معاملے میں، ہم پوری دنیا کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

دوستو، بھارت کی کہانی آج مضبوط ہے اور کل اور بھی مضبوط ہوگی۔ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کیسے۔

آج، ایف ڈی آئی ریجیم کو بہت زیادہ لبرل بنا دیا گیا ہے۔ ہم نے ’ساورین ویلتھ‘ اور ’پنشن فنڈز‘ کے لیے دوستانہ ٹیکس ریجیم تیار کیا ہے۔

ہم نے ایک مضبوط بانڈ مارکیٹ تیار کرنے کے لیے قابل قدر اصلاحات کی ہیں۔ ہم چیمپئن سیکٹروں کے لیے انسینٹو اسکیمیں لیکر آئے ہیں۔

فارما، طبی آلات اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں پہلے سے ہی اسکیمیں چل رہی ہیں۔ ہم سرمایہ کاروں کے لیے اعلیٰ سطحی توجہ اور مؤثر تعاون کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے، سیکریٹریوں کا ایک با اختیار گروپ تیار کیا گیا ہے۔

ہم پوری سرگرمی کے ساتھ تمام شعبوں میں اثاثوں پر پیسے لگا رہے ہیں- جیسے کہ ہوائی اڈّے، ریلوے، شاہراہیں، بجلی سپلائی کرنے والی لائنیں وغیرہ۔ پبلک اور پرائیویٹ دونوں اثاثوں کے لیے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ اور انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ کو پوری طرح بروئے کار لایا جا چکا ہے۔

دوستو، آج بھارت کی سوچ اور بازاروں میں بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ آج، بھارت نے کمپنیز ایکٹ کے تحت متعدد جارحانہ عمل کے اوپر سے پابندیوں کو ہٹانے اور انہیں جرم کے دائرہ سے باہر کرنے کا سفر شروع کیا ہے۔

عالمی اختراعی اشاریہ کی درجہ بندی میں بھارت کا مقام گزشتہ 5 سالوں میں 81 سے بڑھ کر اب 48 ہو چکا ہے۔ عالمی بینک کی تجارت کرنے میں آسانی کی درجہ بندی میں 5 سال پہلے بھارت کا مقام 142 تھا، لیکن اب یہ 63 ہو گیا ہے۔ جنوری 2019 سے جولائی 2020 کے درمیان، ڈیڑھ سال کے اندر بھارت نے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے تقریباً 70 بلین امریکی ڈالر حاصل کیے ہیں۔ یہ رقم 2013 سے 2017 کے درمیان چار سالوں میں حاصل ہونے والی رقم کے تقریباً برابر ہے۔ عالمی سرمایہ کار برادری کا بھارت کے اوپر مسلسل اعتماد اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2019 میں بھارت کے اندر ایف ڈی آئی میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا، وہ بھی تب جب عالمی ایف ڈی آئی کی منتقلی میں 1 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی۔

بھارت کو اس سال پہلے چھ مہینوں میں ہی پوری دنیا سے 20 بلین سے زیادہ امریکی ڈالر حاصل ہو چکا ہے۔ جب کہ اس وقت پوری دنیا میں کووڈ-19 اپنے عروج پر ہے۔

جی آئی ایف ٹی سٹی میں بین الاقوامی مالیاتی خدمات مرکز (آئی ایف ایس سی) ہماری ایک بہت بڑی پہل ہے۔ سرمایہ کار اس کا استعمال عالمی سطح پر کاروبار کرنے کے لیے اسے ترجیحی پلیٹ فارم کے طور پر کر سکتے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں ایک پوری طرح سے با اختیار یونیفائیڈ ریگولیٹر بھی قائم کر دیا ہے۔

دوستو، بھارت نے کووڈ-19 وبائی مرض سے نمٹنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔

ہم نے کمزور اور چھوٹے کاروباریوں کو راحت پیکیج فراہم کیے ہیں۔ لیکن ہم نے اس موقع کا استعمال بنیادی ڈھانچوں کو درست کرنے میں بھی کیا ہے۔ یہ اقدام پیداواریت اور خوشحالی کو یقینی بناتے ہیں۔

بھارت نے تعلیم، محنت اور زراعت کے شعبوں میں اصلاحات کی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تینوں شعبے تقریباً ہر ہندوستانی شہری پر اثر ڈالتے ہیں۔

بھارت نے محنت اور زراعت کے شعبے میں پرانے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ یہ پرائیویٹ سیکٹر کی بڑے پیمانے پر حصہ داری کے ساتھ ساتھ سرکار کے حفاظتی تانے بانے کی مضبوطی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔

یہ اصلاحات سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ہمارے محنتی لوگوں کے لیے بھی کامیابی کا ضامن ہیں۔ تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات سے ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان اصلاحات کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کو بھارت آنے کی سہولت حاصل ہوگی۔

لیبر قوانین میں اصلاحات سے لیبر کوڈ کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ یہ ملازم اور آجر دوست ہیں اور ان سے کاروبار کرنے میں مزید آسانیاں پیدا ہوں گی۔

زراعت کے شعبہ میں اصلاحات کے دور رس نتائج ہونے والے ہیں۔ ان سے نہ صرف کسانوں کو مزید متبادل حاصل ہوں گے، بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔

ان اصلاحات سے آتم نربھر بھارت یا خود کفیل ہندوستان کی تعمیر کی ہماری کوششیں بارآور ہوں گی۔ خود کفیل بننے کے ساتھ ساتھ ہم پوری دنیا کی اچھائی اور خوشحالی کے لیے بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔

دوستو،

اگر آپ تعلیم کے شعبہ میں شراکت داری کرنا چاہتے ہیں، تو اس کی جگہ ہے بھارت۔

اگر آپ مینوفیکچرنگ یا سروسز میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تو اس کی جگہ ہے بھارت۔

اگر آپ زراعت کے شعبہ میں اشتراک کرنا چاہتے ہیں، تو اس کی جگہ ہے بھارت۔

دوستو،

ہند-کناڈا دو طرفہ تعلقات کے محرک مشترکہ جمہوری قدریں اور متعدد مشترکہ مفادات ہیں۔ ہمارے درمیان تجارت و سرمایہ کاری ہمارے کثیر جہتی تعلقات کا اٹوٹ حصہ ہے۔

کناڈا بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں میں سے 20واں سب سے بڑا ملک ہے۔ بھارت میں کناڈا کی 600 سے زیادہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کناڈین پنشن فنڈز نے بھارت میں اب تک تقریباً 50 بلین امریکی ڈالر کا عہد کیا ہے۔

ہمارے تعلقات شاید ان اعدادوشمار سے بھی کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ایک ساتھ مل کر ہم اور بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

کناڈا میں سب سے بڑے اور سب سے تجربہ کار انفراسٹرکچر سرمایہ کاروں میں سے کچھ لوگ رہتے ہیں۔ کناڈین پنشن فنڈز بھارت میں سب سے پہلے براہِ راست سرمایہ کاری کرنے والوں میں سے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کو شاہراہوں، ہوائی اڈوں، لوجسٹکٹس، مواصلات اور ریئل اسٹیٹ جیسے متعدد شعبوں میں پہلے ہی بڑے مواقع حاصل ہو چکے ہیں۔ اب وہ اپنی موجودگی کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ پختہ کناڈیائی سرمایہ کار جو کئی سالوں سے بھارت میں ہیں، اب وہ ہمارے بہترین برانڈ امبیسڈر بن سکتے ہیں۔

خود ان کا تجربہ، ان کا اپنے کاروبار کو پھیلانے اور ہمہ گیر کرنے کا منصوبہ آپ سبھی کو بھی یہاں آنے کے لیے سب سے معتبر ثبوت بن سکتا ہے۔ مزید برآں، آپ پہلے سے ہی بھارت کو اچھی طرح جانتے ہیں، کیوں کہ پوری دنیا میں اگر کہیں پر سب سے زیادہ ہندوستانی رہتے ہیں، تو وہ کناڈا ہے۔ یہاں پر آپ کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ آپ یہاں ویسا ہی محسوس کریں گے جیسا کہ آپ خود اپنے ملک میں محسوس کرتے ہیں۔

اس ایونٹ سے مخاطب ہونے کی دعوت دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔ ایک بار پھر آپ سبھی کا شکریہ۔

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Narendra Modi: A Man of Ideas, a Man of Action

Media Coverage

Narendra Modi: A Man of Ideas, a Man of Action
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister virtually participates in 21st Meeting of the Council of Heads of State of the Shanghai Cooperation Organisation
September 17, 2021
Share
 
Comments

Prime Minister participated virtually in the 21st Meeting of the Council of Heads of State of the Shanghai Cooperation Organisation (SCO), and through video-message in the Joint SCO-CSTO Outreach Session on Afghanistan.

The 21st meeting of the SCO Council of Heads of State was held on 17 September 2021 in Dushanbe in hybrid format.  

The meeting was chaired by H.E. Emomali Rahmon, the President of Tajikistan.

Prime Minister Shri Narendra Modi addressed the Summit via video-link.  At Dushanbe, India was represented by External Affairs Minister, Dr. S. Jaishankar.  

In his address, Prime Minister highlighted the problems caused by growing radicalisation and extremism in the broader SCO region, which runs counter to the history of the region as a bastion of moderate and progressive cultures and values.  

He noted that recent developments in Afghanistan could further exacerbate this trend towards extremism.

He suggested that SCO could work on an agenda to promote moderation and scientific and rational thought, which would be especially relevant for the youth of the region.  

He also spoke about India's experience of using digital technologies in its development programmes, and offered to share these open-source solutions with other SCO members.

While speaking about the importance of building connectivity in the region, Prime Minister stressed that connectivity projects should be transparent, participatory and consultative, in order to promote mutual trust.  

The SCO Summit was followed by an Outreach session on Afghanistan between SCO and the Collective Security Treaty Organisation (CSTO).  Prime Minister participated in the outreach session through a video-message.

In the video message, Prime Minister suggested that SCO could develop a code of conduct on 'zero tolerance' towards terrorism in the region, and highlighted the risks of drugs, arms and human trafficking from Afghanistan.  Noting the humanitarian crisis in Afghanistan, he reiterated India's solidarity with the Afghan people.