وزیر اعظم نے گرمی کی لہر کے دوران چوکسی ، ہائیڈریشن اور کمزور لوگوں کی دیکھ بھال پر زور دیا
وزیر اعظم نے شہریوں سے پرندوں ، جانوروں اور شدید گرمی سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے کی اپیل کی

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے درجہ ٔحرارت کے پیش نظر ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

وزیراعظم مودی نے لوگوں سے کہا کہ وہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، باہر نکلتے وقت پانی ساتھ رکھیں اور سخت موسم میں دوسروں کو پانی فراہم کرکے ان کی مدد کریں۔

وزیر اعظم نے یہ بھی مشورہ دیا کہ شہری ہیٹ ایگزاسشن کی علامات جیسے چکر آنا، متلی اور شدید تھکن پر خاص نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کمزوری، سر درد یا طبی خرابی محسوس ہو تو فوراً اس کی مدد کریں، اسے ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر منتقل کریں اور پانی یا او آر ایس فراہم کو یقینی بنائیں۔

جناب مودی نے کہا کہ شدید گرمی کے دوران بچے، بزرگ اور باہر کام کرنے والے افراد خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ احتیاطی علامات کو نظر انداز کرنا ہیٹ اسٹروک(لو) کا باعث بن سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے شہریوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ہیٹ ویو(لو) کے دوران اپنے بزرگ والدین، دادا دادی اور دیگر عزیزوں کی باقاعدگی سے خیریت معلوم کریں، انہیں پانی پینے کی یاد دہانی کرائیں، دوپہر کے وقت باہر نکلنے سے روکیں اور مناسب آرام کو یقینی بنائیں۔

وزیر اعظم نے شدید موسمی حالات میں ہمدردی پر زور دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں، بالکونیوں، چھتوں، دکانوں اور دفاتر کے باہر پرندوں اور جانوروں کے لیے پانی کے پیالے رکھیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ ایکس پر اپنی سلسلے وار پوسٹ میں جناب مودی نے کہا:

 

’’ملک کے مختلف حصوں میں درجۂ حرارت مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ  کی زندگی میں گرمی کی وجہ سے پیش آنے والی کئی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔ میں تمام ہم وطنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جتنی زیادہ احتیاط برت سکتے ہیں، ضرور برتیں۔ براہ کرم خود کو ہائیڈریٹ رکھیں اور گھر سے باہر نکلتے وقت پانی ساتھ رکھیں۔ ایسے موسم میں آپ کی حساسیت بھی ایک بڑا سہارا بن جاتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو کسی پیاسے شخص کو ایک گلاس پانی ضرور دیں۔ ایسے لوگ قابل تعریف ہیں،جو اپنے گھروں اور دکانوں کے باہر مٹکے میں پانی رکھتے ہیں تاکہ کوئی بھی وہاں سے پانی پی سکے۔‘‘

’’شدید گرمی سے ہونے والی تکالیف جیسے چکر آنا، متلی یا شدید تھکن کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ اگر آپ کے آس پاس کسی شخص کو اچانک بے ہوشی جیسا محسوس ہو، کمزوری محسوس کرے یا بیمار نظر آئے تو اسے فوراً کسی ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر لے جائیں۔ اسے پانی، او آر ایس یا دیگر مائع اشیاء دیں تاکہ جسم کو راحت مل سکے۔ بچے، بزرگ اور دھوپ میں کام کرنے والے افراد اس شدید گرمی میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وقت پر توجہ نہ دینے سے یہ صورتحال ہیٹ اسٹروک جیسی سنگین بیماری کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ایسے وقت میں آپ کی چوکسی اور دیکھ بھال کسی کی جان بچا سکتی ہے۔‘‘

’’جب بھی ممکن ہو، اپنے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر عزیزوں کو فون کرکے ان کی خیریت ضرور معلوم کریں۔ انہیں مناسب مقدار میں پانی پینے، دوپہر کی تیز دھوپ میں باہر نہ نکلنے اور زیادہ سے زیادہ آرام کرنے کا مشورہ دیں۔‘‘

’’اس شدید گرمی میں ہمیں اپنے اردگرد کے جانوروں اور پرندوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ اپنے گھر، بالکونی، چھت، دکان یا دفتر کے باہر پانی سے بھرا ایک چھوٹا سا برتن رکھنا بھی کسی پیاسے پرندے کے لیے زندگی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آئیے، ان مشکل دنوں میں پوری ہمدردی اور رحم دلی کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔”

 

 

 

“देश के अलग-अलग हिस्सों में तापमान लगातार बढ़ रहा है और इसके साथ ही दैनिक जीवन में गर्मी से होने वाली कई कठिनाइयां भी बढ़ रही हैं। मैं सभी देशवासियों से आग्रह करता हूं कि जितनी अधिक सावधानी बरत सकें, अवश्य बरतें। कृपया स्वयं को हाइड्रेटेड रखें, घर से बाहर निकलते समय पानी साथ रखें। ऐसे मौसम में आपकी संवेदनशीलता भी बहुत बड़ा सहारा बन जाती है। यदि संभव हो, तो किसी प्यासे व्यक्ति को एक गिलास पानी अवश्य दें। मैं ऐसे लोगों की सराहना भी करूँगा जो अपने घरों के और दुकानों के बाहर मटके में जल रखते हैं ताकि कोई भी उनसे पानी पी सके।”

“अत्यधिक गर्मी से होने वाली परेशानी, जैसे चक्कर आना, मतली या ज्यादा थकान लगे तो उसे बिल्कुल भी नजरअंदाज न करें। यदि आपके आसपास किसी व्यक्ति को अचानक बेहोशी जैसा लगे, कमजोरी महसूस करे या फिर अस्वस्थ दिखाई दे, तो उसे तुरंत किसी ठंडी और छायादार जगह पर ले जाएं। उसे पानी, ORS या अन्य तरल पदार्थ दें, जिससे शरीर को राहत मिल सके। बच्चे, बुज़ुर्ग और धूप में काम करने वाले लोग इस भीषण गर्मी में सबसे अधिक प्रभावित होते हैं। समय रहते ध्यान न देने पर यह स्थिति हीटस्ट्रोक जैसी गंभीर समस्या का रूप ले सकती है। ऐसे समय में आपकी सतर्कता और देखभाल किसी का जीवन बचा सकती है।”

“जब भी संभव हो, अपने माता-पिता, दादा-दादी, नाना-नानी और अन्य प्रियजनों को फोन कर उनका हालचाल अवश्य पूछें। उन्हें पर्याप्त पानी पीने, दोपहर की तेज धूप में बाहर न निकलने और जितना हो सके, आराम करने की सलाह दें।”

“इस प्रचंड गर्मी में हमें अपने आसपास के पशु-पक्षियों को भी नहीं भूलना चाहिए। अपने घर, बालकनी, छत, दुकान या ऑफिस के बाहर पानी से भरा एक छोटा-सा बर्तन रखना भी किसी प्यासे पक्षी के लिए जीवनदान बन सकता है। आइए, इन कठिन दिनों में पूरी संवेदनशीलता और करुणा के साथ एक-दूसरे का ध्यान रखें।”

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Auckland's Sky Tower lights up in India's tricolour as PM Modi begins historic New Zealand visit

Media Coverage

Auckland's Sky Tower lights up in India's tricolour as PM Modi begins historic New Zealand visit
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister expresses grief over boat accident involving Indian nationals near Phu Quoc, Vietnam
July 11, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has expressed deep grief over the tragic boat accident involving Indian nationals near Phu Quoc, Vietnam.

The Prime Minister conveyed his sincere condolences to the families who lost their loved ones and prayed for the early recovery of the injured survivors.

Shri Modi said that the Embassy and Consulate are providing all possible assistance. He also noted that Indian officials are in close contact with the Vietnamese authorities.

In a post on X, Shri Modi said;

“Extremely saddened to learn about the tragic news of a boat accident involving Indian nationals near Phu Quoc, Vietnam.

My sincere condolences to the families who lost their loved ones. My prayers for the early recovery of the injured survivors.

Our Embassy and Consulate are providing all possible assistance. Our officials are also in close contact with the Vietnamese authorities.”