وزیر اعظم تمل ناڈو میں 20000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، ملک کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
تمل ناڈو میں ریل، سڑک، تیل اور گیس اور جہاز رانی کے شعبوں سے متعلق متعدد منصوبوں کو قوم کے نام وقف کیا جائے گا
وزیر اعظم تروچیرپلی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نئی ٹرمینل عمارت کا افتتاح کریں گے
وزیر اعظم آئی جی سی اے آر، کلپکم میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیموسٹریشن فاسٹ ری ایکٹر فیول ری پروسیسنگ پلانٹ (ڈی ایف آر پی) کو قوم کے نام وقف کریں گے
وزیر اعظم بھارتی داسن یونیورسٹی کے 38ویں کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کریں گے
وزیر اعظم لکشدیپ میں 1150 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے
لکشدیپ جزائر ٹیلی کمیونیکیشن، پینے کے پانی، شمسی توانائی اور صحت کے شعبوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھائیں گے
آزادی کے بعد پہلی بار لکشدیپ کو سب میرین آپٹک فائبر کیبل کے ذریعے جوڑا جائے گا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 2 اور 3 جنوری 2024 کو تمل ناڈو اور لکشدیپ کا دورہ کریں گے۔

2 جنوری، 2024 کو، صبح تقریباً 10:30 بجے، وزیر اعظم تروچیرپلی، تمل ناڈو پہنچیں گے۔ وہ بھارتی داسن یونیورسٹی، تروچیرپلی کے 38ویں کانووکیشن تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ دوپہر 12 بجے کے قریب، تروچیرپلی میں ایک عوامی پروگرام میں، وزیر اعظم ہوا بازی، ریل، سڑک، تیل اور گیس، جہاز رانی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں سے متعلق 19,850 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔ تقریباً 3:15 بجے، وزیر اعظم اگاتی، لکشدیپ پہنچیں گے جہاں وہ ایک عوامی تقریب سے خطاب کریں گے۔ 3 جنوری، 2024 کو، تقریباً 12 بجے دوپہر، وزیر اعظم کاوارتی، لکشدیپ پہنچیں گے، جہاں وہ لکشدیپ میں ٹیلی کمیونیکیشن، پینے کے پانی، شمسی توانائی اور صحت جیسے شعبوں سے متعلق متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور ملک کے نام وقف کریں گے۔

وزیر اعظم تمل ناڈو میں

بھارتی داسن یونیورسٹی، تروچیرپلی کے 38ویں کانووکیشن تقریب میں وزیر اعظم یونیورسٹی کے ہونہار طلبا کو ایوارڈ دیں گے۔ اس موقع پر وہ اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔

تروچیرپلی میں ایک عوامی پروگرام میں، وزیر اعظم تروچیرپلی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نئی ٹرمینل عمارت کا افتتاح کریں گے۔ 1100 کروڑ سے زیادہ کی لاگت سے تیار کی گئی، دو سطحی نئی بین الاقوامی ٹرمینل عمارت میں سالانہ 44 لاکھ سے زیادہ مسافروں اور حقیقی وقت میں تقریباً 3500 مسافروں کی خدمت کرنے کی گنجائش ہے۔ نئے ٹرمینل میں مسافروں کی سہولت کے لیے جدید ترین سہولیات اور خصوصیات موجود ہیں۔

وزیر اعظم ریلوے کے متعدد منصوبے قوم کے نام وقف کریں گے۔ ان میں 41.4 کلومیٹر سلیم – میگنیسائٹ جنکشن – اومالور – میٹور ڈیم سیکشن کو دوگنا کرنے کا منصوبہ؛ مدورائی - توتیکورن سے 160 کلومیٹر ریل لائن سیکشن کو دوگنا کرنے کا منصوبہ؛ اور ریل لائن برقی کاری کے تین منصوبے جیسے تروچیرپلی - مانامادورائی- ویردھونگر؛ ویردھونگر - ٹینکاسی جنکشن؛ سینگوٹائی - ٹینکاسی جنکشن - ترونیل ویلی – تروچندور شامل ہیں۔ ریل منصوبوں سے مال بردار اور مسافروں کو لے جانے کے لیے ریل کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور تمل ناڈو میں اقتصادی ترقی اور روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم سڑک سیکٹر کے پانچ منصوبے قوم کے نام وقف کریں گے۔ ان منصوبوں میں این ایچ-81 کے تریچی – کالگام سیکشن کے لیے 39 کلومیٹر چار لین سڑک؛ این ایچ-81 کے کالگام - مینسورتی سیکشن کے لیے 60 کلومیٹر لمبی چار/دو لین سڑک؛ این ایچ-785 کے چیٹی کلم - ناتھم سیکشن کے لیے 29 کلومیٹر چار لین سڑک؛ این ایچ-536 کے کرائی کوڈی – رامناتھ پورم سیکشن کے لیے 80 کلومیٹر لمبی دو لین سڑک اور این ایچ-179A سلیم - تروپتھور - ونیامبادی روڈ کے سیکشن کی 44 کلومیٹر طویل چار لین سڑک شامل ہیں۔ سڑک کے منصوبے خطے کے لوگوں کے محفوظ اور تیز سفر میں سہولت فراہم کریں گے اور صنعتی اور تجارتی مراکز جیسے تریچی، سری رنگم، چدمبرم، رامیشورم، دھنوشکوڈی، اتھیراکوسامانگئی، دیوی پٹنم، ایرواڈی، مدورائی، وغیرہ کے رابطے کو بہتر بنائیں گے۔

پروگرام کے دوران وزیر اعظم سڑکوں کی ترقی کے اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ ان میں این ایچ 332اے کے موگایور سے مرکنم تک 31 کلومیٹر طویل چار لین سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے۔ یہ سڑک تمل ناڈو کے مشرقی ساحل پر بندرگاہوں کو جوڑے گی، عالمی ثقافتی مقام مملا پورم سے سڑک کے رابطے میں اضافہ کرے گی اور کلپکم اٹامک پاور پلانٹ کو بہتر رابطہ فراہم کرے گی۔

وزیر اعظم کامراجر پورٹ کا جنرل کارگو برتھ II (آٹوموبائل ایکسپورٹ/امپورٹ ٹرمینل II اور کیپٹل ڈریجنگ فیز V) قوم کے نام وقف کریں گے۔ جنرل کارگو برتھ II کا افتتاح ملک کی تجارت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم ہو گا جس سے اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

پروگرام کے دوران، وزیر اعظم 9000 کروڑ روپے سے زیادہ کے اہم پٹرولیم اور قدرتی گیس کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔ قوم کے نام وقف کیے جانے والے دو منصوبوں میں انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) کی IP101 (چنگلپیٹ) سے IP 105 (سیالکوڈی) سیکشن تک 488 کلومیٹر طویل قدرتی گیس پائپ لائن؛ اینور - تروولور - بنگلورو - پڈوچیری - ناگاپٹنم - مدورائی - توتیکورن پائپ لائن؛ اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کی 697 کلومیٹر طویل وجے واڑہ-دھرمپوری ملٹی پروڈکٹ (پی او ایل) پیٹرولیم پائپ لائن (وی ڈی پی ایل) شامل ہے۔

اس کے علاوہ، جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا، ان میں گیس اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ (جی اے آئی ایل) کے ذریعے کوچی-کوٹناد-بنگلورو-منگلور گیس پائپ لائن II (کے کے بی ایم پی ایل II) کے کرشنا گری سے کوئمبٹور سیکشن تک 323 کلومیٹر قدرتی گیس پائپ لائن کی ترقی اور ولور، چنئی میں مجوزہ گراس روٹ ٹرمینل کے لیے کامن کوریڈور میں پی او ایل پائپ لائنیں بچھانا شامل ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے شعبے کے یہ منصوبے خطے میں توانائی کی صنعتی، گھریلو اور تجارتی ضروریات کو پورا کرنے کی جانب ایک قدم ثابت ہوں گے۔ اس سے خطے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر اعظم اندرا گاندھی سنٹر فار اٹامک ریسرچ (آئی جی سے اے آر)، کلپکم میں ڈیموسٹریشن فاسٹ ری ایکٹر فیول ری پروسیسنگ پلانٹ (ڈی ایف آر پی) کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ ڈی ایف آر پی، 400 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کردہ ایک منفرد ڈیزائن سے لیس ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد ہے اور تیز رفتار ری ایکٹر سے خارج ہونے والے کاربائیڈ اور آکسائیڈ دونوں ایندھن کو دوبارہ پروسیس کرنے کے قابل ہے۔ اسے مکمل طور پر ہندوستانی سائنسدانوں کے ذریعہ ڈیزائن کیا گیا ہے اور بڑے تجارتی پیمانے پر تیز رفتار ری ایکٹر فیول ری پروسیسنگ پلانٹس کی تعمیر کی طرف ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

دیگر منصوبوں کے علاوہ، وزیر اعظم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (این آئی ٹی) - تروچیرپلی کے 500 بستروں والے لڑکوں کے ہاسٹل ’ایمتھیسٹ‘ کا افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم لکشدیپ میں

لکشدیپ کے اپنے دورے کے دوران، وزیر اعظم 1150 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، سنگ بنیاد رکھیں گے اور قوم کے نام وقف کریں گے۔

ایک تبدیلی کے اقدام کے طور پر، وزیر اعظم نے کوچی-لکشدیپ جزائر سب میرین آپٹیکل فائبر کنکشن (کے ایل آئی  ایس او ایف سی) پروجیکٹ شروع کرنے کے ذریعہ لکشدیپ جزیرے میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کے چیلنج پر قابو پانے کا عزم کیا تھا اور اگست 2020 میں لال قلعہ سے یوم آزادی کی تقریر میں اس کے بارے میں اعلان کیا تھا۔ یہ منصوبہ اب مکمل ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح وزیر اعظم کے ذریعہ کیا جائے گا۔ اس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں 100 گنا سے زیادہ (1.7 جی بی پی ایس سے 200 جی بی پی ایس تک) اضافہ ہوگا۔ آزادی کے بعد پہلی بار لکشدیپ کو سب میرین آپٹک فائبر کیبل کے ذریعے جوڑا جائے گا۔ خصوصی آب دوز او ایف سی لکشدیپ جزائر میں مواصلاتی بنیادی ڈھانچے میں ایک مثالی تبدیلی کو یقینی بنائے گی۔

وزیر اعظم کدمت میں کم درجہ حرارت تھرمل ڈی سیلینیشن (ایل ٹی ٹی ڈی) پلانٹ کو ملک کے نام وقف کریں گے۔ اس سے روزانہ 1.5 لاکھ لیٹر پینے کا صاف پانی تیار ہوگا۔ وزیر اعظم اگاتی اور منیکوئے جزیروں کے تمام گھرانوں میں فنکشنل ہاؤس ہولڈ ٹیپ کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) کو بھی ملک کے نام وقف کریں گے۔ لکشدیپ کے جزیروں میں پینے کے پانی کی دستیابی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے کیوں کہ ایک مرجان جزیرہ ہونے کی وجہ سے اس میں زمینی پانی کی دستیابی بہت محدود ہے۔ یہ پینے کے منصوبے جزائر کی سیاحتی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کریں گے، جس سے مقامی روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

دوسرے منصوبے جو قوم کے لیے وقف کیے جائیں گے ان میں کاواراتی میں سولر پاور پلانٹ شامل ہے، جو لکشدیپ کا پہلا بیٹری بیکڈ سولر پاور پروجیکٹ ہے۔ اس سے ڈیزل پر مبنی پاور جنریشن پلانٹ پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم کلپینی میں بنیادی صحت کی دیکھ بھال کی سہولت کی تزئین و آرائش اور پانچ جزیروں اندروت، چیتلٹ، کدمت، اگاتی اور منیکوئے میں پانچ ماڈل آنگن واڑی مراکز (نند گھر) کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach

Media Coverage

India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs valedictory session of National Departmental Summit on Water
September 02, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by PM to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
PM stresses adoption of a continuous process of review and follow up to act on actionable and time-bound outcomes
Emphasising Jan Bhagidari, PM calls for promoting Jal Utsav to deepen public awareness on water conservation
PM calls for greater adoption of water-saving technologies and learning from global best practices
PM calls for robust water data governance through effective use of AI
PM suggests structured inter-State Study-visits involving public representatives, officials and farmers on water related issues

Prime Minister Shri Narendra Modi today chaired the valedictory session of the two-day National Departmental Summit on Water, organised by the Ministry of Jal Shakti. The Summit is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. It brought together Ministers and senior officials from States and Union Territories for focused deliberations on various dimensions of India’s water security.

Prime Minister appreciated the intensive two-day deliberations and emphasised that the actionable and time-bound action points emerging from the Summit should be pursued through a continuous process of review and learning. He suggested that the Summit should not remain a one-time exercise and called for a continuous process of review and follow-up.

Prime Minister called for sensitising Urban Local Bodies to the challenges arising from urbanisation, including population growth and future water requirements, and suggested organising similar Chintan Shivirs for Urban Local Bodies. He called for greater adoption of water-saving technologies. He also suggested dedicated exhibitions and workshops, including exposure to global best practices, to enable Indian manufacturers and stakeholders to develop and scale efficient solutions.

Emphasising Jan Bhagidari, Prime Minister suggested promoting “Jal Utsav” to create greater awareness among people. Prime Minister called for making de-silting a regular programme and developing clear criteria and SOPs for de-silting. On dam safety, he stressed rigorous preparedness before every monsoon, adherence to prescribed precautions and creating awareness among school students, including through suitable incorporation in educational curricula.

Prime Minister further called for strengthening knowledge and capacity on water management and governance in universities and higher educational institutions. He suggested structured inter-State study-visits involving public representatives, officials and farmers to facilitate practical learning and replication of successful interventions.

Prime Minister called for robust water data governance, with water-sector data brought together, systematically managed, analysed and effectively utilised. He recommended the use of AI for data collection and analysis through a uniform format. He also stressed anticipatory and integrated planning to address water scarcity through suitable utilisation of treated water for agriculture and industrial purposes.

Drawing upon his experience as Chief Minister of Gujarat, Prime Minister noted that instances of water scarcity could be transformed into opportunities through systematic planning, commitment and deployment of adequate resources and capable officers.

Union Minister for Jal Shakti Shri C. R. Patil highlighted four key outcomes of the summit: accelerated completion of water infrastructure projects; strengthening water conservation as a sustained people’s movement; ensuring long-term sustainability of drinking-water sources; and institutionalising effective operation and maintenance of rural drinking-water schemes.