وزیر اعظم 6 فروری کو کرناٹک کا دورہ کریں گے

Published By : Admin | February 4, 2023 | 12:13 IST
وزیر اعظم بنگلور میں انڈیا انرجی ویک 2023 کا افتتاح کریں گے
ایتھنول ملاوٹ کے روڈ میپ پر آگے بڑھتے ہوئے، پی ایم ای20 ایندھن کا آغاز کریں گے
وزیر اعظم گرین ایندھن کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے گرین موبیلٹی ریلی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے
وزیر اعظم انڈین آئل کے ’ان بوتلڈ‘ اقدام کے تحت یونیفارم کا آغاز کریں گے - ہر ایک یونیفارم تقریباً 28 استعمال شدہ پی ای ٹی بوتلوں کی ری سائیکلنگ میں مدد فراہم کرے گا
وزیر اعظم انڈین آئل کے انڈور سولر کوکنگ نظام کے ٹوئن کوک ٹاپ ماڈل کو قوم کے نام وقف کریں گے - ایک انقلابی انڈور سولر کوکنگ سلوشن ہے جو شمسی اور معاون توانائی، دونوں ذرائع پر، بیک وقت کام کرتا ہے
دفاعی شعبے میں آتم نربھرتا کی جانب ایک اور قدم میں، وزیر اعظم تماکورو میں ایچ اے ایل ہیلی کاپٹر فیکٹری قوم کے نام وقف کریں گے
وزیر اعظم توماکورو صنعتی ٹاؤن شپ اور تماکورو میں دو جل جیون مشن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 6 فروری 2023 کو کرناٹک کا دورہ کریں گے۔ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے، وزیر اعظم بنگلورو میں انڈیا انرجی ویک 2023 کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد، تقریباً ساڑھے تین بجے، وہ تماکورو میں ایچ اےایل ہیلی کاپٹر فیکٹری کو قوم کے نام وقف کریں گے اور مختلف ترقیاتی اقدامات کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔

انڈیا انرجی ویک 2023

وزیر اعظم بنگلور میں انڈیا انرجی ویک (آئی ای ڈبلیو) 2023 کا افتتاح کریں گے۔ 6 سے 8 فروری تک منعقد ہونے والے آئی ای ڈبلیو کا مقصد توانائی کی منتقلی کے پاور ہاؤس کے طور پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرنا ہے۔ یہ تقریب روایتی اور غیر روایتی توانائی کی صنعت، حکومتوں اور تعلیمی اداروں کے رہنماؤں کو ان چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھا کرے گی، جو ایک ذمہ دارانہ توانائی کی منتقلی پیش کرتے ہیں۔ اس میں دنیا بھر سے 30 سے زائد وزراء شرکت کریں گے۔ 30000 سے زیادہ مندوبین، 1000 نمائش کنندگان اور 500 مقررین، ہندوستان کے توانائی کے مستقبل کے چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہوں گے۔ پروگرام کے دوران، وزیر اعظم تیل اور گیس کے عالمی سی ای اوز کے ساتھ گول میز بات چیت میں شرکت کریں گے۔ وہ سبز توانائی کے میدان میں متعدد اقدامات کابھی آغاز شروع کریں گے۔

ایتھنول ملاوٹ کا پروگرام توانائی کے شعبے میں آتم نربھرتا کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ حکومت کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ایتھنول کی پیداواری صلاحیت 14- 2013کےمقابلے میں چھ گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایتھنول بلینڈنگ پروگرام اور بائیو ایندھن پروگرام کے تحت، پچھلے آٹھ سالوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں نے نہ صرف ہندوستان کی توانائی کے تحفظ کو مستحکم کیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں 318 لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور تقریباً 54000 کروڑ روپے کے زرمبادلہ کی بچت سمیت دیگر فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، 2014 سے 2022 کے دوران ایتھنول کی سپلائی کے لیے تقریباً 81800 کروڑ روپے کی ادائیگی ہوئی ہے اور کسانوں کو 49000 کروڑ روپے سے زیادہ کی منتقلی کی گئی  ہے۔

ایتھنول ملاوٹ کے روڈ میپ کے مطابق، وزیر اعظم، 11 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے 84 ریٹیل آؤٹ لیٹس پر، ای20 ایندھن کا آغاز کریں گے۔ ای20 پیٹرول کے ساتھ 20فیصد ایتھنول کا مرکب ہے۔ حکومت کا مقصد 2025 تک ایتھنول کی مکمل 20فیصد ملاوٹ حاصل کرنا ہے، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 2جی- 3جی ایتھنول پلانٹس لگا رہی ہیں جو اس پیشرفت کو آسان بنائیں گے۔

وزیراعظم گرین موبیلٹی ریلی کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔یہ ریلی سبز توانائی کے ذرائع پر چلنے والی گاڑیوں کی شرکت کا مشاہدہ کرے گی اور سبز ایندھن کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔

وزیر اعظم، انڈین آئل کے ’ان بوتلڈ‘ اقدام کے تحت یونیفارم کا آغاز کریں گے۔ ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کو مرحلہ وار ختم کرنے کے وزیر اعظم کے وژن کی رہنمائی میں، انڈین آئل نے، ری سائیکل شدہ پولسٹر (آر پیٹ) اور کپاس سے بنی خوردہ کسٹمر اٹینڈنٹ اور ایل پی جی ڈیلیوری کرنے والے اہلکاروں کے لیے، یونیفارم کو اپنایا ہے۔ انڈین آئل کے کسٹمر اٹینڈنٹ کے یونیفارم کا ہر سیٹ تقریباً 28 استعمال شدہ پی ای ٹی بوتلوں کی ری سائیکلنگ میں مدد کرے گا۔ انڈین آئل اس پہل کو 'ان بوتلڈ' کے ذریعے مزید آگے بڑھا رہا ہے -  یہ پائیدار لباس کے لیے ایک برانڈ ہے، جو ری سائیکل شدہ پولسٹر سے بنائے گئے تجارتی سامان کے لیے لانچ کیا گیا ہے۔ اس برانڈ کے تحت، انڈین آئل دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کسٹمر اٹینڈنٹس کے لیے یونیفارم کی ضروریات، فوج کے لیے غیر جنگی یونیفارم، اداروں کے لیے یونیفارم/ لباس اور خوردہ صارفین کو فروخت کرنے کے اہداف رکھتا ہے۔

وزیر اعظم، انڈین آئل کے انڈور سولر کوکنگ سسٹم کے ٹوئن کوک ٹاپ ماڈل کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے اور اس کے تجارتی رول آؤٹ کو جھنڈی دکھاکراسکا آغاز کریں گے۔ انڈین آئل نے پہلے سنگل کک ٹاپ کے ساتھ ایک اختراعی اور پیٹنٹ شدہ انڈور سولر کوکنگ سسٹم تیار کیا تھا۔ موصولہ آراء کی بنیاد پر، ٹوئن کوک ٹاپ انڈور سولر کوکنگ سسٹم کو ڈیزائن کیا گیا ہے جو صارفین کو زیادہ لچک اور آسانی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک انقلابی انڈور سولر کوکنگ سلوشن ہے جو شمسی اور معاون توانائی کے دونوں ذرائع پر، بیک وقت کام کرتا ہے، جو اسے ہندوستان کے لیے ایک قابل اعتماد کھانا پکانے کا حل بناتا ہے۔

تماکورو میں پی ایم

دفاعی شعبے میں آتم نربھرتا کی جانب ایک اور قدم میں، وزیر اعظم، تماکورو میں ایچ اے ایل ہیلی کاپٹر فیکٹری کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس کا سنگ بنیاد بھی وزیر اعظم نے 2016 میں رکھا تھا۔ یہ ایک مخصوص نئی گرین فیلڈ ہیلی کاپٹر فیکٹری ہے جو ہیلی کاپٹر بنانے کی صلاحیت اور ماحولیاتی نظام میں اضافہ کرے گی۔

یہ ہیلی کاپٹر فیکٹری ایشیا کی سب سے بڑی ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ سہولت ہے اور ابتدائی طور پر لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر (ایل یوایچ) تیار کرے گی۔ ایل یوایچ ایک مقامی طور پر ڈیزائن کیا گیا اور تیار کیا گیا 3 ٹن کلاس، واحد انجن والاکثیرمقصدی یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر ہے جس میں اعلیٰ کارکردگی کی منفرد خصوصیت ہے۔

فیکٹری کو دوسرے ہیلی کاپٹر جیسے لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر (ایل سی ایچ) اور انڈین ملٹی رول ہیلی کاپٹر (آئی ایم آر ایچ) بنانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایل سی ایچ، ایل یو ایچ، سول اے ایل ایچ اور آئی ایم آر ایچ کی مرمت اور اوور ہال کے لیے توسیع دی جائے گی۔ فیکٹری میں مستقبل میں سول ایل یوایچز کو برآمد کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

یہ سہولت ہندوستان کو ہیلی کاپٹروں کی اپنی تمام ضروریات کو مقامی طور پر پورا کرنے کے قابل بنائے گی اور ہندوستان میں ہیلی کاپٹر کے ڈیزائن، ترقی اور تیاری میں خود انحصاری کے قابل بنائے گی۔

فیکٹری میں صنعت -4.0 معیارات کا مینوفیکچرنگ سیٹ اپ ہوگا۔ اگلے 20 سالوں میں، ایچ اے ایل تماکورو سے 3سے15 ٹن کی کلاس میں 1000 سے زیادہ ہیلی کاپٹر بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس سے خطے میں تقریباً 6000 افراد کو روزگار ملے گا۔

وزیراعظم تماکورو انڈسٹریل ٹاؤن شپ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت، تماکورو میں تین مرحلوں میں 8484 ایکڑ پر پھیلی ہوئی انڈسٹریل ٹاؤن شپ کی ترقی چنئی بنگلورو انڈسٹریل کوریڈور کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

وزیر اعظم تماکورو میں ٹپٹور اور چکنایاکناہلی میں دو جل جیون مشن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ٹپٹور ملٹی ولیج ڈرنکنگ واٹر سپلائی پروجیکٹ 430 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ چکنائی کناہلی تعلقہ کی 147 بستیوں کو ملٹی ولیج واٹر سپلائی اسکیم تقریباً 115 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے علاقے کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں گے۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways

Media Coverage

BJP manifesto 2024: Super app, bullet train and other key promises that formed party's vision for Indian Railways
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
April 14, 2024
BJP's manifesto is a picture of the future and bigger changes: PM Modi in Mysuru
Today, Congress party is roaming around like the ‘Sultan’ of a ‘Tukde-Tukde’ gang: PM Modi in Mysuru
India will be world's biggest Innovation hub, creating affordable medicines, technology, and vehicles: PM Modi in Mysuru

नीमागेल्ला नन्ना नमस्कारागलु।

आज चैत्र नवरात्र के पावन अवसर पर मुझे ताई चामुंडेश्वरी के आशीर्वाद लेने का अवसर मिल रहा है। मैं ताई चामुंडेश्वरी, ताई भुवनेश्वरी और ताई कावेरी के चरणों में प्रणाम करता हूँ। मैं सबसे पहले आदरणीय देवगौड़ा जी का हृदय से आभार व्यक्त करता हूं। आज भारत के राजनीति पटल पर सबसे सीनियर मोस्ट राजनेता हैं। और उनके आशीर्वाद प्राप्त करना ये भी एक बहुत बड़ा सौभाग्य है। उन्होंने आज जो बातें बताईं, काफी कुछ मैं समझ पाता था, लेकिन हृदय में उनका बहुत आभारी हूं। 

साथियों

मैसुरु और कर्नाटका की धरती पर शक्ति का आशीर्वाद मिलना यानि पूरे कर्नाटका का आशीर्वाद मिलना। इतनी बड़ी संख्या में आपकी उपस्थिति, कर्नाटका की मेरी माताओं-बहनों की उपस्थिति ये साफ बता रही है कि कर्नाटका के मन में क्या है! पूरा कर्नाटका कह रहा है- फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार! फिर एक बार, मोदी सरकार!

साथियों,

आज का दिन इस लोकसभा चुनाव और अगले five years के लिए एक बहुत अहम दिन है। आज ही बीजेपी ने अपना ‘संकल्प-पत्र’ जारी किया है। ये संकल्प-पत्र, मोदी की गारंटी है। और देवगौड़ा जी ने अभी उल्लेख किया है। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अपना घर देने के लिए Three crore नए घर बनाएंगे। ये मोदी की गारंटी है कि हर गरीब को अगले Five year तक फ्री राशन मिलता रहेगा। ये मोदी की गारंटी है कि- Seventy Year की आयु के ऊपर के हर senior citizen को आयुष्मान योजना के तहत फ्री चिकित्सा मिलेगी। ये मोदी की गारंटी है कि हम Three crore महिलाओं को लखपति दीदी बनाएँगे। ये गारंटी कर्नाटका के हर व्यक्ति का, हर गरीब का जीवन बेहतर बनाएँगी।

साथियों,

आज जब हम Ten Year पहले के समय को याद करते हैं, तो हमें लगता है कि हम कितना आगे आ गए। डिजिटल इंडिया ने हमारे जीवन को तेजी से बदला है। बीजेपी का संकल्प-पत्र, अब भविष्य के और बड़े परिवर्तनों की तस्वीर है। ये नए भारत की तस्वीर है। पहले भारत खस्ताहाल सड़कों के लिए जाना जाता था। अब एक्सप्रेसवेज़ भारत की पहचान हैं। आने वाले समय में भारत एक्सप्रेसवेज, वॉटरवेज और एयरवेज के वर्ल्ड क्लास नेटवर्क के निर्माण से विश्व को हैरान करेगा। 10 साल पहले भारत टेक्नालजी के लिए दूसरे देशों की ओर देखता था। आज भारत चंद्रयान भी भेज रहा है, और सेमीकंडक्टर भी बनाने जा रहा है। अब भारत विश्व का बड़ा Innovation Hub बनकर उभरेगा। यानी हम पूरे विश्व के लिए सस्ती मेडिसिन्स, सस्ती टेक्नोलॉजी और सस्ती गाडियां बनाएंगे। भारत वर्ल्ड का research and development, R&D हब बनेगा। और इसमें वैज्ञानिक रिसर्च के लिए एक लाख करोड़ रुपये के फंड की भी बड़ी भूमिका होगी। कर्नाटका देश का IT और technology hub है। यहाँ के युवाओं को इसका बहुत बड़ा लाभ मिलेगा।

साथियों,

हमने संकल्प-पत्र में स्थानीय भाषाओं को प्रमोट करने की बात कही है। हमारी कन्नड़ा देश की इतनी समृद्ध भाषा है। बीजेपी के इस मिशन से कन्नड़ा का विस्तार होगा और उसे बड़ी पहचान मिलेगी। साथ ही हमने विरासत के विकास की गारंटी भी दी है। हमारे कर्नाटका के मैसुरु, हम्पी और बादामी जैसी जो हेरिटेज साइट्स हैं, हम उनको वर्ल्ड टूरिज़्म मैप पर प्रमोट करेंगे। इससे कर्नाटका में टूरिज्म और रोजगार के नए अवसर सृजित होंगे।

साथियों,

इन सारे लक्ष्यों की प्राप्ति के लिए भाजपा जरूरी है, NDA जरूरी है। NDA जो कहता है वो करके दिखाता है। आर्टिकल-370 हो, तीन तलाक के खिलाफ कानून हो, महिलाओं के लिए आरक्षण हो या राम मंदिर का भव्य निर्माण, भाजपा का संकल्प, मोदी की गारंटी होता है। और मोदी की गारंटी को सबसे बड़ी ताकत कहां से मिलती है? सबसे बड़ी ताकत आपके एक वोट से मिलती है। आपका हर वोट मोदी की ताकत बढ़ाता है। आपका हर एक वोट मोदी की ऊर्जा बढ़ाता है।

साथियों,

कर्नाटका में तो NDA के पास एचडी देवेगौड़ा जी जैसे वरिष्ठ नेता का मार्गदर्शन है। हमारे पास येदुरप्पा जी जैसे समर्पित और अनुभवी नेता हैं। हमारे HD कुमारास्वामी जी का सक्रिय सहयोग है। इनका ये अनुभव कर्नाटका के विकास के लिए बहुत काम आएगा।

साथियों,

कर्नाटका उस महान परंपरा का वाहक है, जो देश की एकता और अखंडता के लिए अपना सब कुछ बलिदान करना सिखाता है। यहाँ सुत्तुरू मठ के संतों की परंपरा है। राष्ट्रकवि कुवेम्पु के एकता के स्वर हैं। फील्ड मार्शल करियप्पा का गौरव है। और मैसुरु के राजा कृष्णराज वोडेयर के द्वारा किए गए विकास कार्य आज भी देश के लिए एक प्रेरणा हैं। ये वो धरती है जहां कोडगु की माताएं अपने बच्चों को राष्ट्रसेवा के लिए सेना में भेजने के सपना देखती है। लेकिन दूसरी तरफ कांग्रेस पार्टी भी है। कांग्रेस पार्टी आज टुकड़े-टुकड़े गैंग की सुल्तान बनकर घूम रही है। देश को बांटने, तोड़ने और कमजोर करने के काँग्रेस पार्टी के खतरनाक इरादे आज भी वैसे ही हैं। आर्टिकल 370 के सवाल पर काँग्रेस के राष्ट्रीय अध्यक्ष ने कहा कि कश्मीर का दूसरे राज्यों से क्या संबंध? और, अब तो काँग्रेस देश से घृणा की सारी सीमाएं पार कर चुकी है। कर्नाटका की जनता साक्षी है कि जो भारत के खिलाफ बोलता है, कांग्रेस उसे पुरस्कार में चुनाव का टिकट दे देती है। और आपने हाल में एक और दृश्य देखा होगा, काँग्रेस की चुनावी रैली में एक व्यक्ति ने ‘भारत माता की जय’ के नारे लगवाए। इसके लिए उसे मंच पर बैठे नेताओं से परमीशन लेनी पड़ी। क्या भारत माता की जय बोलने के लिए परमीशन लेनी पड़े। क्या ऐसी कांग्रेस को देश माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को कर्नाटका माफ करेगा। ऐसी कांग्रेस को मैसुरू माफ करेगा। पहले वंदेमातरम् का विरोध, और अब ‘भारत माता की जय’ कहने तक से चिढ़!  ये काँग्रेस के पतन की पराकाष्ठा है।

साथियों,

आज काँग्रेस पार्टी सत्ता के लिए आग का खेल खेल रही है। आज आप देश की दिशा देखिए, और काँग्रेस की भाषा देखिए! आज विश्व में भारत का कद और सम्मान बढ़ रहा है। बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। दुनिया में भारत का नाम हो रहा है कि नहीं हो रहा है। भारत का गौरव बढ़ रहा है कि नहीं बढ़ रहा है। हर भारतीय को दुनिया गर्व से देखती है कि नहीं देखती है। तो काँग्रेस के नेता विदेशों में जाकर देश को नीचा दिखाने के कोई मौके छोड़ते नहीं हैं। देश अपने दुश्मनों को अब मुंहतोड़ जवाब देता है, तो काँग्रेस सेना से सर्जिकल स्ट्राइक के सबूत मांगती है। आतंकी गतिविधियों में शामिल जिस संगठन पर बैन लगता है। काँग्रेस उसी के पॉलिटिकल विंग के साथ काम कर रहा है। कर्नाटका में तुष्टीकरण का खुला खेल चल रहा है। पर्व-त्योहारों पर रोक लगाने की कोशिश हो रही है। धार्मिक झंडे उतरवाए जा रहे हैं। आप मुझे बताइये, क्या वोटबैंक का यही खेल खेलने वालों के हाथ में देश की बागडोर दी जा सकती है। दी जा सकती है।

साथियों, 

हमारा मैसुरु तो कर्नाटका की कल्चरल कैपिटल है। मैसुरु का दशहरा तो पूरे विश्व में प्रसिद्ध है। 22 जनवरी को अयोध्या में 500 का सपना पूरा हुआ। पूरा देश इस अवसर पर एक हो गया। लेकिन, काँग्रेस के लोगों ने, उनके साथी दलों ने राममंदिर की प्राण-प्रतिष्ठा जैसे पवित्र समारोह तक पर विषवमन किया! निमंत्रण को ठुकरा दिया। जितना हो सका, इन्होंने हमारी आस्था का अपमान किया। कांग्रेस और इंडी अलायंस ने राममंदिर प्राण-प्रतिष्ठा का बॉयकॉट कर दिया। इंडी अलांयस के लोग सनातन को समाप्त करना चाहते हैं। हिन्दू धर्म की शक्ति का विनाश करना चाहते हैं। लेकिन, जब तक मोदी है, जब तक मोदी के साथ आपके आशीर्वाद हैं, ये नफरती ताक़तें कभी भी सफल नहीं होंगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

Twenty twenty-four का लोकसभा चुनाव अगले five years नहीं, बल्कि twenty forty-seven के विकसित भारत का भविष्य तय करेगा। इसीलिए, मोदी देश के विकास के लिए अपना हर पल लगा रहा है। पल-पल आपके नाम। पल-पल देख के नाम। twenty-four बाय seven, twenty-four बाय seven for Twenty Forty-Seven.  मेरा ten years का रिपोर्ट कार्ड भी आपके सामने है। मैं कर्नाटका की बात करूं तो कर्नाटका के चार करोड़ से ज्यादा लोगों को मुफ्त राशन मिल रहा है। Four lakh fifty thousand गरीब परिवारों को कर्नाटका में पीएम आवास मिले हैं। One crore fifty lakh से ज्यादा गरीबों को मुफ्त इलाज की गारंटी मिली है। नेशनल हाइवे के नेटवर्क का भी यहाँ बड़ा विस्तार किया गया है। मैसुरु से बेंगलुरु के बीच एक्सप्रेसवे ने इस क्षेत्र को नई गति दी है। आज देश के साथ-साथ कर्नाटका में भी वंदेभारत ट्रेनें दौड़ रही हैं। जल जीवन मिशन के तहत Eight Thousand से अधिक गांवों में लोगों को नल से जल मिलने लगा है। ये नतीजे बताते हैं कि अगर नीयत सही, तो नतीजे भी सही! आने वाले Five Years में विकास के काम, गरीब कल्याण की ये योजनाएँ शत प्रतिशत लोगों तक पहुंचेगी, ये मोदी की गारंटी है।

साथियों,

मोदी ने अपने Ten year साल का हिसाब देना अपना कर्तव्य माना है। क्या आपने कभी काँग्रेस को उसके sixty years का हिसाब देते देखा है? नहीं न? क्योंकि, काँग्रेस केवल समस्याएँ पैदा करना जानती है, धोखा देना जानती है। कर्नाटका के लोग इसी पीड़ा में फंसे हुये हैं। कर्नाटका काँग्रेस पार्टी की लूट का ATM स्टेट बन चुका है। खाली लूट के कारण सरकारी खजाना खाली हो चुका है। विकास और गरीब कल्याण की योजनाओं को बंद किया जा रहा है। वादा किसानों को मुफ्त बिजली का था, लेकिन किसानों को पंपसेट चलाने तक की बिजली नहीं मिल रही। युवाओं की, छात्रों की स्कॉलर्शिप तक में कटौती हो रही है। किसानों को किसान सम्मान निधि में राज्य सरकार की ओर से मिल रहे four thousands रुपए बंद कर दिये गए हैं। देश का IT hub बेंगलुरु पानी के घनघोर संकट से जूझ रहा है। पानी के टैंकर की कालाबाजारी हो रही है। इन सबके बीच, काँग्रेस पार्टी को चुनाव लड़वाने के लिए hundreds of crores रुपये ब्लैक मनी कर्नाटका से देशभर में भेजा जा रहा है। ये काँग्रेस के शासन का मॉडल है। जो अपराध इन्होंने कर्नाटका के साथ किया है, इसकी सजा उन्हें Twenty Six  अप्रैल को देनी है। 26 अप्रैल को देनी है।

साथियों,

मैसूरु से NDA के उम्मीदवार श्री यदुवीर कृष्णदत्त चामराज वोडेयर, चामराजनागर से श्री एस बालाराज, हासन लोकसभा से एनडीए के श्री प्रज्जवल रेवन्ना और मंड्या से मेरे मित्र श्री एच डी कुमार स्वामी,  आने वाली 26 अप्रैल को इनके लिए आपका हर वोट मोदी को मजबूती देगा। देश का भविष्य तय करेगा। मैसुरु की धरती से मेरी आप सभी से एक और अपील है। मेरा एक काम करोगे। जरा हाथ ऊपर बताकर के बताइये, करोगे। कर्नाटका के घर-घर जाना, हर किसी को मिलना और मोदी जी का प्रणाम जरूर पहुंचा देना। पहुंचा देंगे। पहुंचा देंगे।

मेरे साथ बोलिए

भारत माता की जय

भारत माता की जय

भारत माता की जय

बहुत बहुत धन्यवाद।