وزیراعظم ریاستِ چھتیس گڑھ کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے موقع پر چھتیس گڑھ رجت مہوتسو میں شرکت کریں گے
وزیراعظم سڑکوں، صنعت، صحت کی دیکھ بھال اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں 14260 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور سنگِ بنیاد رکھیں گے
وزیراعظم شہید ویر نارائن سنگھ میموریل اور قبائلی مجاہدین آزادی کے میوزیم کا افتتاح کریں گے
دل کی بات: وزیراعظم ان بچوں سے بات چیت کریں گے جن کا پیدائشی طور پر امراض قلب کا علاج کیا گیا ہے
وزیراعظم چھتیس گڑھ ودھان سبھا کی نئی عمارت کا افتتاح اور بھارت رتن سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے مجسمے کی نقاب کشائی کریں گے
وزیراعظم برہماکماریوں کے ’’شانتی شکھر‘‘ روحانی تعلیم اور مراقبے کے جدید مرکزکا افتتاح بھی کریں گے

وزیراعظم نریندر مودی یکم نومبر کو چھتیس گڑھ کا دورہ کریں گے۔

صبح تقریباً 10 بجے ‘دل کی بات’ پروگرام کے تحت، وہ سری ستیا سائی سنجیوانی اسپتال، نوا رائے پور اٹل نگر میں ‘گفٹ آف لائف’ تقریب کے دوران پیدائشی طور پر امراض قلب سے صحتیاب ہونے والے 2500 بچوں سے بات چیت  کریں گے۔

اس کے بعد، تقریباً 10:45 بجے، وزیراعظم برہماکماریوں کے “شانتی شکھر” روحانی تعلیم، امن اور مراقبے کے جدید مرکز کا افتتاح کریں گے۔

بعد ازاں، تقریباً 11:45 بجے، وزیراعظم نوا رائے پور اٹل نگر میں چھتیس گڑھ ودھان سبھا کی نئی عمارت میں بھارت رتن اور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جی کے مجسمے کی نقاب کشائی کریں گے۔ اس کے فوراً بعد وہ چھتیس گڑھ ودھان سبھا کی نئی عمارت کا دورہ اور افتتاح کریں گے، جو گرین بلڈنگ تصور کے تحت تعمیر کی گئی ہے اور اس کا کام کاج مکمل طور پر شمسی توانائی سے ہوگا اور یہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام سے بھی آراستہ ہے۔ اس موقع پر وہ اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔

بعد دوپہر تقریباً 1:30 بجے، وزیراعظم شہید ویر نارائن سنگھ میموریل اور قبائلی مجاہدین آزادی کے میوزیم کا افتتاح کریں گے اور اس کا دورہ کریں گے۔ یہ میوزیم ریاست کی قبائلی برادریوں کی شجاعت، قربانی اور حب الوطنی  کی تاریخی وراثت کو محفوظ اور اجاگر کرے گا۔ وزیراعظم میوزیم پورٹل اور ای بُک “آدی شوریہ” کا اجرا کریں گے، جو مجاہدین آزادی کو خراجِ عقیدت ہے اور میموریل کے مقام پر  شہید ویر نارائن سنگھ کے گھوڑے پر سوار مجسمے کی نقاب کشائی بھی کریں گے۔

اس کے بعد، تقریباً 2:30 بجے، وزیراعظم چھتیس گڑھ رجت مہوتسو میں شرکت کریں گے، جو ریاست کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کی تقریب ہے۔ وزیراعظم 14260 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی اور یکسر تبدیلی والے پروجیکٹوں کا افتتاح  کریں گے اور سنگِ بنیاد رکھیں گے، جن کا تعلق سڑکوں، صنعت، صحت کی دیکھ بھال اور توانائی جیسے اہم شعبوں سے ہے۔

دیہی روزگار کو مضبوط بنانے کے مقصد سے وزیر اعظم چھتیس گڑھ کے نو اضلاع میں اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی ) کے 12 نئے بلاکس کا افتتاح کریں گے۔ وزیر اعظم 3.51 لاکھ مکمل شدہ مکانات کے گرہ پرویش میں بھی شرکت کریں  گے اور پردھان منتری آواس یوجنا (دیہی) کے تحت 3 لاکھ مستفیدین کو قسط کے طور پر 1200 کروڑ روپے جاری کریں گے، جس سے ریاست بھر کے دیہی کنبوں کو باوقاررہائش اور ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے وزیر اعظم پاتھل گاؤں–کنکری سے چھتیس گڑھ–جھارکھنڈ سرحد تک چار لین گرین فیلڈ ہائی وے کی سنگ بنیاد رکھیں گے، جو بھارت مالا پریوجنا کے تحت نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی ) کے ذریعے تقریباً 3150 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔ یہ ہم کوریڈور کوربا، رائے گڑھ، جش پور، رانچی اور جمشیدپور کی اہم کوئلہ کانوں، صنعتی علاقوں اور اسٹیل پلانٹس کو مربوط کرے گا اور وسطی بھارت کو مشرقی خطے کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے علاقائی تجارت اور ترقی کو فروغ دینے والا ایک اہم معاشی راستہ ثابت ہوگا۔

اس کے علاوہ، وزیر اعظم این ایچ-130ڈی (نرائن پور–کستورمیٹا–کُٹُل–نیلانگور–مہاراشٹر بارڈر) کی تعمیر اور اسے جدید طرز پر ڈھالنے کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جو بستر اور نرائن پور اضلاع کے مختلف حصوں پر محیط ہے۔ وزیر اعظم این ایچ-130سی (مدانگ مُدا–دیوبھوگ–اڈیشہ بارڈر) کو پختہ شولڈرز کے ساتھ دو لین والی شاہراہ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا افتتاح بھی کریں گے۔ یہ منصوبے قبائلی اور دور دراز علاقوں میں سڑک رابطے کو نمایاں طور پر بہتر بنائیں گے، صحت، تعلیم اور بازاروں تک رسائی میں سہولت فراہم کریں گے اور پسماندہ علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دیں گے۔

بجلی کے شعبے میں، وزیر اعظم بین علاقائی ایسٹرن ریجن–ویسٹرن ریجن انٹرکنیکشن پروجیکٹ کا افتتاح کریں گے، جس سے مشرقی اور مغربی گرڈز کے درمیان 1600 میگا واٹ تک بجلی کی ترسیلی صلاحیت بڑھ جائے گی، گرڈ کی مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور خطے میں بجلی کی مستحکم فراہمی یقینی ہوگی۔

اس کے ساتھ ہی، وزیر اعظم توانائی کے شعبے کے مختلف منصوبوں کا افتتاح کریں گے ، سنگِ بنیاد رکھیں گے اور ملک کے نام وقف کریں گے، جن کی مجموعی مالیت 3750 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان کا مقصد چھتیس گڑھ کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے  کو مضبوط بنانا، بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا اور ترسیلی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

ریفارمڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس) کے تحت تقریباً 1860 کروڑ روپے کے کام وزیر اعظم کے ذریعہ وقف کیے جائیں گے، جن میں نئی بجلی لائنوں کی تعمیر، فیڈر بائی فرکیشن، ٹرانسفارمرز کی تنصیب، کنڈکٹرز کی تبدیلی اور کم وولٹیج نیٹ ورک کی مضبوطی شامل ہے تاکہ دیہی اور زرعی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بہتر ہو۔ وزیر اعظم 9 نئے پاور سب اسٹیشنز کا بھی افتتاح کریں گے، جو تقریباً 480 کروڑ روپے کی لاگت سے رائے پور، بلاسپور، درگ، بیمیتارا، گریابند اور بستر جیسے اضلاع میں قائم کیے گئے ہیں۔ ان سے 15 لاکھ سے زائد لوگوں کو مستحکم وولٹیج، بجلی کی کٹوتی میں کمی اور دور دراز و قبائلی علاقوں میں بھی قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی یقینی ہوگی۔ اس کے علاوہ، تقریباً 1415 کروڑ روپے کے نئے سب اسٹیشنز اور ترسیلی منصوبوں کا سنگِ بنیاد بھی رکھا جائے گا، جن میں کانکیر اور بلود بازار–بھٹاپارا میں بڑے منصوبے شامل ہیں، تاکہ ریاست میں بجلی کی رسائی اور معیار مزید بہتر بنایا جاسکے۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کے شعبے میں، وزیر اعظم رائے پور میں ایچ پی سی ایل کے جدید پٹرولیم آئل ڈپو کا افتتاح کریں گے، جو 460 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور 54000 کلو لیٹر پٹرول، ڈیزل اور ایتھنول ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سہولت چھتیس گڑھ اور پڑوسی ریاستوں کے لیے ایندھن کا ایک بڑا مرکز ثابت ہوگی اور ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ 10000 کلو لیٹر ایتھنول اسٹوریج کے ساتھ، یہ ڈپو ایتھنول کی آمیزش کے پروگرام کو بھی تقویت دے گا، زیر زمین ایندھن پر انحصار کم کرے گا اور صاف ستھری توانائی کے فروغ میں مددگار ہوگا۔

وزیر اعظم تقریباً 1950 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ 489 کلومیٹر لمبی ناگپور–جھارسگڈا نیچرل گیس پائپ لائن بھی ملک کے نام وقف کریں گے۔ یہ منصوبہ بھارت کے انرجی مکس میں قدرتی گیس کے حصہ کو 15 فیصد تک بڑھانے اور "ون نیشن، ون گیس گرِڈ" کے وژن کو حاصل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہ پائپ لائن چھتیس گڑھ کے 11 اضلاع کو نیشنل گیس گرِڈ سے مربوط کرے گی، صنعتی ترقی کو فروغ دے گی اور خطے کو صاف ستھری  اور سستی توانائی فراہم کرے گی۔

صنعتی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے، وزیر اعظم ایک ضلع جنجگیر–چامپا کے سیلاڈیہ–گٹوا–بیرا میں اور دوسرا راجناندگاؤں کے بیجلے تالا میں دو اسمارٹ انڈسٹریل ایریاز کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم نوّا رائے پور اٹل نگر کے سیکٹر–22 میں ایک فارماسیوٹیکل پارک کا سنگِ بنیاد بھی رکھیں گے۔ یہ پارک ادویات اور صحت سے متعلق مصنوعات کی تیاری کے لیے ایک مخصوص زون کے طور پر کام کرے گا۔

صحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے، وزیر اعظم پانچ نئے سرکاری میڈیکل کالجز — منندر گڑھ، کبیردھام، جنجگیر–چامپا اور گیدم (دانتے واڑہ) میں اور بلاسپور میں گورنمنٹ آیوش کالج و اسپتال کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ یہ منصوبے میڈیکل تعلیم کو مضبوط کریں گے، صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھائیں گے اور چھتیس گڑھ میں روایتی طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects

Media Coverage

India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog
June 11, 2026
Vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village: PM
PM calls India's 70 crore youth its asset, urges States to transform this Demographic dividend into Development dividend
PM encourages States to create opportunities for youth and MSMEs and actively attract investments from countries with which India has signed FTAs
States to strengthen ODOP and leverage opportunities in defence manufacturing: PM
PM emphasizes that AI should be viewed as an opportunity and people should be equipped with future ready skills
PM highlights the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud
PM draws attention to concerns arising from El Niño and urges States to conserve water and promote natural farming
CMs/LGs/Administrators congratulate PM Modi on completing 12 years in office
States express solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience
All States and 5 UTs attend meeting; first time when CMs of all 28 States participate
Theme of meeting : Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog at Rashtrapati Bhavan Cultural Centre, New Delhi, earlier today. This year’s theme was Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047. It was attended by Chief Ministers, Lt. Governors and Administrators representing 28 States and 5 UTs. This was the first time when Chief Ministers of all 28 States participated in the Governing Council Meeting of NITI Aayog.

Prime Minister noted that at a time when many major economies are facing uncertainty and economic challenges, India’s growth story continues to inspire the world. He emphasized the need to further strengthen the nation’s resolve towards self-reliance and highlighted the importance of adopting and implementing global best practices, particularly in the renewable energy sector.

Underscoring the importance of cooperative federalism, Prime Minister stated that the Centre and the States must work together to achieve the goal of a Viksit Bharat. He stressed that the vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village.

Highlighting the strength of India’s demographic profile, Prime Minister observed that the country’s youth constitute its greatest asset, with nearly 70 crore Indians below the age of 25 years. Calling this a demographic dividend, he urged States to focus on transforming it into a development dividend through education, skilling and capacity-building initiatives that prepare young people for future opportunities and challenges.

Referring to India’s recently concluded trade agreements with several countries, Prime Minister encouraged States to create opportunities for youth and MSMEs and to equip stakeholders to effectively leverage the benefits arising from these agreements. He also urged States to actively attract investments from partner countries.

Emphasizing women-led development, Prime Minister called upon States to work towards increasing the number of Lakhpati Didis from 3 crore to 6 crore and stressed the importance of ensuring a safe and secure environment for Nari Shakti.

Prime Minister urged States to focus on One District One Product (ODOP) initiatives and develop export-oriented strategies around it. He also identified defence manufacturing as an emerging sector where India is establishing a distinct identity and encouraged States to formulate policies to leverage the opportunities arising from its growth.

Prime Minister highlighted the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud through preventive measures, awareness campaigns and effective governance.

Prime Minister also drew attention to concerns arising from El Niño conditions and appealed to States to promote water conservation and encourage natural and organic farming practices. He noted that the purchase of 11 lakh tonnes of organic manure by farmers during the current Kharif season reflected growing confidence in sustainable agriculture.

Prime Minister emphasized the need to evaluate progress at the district level, particularly through aspirational district parameters. Prime Minister suggested that on similar lines, 100 districts should be identified in the field of agriculture to bring positive results. He urged the States to take lead in this pursuit so that a phenomenal change can be achieved through the aspirational approach.

Prime Minister emphasised the need for a monitoring framework and targeted 100-day and five-year goals towards achieving the vision of Viksit Bharat@2047.

Highlighting the importance of good governance, transparency, and infrastructure for attracting investment, he urged States to focus on branding, ease of doing business, and emerging opportunities in sectors such as data centres and artificial intelligence. He emphasized that AI should be viewed as an opportunity and called for greater efforts to equip people with the skills required for the future economy.

The Chief Ministers/Lt. Governors/Administrators congratulated Prime Minister Modi on completing 12 years in his office. They also expressed solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience with respect to energy requirements, and sustain its growth trajectory.

Prime Minister noted that the discussions were constructive and reflected the aspirations, hopes, experiences, best practices, and challenges of the States. Prime Minister expressed his gratitude to all the CMs, LGs and Administrators for participating in the meeting and expressed confidence that Together, through cooperation, innovation, and a shared commitment to development, India can accelerate its journey towards a Viksit Bharat by 2047.