لگ بھگ چار دہائیوں سے زیرالتوا یہ پروجیکٹ ، چار سال میں ہی مکمل کرلیا گیا ہے
اس پروجیکٹ کی تکمیل، قومی اہمیت کے حامل طویل عرصہ سے زیر التوا پروجیکٹوں کو ترجیح دینے سے متعلق وزیراعظم کے ویژن اور کسانوں کی فلاح وبہبود اور تفویض اختیارات کے تئیں ان کی عہد بندی کانتیجہ ہے
پروجیکٹ کی بدولت مشرقی اترپردیش کے 6200 سے زیادہ گاوؤں میں 14 لاکھ ہیکیٹر زرعی آراضی کی آبپاشی کے لئے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا اور لگ بھگ 29 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا
اب کسان، اپنے خطے کے زرعی امکانات کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لاسکیں گے
پروجیکٹ کے تحت پانچ دریاؤں گھاگھرا، سریو، راپتی، بن گنگا اور روہنی کو آپس میں جوڑنا بھی شامل ہے

وزیراعظم جناب نریندر مودی 11 دسمبر کو دوپہر ایک بجے کے قریب اترپردیش میں بلرامپور کادورہ کریں گے اور سریو نہر قومی پروجیکٹ کاافتتاح کریں گے۔

مذکورہ پروجیکٹ پر کام 1978 میں شروع ہوا تھا لیکن بجٹی امداد میں تسلسل، بین محکمہ جاتی اشتراک اور خاطر خواہ نگرانی میں کمی کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوتی چلی گئی اور تقریباً چار دہائیوں کے بعد بھی پروجیکٹ مکمل نہیں کیاجاسکا۔ وزیراعظم کے کسانوں کی فلاح وبہبود اور تفویض اختیارات اور طویل عرصہ سے زیرالتوا قومی اہمیت کے حامل پروجیکٹوں کو ترجیح دینے کے ویژن کی وجہ سے اس پروجیکٹ پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

اس لئے 2016 میں اس پروجیکٹ کو ایک مقررہ وقت میں مکمل کرنےکے ہدف کے ساتھ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے تحت لایا گیا۔ اس کوشش میں، نئی نہروں کی تعمیر کی غرض سے نئی اراضی کی حصولیابی اور پروجیکٹ میں بنیادی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ اراضی کی حصولیابیوں سے متعلق زیرالتوا مقدمات کو نمٹانے کے مقصد سے اختراعی طریق کار تلاش کئے گئے۔ پروجیکٹ پر از سر نو توجہ مرکوز کئے جانے کے نتیجے میں یہ پروجیکٹ محض لگ بھگ چار سال میں ہی مکمل ہوگیا۔

 سریو نہر قومی پروجیکٹ 9800 کروڑ روپے سے زیادہ کی  کُل لاگت کے ساتھ تعمیر کیاگیا ہے۔ جس میں 4600 کروڑ روپے سے زیادہ گزشتہ چار سال میں دستیاب کرائے گئے تھے۔ اس پروجیکٹ کے تحت پانچ دریاؤں، گھاگھرا، سریو، راپتی، بن گنگا اور روہنی کو آپس میں جوڑنا بھی شامل ہے تاکہ خطے کے آبی وسائل کوزیادہ سے زیادہ بروئے کار لایاجاسکے۔

 اس پروجیکٹ کی بدولت14 لاکھ سے زیادہ زرعی اراضی کی آبپاشی کے لئے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایاجاسکے گا اور 6200 سے زیادہ گاؤوں کے 29 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ اس سے مشرقی اترپردیش کے نو ضلعوں، بہرائچ، شراوستی، بلرامپور، گونڈہ، سدھارتھ نگر، بستی، سنت کبیر نگر، گورکھپور اور مہاراج گنج کو فائدہ پہنچے گا۔ خطے کے کسانوں کو جو پروجیکٹ کی تکمیل میں ضرورت سے زیادہ تاخیر ہونےکی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے، اب آبپاشی سے متعلق بہتر بنائی گئی گنجائشوں سے زبردست فائدہ ہوگا۔

اب یہ کسان بڑے پیمانے پر فصلیں اُگا سکیں گے اور خطے کے زراعت سے متعلق مکانات کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لاسکیں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.