پی ایم ۔ ڈی ایچ ایم استعمال میں آسان اور ہموارآن لائن پلیٹ فارم تیار کرے گا جوڈجیٹل صحتی ایکو نظام کے تحت صحت سے وابستہ دیگر پورٹل کے درمیان کام کاج میں آسانی پیدا کرے گا

ایک تاریخی پہل قدمی کے تحت، وزیر اعظم جناب نریندر مودی 27 ستمبر کو صبح 11 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے پردھان منتری ڈجیٹل مشن (پی ایم۔ ڈی ایچ ایم) کا آغاز کریں گے۔ بعد ازاں، وزیر اعظم اس موقع پر خطاب بھی کریں گے۔

وزیر اعظم نے 15 اگست 2020 کو لال قلعہ کی فصیل سے قومی ڈجیٹل صحتی مشن  کے پائلٹ پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا۔ فی الوقت، پی ایم۔ ڈی ایچ ایم کو مرکز کے زیر انتظام چھ علاقوں میں شروعاتی مرحلے کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔

پی ایم۔ ڈی ایچ ایم کا ملک گیر سطح پر آغاز این ایچ اے کی آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم۔ جے اے وائی) کی تیسری سالگرہ کے ساتھ ہی کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر صحت بھی موجود رہیں گے۔

پردھان منتری ڈجیٹل صحتی مشن (پی ایم۔ ڈی ایچ ایم) کے بارے میں

جن دھن ،آدھار اور موبائل (جے اے ایم) تثلیث اور حکومت کی دیگر ڈجیٹل پہل قدمیوں کی شکل میں رکھی گئی بنیادوں پر، پی ایم۔ ڈی ایچ ایم صحت سے متعلق شخصی معلومات کا تحفظ، رازداری، اور انفرادیت کو یقینی بناتے ہوئے ایک وسیع سلسلے کے پروویژن کے توسط اعداد و شمار، اطلاعات اور معلومات کا ایک آسان آن لائن پلیٹ تیار کرے گا جس سے بنیادی ڈھانچہ خدمات کے ساتھ ساتھ انٹر آپریبل اور معیارات پر مبنی ڈجیٹل نظام کا فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ اس مہم کے تحت شہریوں کی رضامندی سے صحتی ریکارڈ تک رسائی اور باہمی تبادلے کو ممکن بنایا جا سکے گا۔

پی ایم۔ ڈی ایچ ایم کے کلیدی عناصر میں ہر ایک شہری کے لئے ایک صحتی آئی ڈی شامل ہے جو ان کے صحت کھاتے کے طور پر بھی کام کرے گی، جس سے انفرادی صحتی ریکارڈ کو موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے مربوط کیا جا سکتا ہے اور دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت، حفظانِ صحت پیشہ واران رجسٹری (ایچ پی آر) اور حفظانِ صحت سہولیات رجسٹریز (ایچ ایف آر)جدید اور روایتی نظام ادویہ دونوں ہی شعبوں میں تمام صحتی خدمات فراہم کاروں کے لئے کاروبار میں آسانی کو بھی یقینی بنائیں گے۔

مہم کے ایک حصے کے طور پر تیار کیا گیا پی ایم۔ ڈی ایچ ایم سینڈ باکس، تکنالوجی اور پروڈکٹ جانچ کے لئے ایک ڈھانچے کے طور پر کام کرے گا اور ایسے نجی اداروں کو بھی تعاون فراہم کرے گا، جو قومی ڈجیٹل صحتی ایکونظام کا حصہ بنتے ہوئے صحتی اطلاع فراہم کار یا صحتی اطلاع استعمال کنندہ  اور پی ایم۔ ڈی ایچ ایم کے تیار بلاکس کے ساتھ مہارت سے خود کو مربوط کرنے کی منشا رکھتے ہیں۔

ادائیگی کے معاملے میں انقلابی تبدیلی کے طور پر یونیفائیڈ پے منٹس انٹرفیس کے ذریعہ اداکیے گئے کردار کی طرح یہ مہم ڈجیٹل صحتی ایکونظام کے اندر  بھی انٹر آپریبلٹی لائے گی اور اس کے توسط سے شہری محض ایک کلک کے ذریعہ صحتی سہولتوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III till March 2028
April 18, 2026

The Union Cabinet, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has given its approval for the continuation of Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana-III (PMGSY-III) beyond March 2025 upto March 2028. It involves consolidation of Through Routes and Major Rural Links connecting habitations to Gramin Agricultural Markets (GrAMs), Higher Secondary Schools and Hospitals. The revised outlay of the scheme will be Rs.83,977 crore.

The Cabinet further, amongst other things, approved the following:

  • Extension of timeline till March 2028 for completion of roads and bridges in plain areas and roads in hilly areas.
  • Extension of timeline till March 2029 for completion of bridges in hilly areas.
  • Works sanctioned before 31.03.2025 but un-awarded till now may be taken up for tender/award.
  • Long Span Bridges (LSBs) (161 Nos. with estimated cost of Rs.961 crore) pending for sanction but lying on the alignment of already sanctioned roads may be sanctioned and tendered/awarded.
  • Revision of outlay to Rs. 83,977 crore from original outlay of Rs.80,250 crore.

Benefits:

The extension of the timeline of PMGSY-III will enable the full realization of its intended socio-economic benefits by ensuring completion of targeted upgradation of rural roads. It will significantly boost the rural economy and trade by enhancing market access for agricultural and non-farm products, reducing transportation time and costs, and thereby improving rural incomes. Improved connectivity will facilitate better access to education and healthcare institutions, ensuring timely delivery of essential services, particularly in remote and underserved areas.

The continued implementation will also generate substantial employment opportunities, both directly through construction activities and indirectly by promoting rural enterprises and services. Overall, the extension will contribute to inclusive and sustainable development by bridging the rural-urban divide and advancing the vision of Viksit Bharat 2047.