کرتویہ بھون میں مختلف وزارتوں اور محکموں کو ایک ساتھ لانے سےکارکردگی، اختراع اور تعاون کو فروغ ملے گا
نئی عمارت جدید گورننس انفراسٹرکچر کی مثال ہو گی
یہ کچرے کے صفر اخراج کے بندوبست ، احاطے کے اندر ٹھوس کچرے کی پروسیسنگ اور ری سائیکل شدہ تعمیراتی سازوسامان کے وسیع استعمال کے ذریعے ماحولیات کے تئیں شعور کو فروغ دے گی
توانائی کی کارکردگی اور پانی کے بندوبست پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 6 اگست کو دوپہر تقریباً 12 بج کر 15 منٹ پر دہلی کے کرتویہ پتھ پر تعمیر کردہ   کرتویہ بھون کا دورہ کریں گے اور اس کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم تقریباً 6:30 بجے کرتویہ پتھ پر ایک عوامی پروگرام سے خطاب کریں گے۔

یہ وزیر اعظم کے جدید، مؤثر اور شہریوں پر مرکوز گورننس کے وژن کے لیے حکومت کے عزم میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ کرتویہ بھون - 03، جس کا افتتاح کیا جا رہا ہے، سنٹرل وسٹا کی وسیع تر تبدیلی کا  ایک حصہ ہے۔ یہ آئندہ کی  مشترکہ مرکزی سکریٹریٹ  کی کئی عمارتوں میں سے پہلی عمارت ہے ، جس کا مقصد انتظامی عمل کو ہموار کرنا اور بہتر حکمرانی کو فعال کرنا ہے۔

یہ منصوبہ حکومت کے وسیع تر انتظامی اصلاحات کے ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارتوں کو ایک ساتھ لانے اور جدید بنیادی ڈھانچے کو اپنانے سے، مشترکہ مرکزی سکریٹریٹ وزارتوں کے درمیان تال میل اور  رابطہ کاری کو بہتر بنائے گا، پالیسی پر عمل درآمد کو تیز کرے گا اور ایک ذمہ دار انتظامی ایکو نظام کو فروغ دے گا۔

فی الحال، کئی کلیدی وزارتیں پرانی عمارتوں جیسے شاستری بھون، کرشی بھون، ادیوگ بھون اور نرمان بھون سے کام کرتی ہیں، جو کہ 1950 اور 1970 کی دہائی کے درمیان تعمیر کی گئی تھیں، جو اب ڈھانچہ جاتی طور پر قدیم  ہیں اوران میں بہترانداز میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ نئی عمارت میں موجود سہولتوں سے مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی آئے گی، کام کاج کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، عملے کی فلاح و بہبود میں بہتری آئے گی اور مجموعی خدمات کی فراہمی میں بھی  اضافہ ہوگا۔

کرتویہ بھون - 03 کو اس وقت دہلی میں پھیلی ہوئی مختلف وزارتوں اور محکموں کو ایک ساتھ لا کر کارکردگی، اختراع اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ایک جدید ترین آفس کمپلیکس ہو گا جس کا رقبہ تقریباً 1.5 لاکھ مربع میٹر کے دو تہہ خانے اور سات منزل (گراؤنڈ + 6 منزل) ہوں گی۔ اس میں وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت دیہی ترقیات، ایم ایس ایم ای، ڈی او پی ٹی، پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارتوں/محکموں اور پرنسپل سائنسی مشیر (پی ایس اے) کے دفاتر ہوں گے۔

نئی عمارت جدید گورننس انفراسٹرکچر کی مثال ہو گی جس میں آئی ٹی کے لیے تیار اور محفوظ کام کی جگہیں، شناختی کارڈ پر مبنی رسائی کنٹرول، مربوط الیکٹرانک نگرانی اور ایک مرکزی کمان سسٹم شامل ہے۔ یہ پائیداری میں بھی نمایاں ہوگا، اور اس کا مقصد ڈبل گلیزڈ ، روف ٹاپ سولر، سولر واٹر ہیٹنگ، جدید ایچ ای اے سی (ہیٹنگ، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشنگ) سسٹمز اور بارش کے پانی کے جمع کرنے کے  ساتھ جی آر آئی ایچ اے-4کی درجہ بندی حاصل کرنا ہے۔ یہ سہولت کچرے کے صفر اخراج کے بندوبست، احاطے میں ٹھوس کچرے کی پروسیسنگ، ای وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور ری سائیکل شدہ تعمیراتی سازوسامان کے وسیع استعمال کے ذریعے ماحولیات کے تئیں شعور کو فروغ دے گی۔

کچرے کے صفر اخراج کے کیمپس کے طور پر، کرتویہ بھون میں پانی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کو پورا کرنے کے لیے استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنایاجائےگا ۔ عمارت میں ری سائیکل شدہ تعمیراتی اور انہدامی سامان کو چنائی اور پیونگ بلاکس میں استعمال کیا جاتا ہے، مٹی کے اوپری استعمال اور ڈھانچہ جاتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ہلکے وزن والے خشک پارٹیشنز، اور احاطے کے اندرٹھوس کچرے کے بندوبست  سسٹم کی خصوصیات ہیں۔

عمارت کو 30فیصد کم بجلی استعمال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عمارت کو ٹھنڈا رکھنے اور باہر کے شوروغل  کو کم کرنے کے لیے اس میں شیشے کی خصوصی کھڑکیاں لگائی گئی ہیں۔ توانائی کی بچت کرنے والی ایل ای ڈی لائٹس، ضرورت نہ ہونے پر روشنیوں کو بند کرنے والے سینسرز، بجلی بچانے والی اسمارٹ لفٹیں، اور بجلی کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے جدید نظام توانائی کی بچت میں مدد کرے گا۔ کرتویہ بھون - 03 کی چھت پر لگے سولر پینل ہر سال 5.34 لاکھ یونٹ سے زیادہ بجلی پیدا کریں گے۔ سولر واٹر ہیٹر روزانہ گرم پانی کی ایک چوتھائی سے زیادہ ضرورت پوری کریں گے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشن بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.