وزیر اعظم گاندھی نگر راجدھانی اور وریٹھا کے درمیان دو نئی ٹرینوں یعنی گاندھی نگر راجدھانی – وارانسی سپرفاسٹ ایکسپریس اور ایم ای ایم یو سروس ٹرینوں کو بھی جھنڈی دکھاکر روانہ کریں گے۔

نئی دہلی،  14/جولائی 2020 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی 16 جولائی 2021 کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ گجرات میں ریلوے کے متعدد اہم پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور متعدد پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ جناب مودی تقریب کے دوران گجرات سائنس سٹی میں ایکوئیٹکس اینڈ روبوٹکس گیلری اور نیچر پارک کا بھی افتتاح کریں گے۔

ریلوے کے ان پروجیکٹوں میں ازسرنو ڈیولپ کیا گیا گاندھی نگر راجدھانی ریلوے اسٹیشن، گیج تبدیل شدہ اور برق باری سے لیس کی گئی مہیسانا – وریٹھا لائن اور پہلی مرتبہ برق کاری سے لیس کیا گیا سریندر نگر – پیپاواو سیکشن شامل ہیں۔

وزیر اعظم گاندھی نگر راجدھانی اور وریٹھا کے درمیان دو نئی ٹرینوں یعنی گاندھی نگر راجدھانی – وارانسی سپرفاسٹ ایکسپریس اور ایم ای ایم یو سروس ٹرینوں کو بھی جھنڈی دکھاکر روانہ کریں گے۔

گاندھی نگر راجدھانی ریلوے اسٹیشن کا ری ڈیولپمنٹ

گاندھی نگر راجدھانی ریلوے اسٹیشن کا اپ گریڈیشن 71 کروڑ روپئے کی لاگت سے کیا گیا ہے۔ اسٹیشن کو جدید ہوائی اڈوں کی طرح عالمی معیار کی سہولتیں دستیاب کرائی گئی ہیں۔ اس اسٹیشن پر ایک خصوصی ٹکٹ بکنگ کاؤنٹر، ریمپ، لفٹ، وقف پارکنگ اسپیس وغیرہ کی سہولت دستیاب کراکر اسے دویانگ جنوں کے استعمال کے لئے سازگار اسٹیشن بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پوری عمارت کا ڈیزائن گرین بلڈنگ ریٹنگ فیچرس کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ جدید ترین ایسٹیریر فرنٹ میں 32 تھیم والی روزمرہ کی تھیم پر مبنی لائٹنگ ہوگی۔ اسٹیشن پر ایک فائیو اسٹار ہوٹل بھی ہوگا۔

مہیسانا – وریٹھا گیج تبدیل شدہ اور برق کاری سے لیس براڈ گیج لائن (وڈنگر اسٹیشن سمیت)

293 کروڑ روپئے کی لاگت سے 55 کلومیٹر طویل مہیسانا – وریٹھا گیج تبدیلی کا کام اور ساتھ ہی ساتھ 74 کروڑ روپے کی لاگت سے برق کاری کا کام مکمل کیا جاچکا ہے۔ اس میں کل 10 اسٹیشن ہیں، جن میں وِس نگر، وڈ نگر، کھیرالو اور وریٹھا کی چار نوتعمیر شدہ اسٹیشن عمارتیں بھی شامل ہیں۔ اس سیکشن پر ایک اہم اسٹیشن وڈنگر ہے، جسے وڈنگر – موڈھیرا – پاٹن ہیریٹیج سرکٹ کے تحت ڈیولپ کیا گیا ہے۔ وڈنگر اسٹیشن کی عمارت کو پتھر کی نقاشی کا استعمال کرکے خوبصورت طریقے سے ڈیزائن کیا گیا ہے اور آس پاس سرکولیٹنگ ایریا میں لینڈ اسکیپ جیسی سجاوٹ کی گئی ہے۔ وڈنگر اب ایک براڈ گیج لائن کے ذریعہ جڑ جائے گا اور اب اس سیکشن پر پسنجر اور مال گاڑیوں کو بحسن و خوبی چلایا جاسکے گا۔

سریندر نگر – پیپاواو سیکشن کی برق کاری

یہ پروجیکٹ کل 289 کروڑ روپئے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ پالن پور، احمد آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے پیپاواو بندرگاہ تک بغیر کسی رکاوٹ کے مال ڈھلائی کی بلاروک ٹوک سہولت دستیاب کرائے گا۔ لوکو تبدیلی  کے سبب روکے جانے کو ٹالتے ہوئے اب یہ احمدآباد، ویرم گام اور سریندر نگر کے یارڈوں میں  بھیڑ بھاڑ کو کم کرے گا۔

ایکوئیٹکس گیلری

اس جدید ترین عوامی ایکوئیٹکس گیلری میں دنیا کے مختلف علاقوں سے متعلق آبی انواع کے لئے مخصوص مختلف ٹینک ہیں، جن میں ایک اہم ٹینک بھی شامل ہے، جس میں پوری دنیا کی اہم شارک مچھلیاں ہیں۔ یہاں ایک انوکھی 28 میٹر طویل واک وے سرنگ بھی ہے، جو ایک منفرد احساس دیتی ہے۔

روبوٹکس گیلری

یہ روبوٹکس گیلری دراصل روبوٹک تکنیک کی ترقی کو نمایاں کرنے والی ایک انٹر ایکٹیو گیلری ہے، جو یہاں آنے والے لوگوں کو روبوٹکس کے مسلسل مائل بہ ترقی شعبے کو متعارف کرانے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اس کے داخلہ دروازے پر ٹرانسفر روبوٹ کا ایک عظیم مجسمہ لگایا گیا ہے۔ اس گیلری میں دلچسپی کی ایک خاص چیز ایک ریسپشن ہیومنائڈ روبوٹ ہے جو خوشی، حیرت اور جوش جیسے جذبات کو ظاہر کرتے ہوئے جہاں آنے والے لوگوں سے کمیونی کیٹ کرتا ہے۔ اس گیلری کے مختلف منزلوں پر الگ الگ شعبوں کے روبوٹ رکھے گئے ہیں، جو طب، زراعت، خلا، دفاع اور روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اپلی کیشنز کو ظاہر کرتے ہیں۔

نیچر پارک

اس پارک میں مسٹ گارڈن، چیس گارڈن، سیلفی پوائنٹ، اسکلپچر پارک اور آؤٹ ڈور میز سمیت متعدد خوب صورت خصوصیات شامل ہیں۔ اس میں بچوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا دلچسپ بھول بھلیاں بھی ہے۔ اس پارک میں سائنسی معلومات سے بھرپور میمتھ، ٹیرر برڈ، سیبر ٹوتھ لاین جیسے کمیاب جانوروں کے مجسّمے بھی نظر آتے ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM-KISAN crosses ₹4.27 lakh crore disbursal, over 9.35 crore farmers benefit

Media Coverage

PM-KISAN crosses ₹4.27 lakh crore disbursal, over 9.35 crore farmers benefit
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Regional Connectivity Scheme – Modified UDAN with a total outlay of Rs.28,840 crore
March 25, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi has approved the launch and implementation of the Regional Connectivity Scheme – Modified UDAN for a period of ten years from FY 2026-27 to FY 2035-36 with a total outlay of Rs.28,840 crore with the budgetary support of the Government of India.

Impact:

  • Enhanced regional air connectivity to underserved and unserved areas
  • Boost to economic growth, trade and tourism in Tier-2 and Tier-3 cities.
  • Support affordable air travel for common citizens.
  • Improved emergency response and healthcare access in remote and hilly regions.
  • Greater viability and sustainability for regional aerodromes and airline operators.
  • Promotion of the indigenous aerospace sector under Atmanirbhar Bharat.

  • Progress towards Viksit Bharat 2047 goal.

The key components of the scheme are as under:

(a) Development of Aerodromes (CAPEX)

Under the Modified UDAN Scheme, it is proposed to develop 100 airports from existing unserved airstrips to enhance regional connectivity, in line with the Viksit Bharat 2047 vision of infrastructure expansion and transforming India into a globally competitive aviation ecosystem with a total outlay of Rs.12,159 crore over the next eight years.

(b) Operation & Maintenance (O&M) of Aerodromes

Given the high recurring O&M costs and limited revenue streams for Regional Connectivity Scheme (RCS)-only aerodromes, the Scheme proposes to provide O&M support for three years capped at Rs.3.06 crore per annum per airport and Rs.0.90 crore per annum per heliport/water aerodrome, estimated at Rs.2,577 crore for around 441 aerodromes.

(c) Development of Modern Helipads

To address connectivity challenges in hilly, remote, island and aspirational regions, the Scheme proposes developing 200 modern helipads at Rs.15 crore each, amounting to a total requirement of Rs.3,661 crore over the next eight years (inflation-adjusted), focused on priority and aspirational districts to improve last-mile connectivity and emergency response.

(d) Viability Gap Funding (VGF)

Under the Regional Connectivity Scheme, airline operators receive financial support in the form of VGF for operating awarded routes. Recognising the need for longer market development, VGF support to airline operators is proposed amounting to Rs.10,043 crore over 10 years.

(e) Atmanirbhar Bharat Aircraft Acquisition

To address the shortage of small fixed-wing aircraft and helicopters required for operations in remote and difficult terrains and to advance the Atmanirbhar Bharat vision, the scheme also proposes to procure two HAL Dhruv helicopters for Pawan Hans and two HAL Dornier aircraft for Alliance Air.

Background:

The original UDAN Scheme was launched in October 2016 with the objective of making air travel affordable and strengthening connectivity to Tier-2 and Tier-3 cities. Over nine years of implementation:

  • 663 routes have been operationalised across 95 airports, heliports and water aerodromes (as on 28 February 2026).
  • More than 3.41 lakh flights have been operated, carrying 162.47 lakh passengers.
  • Connectivity has been established in remote, hilly and island regions, boosting tourism, healthcare access and emergency services.

  • The scheme has fostered growth in regional airlines and diverse fleet operations, laying a strong foundation for the Modified UDAN Scheme.