نئی دہلی، وزیر اعظم جناب نریندر مودی 9 ستمبر 2020 کو مدھیہ پردیش کے پھیری لگاکر سودا فروخت کرنےو الوں کے ساتھ سواندھی سمواد کا اہتمام کریں گے۔

حکومت ہند نے کووِڈ۔19 سے متاثرہ پھیری لگاکر سودا فروخت کرنےو الے نادار افراد کو از سر نو اپنی روزی روٹی کی سرگرمیاں شروع کرنے کے عمل میں مدد فراہم کرنے کے لئے یکم جون 2020 کو پی ایم سواندھی اسکیم کا آغاز کیا تھا۔

مدھیہ پردیش میں 4.5 لاکھ پھیری لگاکر سودا کرنے والوں کو درج رجسٹر کیا گیا تھا جن میں سے 4 لاکھ سے زائد اسٹریٹ وینڈر ایسے تھے جنہیں شناختی ثبوت اور وینڈر سند فراہم کیےجا چکے ہیں۔ 2.45 لاکھ مستحق استفادہ کنندگان کو پورٹل سے بینکوں کے ذریعہ سہولت فراہم کی گئی ہے  جن میں سے تقریباً 1.4 لاکھ اسٹریٹ وینڈروں کو 140 کروڑ روپئے کے بقدر کی رقم کے سلسلے میں منظوری دی جا چکی ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش مجموعی موصولہ درخواستوں کی منظوری کے معاملے میں سرفہرست ہے اور یہاں یعنی مدھیہ پردیش میں 47 فیصد درخواستیں اس سلسلے میں منظور ہوئی ہیں۔

ریاست میں اسکیم سے استفادہ کرنے والے افراد کے لئے ایسے انتظامات کیے گئے ہیں کہ وہ عوامی مقامات پر ، بہ نفس نفیس پروگرام ملاحظہ کر سکیں اور اس مقصد کے لئے 378 میونسپل اداروں میں ایل ای ڈی اسکرین لگائے گئے ہیں۔

مذکورہ پروگرام ویب کاسٹ کے توسط سے ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا جس کے لئے پیشگی رجسٹریشن مائی گو کے درج ذیل ویب سائٹ پر کیا جا رہا ہے https://pmevents.ncog.gov.in/

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب شیوراج سنگھ چوہان بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے اس پروگرام میں شریک ہوں گے۔

وزیر اعظم بھی بذات خود اس ریاست کے تین استفادہ کنندگان سے ورچووَل رابطے کے توسط سے گفت و شنید کریں گے اور یہ گفت و شنید ان استفادہ کنندگان کے ذریعہ سودا فروخت کرنے کے اپنے اپنے مقامات سے ہی ہوگی۔ اس اسکیم پر مشتمل ایک فلم ریاست کی جانب سے تیار کی گئی ہے، اسے بھی اس پروگرام کے دوران ملاحظہ کے لئے پیش کیا جائے گا۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
UPI payment: How NRIs would benefit from global expansion of this Made-in-India system

Media Coverage

UPI payment: How NRIs would benefit from global expansion of this Made-in-India system
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves Proposal for Implementation of Umbrella Scheme on “Safety of Women”
February 21, 2024

The Union Cabinet chaired by Prime Minister Shri Narendra Modi approved the proposal of Ministry of Home Affairs of continuation of implementation of Umbrella Scheme on ‘Safety of Women’ at a total cost of Rs.1179.72 crore during the period from 2021-22 to 2025-26.

Out of the total project outlay of Rs.1179.72 crore, a total of Rs.885.49 crore will be provided by MHA from its own budget and Rs.294.23 crore will be funded from Nirbhaya Fund.

Safety of Women in a country is an outcome of several factors like stringent deterrence through strict laws, effective delivery of justice, redressal of complaints in a timely manner and easily accessible institutional support structures to the victims. Stringent deterrence in matters related to offences against women was provided through amendments in the Indian Penal Code, Criminal Procedure Code and the Indian Evidence Act.

In its efforts towards Women Safety, Government of India in collaboration with States and Union Territories has launched several projects. The objectives of these projects include strengthening mechanisms in States/Union Territories for ensuring timely intervention and investigation in case of crime against women and higher efficiency in investigation and crime prevention in such matters.

The Government of India has proposed to continue the following projects under the Umbrella Scheme for “Safety of Women”:

  1. 112 Emergency Response Support System (ERSS) 2.0;
  2. Upgradation of Central Forensic Sciences laboratories, including setting up of National Forensic Data Centre;
  3. Strengthening of DNA Analysis, Cyber Forensic capacities in State Forensic Science Laboratories (FSLs);
  4. Cyber Crime Prevention against Women and Children;
  5. Capacity building and training of investigators and prosecutors in handling sexual assault cases against women and children; and
  6. Women Help Desk & Anti-human Trafficking Units.