وزیراعظم نے مدھیہ پردیش میں ’ راشن آپ کے گرام‘ کا آغاز کیا
وزیراعظم نے مدھیہ پردیش میں ’’سکل سیل مشن‘‘ کا آغاز کیا
’’آزادی کے بعد سے پہلی مرتبہ ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر پورے ملک کے قبائلی سماج کے فن اور ثقافت، آزادی کی جدو جہد اور قوم کی تعمیر میں ان کی دین کو یاد کیا جا رہا ہے اور اس کی عزت افزائی کی جا رہی ہے‘‘
’’یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزادی کی جدوجہد میں قبائلی خواتین و مرد سورماؤں کی داستانوں کو ملک کے سامنے لائیں اور نئی نسل کو ان سے متعارف کرائیں‘‘
’’چھتر پتی شیوا جی مہاراج کے نظریات،جنہیں بابا صاحب پورندرے نے ملک کے سامنے رکھا، وہ نظریات ہمیشہ ہمیش تحریک دیتے رہیں گے‘‘
’’آج قبائلی علاقوں میں ملک کے دیگر حصوں ہی کی طرح سہولیات مثلاً غریبوں کے لئے مکانات، بیت الخلاء، مفت بجلی اور گیس کنکشن، اسکول، سڑکیں اور مفت علاج فراہم کئے جا رہے ہیں‘‘
’’ قبائلی اور دیہی معاشرے میں کام کرنے والے عوامی پدم انعام یافتگان ملک کے اصلی ہیرے ہیں‘‘
’’چھتر پتی شیوا جی مہاراج کے نظریات،جنہیں بابا صاحب پورندرے نے ملک کے سامنے رکھا، وہ نظریات ہمیشہ ہمیش تحریک دیتے رہیں گے‘‘

وزیراعظم نریندر مودی نے جن جاتیہ گورو دِوَس مہا سمیلن میں جن جاتیہ برادری کی بہبود کے بہت سے اقدامات کا آغاز کیا۔ انہوں نے مدھیہ پردیش میں ’’ راشن آپ کے گرام‘‘ اسکیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے مدھیہ پردیش سکل سیل مشن کا بھی آغاز کیا۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں 50 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ مدھیہ پردیش کے گورنر اور وزیراعلیٰ ڈاکٹر ویریندر کمار، جناب نریندر سنگھ تومر، جناب جیوتیرادتیہ سندھیا، مرکزی وزرائے مملکت جناب پرہلاد ایس پٹیل، جناب فگن سنگھ کلستے اور ڈاکٹر ایل مروگن اس موقع پر موجود تھے۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان اپنا پہلا جن جاتیہ گورو دِوَس منا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر پورے ملک کے قبائلی سماج کے فن اور ثقافت اور جدوجہد آزادی اور قوم کی تعمیر میں ان کی دین کو یاد کیا جا رہا ہے اور اس کی عزت افزائی کی جا رہی ہے۔ قبائلی سماج کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان کی روحانی اور ثقافتی زندگی کی تعریف کی اور کہا کہ رقص و موسیقی سمیت قبائلیوں کی ثقافت کا یہ پہلو زندگی کا سبق رکھتا ہے اور اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

 

وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم قبائلی سورماؤں کی جدوجہد آزادی کی کہانیوں کو ملک کے سامنے لائیں اور نئی نسل سے ان کا تعارف کرائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غلامی کے وقت میں غیر ملکی حکومت کیخلاف بہت سی تحریکیں چلائی گئیں، جن میں کھاسی-گارو تحریک، میزو تحریک، کول تحریک وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گونڈ مہارانی ویر دُرگاوتی کی بہادری ہو یا رانی کملا پتی کی قربانی، ملک انہیں فراموش نہیں کر سکتا۔ ویر مہارانا پرتاپ کی جدوجہد میں بہادر بھیل افراد کا رول بھلایا نہیں جا سکتا۔ جنہوں نے شانہ بہ شانہ لڑائی کی اور قربانیاں دیں۔

وزیراعظم نے شیو شیر بابا صاحب پوراندرے کو یاد کیا، جنہوں نے چھتر پتی شیوا جی مہاراج سے آنے والی نسلوں کو جوڑنےمیں زبردست کام انجام دیا۔ شیو شیر بابا صاحب پوراندرے کا آج صبح انتقال ہو گیا۔ وزیراعظم نے اس عظیم سورج کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیوا جی مہاراج کے نظریات کو بابا صاحب پوراندرے نے ملک کے سامنے رکھا اور یہ نظریات مسلسل ہمیں ترغیب دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں بابا صاحب پوراندرے جی کو دلی خراج عقیدت پیش کرتاہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج جب ہم قومی فورم سے قوم کی تعمیر میں قبائلی برادری کی دین پر بات کرتے ہیں، تو کچھ لوگوں کو حیرت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہندوستان کی ثقافت کو مضبوط کرنے میں قبائلی برادری نے کتنا زبردست رول ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو قبائلی برادری کے رول کو ملک کے سامنے لایا نہیں گیا تھا اور اگر لایا بھی گیا تھا، تو وہ بہت ہی محدود پیمانے پر کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آزادی کے بعد کئی برسوں  تک ملک پر حکومت کرنے والے اپنی خودغرضانہ سیاست کو ترجیح دیتے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں ہی کی طرح قبائلی علاقوں میں غریبوں کے لئے مکانات، بیت الخلاء، مفت بجلی اور گیس کنکشن، اسکول، سڑکیں اور مفت علاج جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت کی تمام بہبودی اسکیموں میں قبائلیوں کی زیادہ آبادی،  امنگوں والے اضلاع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا قبائلی خطہ ہمیشہ سے دولت اور وسائل کے اعتبار سےمالا مال رہا ہے، لیکن اس سے پہلے جو لوگ حکومت میں تھے، وہ ان علاقوں کے استحصال کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ ہم ان علاقوں کے امکانات کو مناسب طور پر بروئے کار لانے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطلع کیا کہ کس طرح جنگلاتی قوانین میں تبدیلی کر کے جنگلاتی وسائل کو قبائلی سماج کے لئے دستیاب کرایا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حال ہی میں پدم ایوارڈز دیئے گئے ہیں، جب قبائلی سماج سے تعلق رکھنے والے انعام یافتگان راشٹر پتی بھون پہنچے، تو دنیا حیرت زدہ تھی۔ انہوں نے قبائلی اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والوں کو ملک کے اصل ہیرے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج قبائلی طبقے کے دستکاروں کی مصنوعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ 90 سے زیادہ جنگلاتی پیداواریت پر ایم ایس پی دی جا رہی ہے، جبکہ پہلے یہ آٹھ سے دس فصلوں تک محدود تھی۔ اس طرح کے اضلاع کے لئے 150 سے زیادہ میڈیکل کالجوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ ون دھن وکاس کیندروں کو 37 ہزار سیلف ہیلپ گروپوں سے جوڑا گیا ہے۔ اس سے سات لاکھ روزگار ملے ہیں۔ 20 لاکھ آراضی ’’پٹے‘‘ پر دی گئی ہے اور قبائلی نوجوانوں کو ہنرمند اور تعلیم یافتہ بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ گزشتہ سات برس کے دوران 9 نئے قبائلی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جوڑے گئے ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان پر زور دیئے جانے سے قبائلی لوگوں کو مدد ملے گی۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”