Share
 
Comments
وزیراعظم نے یادگار پر میوزیم گیلریز کا افتتاح بھی کیا
جلیانوالہ باغ کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات میں معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کے خواب اب بھی دکھائی دے رہے ہیں: وزیر اعظم
13 اپریل 1919 کے وہ 10 منٹ ہماری جدوجہد آزادی کی لازوال کہانی بن گئے ، جس کی وجہ سے ہم آج 'آزادی کا امرت مہوتسو' منانے کے قابل ہیں: وزیراعظم
کسی بھی ملک کے لیے اپنے ماضی کی ہولناکیوں کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ہر سال 14 اگست کو’تقسیم کی ہولناکی کی یاد کادن ‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے: وزیراعظم
آزادی کے لیے ہمارے قبائلی سماج کی کافی خدمات ہیں اور اس نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، تاریخ کی کتابوں میں ان کی خدمات کو وہ مقام نہیں ملا جو اسے ملنا چاہیے تھا: وزیراعظم
کورونا کا دور ہو یا افغانستان کا بحران ، ہندوستان اپنی پوری طاقت سے بھارتیوں کی مدد کے لیے کھڑا ہوجاتاہے: وزیر اعظم
’امرت مہوتسو‘ کے دوران ملک کے ہر گاؤں اور ہر کونے میں مجاہدین آزادی کو یاد کیا جا رہا ہے: وزیر اعظم
جدوجہد آزادی کے اہم مراحل اور قومی ہیروز سے وابستہ مقاما

نئی دہلی۔ 28  اگست        پنجاب کے گورنر جناب وی پی سنگھ بدنور جی ، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ جی ، مرکزی کابینہ میں میرےرفقاء کار جناب  جی کشن ریڈی جی ، جناب ارجن رام میگھوال جی ، جناب سوم پرکاش جی ، پارلیمنٹ میں میرے معاونین جناب شویت ملک جی ، پروگرام سے منسلک تمام معزز وزراء اعلیٰ ، عوامی نمائندے ، شہداء کے لواحقین ، بھائیوں اور بہنوں!

پنجاب کی بہادر سرزمین ، جلیانوالہ باغ کی پاک سرزمین کو میرا بہت بہت سلام! مادر ہند کے ان سپوتوں کو بھی سلام ، جن کے اندر آزادی کے شعلے کو بجھانے کے لیے غیر انسانیت کی تمام حدیں عبور کی گئیں۔ وہ معصوم  بچے، بچیاں ، وہ بہنیں ، وہ بھائی ، جن کے خواب آج بھی جلیانوالہ باغ کی دیواروں میں کندہ گولیوں کے نشانات میں دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ شہیدی کنواں ، جہاں بیشمار ماؤں اور بہنوں کی ممتا چھین لی گئی ، ان کی زندگی چھین لی گئی۔ ان  کے خواب پامال کر دیے گئے ۔ ان تمام کو آج  ہم یاد کر رہے ہیں۔

بھائیو ں اور بہنو ں،

جلیانوالہ باغ وہ جگہ ہے جس نے سردار ادھم سنگھ ، سردار بھگت سنگھ جیسے بے شمار انقلابیوں ، اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں، ہندوستان کی آزادی کے لیے مر مٹنے کا حوصلہ دیا۔ 13 اپریل 1919 کے وہ 10 منٹ ، ہماری آزادی کی لڑائی کی وہ حقیقی کہانی ، افسانہ بن گئی ، جس کے باعث آج ہم آزادی کا امرت منانے کے قابل ہوئے ہیں۔ ایسی صورت حال میں آزادی کے 75 ویں سال میں جلیانوالہ باغ میموریل کی جدید شکل میں  حاصل ہونا ، ہم سب کے لیے ایک عظیم ترغیب کا باعث ہے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے جلیانوالہ باغ کی اس مقدس سرزمین کو کئی بار دیکھنے ، یہاں کی پاک سرزمین کو اپنے ماتھے پر لگانے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ آج جو تزئین و آرائش کا کام ہوا ہے، اس  نے قربانی کی لازوال کہانیوں کو مزید زندہ کر دیا ہے۔ یہاں جو مختلف گیلریاں بنائی گئی ہیں ، دیواروں میں شہداء کی تصاویر کندہ کیے گئے ہیں ، شہید ادھم سنگھ جی کا مجسمہ ہے ، یہ سب ہمیں اس دور میں لے جاتے ہیں۔ جلیانوالہ باغ قتل عام سے پہلے اس مقام پر مقدس بیساکھی کے میلے لگتے تھے۔ اس دن گورو گوبند سنگھ جی نے 'سربت دا بھلا' کے جذبے کے ساتھ خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی تھی۔ آزادی کے 75 ویں سال میں جلیانوالہ باغ کی یہ نئی شکل  ہم وطنوں کو اس مقدس مقام کی تاریخ اور اس کے ماضی کے بارے میں بہت کچھ جاننے کی ترغیب دے گی۔ یہ جگہ نئی نسل کو ہمیشہ یاد دلائے گی کہ ہماری آزادی کا سفر کیسا رہا  ہے، ہمارے آباء و جداد نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کیا کیا  کیا ہے ، کتنی قربانیاں دیں ، بے شمار جدوجہد کی۔ قوم کے تئیں ہمارے فرائض کیا ہونے چاہئے، کس طرح ہمیں اپنے تمام کاموں میں ملک کو سب سے اوپر رکھنا چاہیے ، اس کی تحریک بھی نئی توانائی کے ساتھ اس جگہ سے ملے گی ۔

 

ساتھیوں ،

ہر قوم کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو محفوظ رکھے۔ تاریخ کے واقعات ہمیں سکھاتے بھی ہیں اور آگے بڑھنے کی سمت بھی دیتے ہیں۔ جلیانوالہ باغ جیسا ایک اور ہولناک منظر ہم نے تقسیم ہند کے وقت بھی دیکھا ہے۔ پنجاب کے محنتی اور زندہ دل لوگ تو تقسیم کا سب سے بڑا شکار ہوئے ہیں۔ تقسیم کے وقت جو کچھ ہوا اس کا درد آج بھی ہندوستان کے گوشے گوشے اور خاص طور پر پنجاب کے خاندانوں میں ہم محسوس کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے اپنے ماضی کی ایسی ہولناکیوں کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے۔ لہٰذا ، ہندوستان نے ہر سال 14 اگست کو "وبھاجن ویبھشیکا اسمرتی دیوس" کے طور پر آنے والی نسلوں کو یاد رکھیں اس لیے اسے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ "وبھاجن ویبھشیکا اسمرتی دیوس" آنے والی نسلوں کو بھی یاد دلائے گا کہ کتنی بڑی قیمت ادا کر کے ہمیں آزادی ملی ہے۔ وہ  اس درد ، اس تکلیف کو سمجھ سکیں گے جو تقسیم کے وقت کروڑوں ہندوستانیوں نے برداشت کیاتھا ۔

ساتھیوں ،

گُروبانی ہمیں سکھاتی ہے –  سوکھو ہووے سیو کمانیا۔

یعنی خوشی دوسروں کی خدمت سے ہی  آتی ہے۔ ہم خوش تب ہوتے ہیں جب ہم اپنے ساتھ ساتھ اپنوں کا درد بھی محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ، آج ، دنیا میں کہیں بھی ، اگر کوئی ہندوستانی مشکل مبتلا ہوتا ہے تو ہندوستان اپنی پوری طاقت سے اس کی مدد کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ کورونا کے دوران کا دور ہو یا افغانستان کا موجودہ بحران ، دنیا نے اس کا مسلسل تجربہ کیا ہے۔ آپریشن دیوی شکتی کے تحت افغانستان سے سینکڑوں ساتھیوں کو ہندوستان لایا جا رہا ہے۔ چیلنج بہت ہیں ، حالات مشکل ہیں ، لیکن گرو کی مہربانی بھی ہمارے ساتھ ہے۔ ہم لوگوں کے ساتھ مقدس گرو گرنتھ صاحب کے 'سوروپ' کو بھی سر پر رکھ کر ہندوستان لائے ہیں۔

ساتھیوں ،

گزرے سالوں کے دوران ، ملک نے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ انسانیت کا جو سبق ہمیں گروؤں نے دی تھی ، اسے سامنے رکھ کر ملک نے ایسی صورتحال سے ستائے ہوئے اپنے لوگوں کے لیے نئے قوانین بھی بنائے ہیں۔

ساتھیوں ،

آج جس طرح کے عالمی حالات پیدا ہو رہے ہیں ، اس سے ہمیں یہ احساس بھی ہو رہا ہے کہ ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت کا کیا مطلب ہے۔ یہ واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہر سطح پر خود انحصاری اور خود اعتمادی کیوں ضروری ہے۔ لہذا ، آج جب ہم آزادی کا75 واں سال منا رہے ہیں ، تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی قوم کی بنیاد کو مضبوط کریں اور اس پر فخر کریں۔ آزادی کا امرت مہوتسو آج اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ امرت مہوتسو میں آج گاؤں گاؤں میں مجاہدین آزادی کو یاد کیا جا رہا ہے ، ان کو اعزاز بخشا جا رہا ہے۔ ملک میں جہاں بھی جدوجہد آزادی کے اہم سنگ میل ہیں ، انہیں سرخرو کرنے کے لیے ایک سرشار سوچ کے ساتھ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ملک کے قومی ہیروزسے وابستہ مقامات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وہاں نئی ​​جہتیں بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ جلیانوالہ باغ کی طرح آزادی سے وابستہ دیگر قومی یادگاروں کی بھی تجدید کاری کی جا رہی ہے۔ الہ آباد میوزیم میں 1857 سے 1947 تک ہر انقلاب کی نمائش کرنے والی ملک کی پہلی انٹرایکٹو گیلری کی تعمیر جلد مکمل ہو جائے گی۔ انقلابی جانباز چندر شیکھر آزاد کےنام وقف  یہ "آزاد گیلری"،  مسلح انقلاب سے وابستہ اس دورکے دستاویزات، کچھ چیزیں  اس کا بھی ایک ڈیجیٹل تجربہ فراہم کرے گی۔ اسی طرح کولکاتہ کے" بپلوبی بھارت"  گیلری میں  بھی انقلاب کی علامتوں کو آنے والی نسلوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ پرکشش بنایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل حکومت  کے ذریعہ آزاد ہند فوج کی خدمات کو بھی تاریخ کے پچھلے صفحات سے نکال کر سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انڈمان میں جہاں نیتا جی نے پہلی بار ترنگا لہرایا اسے بھی نئی شناخت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈمان کے جزائر کا نام بھی جدوجہد آزادی کے نام منسوب کیا گیا ہے۔

بھائیو ںاور بہنوں ،

آزادی کی عظیم قربانی میں ہمارے قبائلی معاشرے کا بڑا حصہ ہے۔ قبائلی گروہوں کی قربانیوں کی لازوال داستانیں آج بھی ہمیں تحریک دیتی ہیں۔ اسے تاریخ کی کتابوں میں بھی وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ اس وقت ملک کی 9 ریاستوں میں قبائلی مجاہدین آزادی اور ان کی جدوجہد کو دکھانے والے عجائب گھروں پر بھی کام جاری ہے ۔

ساتھیوں ،

ملک کی یہ آرزو بھی تھی کہ ہمارےان  فوجیوں کے لیے ایک قومی یادگار ہونی چاہیے جنہوں نے عظیم قربانیاں دیں۔ میں مطمئن ہوں کہ نیشنل وار میموریل آج کے نوجوانوں میں قوم کی حفاظت اور ملک کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کردینے کا جذبہ بیدار ہو رہا ہے۔ ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے ، پنجاب سمیت ملک کے کونے کونے سے جو ہمارے بہادر سپاہی شہید ہوئے ہیں ، آج انہیں اپنا صحیح مقام اور مناسب عزت ملی ہے۔ اسی طرح ، ہمارے پولیس اہلکاروں ، ہمارے نیم فوجی دستوں کے لیے بھی آزادی کی اتنی دہائیوں تک ملک میں کوئی قومی یادگار نہیں تھی۔  آج پولیس اور نیم فوجی دستوں کے نام وقف قومی یادگار بھی ملک کی نئی نسل کو تحریک دے  رہی ہے۔

ساتھیوں ،

پنجاب میں شاید ہی کوئی ایسا  گاؤں ہو ، ایسی گلی جہاں شجاعت اور بہادری کی کوئی داستان نہ ہو۔ گروؤں کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ، پنجاب کے بیٹے اور بیٹیاں مادر ہند کی طرف ٹیڑھی نظر رکھنے والوں کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے  ہو جاتےہیں۔ ہمارے اس ورثے کو مزید خوشحال بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گرو نانک دیو جی کا 550 واں پرکاش اوتسو ، گرو گوبند سنگھ جی کا 350 واں پرکاش اتسو ، یا گرو تیغ بہادر جی کا 400 واں پرکاش اتسو ہو ، یہ تمام سنگ میل خوش قسمتی سے صرف پچھلے 7 سالوں میں ہی آئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی کوشش ہے کہ ان مقدس تہواروں کے ذریعہ  نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ہمارے گروؤں کی تعلیمات عام ہو ۔ اپنے اس  بیش بہا ورثے کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا کام مسلسل جاری ہے۔ سلطان پور لودھی کو وراثتی شہر بنانے کا کام ہو ، کرتار پور راہداری کی تعمیر ہو ، وہ اسی کوشش کا حصہ ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ پنجاب کا ہوائی رابطہ ہو یا پھر ملک بھر میں جو ہمارے گروؤں کے  مقامات ہیں ، ان سے رابطہ ہو، اسے مضبوط بنایا گیا ہے۔ آنند پور صاحب-فتح گڑھ صاحب-فیروز پور-امرتسر-کھٹکر کلاں-کلانور-پٹیالہ ہیریٹج سرکٹ کو سودیش درشن سکیم کے تحت فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہمارا یہ بیش بہا ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے ترغیب کا باعث بنتا رہے اور سیاحت کی صورت میں روزگار کا ذریعہ بھی بنے۔

ساتھیوں ،

آزادی کا یہ امرت دور  پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ اس امرت دور میں ، ہمیں وراثت اور ترقی کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ، اور پنجاب کی سرزمین ہمیں ہمیشہ اس کی ترغیب دیتی رہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ پنجاب ہر سطح پر ترقی کرے ، ہمارا ملک ہر سمت میں ترقی کرے۔ اس کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا ، 'سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس ، اور سب کاپریاس' کے جذبے کے ساتھ ، ہمیں کام کرتے رہنا ہوگا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جلیانوالہ باغ کی یہ سرزمین ہمیں اپنے عزائم کے لیے مسلسل توانائی دیتی رہے گی اور ملک جلد اپنے مقاصد پورا کرے گا۔ اس آرزو کے ساتھ ، ایک بار پھر اس جدید میموریل  کی بہت بہت مبارکباد۔ بہت شکریہ!   

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat

Media Coverage

The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address at the Krishnaguru Eknaam Akhand Kirtan for World Peace
February 03, 2023
Share
 
Comments
“Krishnaguru ji propagated ancient Indian traditions of knowledge, service and humanity”
“Eknaam Akhanda Kirtan is making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast”
“There has been an ancient tradition of organizing such events on a period of 12 years”
“Priority for the deprived is key guiding force for us today”
“50 tourist destination will be developed through special campaign”
“Gamosa’s attraction and demand have increased in the country in last 8-9 years”
“In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started”
“The life force of the country's welfare schemes are social energy and public participation”
“Coarse grains have now been given a new identity - Shri Anna”

जय कृष्णगुरु !

जय कृष्णगुरु !

जय कृष्णगुरु !

जय जयते परम कृष्णगुरु ईश्वर !.

कृष्णगुरू सेवाश्रम में जुटे आप सभी संतों-मनीषियों और भक्तों को मेरा सादर प्रणाम। कृष्णगुरू एकनाम अखंड कीर्तन का ये आयोजन पिछले एक महीने से चल रहा है। मुझे खुशी है कि ज्ञान, सेवा और मानवता की जिस प्राचीन भारतीय परंपरा को कृष्णगुरु जी ने आगे बढ़ाया, वो आज भी निरंतर गतिमान है। गुरूकृष्ण प्रेमानंद प्रभु जी और उनके सहयोग के आशीर्वाद से और कृष्णगुरू के भक्तों के प्रयास से इस आयोजन में वो दिव्यता साफ दिखाई दे रही है। मेरी इच्छा थी कि मैं इस अवसर पर असम आकर आप सबके साथ इस कार्यक्रम में शामिल होऊं! मैंने कृष्णगुरु जी की पावन तपोस्थली पर आने का पहले भी कई बार प्रयास किया है। लेकिन शायद मेरे प्रयासों में कोई कमी रह गई कि चाहकर के भी मैं अब तक वहां नहीं आ पाया। मेरी कामना है कि कृष्णगुरु का आशीर्वाद मुझे ये अवसर दे कि मैं आने वाले समय में वहाँ आकर आप सभी को नमन करूँ, आपके दर्शन करूं।

साथियों,

कृष्णगुरु जी ने विश्व शांति के लिए हर 12 वर्ष में 1 मास के अखंड नामजप और कीर्तन का अनुष्ठान शुरू किया था। हमारे देश में तो 12 वर्ष की अवधि पर इस तरह के आयोजनों की प्राचीन परंपरा रही है। और इन आयोजनों का मुख्य भाव रहा है- कर्तव्य I ये समारोह, व्यक्ति में, समाज में, कर्तव्य बोध को पुनर्जीवित करते थे। इन आयोजनों में पूरे देश के लोग एक साथ एकत्रित होते थे। पिछले 12 वर्षों में जो कुछ भी बीते समय में हुआ है, उसकी समीक्षा होती थी, वर्तमान का मूल्यांकन होता था, और भविष्य की रूपरेखा तय की जाती थी। हर 12 वर्ष पर कुम्भ की परंपरा भी इसका एक सशक्त उदाहरण रहा है। 2019 में ही असम के लोगों ने ब्रह्मपुत्र नदी में पुष्करम समारोह का सफल आयोजन किया था। अब फिर से ब्रह्मपुत्र नदी पर ये आयोजन 12वें साल में ही होगा। तमिलनाडु के कुंभकोणम में महामाहम पर्व भी 12 वर्ष में मनाया जाता है। भगवान बाहुबली का महा-मस्तकाभिषेक ये भी 12 साल पर ही होता है। ये भी संयोग है कि नीलगिरी की पहाड़ियों पर खिलने वाला नील कुरुंजी पुष्प भी हर 12 साल में ही उगता है। 12 वर्ष पर हो रहा कृष्णगुरु एकनाम अखंड कीर्तन भी ऐसी ही सशक्त परंपरा का सृजन कर रहा है। ये कीर्तन, पूर्वोत्तर की विरासत से, यहाँ की आध्यात्मिक चेतना से विश्व को परिचित करा रहा है। मैं आप सभी को इस आयोजन के लिए अनेकों-अनेक शुभकामनाएं देता हूँ।

साथियों,

कृष्णगुरु जी की विलक्षण प्रतिभा, उनका आध्यात्मिक बोध, उनसे जुड़ी हैरान कर देने वाली घटनाएं, हम सभी को निरंतर प्रेरणा देती हैं। उन्होंने हमें सिखाया है कि कोई भी काम, कोई भी व्यक्ति ना छोटा होता है ना बड़ा होता है। बीते 8-9 वर्षों में देश ने इसी भावना से, सबके साथ से सबके विकास के लिए समर्पण भाव से कार्य किया है। आज विकास की दौड़ में जो जितना पीछे है, देश के लिए वो उतनी ही पहली प्राथमिकता है। यानि जो वंचित है, उसे देश आज वरीयता दे रहा है, वंचितों को वरीयता। असम हो, हमारा नॉर्थ ईस्ट हो, वो भी दशकों तक विकास के कनेक्टिविटी से वंचित रहा था। आज देश असम और नॉर्थ ईस्ट के विकास को वरीयता दे रहा है, प्राथमिकता दे रहा है।

इस बार के बजट में भी देश के इन प्रयासों की, और हमारे भविष्य की मजबूत झलक दिखाई दी है। पूर्वोत्तर की इकॉनमी और प्रगति में पर्यटन की एक बड़ी भूमिका है। इस बार के बजट में पर्यटन से जुड़े अवसरों को बढ़ाने के लिए विशेष प्रावधान किए गए हैं। देश में 50 टूरिस्ट डेस्टिनेशन्स को विशेष अभियान चलाकर विकसित किया जाएगा। इनके लिए आधुनिक इनफ्रास्ट्रक्चर बनाया जाएगा, वर्चुअल connectivity को बेहतर किया जाएगा, टूरिस्ट सुविधाओं का भी निर्माण किया जाएगा। पूर्वोत्तर और असम को इन विकास कार्यों का बड़ा लाभ मिलेगा। वैसे आज इस आयोजन में जुटे आप सभी संतों-विद्वानों को मैं एक और जानकारी देना चाहता हूं। आप सबने भी गंगा विलास क्रूज़ के बारे में सुना होगा। गंगा विलास क्रूज़ दुनिया का सबसे लंबा रिवर क्रूज़ है। इस पर बड़ी संख्या में विदेशी पर्यटक भी सफर कर रहे हैं। बनारस से बिहार में पटना, बक्सर, मुंगेर होते हुये ये क्रूज़ बंगाल में कोलकाता से आगे तक की यात्रा करते हुए बांग्लादेश पहुंच चुका है। कुछ समय बाद ये क्रूज असम पहुँचने वाला है। इसमें सवार पर्यटक इन जगहों को नदियों के जरिए विस्तार से जान रहे हैं, वहाँ की संस्कृति को जी रहे हैं। और हम तो जानते है भारत की सांस्कृतिक विरासत की सबसे बड़ी अहमियत, सबसे बड़ा मूल्यवान खजाना हमारे नदी, तटों पर ही है क्योंकि हमारी पूरी संस्कृति की विकास यात्रा नदी, तटों से जुड़ी हुई है। मुझे विश्वास है, असमिया संस्कृति और खूबसूरती भी गंगा विलास के जरिए दुनिया तक एक नए तरीके से पहुंचेगी।

साथियों,

कृष्णगुरु सेवाश्रम, विभिन्न संस्थाओं के जरिए पारंपरिक शिल्प और कौशल से जुड़े लोगों के कल्याण के लिए भी काम करता है। बीते वर्षों में पूर्वोत्तर के पारंपरिक कौशल को नई पहचान देकर ग्लोबल मार्केट में जोड़ने की दिशा में देश ने ऐतिहासिक काम किए हैं। आज असम की आर्ट, असम के लोगों के स्किल, यहाँ के बैम्बू प्रॉडक्ट्स के बारे में पूरे देश और दुनिया में लोग जान रहे हैं, उन्हें पसंद कर रहे हैं। आपको ये भी याद होगा कि पहले बैम्बू को पेड़ों की कैटेगरी में रखकर इसके काटने पर कानूनी रोक लग गई थी। हमने इस कानून को बदला, गुलामी के कालखंड का कानून था। बैम्बू को घास की कैटेगरी में रखकर पारंपरिक रोजगार के लिए सभी रास्ते खोल दिये। अब इस तरह के पारंपरिक कौशल विकास के लिए, इन प्रॉडक्ट्स की क्वालिटी और पहुँच बढ़ाने के लिए बजट में विशेष प्रावधान किया गया है। इस तरह के उत्पादों को पहचान दिलाने के लिए बजट में हर राज्य में यूनिटी मॉल-एकता मॉल बनाने की भी घोषणा इस बजट में की गई है। यानी, असम के किसान, असम के कारीगर, असम के युवा जो प्रॉडक्ट्स बनाएँगे, यूनिटी मॉल-एकता मॉल में उनका विशेष डिस्प्ले होगा ताकि उसकी ज्यादा बिक्री हो सके। यही नहीं, दूसरे राज्यों की राजधानी या बड़े पर्यटन स्थलों में भी जो यूनिटी मॉल बनेंगे, उसमें भी असम के प्रॉडक्ट्स रखे जाएंगे। पर्यटक जब यूनिटी मॉल जाएंगे, तो असम के उत्पादों को भी नया बाजार मिलेगा।

साथियों,

जब असम के शिल्प की बात होती है तो यहाँ के ये 'गोमोशा' का भी ये ‘गोमोशा’ इसका भी ज़िक्र अपने आप हो जाता है। मुझे खुद 'गोमोशा' पहनना बहुत अच्छा लगता है। हर खूबसूरत गोमोशा के पीछे असम की महिलाओं, हमारी माताओं-बहनों की मेहनत होती है। बीते 8-9 वर्षों में देश में गोमोशा को लेकर आकर्षण बढ़ा है, तो उसकी मांग भी बढ़ी है। इस मांग को पूरा करने के लिए बड़ी संख्या में महिला सेल्फ हेल्प ग्रुप्स सामने आए हैं। इन ग्रुप्स में हजारों-लाखों महिलाओं को रोजगार मिल रहा है। अब ये ग्रुप्स और आगे बढ़कर देश की अर्थव्यवस्था की ताकत बनेंगे। इसके लिए इस साल के बजट में विशेष प्रावधान किए गए हैं। महिलाओं की आय उनके सशक्तिकरण का माध्यम बने, इसके लिए 'महिला सम्मान सेविंग सर्टिफिकेट' योजना भी शुरू की गई है। महिलाओं को सेविंग पर विशेष रूप से ज्यादा ब्याज का फायदा मिलेगा। साथ ही, पीएम आवास योजना का बजट भी बढ़ाकर 70 हजार करोड़ रुपए कर दिया गया है, ताकि हर परिवार को जो गरीब है, जिसके पास पक्का घर नहीं है, उसका पक्का घर मिल सके। ये घर भी अधिकांश महिलाओं के ही नाम पर बनाए जाते हैं। उसका मालिकी हक महिलाओं का होता है। इस बजट में ऐसे अनेक प्रावधान हैं, जिनसे असम, नागालैंड, त्रिपुरा, मेघालय जैसे पूर्वोत्तर राज्यों की महिलाओं को व्यापक लाभ होगा, उनके लिए नए अवसर बनेंगे।

साथियों,

कृष्णगुरू कहा करते थे- नित्य भक्ति के कार्यों में विश्वास के साथ अपनी आत्मा की सेवा करें। अपनी आत्मा की सेवा में, समाज की सेवा, समाज के विकास के इस मंत्र में बड़ी शक्ति समाई हुई है। मुझे खुशी है कि कृष्णगुरु सेवाश्रम समाज से जुड़े लगभग हर आयाम में इस मंत्र के साथ काम कर रहा है। आपके द्वारा चलाये जा रहे ये सेवायज्ञ देश की बड़ी ताकत बन रहे हैं। देश के विकास के लिए सरकार अनेकों योजनाएं चलाती है। लेकिन देश की कल्याणकारी योजनाओं की प्राणवायु, समाज की शक्ति और जन भागीदारी ही है। हमने देखा है कि कैसे देश ने स्वच्छ भारत अभियान शुरू किया और फिर जनभागीदारी ने उसे सफल बना दिया। डिजिटल इंडिया अभियान की सफलता के पीछे भी सबसे बड़ी वजह जनभागीदारी ही है। देश को सशक्त करने वाली इस तरह की अनेकों योजनाओं को आगे बढ़ाने में कृष्णगुरु सेवाश्रम की भूमिका बहुत अहम है। जैसे कि सेवाश्रम महिलाओं और युवाओं के लिए कई सामाजिक कार्य करता है। आप बेटी-बचाओ, बेटी-पढ़ाओ और पोषण जैसे अभियानों को आगे बढ़ाने की भी ज़िम्मेदारी ले सकते हैं। 'खेलो इंडिया' और 'फिट इंडिया' जैसे अभियानों से ज्यादा से ज्यादा युवाओं को जोड़ने से सेवाश्रम की प्रेरणा बहुत अहम है। योग हो, आयुर्वेद हो, इनके प्रचार-प्रसार में आपकी और ज्यादा सहभागिता, समाज शक्ति को मजबूत करेगी।

साथियों,

आप जानते हैं कि हमारे यहां पारंपरिक तौर पर हाथ से, किसी औजार की मदद से काम करने वाले कारीगरों को, हुनरमंदों को विश्वकर्मा कहा जाता है। देश ने अब पहली बार इन पारंपरिक कारीगरों के कौशल को बढ़ाने का संकल्प लिया है। इनके लिए पीएम-विश्वकर्मा कौशल सम्मान यानि पीएम विकास योजना शुरू की जा रही है और इस बजट में इसका विस्तार से वर्णन किया गया है। कृष्णगुरु सेवाश्रम, विश्वकर्मा साथियों में इस योजना के प्रति जागरूकता बढ़ाकर भी उनका हित कर सकता है।

साथियों,

2023 में भारत की पहल पर पूरा विश्व मिलेट ईयर भी मना रहा है। मिलेट यानी, मोटे अनाजों को, जिसको हम आमतौर पर मोटा अनाज कहते है नाम अलग-अलग होते है लेकिन मोटा अनाज कहते हैं। मोटे अनाजों को अब एक नई पहचान दी गई है। ये पहचान है- श्री अन्न। यानि अन्न में जो सर्वश्रेष्ठ है, वो हुआ श्री अन्न। कृष्णगुरु सेवाश्रम और सभी धार्मिक संस्थाएं श्री-अन्न के प्रसार में बड़ी भूमिका निभा सकती हैं। आश्रम में जो प्रसाद बँटता है, मेरा आग्रह है कि वो प्रसाद श्री अन्न से बनाया जाए। ऐसे ही, आज़ादी के अमृत महोत्सव में हमारे स्वाधीनता सेनानियों के इतिहास को युवापीढ़ी तक पहुंचाने के लिए अभियान चल रहा है। इस दिशा में सेवाश्रम प्रकाशन द्वारा, असम और पूर्वोत्तर के क्रांतिकारियों के बारे में बहुत कुछ किया जा सकता है। मुझे विश्वास है, 12 वर्षों बाद जब ये अखंड कीर्तन होगा, तो आपके और देश के इन साझा प्रयासों से हम और अधिक सशक्त भारत के दर्शन कर रहे होंगे। और इसी कामना के साथ सभी संतों को प्रणाम करता हूं, सभी पुण्य आत्माओं को प्रणाम करता हूं और आप सभी को एक बार फिर बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

धन्यवाद!